شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں پہلا رابطہ

۔5 مارچ کا دن جزیرہ نمائے کوریا کے لیے اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جون ینگ نے پہلی بار جنوبی کوریا کے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کو نہ صرف شرفِ ملاقات بخشا بلکہ آنے والے’کوریائی بھائیوں‘ کے اعزاز میں ایک پُرتکلف عشائیے کا اہمتام بھی کیا گیا۔ شمالی کوریا کے رہنما کم گو، شرمیلے اور ذرا الگ تھلگ رہنے والے آدمی ہیں اور اپنے سات سالہ اقتدار کے دوران وہ صرف چینی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ سے 2015ء میں بالمشافہ ملے ہیں، ورنہ انھوں نے غیر ملکی عمائدین سے ملنے ملانے کی ذمہ داری اپنی ہمشیرہ کو سونپ رکھی ہے۔ اس پس منظر میں جنوبی کوریا کے مشیر قومی سلامتی چنگ یو ینگ اور محکمہ سراغرسانی کے سربراہ سوہ ہون سے تفصیلی ملاقات اور دعوتِ اکل وشرب سے اندازہ ہوتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جنوبی پڑوسی سے پُرامن تعلقات کے بارے میں بے حد سنجیدہ ہے۔ اس ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں ہوئیں مگر روسی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران کم جونگ نے جنوبی کوریا کو یقین دلایا کہ ان کے ترکش میں سجے زہریلے تیر ’کسی اور‘ کے لیے ہیں اور وہ اِنہیں اپنے کوریائی بھائیوں کے خلاف استعمال کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے، لہٰذا جنوبی کوریا کو ہمارے جوہری بم اور میزائلوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
جنوبی کوریا کے لیے مسٹر کم جونگ اِس سال کے آغاز سے شاخِ زیتون لہرا رہے ہیں۔ سالِ نو کے پیغام میں انھوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ تمام تصفیہ طلب امور پر جنوبی کوریا سے مخلصانہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اور ان کے خیال میں کوئی بھی مسئلہ یا نکتہ ایسا نہیں جس پر تصفیہ نہ ہوسکتا ہو۔ شمالی کوریا نے خیر سگالی کے طور پر سرمائی اولمپک کے لیے شمالی کوریائی کھلاڑیوں کا دستہ بھی بھیجا تھا جس نے جنوبی و شمالی کوریا کی مشترکہ ٹیم کی حیثیت سے شرکت کی۔ جنوبی کوریاکی رائے عامہ بھی شمالی کوریا سے دوستی کرنے کے حق میں ہے لیکن دنیا کے ’پانچ چودھریوں‘ کو جنھوں نے جوہری اور دوسرے مہلک ہتھیاروں کا انبار لگا رکھا ہے، جوہری شمالی کوریا ناقابلِ قبول ہے۔

تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان

امریکہ میں فائرنگ، جامعات میں تصادم اور نسلی طعنے بازیوں کے بعد اب بزرگ شہریوں پر حملوں کے واقعات بھی شروع ہوگئے ہیں۔ امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر مشرقی بیتھل (East Bethel) میں جمعہ کی رات 63 سالہ شخص کو ایک نوجوان نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ تفصیلات کے مطابق یہ بزرگ ٹریفک کے بہائو کی وجہ سے گاڑی ذرا آہستہ چلا رہے تھے جس پر ان کے پیچھے گاڑی میں سوار ایک سفید فام نوجوان سخت مشتعل ہوگیا اور موقع ملتے ہی اُس نے اپنی گاڑی تیزی سے آگے نکالتے ہوئے بزرگ کو غلیظ گالیاں دیں۔ تاہم ان بزرگ نے خاموشی سے گھر تک اپنا سفر جاری رکھا اور انہیں یہ احساس نہ ہوسکا کہ وہ نوجوان پیچھا کررہا ہے۔ گھر پہنچ کر جیسے ہی یہ عمر رسیدہ صاحب اپنی گاڑی سے باہر آئے، پیچھے آنے والی گاڑی پر سوار نوجوان نے ان کے سر اور چہرے پر گھونسے مار کر انہیں لہولہان کردیا۔ مار پیٹ کرکے وہ نوجوان یہ کہتا ہوا واپس ہوگیا کہ ’’تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے‘‘۔ دودن گزر جانے کے باوجود حملہ آور نوجوان گرفتار نہیں ہوا۔
تعلیم کی فروخت کی حوصلہ شکنی
سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافے کے لیے حکومتی نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے کر اسکولوں کو اضافی فیس اور جرمانے کی وصولی سے روک دیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژن بینچ نے کئی ماہ سے زیر سماعت ڈیڑھ درجن سے زائد مختلف پٹیشنز اور درخواستوں پر فیصلہ سنادیا۔جسٹس منیب اختر اور جسٹس عزیزالرحمان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اسکولوں کی انتظامیہ کو فیسوں میں اضافے اور ان پر تاخیری جرمانے یا لیٹ فیس کی وصولی سے بھی روک دیا۔ عدالت نے اسکولوں کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ طلبہ کو فوری طور پر پرانی فیسوں کے گوشوارے جاری کریں۔نجی تعلیمی اداروں نے لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے۔ اس ظلم میں حکومت بھی شریک ہے جس نے اپنے زیرانتظام چلنے والے سرکاری اسکولوں کو کباڑ خانہ بنادیا ہے۔ نجی اسکولوں کے بارے میں یہ فیصلہ بہت تاخیر سے ہی سہی، لیکن خوش آئند ہے۔کاش فاضل جج صاحبان سرکاری اسکولوں کی تنظیم نو کے لیے حکومت کو مجبور کریں اور اسکولوں کے ساتھ NUST، جامعہ بحریہ، جامعہ فضائیہ، آغاخان میڈیکل یونیورسٹی، بقائی یوینورسٹی، LUMS، غلام اسحق خان یونیورسٹی اور فروختِ تعلیم کی بڑی دکانوں کو بھی نکیل ڈالنے کا اہتمام کریں۔

کمیونسٹ رہنما جام ساقی انتقال

پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے سابق سیکریٹری جنرل جام ساقی پیر کی صبح حیدرآباد میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 74 برس تھی۔جام ساقی کی پیدائش سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر کے گاؤں جنجھی میں ہوئی، جہاں سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے میٹرک چھاچھرو سے کیا اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہ حیدرآباد آگئے، جہاں سے انہوں نے سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ حیدرآباد اور بعد میں سندھ یونیورسٹی میں وہ طلبہ تنظیموں میں سرگرم رہے اور بائیں بازو کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بعد میں انھوں نے کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی زندگی زیادہ تر زیرِ زمین اور جیلوں میں گزری۔ اسیری کے دوران انھیں شاہی قلعہ اور مچھ جیل میں صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں جب کمیونسٹوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا تو انھیں دیگر ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ بعد میں یہ کیس جام ساقی کیس کے نام سے مشہور ہوا۔مرحوم نے اردو اور سندھی میں 7 کتابیں تحریر کیں، جن میں ’’سندھ کی شاگرد تحریک‘‘ کو خاصی پذیرائی نصیب ہوئی، جو دراصل کمیونسٹ طلبہ تحریک کا بنیادی قاعدہ ہے۔

کے مصنف کی نئی کتاب۔Ghost wars

۔ wars Ghost کے مصنف Coll Steve کی نئی کتاب چھپ کر بازار میں آ گئی ہے، 748 صفحات کی کتاب کا نام معنی خیز ہی نہیں، سنسنی خیز بھی ہے۔
Directorate S: The C.I.A. and America’s Secret War in Afghanistan and Pakistan (2001-2016)۔ مصنف پیشے کے اعتبار سے صحافی ہے اور صاف ظاہرہے کہ امریکی جاسوسی اداروں سے اتنا قریب ہے کہ اُسے تمام خفیہ سرکاری معلومات بافراط مل جاتی ہیں۔ اسٹیو کول کی پہلی کتاب 2004ء میں شائع ہوئی۔ کہانی جہاں سے ختم ہوئی تھی، نئی کتاب میں اسی جگہ سے شروع ہوئی۔ یہ افغانستان میں 16 برسوں سے لڑی جانے والی اُس امریکی جنگ کی داستان بیان کرتی ہے، جو امریکی تاریخ میں نہ صرف سب سے لمبی ہے بلکہ اس لحاظ سے عبرت کا باعث ہے کہ دنیا کی امیر ترین قوم (امریکہ) دنیا کی ایک غریب ترین قوم (افغانستان) کے خلاف 16 برسوں سے لڑنے (اور 59 نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری حمایت حاصل ہونے) کے باوجود ابھی تک اپنے جنگی عزائم میں کامیاب ہونے، طالبان کو ملیامیٹ کرنے، سارے افغانستان پر قبضہ جمانے اور اسے اپنے زیر تسلط لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ فاضل مصنف کی رائے میں کامیابی کے امکانات صفر کے قریب ہیں۔ نئی کتاب کا عنوان پاکستان کے جاسوسی ادارے (آئی ایس آئی) کے اس شعبے کے نام سے لیا گیا ہے، جو مصنف کے بقول Directorate S کہلاتا ہے اور اس کی ساری توجہ افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ اور وہاں رونما ہونے والے سیاسی واقعات اور پاکستان کے خفیہ کردار پر مرکوز ہے۔
(نسیم احمد باجوہ،دنیا،6مارچ،2018ء)

تحریک پاکستان اور اس کی قیادت

تحریک ِ پاکستان کی صد سالہ جدوجہد کے دوران کئی جوڑے ابھرے، لوگوں کی توجہ اور محبت کا مرکز بنے لیکن پھر سیاسی مدوجزر میں گم ہوگئے۔ ایک جوڑی ایسی تھی جو تقریباً نصف صدی تک مستقل مزاجی، بہادری اور خلوص سے ڈٹی رہی اور معماران ِپاکستان یا بانیانِ پاکستان کا درجہ پاگئی۔ وہ جوڑی تھی قائداعظم اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی، جس نے بہن بھائی کے رشتے کو ایک ایمان افروز داستان بنادیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماں بیٹے کی مانند بہن بھائی کا رشتہ پاکیزہ ترین، مخلص ترین اور مضبوط ترین سمجھا جاتا ہے، اور میرا مشاہدہ ہے کہ بہن سراپا ایثار، سراپا محبت اور سراپا دعا ہوتی ہے۔ قائداعظم نے پسند کی شادی کی۔ رتی جناح بہرحال ایک بہادر خاتون تھیں۔ انہوں نے گورنر بمبئی لارڈ ولنگڈن کے خلاف احتجاج میں اپنے خاوند کا جس جرأت و بہادری سے ساتھ دیا، اس نے انہیں یادگار بنادیا۔ رتی جناح سے اختلافات اور پھر زندگی کے آخری حصے میں رتی کی بیماری نے قائداعظم کو تنہا کردیا۔ شاید دل ہی دل میں وہ سمجھتے تھے کہ آہنی اعصاب، پہاڑ جیسی استقامت اور ویژن کے باوجود انہیں ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہے جو ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے، معاملات کی نگرانی کرے اور محبت کا سرچشمہ ثابت ہو۔ قائداعظم کے بھائی بھی موجود تھے اور بہنیں بھی، لیکن یہ قدرت کا حسنِ انتخاب تھا کہ قائداعظم نے اپنے قریب ترین ساتھی کی حیثیت سے اپنی بہن فاطمہ جناح کا انتخاب کیا جو پیشے کے حوالے سے دانتوں کی ڈاکٹر تھیں اور تنہا زندگی گزارنے اور زندگی کی راہوں کو اپنے عظیم کردار سے فتح کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ سیاست آسان کام اور میدان نہیں۔ انگریزوں اور ہندوئوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنا اور ہمہ وقت مخالفین کی آنکھوں میں کھٹکنا بہت بڑا امتحان تھا، اور اس راہ میں معمولی لغزش نہ صرف انسان کی ذات کو تباہ کرسکتی تھی بلکہ اس کی جدوجہد، محنت اور منزل کو بھی غارت کرسکتی تھی۔ ایک معمولی سا اسکینڈل اور چشم ابرو کا اشارہ انسان کو ہمیشہ کے لیے ڈبو دیتاہے۔ تاریخ پڑھیں تو اس احساس سے حیرت کے نئے باب کھلتے ہیں کہ دونوں بہن بھائی کتنے اجلے دامن اور بلند و بالا کردار کے مالک تھے کہ کوشش کے باوجود چشمِ زمانہ ان میں کہیں بھی معمولی سا داغ بھی نہ ڈھونڈ سکی۔ مس فاطمہ جناح نے دن رات بھائی کا ساتھ دے کر اور جلسے، جلوسوں اور تقریبات میں ان کے ساتھ رہ کر اپنے آپ کو قائداعظم کی زندگی کا جزوِلاینفک اور تحریک آزادی کا ایک عظیم کردار بنا لیا۔ لطف کی بات ہے کہ مس فاطمہ جناح کی تیس سالہ سیاسی جدوجہد اور قائداعظم کے ساتھ نے ان کی شاندار سیاسی تربیت کردی تھی اور وہ اپنے بھائی کی مانند اصولی سیاست کی عملی مثال بن چکی تھیں۔ اگر قائداعظم انہیں عملی سیاست میں لاتے، دستور ساز اسمبلی کا رکن منتخب کروا لیتے، جو اُن کے لیے معمولی کام تھا، یا انہیں بحیثیت مشیر اقتدار کے ڈھانچے میں شریک کرلیتے تو وہ ہماری سیاست کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہوتیں۔ ذہن کے دریچے کھول کر سوچو تو اس سوال کا جواب فقط ایک فقرے میں موجود ہے کہ قائداعظم اقربا پروری، دوست نوازی، خاندانی یا ذاتی جاہ و حشمت کے سخت خلاف تھے، چنانچہ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد اپنی بہن کو گھریلو امور کی نگہبانی تک محدود کردیا۔ مادر ِ ملت اپنے بھائی کی خدمت کی علامت بن کر تاریخ میں محفوظ ہوگئیں۔ نہ قائداعظم نے اقتدار کو گھر کی لونڈی بنانے کا کبھی تصور کیا اور نہ کسی فیملی ممبر کو حکومتی راہ داریوں کی شکل دکھائی۔ تقریباً یہی حال دوسری جوڑی کا تھا۔ کیمبرج پلٹ نواب زادہ لیاقت علی خان کی بیوی رعنا نہایت پڑھی لکھی، ذہین اور مہذب خاتون تھیں۔ لیاقت علی خان اور رعنا کی جوڑی بھی خوب تھی۔ رعنا تحریک آزادی کی تین دہائیوں کی فیصلہ کن جدوجہد کے دوران لیاقت علی خان کے ساتھ ساتھ رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد اُن کا کردار اور امور خانہ داری کے علاوہ بیگم وزیراعظم کے فرائض سرانجام دینا تھا۔ نہایت دولت مند نواب خان کی بہو ہونے کے باوجود انہوں نے قیام پاکستان کے بعد نہایت سادہ زندگی گزاری۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ وزیراعظم ہائوس کو راشن پرمٹ پر ملنے والی چینی دو تین ہفتوں کے بعد ختم ہوجاتی تو سارا گھرانہ پھیکی چائے پیتا۔ لیاقت علی خان شہید ہوئے تو رعنا اور ان کے بیٹے اُس سرزمین میں چھت سے محروم تھے جس کے حصول کے لیے انہوں نے زندگی کا بہترین حصہ وقف کردیا تھا۔ لیاقت علی خان چاہتے تو رعنا کو سیاست میں لاتے، لیکن قائداعظم کے تربیت یافتہ لیڈران اقربا پروری وغیرہ سے پاک تھے۔ ان کا مقصد ِحیات ملک و قوم کی بے لوث خدمت تھا، نہ کہ اقتدار اور حکومت کو ذاتی جاگیر بنانا۔
(ڈاکٹر صفدر محمود، جنگ،6مارچ،2018ء)

پاکستان میں جمہوریت اور کمپنی راج

16دسمبر 1600ء میں برطانیہ کے تاجروں کے ایک گروپ نے باہم مل کر ’’ایسٹ انڈیز کمپنیز‘‘ قائم کی۔ اپنی شاہی حکومت سے تجارت کرنے کی اجارہ داری کا استحقاق حاصل کیا۔ 1608ء میں پہلا جہاز ہندوستانی بندرگاہ سورت پہنچا۔ یہاں جائزے اور ممکنہ سرگرمیاں شروع کیں۔ 1615ء میں سرتھامس رو نے جہانگیر کے دربار میں حاضر ہوکر مغل شہنشاہ سے سورت میں فیکٹری قائم کرنے کی اجازت لی۔ بس پھر کیا تھا، ہندوستان میں کمپنی کی تجارتی سرگرمیاں ہمارے آج کے حکمرانوں کی ’’بیرونی تجارت‘‘ کی طرح کمال رفتار سے بڑھنے لگیں۔ برصغیر کے ہر دو مشرقی و مغربی ساحلوں پر تیزی سے تجارتی ٹھکانے بننے لگے۔ کلکتہ، ممبئی اور مدراس میں گوروں کی رہائشی کالونیوں کی تعمیر ہونے لگی۔ سماجی تعلقات بڑھنے لگے۔ بات تجارت سے آگے نکل رہی تھی، لیکن بڑے دھیمے اور قابلِ قبول انداز میں۔ پھر کمپنی سیاسی ہونے لگی۔ ہوتے ہوتے بس سیاسی ہی ہوگئی۔ مقامی مزاحمت ہونے لگی تو عسکری بھی ہونے لگی۔ مقامی معاونت حاصل کرنے کا کمال دکھایا، جاسوسی کا فن استعمال کیا اور مقامی معاونت کی کامیابی غدار پیدا کرنے میں تبدیل ہونے لگی۔ باقاعدہ عسکری مزاحمت جنگوں میں تبدیل ہوگئی۔ توڑے دار بندوق نے مقامی غداروں، اور غداروں نے جدید بندوق سے بڑھ کر گوروں کو کامیاب کرایا۔ آگے نواب سراج الدولہ، تیتو میر اورٹیپو سلطان کی مزاحمت کی تاریخ ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 100 سال مشرقی ہند پر حکومت کی اور آگے بڑھتی گئی۔ ہندوستان پر راج کی دوسری صدی کمپنی نہیں بلکہ برطانوی راج سے شروع ہوئی جو آنے والے 9عشروں تک جاری رہا۔ یہ تاریخ کا دلچسپ سوال ہے کہ ہندوستان پر گورا راج جس کا آغاز نرم خوئی اور تجارت کے سودوں سے ہوا تھا، وہ نرا گھاٹے کا سودا تھا یا برصغیر کو بھی بہت کچھ ملا؟ اور یہ بھی کتنا بڑا سوال ہے کہ چند ہزار گوروں نے اُس وقت بھی کروڑوں پر کامیاب ترین راج کیسے کیا؟
آج اسلامی جمہوریہ میں پیدا ہوا اور تیزی سے واضح ہوتا ہوا سوال یہ نہیں کہ آئین، جمہوریت، سیاسی جماعتوں اور منتخب حکومتوں کی آڑ میں پاکستان میں بھی کمپنی راج قائم نہیں ہوچکا؟ ہماری سیاست سودوں، کک بیکس، فرنٹ مین اور کمپنیوں سے عبارت نہیں ہوچکی؟ ہمارے برہمن بھارتی برہمنوں سے زیادہ خطرناک نہیں؟ جو پاکستان کی بڑھتی غربت اور کروڑوں عوام کی بنیادی ضروریات سے محرومی کے ذمے دار ہیں۔
(ڈاکٹر مجاہد منصوری، جنگ، 4مارچ،2018ء)

Share this: