پختونخوا ہ اور نیشنل پارٹی کے دعوے کا تجزیہ

پاکستان ابھی بھی جمہوری سفر طے کررہا ہے ہم سب جانتے ہیں کہ اس مرحلہ کے درمیان میں فوجی جنرل جمہوریت پر شب خون مارتے رہے ہیں۔ میں یہ تماشا وقفہ وقفہ سے نظر آتا ہے اور مسلم ممالک کا تیسری دنیا میں دیکھیں تو دِل ڈوبنے لگتا ہے۔ مصر نے اخوان المسلمون کی صورت میں فوجی جنتا کے پائوں تلے عوامی مینڈیٹ حاصل کیا یہ امریکا اور مشرقی وسطیٰ میں بادشاہتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی کی مانند تھی۔ لیکن مغربی کفر کو معلوم تھا کہ مصر کی تبدیلی میں مشرق وسطیٰ میں اس کے مفادات کو موت کے گھاٹ اتار دے گی اور عرب دنیا میں بادشاہتوں اور شیخوں کا اقتدار غروب ہوجائے گا۔ اس لیے مغربی کفر نے اس تبدیلی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور اخوان المسلمون کے 10 ہزار سے زیادہ افراد کو موت کی نیند سلادیا۔ کشمکش جاری ہے یقینا 21 ویں صدی مسلم ملوکیت کے غیر جمہوری اقتدار سے نجات حاصل کرے گی اور اس کا بلکہ جمہوری سفر کا آغاز ہوجائے گا۔ مسلم دنیا میں پاکستان اس لحاظ سے منفرد ملک ہے جو ایک جمہوری طریقہ سے وجود میں آیا ہے، ووٹ نے اس کو تشکیل دیا، اس لیے جمہوریت کی طرف اس کا سفر اس کے خمیر کا حصہ ہے اس لیے فوجی آمریت کی مزاحمت کرتا رہا ہے۔ پاکستان کے نصف دور میں فوجی جنتا حکمران رہی ہے اور نصف دور میں لولی لنگڑی جمہوریت رہی ہے، پاکستان ابھی تک ایک حقیقی جمہوریت کی منزل سے دور نظر آتا ہے ، عوام ابھی تک سیاسی بیدار نہیں ہوسکے ہیں۔ پس پردہ قوتیں ہمیشہ متحرک نظر آتی ہیں اور غیر محسوس طریقوں سے جمہوریت اور اس کی اخلاقی قدروں کا پامال کرتی رہتی ہیں۔ ہم نے پس پردہ کھیل کو بلوچستان میں تبدیلی کے وقت دیکھا۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے سیاست دانوں کی اندرونی طور کی کمزوریوں اور غیر جمہوری رویوں نے پس پردہ قوتوں کو موقع فراہم کیا ہے۔ وزیراعلیٰ اگر ایک جمہوری پس منظر رکھتا تو یہ کھیل اتنا آسان نہ ہوتا۔ وار لارڈز اور جمہوریت دو متضاد قوتیں ہیں، ان کا ملاپ ہمیشہ غیر فطری رہا ہے اور جمہوری قدروں کو اس ملاپ نے نقصان ہی پہنچایا ہے۔ بلوچستان میں دو سیاسی پارٹیاں قابل تعریف ہیں ایک نیشنل پارٹی اور دوسری پشتون خوا ملی عوامی پارٹی۔ جمعیت علماء کا کردار بھی کسی حد تک قابل تعریف ہے حالانکہ جمہوری مراحل میں اس کا کردار مثبت نظر نہیں آتا ہے۔ سینیٹ کے موقع پر یہ بھی چمک دمک کی اسیر ہوجاتی ہے اور اپنی قدروں کو پامال کرتی ہے۔ سینیٹ سے حالیہ انتخاب کے مرحلہ پر اس کی اخلاقی اور اسلامی قدریں زر کی کشش میں ڈگمگاتی ہوئی نظر آئی۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے ہمیشہ کمزور افراد کو ہڑپ کیا ہے اور انحراف کی راہ اختیار کی ہے۔ سیاسی دنیا میں فلور کراسنگ قابل تعریف عمل نہیں۔ ہم نے یہ نقشہ مغربی دُنیا میں نہیں دیکھا ہے اور قول و قرار کو مسلم دنیا میں پامال ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان جیسے نیم جمہوری ملک میں انتخابات اور ووٹنگ کے وقت اخلاقی قدروں اور قول و قرار اور وعدوں کی دھجیاں اُڑتی ہوئی دیکھی ہیں ایک ایسے نیم جمہوری ملک میں قول و قرار کا پابند ہونا اور اپنی قدروں کا پاس رکھنا قابل احترام ہے اور ایک جمہوری روایات کے ساتھ سفر کرنا قابل تعظیم ہے۔ بلوچستان میں سینیٹ کے انتخابات کا جو منظرنامہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے اور اس کو تاریخ اپنے سینے میں محفوظ کرے گی اور اس کو کوئی مٹا نہ سکے گا اور نہ مورخ کا قلم کوئی ہچکچاہٹ محسوس کرے گا کہ اس سیاہ دور کو رقم نہ کرسکے۔ کچھ چہروں کو تاریخ سیاہ کردے گی اور کچھ کو روشن کردے گی۔ پس پردہ کھیل کو تاریخ بے نقاب کردے گی۔
میرے سامنے دو پارٹیوں کا بیان ہے جو اس تحریر کا سبب بنا ہے، پشتون خوا اور نیشنل پارٹی کے قائدین نے ملاقات کی ہے اور ایک بیان اخبارات کی زینت بنا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ہم نہ ہوتے تو خریدار اسمبلی کو بکرا منڈی سے بھی بدتر بنادیتے۔ یقینا یہ بیان اور موقف بالکل درست ہے۔ لیکن منڈی تو لگی ہے اور ووٹ خریدے گئے ہیں اور بکے بھی ہیں۔ بلوچستان میں جو بازار لگا تھا وہ عوام کے منتخب نمائندوں کا لگا تھا، جنہوں نے غریب عوام کو سبز باغ کے وعدوں پر ووٹ حاصل کیا تھا اور کسی نے جمہوریت کے نام پر اور کسی نے قوم پرستی کے نام پر اور کسی اسلام کے مقدس نام پر ووٹ حاصل کیے تھے اور بکنے والوں نے ان نعروں کی بدولت ایوان میں پہنچنے کی قیمت وصول کرلی اور بک گئے۔ خریدنے والوں نے ان عوامی نمائندوں کو ایک معمولی رقم پر خرید لیا۔ ہم تاریخ میں پڑھتے تھے کہ خوبصورت دوشیزائوں کا بازار حسن لگتا تھا اور اس مارکیٹ میں حسن نیلام ہوتا تھا اور پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے جہاں منتخب نمائندے نیلام ہوتے ہیں ۔ مجھے اس لمحے شیر میسور سلطان ٹیپو شہید اور جھانسی کی رانی کا تاریخی لمحہ یاد آرہا ہے جہاں ان دونوں نے برطانوی سامراج کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنے سرخ خون سے اپنے وطن اور قول و قرار اور اپنی آن پر قربان ہوگئے لیکن عہد سے جو وطن اور قوم سے کیا تھا انحراف نہیں کیا اور امر ہوگئے۔ تاریخ ان کا ذکر ہمیشہ احترام کے ساتھ کیا جائے گا۔ کیا ان عوامی نمائندوں نے تاریخ نہیں پڑھی ہے، کیا ماضی میں کبھی جھانکا نہیں ہے۔ ہم اس پس منظر میں دو پارٹیوں کا تجزیہ کررہے ہیں جس نے اس اہم مرحلہ میں اپنی قدروں کا پاس کیا۔ لیکن پشتون خوا ملی عوامی کا کردار نیشنل پارٹی سے بہت بہتر ہے جب پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے ممبر نے علی الاعلان کہا کہ میں اپنے ضمیر کے مطابق آزاد ہوں اور اپنا ووٹ ق مسلم لیگ کے قدوس بزنجو کو دوں گا اور ووٹ دینے کے بعد کہا کہ میں نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دے دیا تو پشتون خوا ملی عوامی پارٹی نے تمام خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں درخواست دے دی کہ اس کے ممبر نے فلور کراسنگ کی ہے اور پارٹی سے وعدہ وفا نہیں کیا ہے اور ٹھیک 3 مارچ کو منظور کاکڑ اپنے ضمیر کا ووٹ استعمال نہیں کرسکے۔ پشتون خوا پارٹی کا جرأت مندانہ اور تاریخی فیصلہ تھا اور الیکشن کمیشن کا کردار بھی قابل تعریف ہے کہ بروقت دھماکا خیز فیصلہ کیا اور ڈی سیٹ کردیا اور اس فیصلہ نے سابق گورنر بلوچستان کی اہلیہ کو سینیٹ میں پہنچنے سے روک دیا۔ لیکن نیشنل پارٹی یہ جرأت مندانہ اور اخلاقی فیصلہ نہیں کرسکی۔ خالد لانگو نے کھل کر کہا کہ میں قدوس بزنجو کو ووٹ دوں گا اور مجھ پر اس وقت سیاست سے زیادہ قبائلیت حاوی ہے اور انہوں نے قدوس بزنجو کو ووٹ دیا اور سینیٹ میں بھی اپنی آزاد مرضی سے ووٹ استعمال کیا۔ حاصل بزنجو اور عبدالمالک کچھ سیاسی اور کچھ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے اور منحرف ممبران کے خلاف الیکشن کمیشن کو درخواست دے دیتے تو جو آزاد ممبران منتخب ہوئے ہیں ان میں اکثر سینیٹ میں منتخب ہی نہیں ہوتے، یوں نیشنل پارٹی نے پس پردہ کھیل کے لیے ایک طرح سے میدان خالی چھوڑا ورنہ آزاد امیدوار دو سے زیادہ نشستیں حاصل نہ کرپاتے۔ نیشنل پارٹی سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کیوں اس اخلاقی جرأت کا مظاہرہ نہ کرسکی جو پشتون خوا پارٹی نے کیا۔ بلوچستان کے اس کھیل سے پردہ زر آہستہ آہستہ اُٹھتا چلا جائے گا اور تاریخ اس کھیل کے کرداروں کو نمایاں کردے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بلوچستان کے آزاد امیدوار کس کے پنجرہ میں جا بیٹھتے ہیں۔ ان آزاد منتخب نمائندوں کا کھیل چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے مرحلے تک کھیلا جائے گا۔

Share this: