زیادہ گمان

ترجمہ:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘ (الحجرات49 :12)
مطلقاً گمان کرنے سے نہیں روکا گیا ہے بلکہ بہت زیادہ گمان سے کام لینے اور ہر طرح کے گمان کی پیروی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اس حکم کو سمجھنے کے لیے ہمیں تجزیہ کرکے دیکھنا چاہیے کہ گمان کی کتنی قسمیں ہیں اورہر ایک کی اخلاقی حیثیت کیا ہے۔
ایک قسم کا گمان وہ ہے جو اخلاق کی نگاہ میں نہایت پسندیدہ اور دین کی نظر میں مطلوب اور محمود ہے، مثلاً اللہ اور اس کے رسول اور اہلِ ایمان سے نیک گمان، اور ان لوگوں کے ساتھ حُسنِ ظن جن سے آدمی کا میل جول ہو اور جن کے متعلق بدگمانی کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔
دوسری قسم کا گمان وہ ہے جس سے کام لینے کے سوا عملی زندگی میں کوئی چارہ نہیں ہے۔ مثلاً عدالت میں اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا کہ جو شہادتیں حاکمِ عدالت کے سامنے پیش ہوں ان کو جانچ کر وہ غالب گمان کی بنا پر فیصلہ کرے، کیونکہ معاملے کی حقیقت کا براہِ راست علم اس کو نہیں ہوسکتا، اور شہادتوں کی بنیاد پر جو رائے قائم ہوتی ہے وہ زیادہ تر یقین پر نہیں بلکہ ظنِ غالب پر مبنی ہوتی ہے۔ اسی طرح بکثرت معاملات میں جہاں کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے اور حقیقت کا علم حاصل ہونا ممکن نہیں ہوتا، انسان کے لیے گمان کی بنیاد پر ایک رائے قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
گمان کی ایک تیسری قسم وہ ہے جو اگرچہ ہے تو بدگمانی، مگر جائز نوعیت کی ہے اور اس کا شمار گناہ میں نہیں ہوسکتا۔ مثلاً کسی شخص یا گروہ کی سیرت و کردار میں، یا اس کے معاملات اور طور طریقوں میں ایسی واضح علامات پائی جاتی ہوں جن کی بنا پر وہ حُسنِ ظن کا مستحق نہ ہو، اور اس سے بدگمانی کرنے کے لیے معقول وجوہ موجود ہوں۔ ایسی حالت میں شریعت کا مطالبہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ آدمی سادہ لوحی برت کر ضرور اس سے حُسنِ ظن ہی رکھے۔ لیکن اس جائز بدگمانی کی آخری حد یہ ہے کہ اس کے امکانی شر سے بچنے کے لیے بس احتیاط سے کام لینے پر اکتفا کیا جائے۔ اس سے آگے بڑھ کر محض گمان کی بنا پر اس کے خلاف کوئی کارروائی کر بیٹھنا درست نہیں ہے۔
چوتھی قسم کا گمان جو درحقیقت گناہ ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کسی شخص سے بلاسبب بدگمانی کرے، یا دوسروں کے متعلق رائے قائم کرنے میں ہمیشہ بدگمانی ہی سے ابتدا کیا کرے، یا ایسے لوگوں کے معاملے میں بدظنی سے کام لے جن کا ظاہر حال یہ بتارہا ہو کہ وہ نیک اور شریف ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی گناہ ہے کہ ایک شخص کے کسی قول یا فعل میں برائی اور بھلائی کا یکساں احتمال ہو اور ہم محض سوئِ ظن سے کام لے کر اس کو برائی پر محمول کریں۔ مثلاً کوئی آدمی کسی محفل سے اٹھتے ہوئے اپنے جوتے کے بجائے کسی اور کا جوتا اٹھالے اور ہم یہ رائے قائم کرلیں کہ ضرور اس نے جوتا چرانے ہی کی نیت سے یہ حرکت کی ہے۔ حالانکہ یہ فعل بھولے سے بھی ہوسکتا ہے، اور اچھے احتمال کو چھوڑ کر برے احتمال کو اختیار کرنے کی کوئی وجہ بدگمانی کے سوا نہیں ہے۔
اس تجزیے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گمان بجائے خود کوئی ممنوع چیز نہیں ہے، بلکہ بعض حالات میں وہ پسندیدہ ہے، بعض حالات میں ناگزیر ہے، بعض حالات میں ایک حد تک جائز اور اس سے آگے ناجائز ہے، اور بعض حالات میں بالکل ہی ناجائز ہے۔ اسی بنا پر یہ نہیں فرمایا گیا کہ گمان سے یا بدگمانی سے مطلقاً پرہیز کرو، بلکہ فرمایا یہ گیا ہے کہ بہت زیادہ گمان کرنے سے پرہیز کرو۔ پھر حکم کا منشاء واضح کرنے کے لیے مزید بات یہ فرمائی گئی ہے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اس تنبیہ سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب کبھی آدمی گمان کی بنا پر کوئی رائے قائم کررہا ہو، یا کسی اقدام کا فیصلہ کرنے لگے تو اسے اچھی طرح جانچ تول کر یہ دیکھ لینا چاہیے کہ میں جو گمان کررہا ہوں کہیں وہ گناہ تو نہیں ہے؟ کیا فی الواقع اس گمان کی ضرورت ہے؟ کیا اس گمان کے لیے میرے پاس معقول وجوہ ہیں؟ کیا اس گمان کی بنا پر جو طرزِعمل میں اختیار کررہا ہوں وہ جائز ہے؟ یہ احتیاط لازماً ہر وہ شخص کرے گا جو خدا سے ڈرتا ہے ۔ اپنے گمان کو مطلق العنان بناکر رکھنا صرف اُن لوگوں کا کام ہے جو خدا سے بے خوف اور آخرت کی بازپرس سے بے فکر ہیں۔
تفہیم احکام القرآن،ص 455 جلد اول

Share this: