ادرک خوش ذائقہ غذا، مُفید دوا

Print Friendly, PDF & Email

ادرک سے کون واقف نہیں…! بچے، بوڑھے، جوان، خواتین سبھی اس مفید غذا سے واقف ہیں۔ لیکن طبی نقطۂ نظر سے یہ صرف غذا نہیں بلکہ انتہائی مفید دوا بھی ہے۔ ادرک نباتاتی پودے کی جڑ ہے جو زیر زمین پھیلتی ہے۔ فصل تیار ہونے کی صورت میں شکرقندی، آلو، مونگ پھلی کی طرح زمین کھود کر نکالی جاتی ہے۔ جب یہی جڑ خشک ہوجاتی ہے تو سونٹھ کہلاتی ہے۔ ستم یہ ہے کہ وافر مقدار میں پیدا ہونے والی اس غذا کو خوب صورت بنانے کے لیے تیزابی پانی سے دھوکر اس کی افادیت ختم کردی جاتی ہے، اور خشک ہونے کی صورت میں وزن بڑھانے اور سفید کرنے کے لیے سفید تہ چڑھاکر دھوکا دیا جاتا ہے۔
عربی زبان میں ادرک کو زنجبیل کہتے ہیں۔ قرآن حکیم میں شراباً طہوراً کے بارے میں ذکر ہے کہ مزاجھا زنجبیلا۔ یہ اس کے خوش ذائقہ ہونے کی دلیل ہے۔ انگریزی زبان میں یہ مفید غذا Ginger کہلاتی ہے۔ معدہ کی اصلاح کے لیے عام مشروبات کے طور پر Ginger کی بوتلیں اور اس کا Mother Tincture تیار کرکے بہ طور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔ معدہ کے لیے طب یونانی کے شربتوں اور قہوہ میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند اور چین کے علاقے میں بہ کثرت پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت چین اور بھارت اس کو برآمد کرکے کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ ادرک کا مزاج گرم خشک، ذائقہ قدرے تیز اور تلخی لیے ہوئے ہوتا ہے۔ سالن اور پکوان کو خوش ذائقہ بنانے، نیز باد انگیز غذائوں مثلاً گوبھی اور گوشت کے مضر اثرات کو روکنے میں مفید ہے۔ اس کے استعمال سے پیٹ میں ریاح اور اپھارہ کا خاتمہ ہوتا ہے، غذا جلد ہضم ہوتی ہے، بھوک میں اضافہ ہوتا ہے، سالن کا ذائقہ اور خوشبو خوش گوار ہوجاتے ہیں۔
طبی فوائد کی وجہ سے ادرک یا سونٹھ کا استعمال مختلف معجونوں اور جوارشات میں کیا جاتا ہے۔ اس مضمون کا مقصد قارئین کو ادرک کے استعمال کی مختلف غذائی اور طبی تراکیب بتانا ہے تاکہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔
مربہ ادرک: ادرک کا مربہ اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ ادرک کو صاف ریت میں دباکر کچھ دن پانی ڈال کر تر کیا جاتا ہے۔ اچھی طرح پھول جائے تو ریت سے نکال کر دھوکر اور صاف کرکے چھلکا اتارکر، اگر نرم نہ ہو تو پانی میں ہلکا جوش دے کر معروف طریقے سے کانٹے سے پچھنے لگاکر چینی کے قوام کو ٹھنڈا کرکے ادرک ڈال کر مربہ تیار کیا جاتا ہے۔ بازار میں اچھے دوا ساز اداروں کا تیار کردہ مربہ دستیاب ہے۔ مقدارِ خوراک دس گرام تک تازہ پانی کے ساتھ کھائیں۔ مقوی معدہ ہے، پیٹ کے درد میں مفید ہے، پیچیش کو روکتا ہے، بھوک پیدا کرتا ہے، جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔ صفراوی مزاج لوگ اسے صرف موسم سرما میں استعمال کرسکتے ہیں۔
ادرک کی چائے:
ادرک سے تیار کردہ چائے یا قہوہ لو بلڈ پریشر والوں کے لیے لاجواب تحفہ ہے۔ ایسے لوگ جو شکایت کرتے ہیں کہ جسم میں تھکاوٹ، پنڈلیوں میں درد، سر پر بوجھ، کندھوں پر دبائو رہتا ہے، ہلنے کو جی نہیں کرتا، نیند کا بے جا غلبہ رہتا ہے، وہ جب بھی بلڈ پریشر چیک کرتے یا کراتے ہیں تو بلڈ پریشر کم ہوتا ہے، موسمِ سرما میں شدید سردی محسوس ہوتی ہے، ہاتھ پائوں سرد ہوتے ہیں، گھریلو خواتین معمولی کام کرنے، فرش یا کپڑے دھونے سے ’’سردی لگنے‘‘ کا شکار ہوتی ہیں، اُن کے لیے یہ قہوہ اکسیر اور ’’کم خرچ بالا نشین‘‘ علاج اور بغیر ڈاکٹر کے دوا ہے۔ طبیعت کو فرحت اور سکون میسر آتا ہے، وبائی نزلہ زکام کا ازالہ ہوتا ہے، یہ قہوہ مقوی معدہ، مقوی اعصاب ہے۔ موسم سرما کی گلابی جھڑی اور برسات کے موسم میں امراض سے محفوظ رہنے کے لیے حفظِ ماتقدم کے طور پر بے حد مفید ہے۔ کم خرچ اور غریب پرور ٹانک ہے۔
ہوالشافی: تازہ ادرک 3 گرام، کشمش 8 دانے، لونگ 2 عدد، دار چینی 2 گرام، سبز الائچی 3 عدد۔ مذکورہ مقدار میں تین کپ قہوہ تیار ہوجاتا ہے۔ اگر شہد خالص میسر ہو تو شیریں کرکے نوشِ جاں کریں۔
ادرک کا حلوہ:
ادرک کا حلوہ بھی بے حد مفید غذا اور دوا ہے۔ خواتین کے کمر درد اور پٹھوں کے کھچائو، دماغی و اعصابی کام کرنے والے لوگوں، اساتذہ، وکلا اور طلبہ کے لیے یکساں مفید ہے۔ آدھا لیٹر دودھ لے کر اس میں ادرک کا میدے کی طرح باریک آٹا ملا لیا جائے۔ سوجی کو روغنِ زیتون یا گائے کے گھی میں (اگر میسر ہو) بھون کر مذکورہ دودھ پانی کی جگہ ڈال کر حلوہ تیار کیا جائے، یا سوجی میں سونٹھ کے آٹے کو بھون کر دودھ ملا کر حلوہ تیار کیا جائے۔ سوجی بھونتے وقت دو انڈے بھی ملا لیے جائیں، یا دودھ میں انڈے حل کرکے، انڈے ملا دودھ بھنی ہوئی سوجی میں ملا کر حلوہ تیار کیا جائے۔ اس حلوے کو سویٹ ڈش کے طور پر استعمال کیا جائے۔ فالج اور لقوہ کے اُن مریضوں کے لیے جو بلغمی مزاج ہوں، یہ حلوہ مکمل دوا ہے۔ ایسے مریضوں کے لیے بھی مفید غذا ہے جن کا بلڈ پریشر مستقل کم رہتا ہو۔
ادرک کا مفید ناشتا:
ہمارے ہاں عام طور پر صبح کے ناشتے میں آملیٹ یا فرائی انڈہ رواج پا چکا ہے۔ انڈے میں کدوکش کرکے ادرک، پیاز، لہسن اور تازہ دھنیا پھینٹ کر آملیٹ تیار کیا جائے تو یہ ایک مکمل غذا اور مقوی صحت بخش ناشتا ہے۔
پرانی پیچش کا عمدہ علاج:
جن بچوں میں دستوں کا مرض بگڑ جاتا ہے، یا بڑی عمر کے لوگوں کو سنگرہنی کا مرض لاحق ہوتا ہے، ان کے لیے بہترین علاج یہ ہے کہ ادرک کو گھی یا روغنِ زیتون میں نیم گرم آنچ پر بھون لیں۔ جب ادرک بھن کر سرخی مائل ہوجائے تو نکال کر خشک کرلیں، سفوف تیار ہے۔ یہ سفوف عمر کے مطابق مقدار کا تعین کرکے دہی، لسّی یا شربتِ انار کے ساتھ استعمال کرائیں۔ حسب توقع شفا ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
وبائی نزلہ اور زکام میں ادرک کا استعمال:
جب نزلہ اور زکام وبائی صورت میں ہوں، یا ایسے لوگ جو ’’کیرا‘‘ کے شاکی ہیں وہ تین گرام ادرک، دو عدد سبز الائچی کا قہوہ بناکر نیم گرم استعمال کریں۔ مرض کی حالت میں یہ علاج ہے، اور وبائی صورت میں اس کا استعمال مرض سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اگر چند قطرے تازہ لیموں کا رس نچوڑ لیں تو اثر دوچند ہوجاتا ہے۔
کولیسٹرول اور اس کی وجہ سے بلڈ پریشر میں مفید چٹنی:
آج کے دور کا خطرناک مرض جو ہارٹ اٹیک کا پیش خیمہ ہے وہ خون میں چربیلے اجزا (شحمیت) کا بڑھ جانا ہے۔ کولیسٹرول کا یہ اضافہ چلتے یا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس پھولنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جو آگے چل کر دل کی شریانوں کی بندش، انجائنا اور دیگر قلبی امراض کا سبب بنتا ہے۔ علاج کے طور پر یہ چٹنی استعمال کیجیے اور دعا دیجیے:
ہوالشافی: ادرک تازہ 200 گرام، زرشک شیریں 100 گرام، تھوم تازہ 10 جوے، انار دانہ 100 گرام، یا ایک تازہ انار کے دانے، تازہ پودینہ 100 گرام، تازہ دھنیا 100 گرام۔ چٹنی تیار کریں اور صبح و شام کھانے کے ساتھ ایک چمچی کھا لیں۔
دودھ کے استعمال میں مفید:
بعض لوگ شکایت کرتے ہیں کہ دودھ جیسی مفید غذا استعمال نہیں کرسکتے، اس سے ہمارے پیٹ میں گرانی اور گیس پیدا ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے زنجبیل بے حد مفید ہے۔ ایک گلاس دودھ میں دو گرام زنجبیل کا سفوف ملاکر استعمال کیا جائے۔ دودھ ہضم ہوگا اور گیس نہیں بنے گی، تبخیر کا عمل بھی نہیں ہوگا۔
کھانسی اور گلے کے امراض میں افادیت:
موسم سرما میں معمولی ٹھنڈی ہوا میں سفر یا بے احتیاطی کے باعث نزلہ، زکام اور گلے کی خرابی اکثر تنگ کرتی ہے۔ تازہ ادرک کو شہد میں ملا کر بطور چٹنی استعمال کرنے سے گلے کی خراش اور کھانسی کا اللہ کے فضل سے خاتمہ ہوجاتا ہے۔
بطور منجن استعمال:
خشک ادرک کا کپڑ چھان کر وہ پائوڈر مختلف منجنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ دانتوں میں گرم اور ٹھنڈا لگنے کی حساسیت، مسوڑھوں سے خون آنے (پائیوریا) اور منہ کی بو کے خاتمے کے لیے مفرد ادرک کا پائوڈر بطور منجن بے حد مفید ہے۔
جوڑوں کے درد اور چوٹ کے درد میں استعمال:
جوڑوںکے درد اور چوٹ کے درد میں انڈے کی سفیدی میں اچھی طرح پھینٹ کر اس کا لیپ مفید ثابت ہوتا ہے۔ کمر کے مہروں کے درد میں اس کا لیپ سکون دیتا ہے۔ بازار میں جوارش زنجبیل اور معجون تیار شدہ دستیاب ہے۔ جن لوگوں کو جوڑوں کا درد، معدے کے امراض، بھوک کی کمی اور تبخیرِ معدہ کی شکایت ہے وہ قدرت کی اس نعمت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ٹ کے لیے خواجہ سعد رفیق متحرک رہے۔

Share this: