انتخابات کی تیاری‘اصل کھیل نگراں حکومت کے بعد شروع ہو گا

ملک میں گیارہویں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور تبدیلی نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی، البتہ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے بعد ملک میں ایک نیا تجربہ کیا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو آزاد امیدواروں کے گرد جمع کردیا گیا۔ سیاسی عمل میں شریک تین بڑی سیکولر سیاسی جماعتوں مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں اقتدار کے لیے گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور ملکی میڈیا بھی انہی تینوں سیاسی جماعتوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ تینوں سیاسی جماعتوں میں شامل صفِ اوّل کی لیڈرشپ ماضی میں اقتدار میں رہی اور کسی بھی شعبے میں اصلاحِ احوال کا ہلکا سا کریڈٹ بھی انہیں نہیں دیا جاسکتا۔ تحریک انصاف کو خیبر پختون خوا میں کام کرنے کا مینڈیٹ ملا، ”نیا پاکستان“ اس کا نعرہ تھا، پانچ سال پہلے جب اقتدار میں آئی تو پشاور درست تھا، پانچ سال بعد جب حکومت ختم ہونے والی ہے تو سارا شہر کھود کر رکھ دیا گیا ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں عمران خان نے بدعنوان سیاسی لیڈرشپ سے ہاتھ ملاکر اپنا نعرہ اپنے پاؤں تلے روند دیا۔
مسلم لیگ(ن) کا جائزہ لیا جائے تو نوازشریف کا سیاسی سفر 38 برسوں پر محیط ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے گملے سے اٹھائے گئے اور پارلیمنٹ میں پہنچے، جنرل جیلانی کی بیساکھیوں کے سہارے وزیراعلیٰ بنے، آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے پیپلزپارٹی کو چیلنج کیا اور مرکز میں وزارتِ عظمیٰ تک پہنچے۔ ان 38 برسوں میں وہ تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں بہتری نہیں لاسکے، میرٹ پر نوکریاں نہیں دے سکے، بزنس کمیونٹی کے نمائندے قرار پائے اور عام صارف کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اقتدار اُن کے اثاثوں میں غیر معمولی بڑھوتری کے سوا ملک کو کچھ نہیں دے سکا۔
پیپلزپارٹی پچاس سال کی سیاسی زندگی میں چار بار اقتدار میں رہی۔ اس نے نوکریاں صرف کارکنوں میں بانٹیں، جی بھر کر کرپشن کی، آئی ایم ایف کی ہدایت پر بجٹ بناتی رہی۔ تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے شعبے بری طرح نظرانداز کیے رکھے۔ قومی سلامتی کے امور اور خارجہ محاذ پر مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی حکومتیں ہر لحاظ سے ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کی حکومتیں دو دو بار کرپشن کے الزام میں برطرف ہوئیں۔ ماضی میں اگرچہ اقتدار میں واپسی ہوئی کہ ملکی اسٹیبلشمنٹ نے ڈھیل دکھائی اور نئے عہدو پیمان کے ساتھ اقتدار کے لیے راستہ دیا۔ لیکن اِس بار ایک بڑا امتحان درپیش ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت اگرچہ دعویٰ کررہی ہے کہ وہ ملک کی مقبول سیاسی لیڈرشپ ہے، لیکن دو ماہ کے بعد مقبولیت ایک امتحان سے گزر رہی ہوگی۔ مئی کے آخر میں جب ملک میں نگران حکومت قائم ہوگی تو ملک کا سارا سیاسی نقشہ یکسر تبدیل ہوجائے گا اور سیاسی مقبولیت تنکوں کی مانند بکھر جائے گی۔ مسلم لیگ(ن) کے بہہ جانے کا مطلب پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے راستے صاف ہونا نہیں، بلکہ ”لڑتے لڑتے ہوگئی گم ایک کی چونچ اور ایک کی دُم“ والا معاملہ ہوگا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا یہ بیان مستقبل کے حالات کی بہت واضح نشان دہی کررہا ہے کہ آئندہ وزیراعظم بھی کوئی آزاد امیدوار ہی ہوگا۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے آخری دوماہ باقی ہیں، یہ اپنی آئینی مدت مکمل کرکے نوازشریف کی نااہلی کا زخم لے کر 31 مئی کو رخصت ہونے والی ہے، اور یکم جون کو نگران حکومت اس کی جگہ لے گی۔ آئینی لحاظ سے نگران وزیراعظم کی تقرری قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیراعظم کی باہمی مشاورت سے ہونی ہے۔ کچھ نام سامنے آئے ہیں، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے نگران وزیراعظم کے لیے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام تجویز کیا ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کا نام بھی زیر غور ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف باہمی مشاورت سے نام تجویز کرتے ہیں، دونوں میں اتفاق نہ ہو تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں چلا جائے گا، وہاں بھی اتفاق نہ ہو تو پھر الیکشن کمیشن کا اختیار شروع ہوتا ہے۔ 2013ءکے انتخابات کے وقت نگران حکومت کا معاملہ الیکشن کمیشن میں طے ہوا تھا۔ غالب امکان ہے کہ اس بار یہ بوجھ بھی سپریم کورٹ ہی اٹھائے گی۔ متعدد وجوہات کی بناءپر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جاتا نظر آرہا ہے۔
نگران حکومت کے قیام کے بعد اصل کھیل شروع ہوگا۔ نوازشریف کی کوشش ہوگی کہ مسلم لیگ(ن) بکھرنے سے بچ جائے۔ وہ شاکی ہیں کہ انہیں جوڈیشل ایکٹوازم کے ذریعے مقتدر قوتیں دیوار کے ساتھ رہی ہیں۔ ان کے تحفظات اپنی جگہ، لیکن یہ کوئی احسن امر نہیں کہ وہ اس کا اظہار کرتے ہوئے بسا اوقات تمام حدود و قیود بھول جاتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر پارٹی کے بعض سینئرافراد قیادت سے نالاں ہیں جن میں چودھری نثار علی خان سرفہرست ہیں، جن کا کھیل نگران حکومت کے قیام کے بعد شروع ہوگا۔ وہ نوازشریف کو خوشامدیوں سے محفوظ رہنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔ دلیل وہی تھی کہ اگر حکومت اپنی ہے تو اداروں سے الجھنا محض مشکلات میں ہی اضافہ کرے گا۔ مسلم لیگ(ن) میں قیادت کی تبدیلی کے بعد جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شہبازشریف کے آجانے سے پارٹی میں چودھری نثار علی خان اہم اور مضبوط ہوجائیں گے، وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس بات کا یقین کرلینا چاہیے کہ حکمت عملی مختلف ہوسکتی ہے تاہم نواز اور شہباز ایک ہیں۔ اسی لیے چودھری نثار علی خان فی الحال اپنے پتّے ظاہر نہیں کریں گے۔ وہ وقت کے انتظار میں ہیں۔ بہترین وقت احتساب عدالت کے فیصلے کا ہے۔ نوازشریف کے خلاف احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد سیاست کا دھارا ہی بدل جائے گا۔ ملکی سیاست پر حتمی تجزیہ اب نگران حکومت کی تشکیل کے بعد ہی ہوسکتا ہے، آج کے حالات پر صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی، بحالی کے بعد سیاسی عمل میں شمولیت تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوگی۔

متحدہ مجلس عمل بحال

متحدہ مجلس عمل کے سربراہی اجلاس میں جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو مجلس عمل کا صدر اور جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ کو مرکزی جنرل سیکرٹری بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ مجلس عمل میں شامل جماعتوں کے سربراہوں نے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ان فیصلوں کا اعلان کیا ۔ مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے ان فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن متحدہ مجلس عمل کے صدر ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ جنرل سیکرٹری ، جمعیت علما پاکستان کے صدر پیر اعجاز ہاشمی ، امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ، اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ ساجد نقوی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نائب صدور ، جمعیت علما پاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی سیکرٹری اطلاعات ، جمعیت علما اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری ، جمعیت علما پاکستان کے محمد خان لغاری، مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے شفیق پسروری اور اسلامی تحریک پاکستان کے علامہ عارف حسین وحیدی ڈپٹی سیکرٹریز جنرل جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے علامہ شبیر میثمی مرکزی سیکرٹری مالیات ہوں گے۔ لیاقت بلوچ نے اعلان کیا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں اسلام آبادکنونشن سینٹر میں مرکزی کنونشن ہو گا ، جس میں منشور اور آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔اجلاس میں جمعیت علما اسلام کے مولانا فضل الرحمن ، مولانا امجد خان ، اکرم خان درانی ، امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ، لیاقت بلوچ ، پروفیسر ابراہیم ، جمعیت علما پاکستان کے پیر اعجاز ہاشمی ، اویس نورانی ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے علامہ ساجد میر ، ابتسام الٰہی ظہیر ، اسلامی تحریک پاکستان کے علامہ عارف حسین وحیدی ، علامہ شبیر میثمی اور دیگر نے شرکت کی۔ ایم ایم اے کے نو منتخب صدر مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا کہ آئندہ عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے ، ایک منشور ، ایک نشان ، ایک جھنڈے اور ایک دستور کے تحت حصہ لیں گے۔ دستور کے مطابق دیگر جماعتوں سے انتخابی مفاہمت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے۔ مجلس عمل اپنی تمام توانائیاں ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ ، قومی مسائل کے حل ، اقلیتی اور محروم طبقوں سمیت تمام کے حقوق کے تحفظ اور ملک میں عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرے گی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج ملک کو کئی مسائل درپیش ہیں، ایک طرف لوگوں میں بے چینی ہے تو دوسری طرف چھوٹی چھوٹی بغاوتیں سر اٹھا رہی ہیں اور ریاست کے خلاف چھوٹے چھوٹے گروپ تشکیل دیے گئے ہیں۔ ہم سب کو مل کر ملک میں امن کے لیے حکمت عملی طے کرنی ہے۔ ہم اسلامی احکام کے مطابق لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں او رجو لوگ سختی یا شدت چاہتے ہیں ، ہم ان کی نفی کرتے ہیں۔ ہم اس تصور کے ساتھ ایک نئے سفر کا آغاز کر رہے ہیں کہ ملک میں امن ہو ، معاشی بدحالی کا خاتمہ ہو ، سود کی لعنت سے نجات ملے اور بلا امتیاز تمام پاکستانیوں کے مسائل حل ہوں، یہ ہمارے بنیادی اہداف ہیں۔ ہم اقلیتوں سمیت تمام طبقوں کے حقوق کا تحفظ اور باعزت زندگی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عالمی سطح پر بھی امت مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی کے لیے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مقصد عالمی جبر کی سپورٹ کرنے والی قوتوں کو شکست دینا اور مظلوموں کی آواز بننا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہمارے تمام فیصلے باہمی مشاورت سے ہوں گے اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں سے انتخابی مفاہمت کے دروازے کھلے ہیں۔ ان سے مشاورت کے لیے رابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ امیر جماعتِ اسلامی پاکستان اور سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم ایک خوش حال پاکستان چاہتے ہیں، ہم اعلیٰ اداروں میں عام لوگوں کے لیے دروازے کھولنا چاہتے ہیں۔ مدینے کی ریاست ہمارے لیے رول ماڈل ہے اور نظام خلافت ہمارا مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف ملک کے اندر اور ملک کے باہر بھی سازشیں ہوں گی۔ملکی سیاست پر قابض سازشی قوتیں مذہبی قوتوں کو سامنے آتا ہوا نہیں دیکھ سکتیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ تمام امن پسند اور جمہوری لوگ متحدہ مجلس عمل کے ساتھ کھڑے ہوں اور تعاون کریں۔ قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے اور انتشار کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں گے۔

حصہ