وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور امریکی نائب صدر کی ملاقات

ابلاغِ عامہ کے پاکستانی ذرائع کے مطابق امریکی دارالحکومت میں پاکستان کے وزیراعظم اور امریکی نائب صدر کے درمیان ایک ہنگامی اور مختصر ملاقات ہوئی ہے۔ 30 منٹ جاری رہنے والی یہ ملاقات شاہد خاقان عباسی کی درخواست پر ہوئی جس میں مائیکل پینس کی معاونت ان کے مشیر خصوصی برائے جنوب ایشیا جناب مائیکل کٹرون (Michael Cutrone) نے کی، جبکہ شاہد خاقان عباسی کسی مشیر یا مددگار کے بغیر بات چیت کے لیے اکیلے نائب صدر کے گھر گئے۔ ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ اس سے پہلے امریکی کانگریس کی مجلس قائمہ برائے خارجہ کی ذیلی کمیٹی برائے ایشیا اور بحرالکاہل امورکے سربراہ ٹیڈ یوہو (Ted Yoho)اور کمیٹی میں حزب اختلاف کے سینئر رکن بریڈ شرمن (Brad Sherman) نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ 40 منٹ کی اس گفتگو میں پاکستانی وزیراعظم نے امریکہ کی پارلیمانی قیادت کو یقین دلایا کہ پاک چین دوستی امریکہ کے خلاف نہیں، اور اسلام آباد چین و امریکہ دونوں سے قریبی تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں ناموسِ رسالت کے قانون کے بارے میں بھی گفتگو کی گئی۔ چند دن پہلے پاکستانی وزارتِ خارجہ کی سیکریٹری محترمہ تہمینہ جنجوعہ نے بھی امریکی وزارتِ خارجہ کے افسران اور کانگریس کے کچھ ارکان سے ملاقات کی تھی۔ ان ملاقاتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابات کے قریب آتے ہی توہینِ رسالت قوانین کے حوالے سے پاکستان پر دبائو بڑھ گیا ہے۔ اسلام آباد کے سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کچھ بین الاقوامی این جی اوز اور یورپ کے سفارت کار تینوں بڑی جماعتوں یعنی مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی قیادت سے رابطے میں ہیں اور ان قوانین پر اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کا اصرار ہے کہ طالبان کابل انتظامیہ سے مذاکرات کریں اورپاکستان طالبان کو مذاکرات پر مجبور کرے۔

امریکہ: انتہا پسندوں کی مسلم دشمن مہم

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کی تاریخ قریب آتے ہی مسلم مخالف انتہاپسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ریاست ایریزونا سے سینیٹ کی نشست کے لیے ایک مسلمان خاتون محترمہ دیدرہ عبود بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ کی خواہش مند ہیں، جن کے خلاف تحریک محبانِِ ایریزونا (Patriot Movement Arizona) یعنی PMAZ نے زہریلی مہم چلا رکھی ہے۔ PMAZکا کہنا ہے کہ دیدرہ امریکہ دشمنوں کی حامی ہیں۔ معاملہ اخباری بیانات اور تقریروں تک رہتا تب توکوئی بات نہ تھی، لیکن اب مسلمانوں پر حملے اور مساجد کی بے حرمتی تک بات آپہنچی ہے۔ جمعرات کی رات دو خواتین ایک بچی کے ساتھ Tempa کی اسلامک سینٹر کی مسجد میں داخل ہوئیں اور 24 منٹ تک مسجد کے اندر سے فیس بُک پر براہِ راست منفی گفتگو کرتی رہیں۔ اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم کہ معصوم بچی سے بھی نفرت انگیر جملے کہلوائے۔ جاتے ہوئے مسجد سے قرآن، کتابچے، گھڑی اور دوسری چیزیں چرا کر لے گئیں۔ پولیس نے آج دونوں عورتوں یعنی ٹینی گونزیلز (Tahnee Gonzales) اور ایلزبتھ ڈوہر (Elizabeth Dauenhauer) کو گرفتار کرکے ان پر چوری کا مقدمہ قائم کردیا۔ مسلم رہنمائوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں خواتین کوئی عام چور یا مجرم نہیں بلکہ PMAZ سے وابستہ دہشت گرد ہیں۔ ان دونوں نے کئی بار دیدرہ عبود کی انتخابی ریلیوں میں گڑبڑ کی ہے اور مسجد کے اندر سے فیس بک نشریات انتہاپسندوں کی زہریلی انتخابی مہم کا حصہ ہے۔Temp علم و دانش کی بستی ہے جہاں جامعہ ایریزونا کا کیمپس ہے۔ جامعہ اور اس کے تحقیقی مراکز سے بہت سے مسلمان پروفیسر اور ماہرین وابستہ ہیں۔ گزشتہ 10 سال کے دوران ایریزونا میں مسلمانوں کی تعداد میں 35 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے جس میں بڑی تعداد نومسلموں کی ہے جو خود کو Convert یا نومسلم کے بجائے اپنے گھر لوٹنے والے یا Revertsکہتے ہیں۔ فیس بک پر اس ناشائستہ نشریات کی ایریزونا کے لوگوں اور انتخابات میں دیدرہ عبود کے مخالفین نے بھی مذمت کی ہے۔ دوسری طرف یہ سب کچھ دیکھ کر عام لوگوں میں اسلامی عقائد سے متعلق اشتیاق خاصا بڑھ گیا ہے۔ ۔
(بشکریہ مسعود ابدالی)

پشاور: جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے دفاتر بند

بی بی سی اردو کے مطابق پشاور میں حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃ اور اسی تنظیم کے زیرانتظام امدادی ادارے فلاحِ انسانیت کے دفاتر کو انتظامیہ نے تالے لگا دیے ہیں، جبکہ اس تنظیم کے زیرانتظام تین مدرسے اور دو مساجد محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیے گئے ہیں۔ لاہور میں اس تنظیم اور اس کی ذیلی تنظیموں کے دفاتر پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ملنے والی امداد حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی سے مشروط کی ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ امریکہ

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دورہ امریکہ واشنگٹن پہنچے ہیں وہاں صدر ٹرمپ نے انکا پرتپاک خیرمقدم کیا،وہ نائب صدر مائیک پنس کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر میک ماسٹر ، وزیر دفاع جیمز میٹس اور کانگریس کے ارکان سے بھی ملاقات کرینگے۔ دورے میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ متعدد موضوعات زیر بحث آئیں گے جن میں سیاسی ، اقتصادی ، سکیورٹی اور عسکری امور شامل ہیں۔بات چیت کے اہم ترین ایجنڈے میں مشرق وسطی سے متعلق گرم معاملات سرفہرست ہیں۔ ان میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مضبوط بنانا ، ایران ، شام ، یمن ، عراق اور لیبیا کی صورت حال کے علاوہ خلیج تعاون کونسل اور فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے بیچ ڈگمگاہٹ کا شکار امن عمل شامل ہے۔وہ دو ہفتے قیام کے دوران ہالی ووڈ بھی جائینگے۔ اپنے دورہ برطانیہ میں انھوں نیمملکت کے طول و عرض میں 3Dسہولتوں کے ساتھ 300 سنیما تعمیر کرنے کے معاہدے کئے ہیں جسکی مجموعی لاگت ڈیڑھ ارب ڈالر ہے۔ اب وہ ہالی ووڈ کی فلموں کو عربی ترجمے کے ساتھ سعودی سنیما گھروں میں دکھانے کے خواہشمند ہیں۔سعودی شہزادہ اسلحے و دیگر مد میں 200 ارب ڈالر کی خریداری بھی کرینگے۔

کینیڈا تنخواہوں میں کمی کا مطالبہ

خبر کیا ہوتی ہے؟ اس حوالے سے ہمارے صحافی دوستوں کا کہنا یہ ہے کہ اگر کتا انسان کو کاٹ لے تو یہ خبر نہیں ہوتی۔ اگر انسان کتے کو کاٹے تو یہ خبر ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک جو کچھ معمول کے مطابق ہورہا ہوتا ہے، یا جس میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی، وہ خبر کے زمرے میں نہیں آتا۔ خبر کی تعریف کو مدنظر رکھا جائے تو ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ کینیڈا کے سینکڑوں ڈاکٹر اپنی تنخواہوں میں اضافے پر احتجاج کررہے ہیں اور یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کی تنخواہیں کم کی جائیں۔ جی ہاں! وہ تنخواہیں بڑھانے کا نہیں بلکہ تنخواہیں کم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کینیڈا کے صوبے کیوبک (Quebec) میں
ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا تو انہوں نے یہ اضافی تنخواہیں لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ ان کی تنخواہوں پر جو اضافی رقم خرچ ہوگی، وہ صحتِ عامہ کے لیے دیگر شعبوں میں خرچ کی جائے تاکہ لوگوں کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم ہوسکیں۔ کینیڈا کے ڈاکٹروں نے ایک تنظیم قائم کی ہوئی ہے، جو لوگوں کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ ان ڈاکٹروں نے حکومت کو ایک ’’آن لائن پٹیشن‘‘ فائل کی ہے، جس میں انہوں نے اضافی تنخواہیں نہ لینے کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کیا ہے۔ اس آن لائن پٹیشن پر مزید ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹوڈنٹس بھی دستخط کررہے ہیں۔
(عباس مہکری جنگ، 18مارچ2018ء)

امریکہ میں ’’نامزد‘‘ سفیر اور سوالات

کسی سفیر کی غیر ملک میں تعیناتی سے قبل اس کی شخصیت کا تعارف ایک ایسی دستاویز کے ذریعے کروایا جاتا ہے جسے سفارتی زبان میں ایگریما کہتے ہیں۔ عموماً ایگریما میں فراہم کردہ معلومات کے بارے میں سوالات نہیں اٹھائے جاتے۔
لیکن علی جہانگیر صدیقی کے بارے میں مبینہ طور پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ میرے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکی یہ جاننے کو بے چین ہیں کہ تجویز کردہ سفیر کے امریکہ میں کچھ کاروباری روابط یا مفادات ہیں یا نہیں۔ امریکہ نے علی جہانگیر کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں یا نہیں مجھے اس کی بابت ہرگز کوئی ٹھوس اطلاع میسر نہیں ہے۔ ایک بات البتہ بہت وثوق کے ساتھ بیان کی جا سکتی ہے کہ سینئر پاکستانی صحافیوں اور مقبول ترین اینکر خواتین وحضرات کے ساتھ ہونے والی حالیہ چند ملاقاتوں میں پاک فوج کے اعلیٰ ترین عہدے داروں نے تجویز کردہ شخص کے بارے میں ناخوش گوار حیرت کا اظہار کیا۔ یہ بات عیاں تھی کہ مذکورہ شخص کی نامزدگی سے قبل عسکری قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ عسکری قیادت نہ صرف اس ضمن میں اپنائی گئی ’’خودمختاری‘‘ کے بارے میں ناراض نظر آئی بلکہ اس خدشے کا اظہار بھی کرتی رہی کہ سفارتی امور کی باریکیوں سے قطعی ناواقف دِکھتا ایک نوعمر شخص امریکہ میں تعیناتی کے دوران پاکستان کے لیے کارآمد بھی ہوسکتا ہے یا نہیں۔ مختصراً اس تعیناتی کے بارے میں بدگمانی بہت واضح تھی۔ اس بدگمانی کے تناظر میں وزیراعظم ’’اچانک‘‘ امریکہ روانہ ہوگئے۔ وہاں ان کا قیام فقط ’’نجی‘‘ بھی نہیں رہا۔ امریکی نائب صدر سے ان کی ایک ملاقات بھی ہوگئی۔ اس ملاقات کے بعد پاکستان کو تقریباً دھمکی محسوس ہوتے پیغامات دئیے گئے ہیں۔ ان پیغامات کا صحافیوں کے ذریعے بھیجا جانا مجھے یہ بھی سوچنے پر مجبور کررہا ہے کہ غالباً پاکستانی وزیراعظم نے امریکی نائب صدر سے اپنی ملاقات میں Do More کرنے سے انکار کردیا ہوگا۔ لیکن عسکری اور منتخب سیاسی قیادت کے مابین موجود خلیج اور بدگمانیوں کے موجودہ موسم میں معاملے کو سادہ انداز میں نہیں لیا جائے گا۔ عالمی امور پر نگاہ رکھنے والے ہمارے ایک جید اینکر پرسن ہیں ڈاکٹر معید پیرزادہ۔ اتوار کی شب کھانے سے قبل میں نے تھوڑی دیر کو ٹیلی وژن کھولا تو وہ اپنا شو ختم کررہے تھے۔ یہ شو ختم کرتے ہوئے انہوں نے عباسی صاحب کو متنبہ کیا کہ وزارتِ خارجہ کی جانب سے فراہم کردہ کسی Note Takerکے بغیر ان کی امریکی نائب صدر سے ملاقات غیر ذمہ دارانہ تھی۔ لفظ انہوں نے اگرچہ ایک اور استعمال کیا تھا۔ میں دو ٹکے کا رپورٹر اسے دہرانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ حیرانی اگرچہ اُس وقت ہوئی جب ڈاکٹر صاحب نے مذکورہ ملاقات کا تقابل اُس ملاقات سے کیا جو کارگل کا مسئلہ سلجھانے کے لیے نوازشریف صاحب نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کے دوران اُس وقت کے امریکی صدر کلنٹن سے 4 جولائی 1999ء کے روز کی تھی۔ ہماری وزارتِ خارجہ سے متعلقہ کئی ’’بسمارک‘‘‘ یہ دعویٰ کرتے پائے جاتے ہیں کہ چونکہ مذکورہ ملاقات میں نوازشریف کو ’’گائیڈ‘‘ کرنے کے لیے کوئی پاکستانی سفارت کار موجود نہیں تھا، اس لیے پاکستان کے وزیراعظم کلنٹن سے ملاقات کرتے ہوئے ’’بکری‘‘ ہوگئے۔کارگل سے پاکستانی فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ بغیر کوئی شرط عائد کیے مان لیا۔ بھارت نے اس رویّے کو اپنی اخلاقی اور سفارتی فتح قرار دیا۔ اسی باعث بالآخر پاکستان میں 12 اکتوبر1999ء ہوگیا، یعنی جنرل پرویزمشرف کا ٹیک اوور۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اِن دنوں مجھے کارگل کے واقعے کی وجہ سے پیدا ہوئی بحرانی صورتِ حال نظر نہیں آرہی۔ امریکہ سے ہمارے تعلقات البتہ ہرگز خوش گوار نہیں ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں صدر ٹرمپ نے افغانستان کے بارے میں ’’نئی پالیسی‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں سخت زبان استعمال کی تھی۔ اِس سال کی پہلی صبح بھی موصوف نے جو ٹوئٹ کیا اُس کا نشانہ پاکستان تھا۔ لیکن اس ٹوئٹ کے بعد ہمارے سیاسی و دفاعی حکام کی امریکی حکام سے متواتر ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ تاثر ہمیں بہت اعتماد کے ساتھ یہ دیا گیا کہ معاملات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مگر گزشتہ ماہ امریکی مطالبے پر ہمیں FATFکی واچ لسٹ پر ڈال دیا گیا تھا اور اب وہاں سے مزید مخاصمانہ پیغامات آنا شروع ہوگئے ہیں۔ مگر فی الفور میری پریشانی کی اصل وجہ وزیراعظم پاکستان کی امریکی نائب صدر سے ملاقات کے بارے میں اپنائی گئی پراسرار خاموشی ہے۔ ان کی یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ بھی ہوسکتی ہے اور بدگمانیوں کے اس موسم میں یہ ہمارے لیے خیر کی خبر نہیں۔
(نصرت جاوید، نوائے وقت،20مارچ2018ء)

ساؤتھ کانفرنس

۔Pakistan The Way Forward 2017 کے نام سے SAATH (سائوتھ ایشیا میں دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف جدوجہد) کے تحت کرائی جانے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر حسین حقانی اور ان کے دوست امریکی کالم نگار ڈاکٹر طارق کو مدعو کیا گیا تھا۔ خیر سے ڈاکٹر طارق بھی پاکستان کے عسکری اداروں کے بارے میں حسین حقانی کے رنگ میں مکمل طور پر رنگے ہوئے ہیں۔
’’ساتھ‘‘ کے نام سے 2017ء کی یہ کانفرنس اس سلسلے کی کڑی تھی جس کا آغاز اکتوبر 2016ء میں لندن سے کیا گیا تھا۔ حالیہ کانفرنس میں حسین حقانی کے علاوہ براہمداغ بگٹی، مہران مری، احمر مستی خان، حمال حیدر اور بنوک کریمہ بلوچ جیسے انتہا پسندوں کو بطور مقرر بلایا گیا۔ اکتوبر 2016ء میں ’ساتھ‘ کے زیراہتمام کرائی گئی پہلی کانفرنس کے شرکاء کی گفتگو سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ پس پردہ بھارت ہے جو بلوچ علیحدگی پسندوں کے پیغام کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، اور دلچسپ بات یہ تھی کہ اس کانفرنس میں دہشت گردی اور انسانی حقوق پر کم بات ہوئی لیکن سی پیک اور گوادر کے خوب لتے لیے گئے۔ 2017ء کی اس کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیاکہ SAATH کے دو سیکرٹریٹ قائم کیے جائیں گے جن میں سے ایک اسلام آباد میں، اور دوسرا کسی دوسرے ملک میں قائم کیا جائے گا جس کا فیصلہ بعد میں ہوگا، لیکن اسلام آباد کے سیکرٹریٹ کے لیے انتظامات سب سے پہلے کیے جائیںگے۔
(منیر احمد بلوچ دنیا، 20مارچ2018ء)

Share this: