۔23مارچ 1940ء، مقدس عہد کی تجدید کا دن

Print Friendly, PDF & Email

نسیم حجازی
۔23 مارچ1940ء کے دن منٹو پارک لاہور میں اُن انسانوں کا ہجوم تھا جنہیں کسی منزل اور راستے کی تلاش تھی۔ پھر فضا میں پاکستان کا نعرہ گونجا اور انہیں ایک غیر یقینی مستقبل کی تاریکیوں میں روشنی کا مینار دکھائی دینے لگا۔
یہ وہ لفظ تھا جس نے ہمارے ماضی اور حال کے درمیان خلا پُر کردیے تھے اور ہمیں ایسا نظر آتا تھا کہ ہم نے کوئی نئی منزل نہیں دیکھی، کوئی نیا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ اجتماعی زندگی کے وہ تقاضے جو افراد میں نیک و بد کا شعور بیدار کرتے ہیں، ہمیں صدیوں سے اس منزل کی طرف دھکیل رہے تھے۔
پانی پت، پلاسی اور سرنگاپٹم کی رزم گاہیں اسی راستے کی منازل تھیں۔ ہندوستان کے نقشے پر ملتِ اسلامیہ کے اَن گنت شہیدوں کے خون سے جو لکیریں کھینچی گئی تھیں وہ سب اسی منزل کی نشان دہی کررہی تھیں۔ اقبال اور محمد علی جوہر نے اس برصغیر میں ملتِ اسلامیہ کی سربلندی کے جو خواب دیکھے تھے، ان کی تعبیر یہی ہوسکتی تھی۔
ہمارے پاس متحدہ قومیت اور اکھنڈ بھارت کے نعروں کا ایک ہی جواب تھا… اور وہ یہ کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں اور انہیں اپنی مخصوص روحانی قدروں کے دائرے میں عزت اور آزادی کی زندگی بسر کرنے کے لیے ایک علیحدہ وطن کی ضرورت ہے۔
پھر ہم نے یہ دیکھا کہ اس منزل کی طرف ہر قدم پر اس احکم الحاکمین کی تائید ہمارے ساتھ تھی جس کی رحمت کا سہارا پاکر ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ ہم تاریکی میں بھٹک رہے تھے، اُس نے ہماری نگاہوں کو روشنی عطا کی۔ ہم بددل اور مایوس تھے، اور اُس نے ہمارے دلوں کو زندگی کے ولولوں سے لبریز کردیا۔ ہم گروہی، علاقائی اور نسلی تعصبات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، اور اُس نے ہمیں اجتماعی نصب العین عطا کرکے ایک متحرک قافلے میں تبدیل کردیا۔
23 مارچ 1940ء کے دن ہم نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم محمد مصطفیؐ کے دین کی سربلندی کے لیے پاکستان حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور پروردگارِ حقیقی ہمیں اس مقدس عہد کی تکمیل کی موقع دینا چاہتا تھا۔ چنانچہ ہماری دعائیں مستجاب ہوئیں۔ ہماری قربانیوں کو شرفِ قبولیت بخشاگیا، اور تقریباً سات سال کی جدوجہد کے بعد ہم پاکستان حاصل کرچکے تھے۔ 14اگست 1947ء کو ہم اپنی تاریخ کا ایک نیا ورق پلٹ چکے تھے۔ ہمیں وہ خطۂ زمین مل چکا تھا جسے ہم نے اسلامی تہذیب اور اخلاق کا گہوارا بنانے کا عہد کیا تھا۔ اب ہم غلاموں کی صف سے نکل کر اُن اقوام کے دوش بدوش کھڑے تھے جنہیں اپنے مستقبل کی راہیں متعین کرنے کی پوری آزادی تھی، اور اُن اجتماعی مسائل کا سامنا کررہے تھے جن سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ایک قوم کو اپنے بہترین جوہر بروئے کار لانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب وہ امتحان شروع ہوچکا تھا جس میں کامیاب ہونے والی قوموں پر قدرت کے انعامات کی بارش ہوتی ہے، اور کمزوری و بے حسی کا مظاہرہ کرنے والوں کو دھتکار دیا جاتا ہے۔ پاکستان کسی حادثے کی پیداوار نہیں تھا، یہ ان کروڑوں انسانوں کے اجتماعی احساس کا حاصل تھا جو ہندوستان کے ایک خطے میں ایک اسلامی سلطنت کے قیام کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتے تھے۔ اس کے لیے جو بے مثال قربانیاں دی گئی تھیں، وہ سب اسلام کے نام پر تھیں۔ پاکستان کے آئینی، معاشی اور انتظامی مسائل حل کرنے کے لیے ہمیں کسی بیرونی روشنی کی ضرورت نہ تھی۔ اس عمارت کے سارے خدوخال ہمارے ذہنوں میں اس وقت موجود تھے جب کہ ہم نے برصغیر ہند میں ایک اسلامی سلطنت کے قیام کو اپنا ملّی نصب العین قرار دیا۔ اس کی بنیادیں، اس کی دیواریں اور اس کی چھتیں آج سے اکیس برس قبل ہماری نگاہوں کے سامنے تھیں۔ اس گھر کا نقشہ اُس وقت بھی ہم سے اوجھل نہ تھا جب کہ ہم آگ اور خون کے دریا عبور کررہے تھے۔ اسلام کی سربلندی کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کرنے کے بعد ملت کا ہرفرد یہ محسوس کررہا تھا کہ اس کے سر پر خدا کا ہاتھ ہے۔ ہم جس قدر تہی دست اور بے بس تھے اسی قدر ہمیں اپنی فتح کا یقین تھا۔ آج ہمارے لیے اس مقدس عہد کی تجدید کا دن ہے جو ہم نے اکیس برس قبل اپنے پروردگار سے کیا تھا۔ آج ہمارے لیے یہ سوچنے کا دن ہے کہ حصولِ پاکستان کے بعد تشکر اور احسان مندی کے جو تقاضے تھے وہ ہم نے کہاں تک پورے کیے ہیں۔ اگر پاکستان قدرت کا انعام ہے تو ہم نے کس حد تک اپنے آپ کو اس انعام کا مستحق ثابت کیا ہے؟ اگر ہم نے خدا کے ساتھ اپنے وعدوں سے انحراف کیا ہے تو اس کے بدلے ہمیں کیا سزا ملی ہے؟ اگر ہم سے کوئی لغزش ہوئی ہے تو اس سے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں؟ حصولِ پاکستان کے بعد ہماری اجتماعی زندگی کے دو اہم مسائل تھے جن پر ہمیں یکساں توجہ دینے کی ضرورت تھی، پہلا یہ کہ ہم اس سرزمین سے زندگی کی وہ تمام نعمتیں حاصل کرنے پر کمربستہ ہوجائیں جو ایک وطن اپنے فرض شناس اور جفاکش باشندوں کو عطا کرسکتا ہے۔ مادی ترقی کے میدان میں جس قدر پسماندہ تھے اسی قدر ہمیں محنت سے کام لینے کی ضرورت تھی۔ جو وسائل موجود تھے ہمیں صرف ان ہاتھوں کو حرکت میں لانے کی ضرورت تھی جو زمین کا سینہ چیر کر معدنیات کے دفینے نکالتے ہیں، کارخانے تعمیر کرتے ہیں، دریاؤں پر بند لگاتے، نہریں کھودتے اور صحراؤں کو سرسبز کھیتوں اور نخلستانوں میں تبدیل کردیتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میدان میں ہم اپنے بعض قریبی ہمسایوں سے پیچھے نہیں رہے۔ لیکن ہم کسی ایسی قوم کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتے جس کے تمام افراد ایک تیز رفتار مشین کے کل پرزے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایسی اقوام کی مثالیں موجود ہیں جو اپنے محدود وسائل کے باوجود اس میدان میں ہم سے کہیں آگے ہیں۔ دوسرا اہم مسئلہ جس پر ہمیں اس سے کہیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت تھی اس ذہنی حصار کی تعمیر سے تعلق رکھتا ہے جسے کسی قوم کی بقا اور آزادی کی سب سے بڑی ضمانت سمجھا جاتاہے۔ پاکستان کے نصب العین پر اپنے نسلی، علاقائی اور لسانی اختلافات کے باجود ہمارا اتحاد صرف اس لیے تھا کہ ہم مسلمان تھے اور پاکستان کے حصول کے بعد ہمارے لیے اسلام ہی وہ ضابطۂ حیات ہے جس کی پیروی سے ہم اپنی ہیئتِ اجتماعیہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ یہی وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں ایک بھائی دوسرے بھائی کو پہچان سکتا ہے۔
اگر پاکستان ایک جسم ہے تو اسلام اس کی روح ہے، اور کوئی جسم اپنی روح کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ ایک درخت کی شاخوں کو پیوند لگائے جا سکتے ہیں، ایک تازہ کونپل سوکھے ہوئے پتّے کی جگہ لے سکتی ہے، لیکن کسی درخت کی جڑیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔ ہماری فلاح کا راز ان لوگوں کی نقالی میں نہیں جنہیں صدیوں کے نسلی اور تہذیبی لسانی رشتے قومیت کا شعور عطا کرتے ہیں، بلکہ اُس دین کی پیروی میں ہے جس نے ہمیں مختلف نسلوں اور برادریوں کے گھروندوں سے نکال کر ایک ملت بنادیا ہے۔
آج اگر ہم اپنے ماضی کا جائزہ لیں تو ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ہمارے بیشتر آلام و مصائب اس صراطِ مستقیم سے بھٹک جانے کا نتیجہ تھے جو ہم نے 23 مارچ 1940ء کے دن اختیار کیا تھا۔ ہماری مایوسی، بددلی اور ذہنی اور سیاسی انتشار کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کی زمامِ کار اُن ابنائے وقت کے ہاتھ آچکی تھی جو کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں قوم کے اجتماعی فکر و عمل کی راہیں متعین کرنے سے قاصر تھے۔ اخلاقی انحطاط اس لیے رونما ہوا تھا کہ ہم نے اسلام کی روحانی قدروں سے منہ پھیر لیا تھا۔ نسلی اور علاقائی منافرتوں کے بھوت اس لیے ننگے ہوکر ناچ رہے تھے کہ ہمارے درمیان اسلامی اخوت اور مساوات کے رشتے ڈھیلے پڑ گئے تھے، معاشرے میں خودغرضی، بے حیائی اور بے راہ روی کی لعنتوں نے اس لیے جنم لیا تھا کہ راہنماؤں کے دلوں سے خدا کا خوف اٹھ چکا تھا اور عوام کی قوتِ محاسبہ کمزور پڑ چکی تھی۔ ماضی کے واقعات ہمیں بار بار ایک ہی سبق دیتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ ہمارے لیے ذلت اور تباہی کے ہزاروں راستے ہوسکتے ہیں لیکن سلامتی اور عزت کا راستہ صرف ایک ہے، اور یہ راستہ ہم صرف کتاب اللہ اور سنتِ رسولؐ کی روشنی میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ قوموں کے لیے کڑی آزمائشوں اور سخت امتحانوں کا دور ہے۔ اس خروش کی رزم گاہ میں عزت اور سربلندی صرف اُن کے لیے ہے جو حوادث کے سیلاب کے سامنے چٹانوں کی طرح کھڑے رہ سکتے ہیں۔ عدل و انصاف کے دروازے صرف اُن کے لیے کھلتے ہیں جو بے انصافیوں کے خلاف لڑنے کی جسارت کرتے ہیں۔ کمزوری اور بددلی کا مظاہرہ کرنے والے وقت کی آندھیوں کے سامنے تنکوں کے انبار ثابت ہوتے ہیں۔ ان آزمائشوں اور امتحانوں میں پورا اترنے کے لیے مادی وسائل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن جس قوم کا اجتماعی کردار فنا ہوچکا ہو وہ صرف مشینوں کے سہاروں پر زندہ نہیں رہ سکتی۔ قوموں کے اجتماعی کردار کے ناقابلِ شکست قلعے صرف اس ذہن کے اندر تعمیر ہوتے ہیں جہاں کسی اجتماعی نصب العین کے لیے تڑپ یا کسی نظریے کے لیے والہانہ محبت موجود ہوتی ہے۔
قلعے اور اسلحہ خانے مسمار ہوجائیں تو انہیں دوبارہ تعمیر کیا جاسکتا ہے، لیکن جب کسی قوم کے ذہنی حصار میں شگاف پیدا ہوتے ہیں تو وہ یقین اور خوداعتمادی کی اُس نعمت سے محروم ہوجاتی ہے جس کی آغوش میں زندگی کے ناقابلِ تسخیر ولولے جنم لیتے ہیں۔ اس کی حالت اُس درخت کی سی ہوتی ہے جس کی جڑوں میں بیماری لگ چکی ہو۔ آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ملتِ پاکستان کے ذہنی حصار کی بنیاد کیا ہے۔ یہ فیصلہ تو ہم آج سے پچیس برس قبل کرچکے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس مقدس عہد کی تجدید کریں اور پورے عزم و خلوص کے ساتھ ماضی کے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کمربستہ ہوجائیں جو کسی وقت بھی ہماری آزادی اور بقا کے دشمنوں کی کمین گاہ بن سکتا ہے۔
ہم اپنے مادی وسائل کی برتری پر فخر نہیں کرسکتے۔ ہمارے پاس ایٹم بم اور میزائل نہیں۔ متحارب اور متصادم نظریات کے اس دور میں ہماری سب سے بڑی پونجی ہماری اخلاقی اور روحانی قوت ہے جس کا سرچشمہ دینِ اسلام ہے، اور اسی کے طفیل ہم اقوام عالم کی برادری میں کوئی عزت کا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ پھر یہ بھی ممکن نہیں کہ ہم دینِ اسلام کو اپنا شعار بنائیں اور دنیا کی اُن نعمتوں سے محروم رہیں جو خدا اپنے اطاعت گزار بندوں کو عطا کرتا ہے۔
اگر ہم ملّتِ اسلامیہ کی چودہ صدیوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں بار بار اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ شاہ راہِ حیات پر ہمارے صرف وہ قدم صحیح تھے جو اسلام کے دائرے کے اندر تھے، اور جب کبھی ہم نے اسلام کی حدود پھاندنے کی کوشش کی ہمارا ہر قدم ذلت اور گمراہی کی طرف تھا۔ اس کرۂ ارض پر گمراہی کی آندھیاں کبھی اتنی تندو تیز نہ تھیں۔ ابنائے آدم نے اپنی ہلاکت اور تباہی کے اتنے بھیانک سامان کبھی پیدا نہیں کیے تھے۔ اس تیرہ و تار ماحول میں بھٹکنے والے قافلوں کو اسلام کی روشنی کی جتنی احتیاج آج ہے، اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے جھونپڑوں میں اسلام کے چراغ روشن کریں اور کسی دن یہی جھونپڑے بھٹکے ہوئے قافلوں کے لیے روشنی کے مینار بن جائیں۔ آیئے آج کے دن ہم اس بارگاہ کے سامنے ہاتھ پھیلائیں جہاں سے قوموں کو ذوقِ یقین اور نورِ بصیرت عطا ہوتا ہے۔ اور یہ دعا کریں کہ باری تعالیٰ ہمیں اس مملکت کی تعمیر کے لیے اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ہمت عطا کرے جسے ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا ہے۔

Share this: