امریکہ، آسٹریلیا اور یورپی ممالک کا درجنوں روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا حکم

برطانیہ میں ایک سابق روسی جاسوس کو زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کے بعد امریکہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے روس کے سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ ان ممالک میں سب سے زیادہ روسی سفارت کار ملک بدر کرنے والا امریکہ ہے جس نے 60 سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے حکم دیا ہے۔ بیس سے زیادہ ممالک برطانیہ کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے سو سے زیادہ روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کررہے ہیں۔ اسے تاریخی اعتبار سے سرد جنگ کے بعد روسی سفارت کاروں کی سب سے بڑی ملک بدری قرار دیا جا رہا ہے۔ جن 60 سفارت کاروں کو امریکہ نے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے اُن میں سے 48 واشنگٹن میں روسی سفارت خانے کے سفارت کار ہیں، جبکہ باقی نیویارک میں اقوام متحدہ میں تعینات ہیں۔ یورپی یونین کے رہنما گزشتہ ہفتے اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ برطانیہ میں سابق روسی جاسوس اور اس کی بیٹی کو زہر دینے میں روس ملوث ہے۔ تاہم روس اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔

انڈیا میں ’لفافہ صحافت‘

انڈیا میں تحقیقاتی صحافت کی ویب سائٹ ’کوبرا پوسٹ‘ نے چند میڈیا اداروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ پیسے لے کر خبریں نشر کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے چند ٹی چینلوں، بعض اخباروں اور ویب سائٹوں کے نمائندوں کے ساتھ سٹنگ آپریشن میں یہ باتیں معلوم کی ہیں۔ انھوں نے اس سٹنگ آپریشن کا نام ’آپریشن 136‘ رکھا ہے جو 2017ء کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں انڈیا کی 136 ویں پوزیشن کے حوالے سے ہے۔ انڈین میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں سٹنگ آپریشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملک میں ’پیڈ نیوز‘ یعنی پیسے لے کر خبریں شائع کرنا بڑے پیمانے پر قابلِ قبول ہے۔ کوبرا پوسٹ کا دعویٰ ہے کہ اس نے سات ٹی وی چینلوں، چھے اخبارات، تین ویب پورٹلز اور ایک نیوز ایجنسی کے عملے کے ساتھ سٹنگ آپریشن کیا ہے۔ کوبرا پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کے بہت سے نیوز چینلوں نے ہندوتوا کے نظریے کے فروغ کی مہم چلانے اور حزبِ اختلاف کے بہت سے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے بعض رہنماؤں کے خلاف الزام تراشی کرنے کے لیے 6 کروڑ روپے سے لے کر 50 کروڑ روپے تک کی پیشکش کو قبول کیا۔کوبرا پوسٹ کا کہنا ہے کہ ابھی اس نے اس سٹنگ آپریش کا پہلا حصہ ہی جاری کیا ہے، اس کا اگلا حصہ اگلے ماہ اپریل میں جاری کیا جائے گا۔

اسرائیل کے دفاعی نظام آئرن ڈوم نے دس لاکھ ڈالر کے میزائل غلطی سے داغ دیے

اسرائیل کے میزائل ڈیفنس نظام آئرن ڈوم نے اتوار کے روز تقریباً 20 انٹرسیپٹر میزائل داغے، جبکہ بعد میں معلوم ہوا کہ اسرائیل پر کوئی راکٹ یا میزائل فائر نہیں کیا گیا تھا۔
اسرائیل کے فضائی دفاع کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ہماوچ نے کہا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے آئرن ڈوم سے میزائل داغے جانے کی وجہ نہ تو انسانی غلطی تھی اور نہ ہی تکنیکی۔ انھوں نے کہا کہ آئرن ڈوم نے میزائل اس لیے داغے کہ نظام کو ’نہایت حساس‘ کی سطح پر رکھا گیا ہے۔ آئرن ڈوم سے 20 میزائل فائر کیے گئے اور ایک میزائل کی قیمت تقریباً 50 ہزار ڈالر ہے۔ اس نظام سے میزائل فائر ہوتے ہی سائرن بھی بجنے لگتے ہیں تاکہ عوام کو راکٹ حملوں کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔

طالبان کی مدد کی خبریں بے بنیاد ہیں، روس

روس اور طالبان نے علیحدہ علیحدہ بیانات میں افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ کے اس بیان کو غلط قرار دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ روس نہ صرف طالبان کی مدد کررہا ہے بلکہ انھیں اسلحہ بھی فراہم کررہا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جنرل جان نکولسن نے کہا تھا ’ہمارے پاس طالبان کی جانب سے لکھی جانے والی ایسی کہانیاں موجود ہیں جو میڈیا میں شائع ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ دشمن نے ان کی مالی مدد کی۔ ہمارے پاس ہتھیار ہیں جو ہمیں افغان رہنماؤں نے دیے ہیں اور یہ ہتھیار روسیوں نے طالبان کو فراہم کیے۔ ہمیں معلوم ہے اس میں روسی ملوث ہیں‘۔ جنرل جان نکولسن کو یقین ہے کہ روس کا طالبان کے ساتھ براہِ راست تعلق ایک نئی چیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ روس نے تاجکستان کے ساتھ افغان سرحد پر مشقوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ امریکی جنرل کے بقول ’یہ انسدادِ دہشت گردی کی مشقیں ہیں لیکن ہم روسی پیٹرن پہلے دیکھ چکے ہیں، وہ بڑے پیمانے پر سازو سامان لے جاتے ہیں اور پھر اس میں سے کچھ سامان پیچھے رہ جاتا ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہتھیار اور دوسرا سامان سرحد کے ذریعے اسمگل کیا جاتا ہے اور پھر طالبان کو فراہم کیا جاتا ہے۔ امریکی جنرل نے تسلیم کیا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ روس طالبان کو کتنی مدد فراہم کر رہا ہے۔
روس نے طالبان کو ہتھیار اور مالی امداد فراہم کرنے کی تردید کی ہے، تاہم یہ بات تسلیم کی ہے کہ اس نے شدت پسند گروپ کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔

بلوچستان میں’نمرود کا ٹھکانہ‘

ماہرین کہتے ہیں کہ دروازے کا لفظ علامتی طور پر قدیم بندرگاہ کے لیے استعمال ہوا ہے جو 3500 قبل مسیح میں مکران سے میسوپوٹیمیا تک صنعتی راہداری کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔
سُتک گین در کے قریب رہنے والے داد رحیم یہاں 50 سال سے مقیم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا پردادا اس جگہ کی اہمیت کو نہیں سمجھتے تھے اور کہتے رہتے تھے کہ یہ نمرود کا ٹھکانہ ہے جو کہ ایک غلط تاثر تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس جگہ کے مالک وہ خود ہیں اور اس کی رکھوالی بھی وہ خود ہی کرتے ہیں، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ ان کو وقت کے ساتھ ہوا۔ پانچ ہزار لوگوں کی آبادی پر مشتمل یہ علاقہ میرانی بازار کے نام سے مشہور ہے جو یونین کونسل سنتسر، تحصیل جیونی اور ضلع گوادر میں پڑتا ہے۔
2004ء سے شروع ہونے والی ریاست اور سرمچاروں کے درمیان جنگ کی وجہ سے بہت سے لوگ یہاں سے باقی علاقوں کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس جگہ کے بارے میں اُس وقت یہ تاثر بنا کہ یہاں پر بھوت پریت ہیں اس لیے یہاں کوئی بھی زیادہ عرصے نہیں رہ پاتا۔
لوگوں کے مطابق مختلف ادوار میں انگریز اور فرنچ مشن کی اس جگہ آمد اور کھدائی کے عمل سے علاقے کے لوگوں کو شبہ ہوا کہ شاید یہاں سونا ہے، لیکن وہ سونا ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔
بھوت پریت کی کہانیوں کے برعکس، محقق اور لسبیلہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حمید بلوچ بتاتے ہیں کہ سُتک گین در کے لوگ دراصل آبادکار تھے جن کا کام صنعتی راہداری کی حفاظت کرنا تھا۔ اس جگہ پر تین ادوار میں تحقیقات کی گئیں۔آج یہ جگہ اسی طرح موجود ہے لیکن یہاں سے بہت سا سامان اور آثار چوری ہوچکے ہیں۔

پاکستانی معیشت، آئی ایم ایف اورگریٹ گیم

آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ رپورٹ میں مالی سال 2022-23ء تک کے لیے معیشت کے شعبے کے امکانات کے بارے میں انتہائی منفی باتیں کی ہیں جو اس کی گزشتہ رپورٹوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتیں۔ یہ رپورٹ دراصل امریکی صدر ٹرمپ کے 22 اگست2017ء کے پاکستان مخالف بیان کا تسلسل ہے۔ اس بیان کے فوراً بعد حیران کن طور پر پاکستان میں بھی یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ آئی ایم ایف سے نیا قرضہ لیا جائے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے اس کی سفارش پر قرضے کے لیے رجوع کرے تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں امریکہ ’’مزید اور کرو‘‘کی آڑ میں پاکستان سے وہ مطالبات بھی منوا سکے جو قومی سلامتی سے بھی متصادم ہوں۔ موجودہ حکومت نے بہرحال فیصلہ کیا کہ وہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیے بغیر دوسرے ذرائع بشمول عالمی کیپٹل مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرے گی۔ امریکہ ایسا نہیں چاہتا تھا، چنانچہ اس نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے یہ قرارداد منظور کرالی کہ جون2018ء سے پاکستان کو ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کردیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ سے روپے کی قدر پر دبائو بڑھے گا، سرمایہ کاری کا ماحول خراب ہوگا اور عالمی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کی پاکستان کی کوششیں متاثر ہوں گی۔ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو یہ منفی مشورہ دیا ہے کہ وہ سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد سست کردے۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اسٹرکچرل اصلاحات کریں تاکہ برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی کے ساتھ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی وصولی، قومی بچتوں اور ملکی سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ ہو۔
اب قوم کو نوشتۂ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔ ’’نیوگریٹ گیم‘‘ کے مذموم استعماری مقاصد کے حصول کے لیے عالم اسلام کی پہلی جوہری طاقت پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔
(ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی۔ جنگ، 27 مارچ2018ء)

مطالبۂ پاکستان… قائداعظم کے مطالعۂ قرآن کا نچوڑ

22 مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کا لاہور میں اجلاس ہماری تاریخ کا روشن مینار اور اہم ترین سنگِ میل اس لیے ہے کہ اس اجلاس میں مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد مملکت کا مطالبہ کیا گیا تھا جو ہندوستان کے مسلمانوں کے دل کی آواز تھی۔ قراردادِ لاہور یا قراردادِ پاکستان کی منظوری سے قبل اس اجلاس میں قائداعظم نے دو گھنٹوں پر محیط جامع خطاب کیا جو اُن کے سیاسی تجربے اور تاریخی مطالعے کا نچوڑ تھا۔ اپنی تقریر میں جہاں قائداعظم نے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے گزشتہ چھے ماہ مسلمانوں کی تاریخ اور قانون کے مطالعے میں صرف کیے ہیں، وہاں یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے طور پر قرآن مجید کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ مطلب یہ تھا کہ ان کا مطالبۂ پاکستان قرآن مجید، مسلمانوں کی تاریخ اور قانون کے مطالعے کا نچوڑ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کی الگ شناخت، ہندو مذہب اور کلچر سے تضادات اور مسلم قومیت پر زور دیا۔ قائداعظم کی تقریر پڑھتے ہوئے ان کا ایک فقرہ میرے دل کو چھو گیا اور مجھے یوں لگا جیسے اُن کے باطن سے نکلا ہوا یہ فقرہ اُن کے تصورِ پاکستان کا بنیادی ستون تھا۔ فقرہ کچھ یوں تھا ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے عوام اپنی روحانی، ثقافتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو اپنے آئیڈیلز کے مطابق بہترین انداز میں ترقی دیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر زندگی گزاریں۔‘‘ ظاہر ہے کہ ایک ہندو اکثریتی ریاست اور ہندو غلبے میں اس مقصد کا حصول ممکن نہیں تھا۔ ’’اپنے آئیڈیلز کے مطابق‘‘ کا مطلب اسلامی اصولِ حیات ہیں جن پر قائداعظم ہمیشہ زور دیتے رہے اور انسانی برابری، معاشی و معاشرتی عدل، مساوات اور قانون کی حکمرانی کا سبق قوم کے ذہن نشین کراتے رہے۔ اسی پس منظر میں قائداعظم نے بار بار ایمان، نظم اور اتحاد پر زور دیا اور قوم میں یہ احساس بیدار کرنے کی کوشش کی کہ اتحاد اور نظم و ضبط (ڈسپلن) کے بغیر وہ اپنی منزل حاصل نہیں کرسکتی۔ لیکن ڈسپلن اور اتحاد سے پہلے ایمان (Faith) کا مقام یا درجہ ہے، کیونکہ ایمان ہی سے نظم و ضبط اور اتحاد کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ مختصر یہ کہ قائداعظم کے نزدیک حصولِ پاکستان کا مقصد محض ایک ریاست کا قیام نہیں تھا، بلکہ وہ ایسی ریاست کا خواب دیکھ رہے تھے جس میں مسلمان اپنی روحانی، ثقافتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو بلاروک ٹوک ترقی دے سکیں۔
(ڈاکٹر صفدر محمود۔ 23 مارچ2018ء)

عظیم سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ اور ڈاکٹر عبدالقدیر

وسط مارچ میں وفات پا جانے والے عظیم سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ کو برطانوی پارلیمنٹ کے قریب برطانیہ کے سب سے اہم اور عالی مقام گرجا گھر Westminster Abbey (جہاں برطانیہ کے بادشاہوں کی تاج پوشی اور تدفین کی جاتی ہے) میں دفن کیا جائے گا۔ برطانیہ کے دو بڑے سائنس دانوں (نیوٹن اور ڈارون) کو بھی سرکاری اعزاز کے ساتھ اسی گرجا گھر میں دفن کیا گیا تھا۔ براہ مہربانی ذرا اس شاہانہ برتائو اور اعزاز کا مقابلہ اُس سلوک سے کریں جو ہم نے اپنے ملک کے اُن نامور سائنس دانوں سے کیا (ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند) جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔ مذکورہ بالا دونوں سائنس دان اور ان کے تمام ساتھی (جن کے تعاون کے بغیر یہ کارنامہ سرانجام نہ دیا جا سکتا تھا) ہمارے سب سے بڑے محسن ہیں۔ ڈاکٹر قدیر کو ٹیلی وژن پر اپنے اُن جرائم کا اعتراف کرنا پڑا جو امریکی حکومت کے لگائے گئے سنگین الزامات کی فوٹو کاپی تھے۔ ہماری قوم آج تک نہیں جانتی کہ وہ قصوروار تھے یا بے قصور؟ غنیمت یہ کہ امریکی مطالبے کی تعمیل کرتے ہوئے ڈاکٹر قدیر کو امریکہ کے حوالہ نہ کیا گیا، ورنہ اُن کی ساری عمر گوانتاناموبے کی عقوبت گاہ میں بدترین تشدد کا نشانہ بنتے گزرتی۔
(نسیم احمد باجوہ۔ دنیا، 27 مارچ2018ء)

قومی اداروں کی مشکوک نجکاری

پہلے پہل تو یہ خبریں گرم رہیں کہ پی آئی اے اور اسٹیل مل کا تیا پانچہ کردیا جائے گا، مگر اب خبر آئی ہے کہ ان سے پہلے پاکستان کے ائرپورٹس کی نجکاری کی جائے گی، اور عذر یہ دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کا ائرپورٹ کا محکمہ جو کہ ملک کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی ائرپورٹس کو چلا رہا ہے، اس قابل نہیں کہ ملکی ائرپورٹس کو چلا سکے، اور اسلام آباد میں نئے تعمیر کیے جانے والے ائرپورٹ کو اس کا اصل محکمہ بالکل ہاتھ بھی نہ لگائے کہ کہیں وہ ائرپورٹ استعمال ہونے سے قبل ناپاک ہوجائے، اس لیے عجلت میں کوئی ایسا گاہک ڈھونڈا جارہا ہے جو اس ائرپورٹ کا انتظام سنبھال لے۔
مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ پاکستان میں بہترین افرادی قوت موجود ہے، قابل اور ماہر ترین افراد بھی ہیں، ائرپورٹس پہلے سے ہی کامیابی سے چل رہے ہیں اور ملک کے لیے منافع بخش ادارے کے طور پر کام کررہے ہیں، مجھے حیرانی ہے کہ حکومت کیوں ان کو ٹھیکے پر دینا چاہتی ہے! اس میں یقینا کچھ لوگوں کا ذاتی مفاد وابستہ ہے، اور یہ ڈرامہ جس عجلت میں کھیلا جا رہا ہے اس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہی ہورہا ہے، اور اس طرح کی مشکوک سوداگری پر پردہ ڈالنا مشکل ہورہا ہے۔
مجھے اس بات کابھی اچھی طرح ادراک ہے کہ ہمارے لکھنے لکھانے سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا،لیکن ہم لوگوں کا یہ فرض ہے کہ جہاں ملکی سالمیت کے اداروں کو نقصان پہنچانے کی بات ہو رہی ہو اس کی نشاندہی ضرور کریں، تا کہ ان کا کام کچھ مشکل ہو جائے۔ ورنہ ان حربوں سے یہ چوری کہاں رکی ہے! یہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں، بیچنے والے بھی اور خریدنے والے بھی سب مل جل کر اس ملک کے اہم ترین اداروں کوکھانے کے چکر میں ہیں، اور کوئی ان کا بازو پکڑنے والا نہیں، سوائے اُن غریب ملازمین کے جو اپنی روزی کے چھن جانے کا واویلا مچاتے رہتے ہیں لیکن ان کی بھی کوئی نہیں سنتا اور ڈرا دھمکا کران کو خاموش کرادیا جاتا ہے۔ اس ملک کے عوام کو روزی روٹی میں الجھا دیا گیا، ورنہ وہ اپنے قابل حکمرانوں سے آج یہ پوچھ رہے ہوتے کہ ان کے منافع بخش ادروں کی بولی کیوں لگائی جارہی ہے۔
(عبدالقادر حسن۔ایکسپریس،27مارچ2018ء)

Share this: