ایم ایم اے کی بحالی اور نئی سیاسی صف بندی

آئندہ عام انتخابات کا طبل بجنے میں گو کہ ابھی تین ماہ باقی ہیں، لیکن خیبر پختون خوا میں تمام قابلِ ذکر جماعتوں کی سیاسی سرگرمیوں اور ہلے گلے کو دیکھ کر یوں گمان ہوتا ہے گویا عام انتخابات کا طبل بج چکا ہے اور اس گہماگہمی میں کوئی بھی جماعت پیچھے رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایم ایم اے بحال ہو چکی ہے ایم ایم اے کی سب سے اہم جماعت، جماعت اسلامی نے رابطۂ عوام مہم شروع کر دی ہے۔ جس سے لوگوں کی کثیر تعداد رجوع کر رہی ہے صوبے میں ویسے تو اے این پی، جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن) اور کسی حد تک پی ٹی آئی بہت عرصے سے متحرک نظر آتی رہی ہیں، لیکن اب اس کشمکش میں پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی بھی پہلے سے زیادہ متحرک نظر آرہی ہے۔ عمران خان وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک کے ہمراہ ہزارہ کا طوفانی دورہ کرچکے ہیں جہاں انھوں نے اپنی اصل حریف مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جہاں ان پر کرپشن کے روایتی الزامات دہرائے، وہیں انھوں نے ملتان میٹرو منصوبے میں کرپشن کے ساتھ ساتھ اب راولپنڈی میٹرو میں بھی شہباز شریف پر بھاری کمیشن لینے کے الزامات عائد کیے، ساتھ ہی ایک طرف وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں شریف برادران کا پُتلا قرار دیا اور دوسری جانب نیب کو چیلنج دیا کہ اگر خیبر پختون خوا حکومت میں کرپشن کا کوئی ایک کیس بھی ہوتا تو اب تک نیب اسے رجسٹرڈ کرچکا ہوتا، جس کا مطلب ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نہ صرف یہ کہ کرپشن سے پاک ہے بلکہ اُس پر کرپشن کا کوئی معمولی سا الزام بھی کسی میں لگانے کا یارا نہیں ہے۔ اے این پی سمیت حزب اختلاف کی دیگر جماعتیں پی ٹی آئی کے اس دعوے کا کیا جواب دیتی ہیں، اور ان کی جانب سے اس ضمن میں عمران خان کے دستِ راست سمجھے جانے والے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف کیا چارج شیٹ پیش کی جاتی ہے، اس بحث سے قطع نظر پی ٹی آئی نے پچھلے پونے پانچ سال کے دوران بعض مشکلات اور اندرونی بغاوتوں کے باوجود حکومت پر جس طرح اپنی گرفت برقرار رکھی ہے اُس کا کریڈٹ پرویز خٹک کو نہ دینا یقینا زیادتی ہوگی۔ پرویز خٹک جو وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالنے سے پہلے تک ایک اوسط درجے کے سیاست دان سمجھے جاتے تھے، اپنے عرصۂ اقتدار میں حزب اختلاف کی ان تمام جماعتوں کا… جن کا وہ ماضی میں کسی نہ کسی شکل میں حصہ رہے ہیں… جس ہمت اور جارحانہ انداز میں مقابلہ کرتے رہے ہیں اس نے انہیں کم از کم عمران خان کی نظروں میں کسی بھی لمحے گرنے نہیں دیا، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے خلاف منتخب ارکانِ اسمبلی سے لے کر نظریاتی کارکنوں اور عہدیداران تک ہونے والی بغاوتوں اور رکاوٹوں کے باوجود وہ اسمبلی میں اپوزیشن کو ترقیاتی اسکیموں کے ذریعے باندھ کر رکھنے کی جس کامیاب حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں یہ ان ہی کا خاصہ ہے۔ دوسری جانب انہوں نے اسمبلی سے باہر اپوزیشن جماعتوں اے این پی، پیپلز پارٹی اور جمعیت (ف) پر تنقید اور سیاسی سنگ باری کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ وہ اپنی اسی حکمت عملی کی وجہ سے جہاں عمران خان کی نظروں میں اپنا سیاسی قد کاٹھ بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں وہیں عوامی سطح پر بھی انھوں نے حکومت میں ہونے کے باوجود نہ تو عوام سے اپنا رابطہ توڑا ہے اور نہ ہی عوامی جلسوں میں جانے سے گریز کی پالیسی اپنائی ہے، بلکہ پچھلے ایک سال سے انھوں نے تسلسل سے نئی شمولیتوں کے ذریعے اپنے کارکنان اور پارٹی عہدیداران کو متحرک رکھا ہے جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی پانچ سال تک حکومت میں رہنے کے باوجود اب بھی صوبے کی سب سے پاپولر جماعت کے طور پر میدان میں موجود ہے۔ یہ بات بلاشک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ پی ٹی آئی کا اگلے عام انتخابات میں اصل ہدف پنجاب ہے، لیکن وہ پنجاب میں کوئی بڑا رسک لے کر خیبر پختون خوا کو اپنے ہاتھ سے جانے دینے پر نہ تو تیار ہوگی اور نہ ہی وہ کوئی ایسی سیاسی خودکشی کرنا چاہے گی جس کے نتیجے میں اس کے ہاتھ پنجاب بھی نہ آئے اور اسے خیبر پختون خوا سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی جانب سے صوبے میں جہاں بھی کسی عوامی جلسے میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ اس پر لبیک کہنے میں دیر نہیں لگاتے۔ واضح رہے کہ عمران خان جنوبی اضلاع کے استثناء کے ساتھ صوبے کے تمام ریجنز کے متعدد دورے کرکے وہاں بڑے بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کرچکے ہیں۔
اے این پی جو کچھ عرصہ پہلے تک تو خاصے جارحانہ موڈ میں نظر آرہی تھی اور اس کی جانب سے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے والی مقتدر قوتوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی بے مثال قربانیوں کے حوالے دے کر مثبت اشارے بھی دئیے جا رہے تھے لیکن نہ جانے ان کے رابطوں کی یہ نازک ڈور کہاں جاکر ٹوٹی، یا پھر یہ ڈور کہاں گنجلک ہوگئی ہے کہ اب اس کے چراغوں میں وہ روشنی نظر نہیں آرہی ہے جسے کچھ عرصہ پہلے تک ہر کوئی بسرِ چشم دیکھ سکتا تھا۔ اس ضمن میں اے این پی کو مایوسی سے دوچار کرنے میں جہاں سینیٹ کے انتخابات میں ہونے والی تاریخ کی بدترین ہارس ٹریڈنگ کو ایک اہم عامل سمجھا جارہا ہے، وہیں نہلے پہ دہلے کا کام کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں راتوں رات اکثریت کو جس بے شرمی سے اقلیت میں تبدیل کیا گیا یہ ساری صورتِ حال بھی اے این پی کی توقعات اور امنگوں کے برعکس رہی ہے، جبکہ اس کی پریشانی میں اضافے کی رہی سہی کسر جہاں متحدہ مجلس عمل کی بحالی نے پوری کردی ہے وہیں پیپلز پارٹی نے اب تک اپنے پتّے جس کامیا بی سے کھیلے ہیں اور آصف زرداری تادم تحریر مقتدر حلقوں کو جس طرح شیشے میں اتارنے میں کامیاب نظر آتے ہیں اور اس تسلسل میں پیپلز پارٹی خیبر پختون خوا میں اپنی گمشدہ ساکھ کی بحالی کے لیے جو ہاتھ پائوں مار رہی ہے اسے بھی اے این پی کے لیے نیک شگون ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نیز ان دنوں صوبے میں پختون تحفظ موومنٹ اپنے جاری احتجاج کے ذریعے قوم پرست ووٹرز کو اپنی جانب جس کامیابی سے راغب کررہی ہے اس کیفیت میں بھی اے این پی کے لیے یقینا کوئی اچھا پیغام نہیں ہے۔
پیپلز پارٹی نے ملاکنڈ، مردان، پشاور اور ہزارہ کے بعد بنوں میں جلسہ عام کے ذریعے اپنے سوئے ہوئے اور مایوس کارکنان اور عہدیداران کو جگانے کی کامیاب کوشش کی ہے، جس کا مقصد اپنے وجود کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ ان قوتوں کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ پیپلز پارٹی ہی وہ بڑی ملک گیر جماعت ہے جو چاروں صوبو ں میں وجود رکھنے کے علاوہ حقیقی معنوں میں مسلم لیگ (ن) کی متبادل حریف پارٹی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے بھی پنجاب کے بعد اگر کسی صوبے پر نظریں مرکوز کررکھی ہیں تو وہ خیبر پختون خوا ہے، جہاں وہ نہ صرف ماضی میں دو دفعہ برسراقتدار رہ چکی ہے بلکہ اس وقت بھی اسے صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ پیر صابر شاہ کے سینیٹر بننے اور سابق وزیراعلیٰ اور گورنر سردار مہتاب احمد خان عباسی کی بطور قومی راہنما قومی اسمبلی کے الیکشن میں ممکنہ قسمت آزمائی کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے بظاہر امیر مقام کے لیے وزارتِ اعلیٰ کا میدان کھلا نظر آتا ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے انہیں جہاں پی ٹی آئی اور متحدہ مجلس عمل جیسی دو بڑی حریف سیاسی قوتوں کو سیاسی طور پر زیر کرنا ہوگا وہیں یہ کٹھن منزل پانے کے لیے انہیں اے این پی اور پیپلز پارٹی کے مقابلے کا سخت معرکہ بھی درپیش ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کی سیاست اور کردار پر بات کرتے ہوئے یہاں ہمیں یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنا ہوگی کہ صوبے میں حکومت سازی کی امیرمقام کی تمام تر خواہشات اور عزائم کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت یعنی شریف برادران یہ کڑوا گھونٹ بھی کم از کم پنجاب کی قیمت پر حلق سے یقینا نیچے نہیں اتارنا چاہیں گے۔ لہٰذا امیرمقام کو ان تمام زمینی حقائق کو نظر میں رکھ کر ہی مستقبل کی اپنی سیاسی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔
تیسری جانب ایم ایم اے کی بحالی اور فعالیت کے بعد اب تک اسے اگر کہیں سے مثبت اشارے ملے ہیں تو وہ حسبِ سابق خیبر پختون خوا ہی ہے جہاں اس اتحاد کی دو اہم اور بڑی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت (ف) کا مؤثر اور مضبوط و محفوظ ووٹ بینک موجود ہے، اور یہ اتحاد 2002ء میں یہاں حکومت سازی کا کامیاب تجربہ بھی کرچکا ہے۔ جماعت اسلامی کے 2008ء کے عام انتخابات کے بائیکاٹ اور 2013ء میں جمعیت (ف) اور جماعت اسلامی کے انفرادی طور پر اپنے اپنے نشانات پر الیکشن لڑنے کے تلخ تجر بے کے بعد ان دونوں مذہبی جماعتوں کا ایک بار پھر دیگر مذہبی جماعتوں کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا فطری طور پر پی ٹی آئی سمیت تمام دیگر جماعتوں کو پریشانی میں مبتلا کررہا ہے۔ ایم ایم اے کی باقاعدہ بحالی سے پہلے ہی اس کی ایک اہم رکن جماعت جمعیت (س) کی پی ٹی آئی کی جانب رغبت اور جھکائو کو سینیٹ الیکشن میں لگنے والے جھٹکے کے بعد عمومی تاثر یہی ہے کہ مولانا سمیع الحق بھی جلد ہی عشاقانِ چمن کے اس قافلے سے آن ملنے پر مجبور ہوجائیں گے، کیونکہ وہ نہ تو ایک سوراخ سے دوبارہ ڈسے جانا پسند کریں گے اور نہ ہی ایم ایم اے کے بغیر ان کے لیے اپنے سیاسی وجود کو منوانا اور برقرار رکھنا ممکن ہوگا۔ لہٰذا ان کے پاس آخری آپشن ایم ایم اے میں واپسی ہی ہوگی۔ ایم ایم اے کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے ہمیں جہاں جماعت اسلامی کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو مجلس عمل کی قیادت بلا چوں وچرا سونپنے کی فراخ دلانہ حکمت عملی کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے وہیں جمعیت (ف) کی صوبائی تنظیم کو حالیہ سینیٹ الیکشن میں لگنے والے جھٹکے کو ذہن میں رکھنے کے ساتھ ساتھ ایم ایم اے کی صوبائی قیادت جماعت اسلامی کے نوجوان امیر مشتاق احمد خان کو ملنے کے امکان، نیز جماعت اسلامی کی جانب سے ایم ایم اے کی بحالی کے ساتھ ہی صوبے کے طول وعرض میں جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے کرک میں ایک بڑے جلسہ عام کے انعقاد کے بعد جامعہ تفہیم القرآن مردان میں ختم بخاری شریف کے ایک روح پرور مذہبی اجتماع سے جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق اور صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے ولولہ انگیز خطابات آئندہ الیکشن میں مسجد، مدرسے، پردے اور پگڑی کے تحفظ اور ان کی عزت و توقیر کی بحالی کو انتخابی نعرے کی صورت دینے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ 2002ء کے برعکس اس بارآئندہ انتخابات میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے جمعیت(ف) کی نسبت جماعت اسلامی کا کم از کم خیبر پختون خوا میں پلڑا زیادہ بھاری رہے گا، جس کے لیے اس کی قیادت اور کارکنان پوری یکسوئی کے ساتھ میدان میں پوری تیاری اور جوش وخروش سے سرگرم عمل نظر آرہے ہیں۔

Share this: