ملکی سیاست کی نئی صفت بندی اور بلوچستان کی محرومی سے کیا جانے والا مذاق

جاوید لانگاہ
’’ملک میں ہونے والے سینیٹ کے حالیہ انتخابات، خاص طور پر سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب نے جس نئے سیاسی منظرنامے، چہ میگوئیوں اور تبصروں کو جنم دیا، وہ دو اہم سیاسی تبصروں یا سوچ کے دھاروں میں منقسم ہوتے دکھائی دیے۔ ایک رائے پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور اُن کے ہم خیالوں کی تھی، جن کی نظر میں بلوچستان سے سینیٹ کے چیئرمین کے منتخب کیے جانے سے صوبے کی محرومیوں کی جانب توجہ مبذول ہوسکے گی، اور پہلی مرتبہ بلوچستان سے سینیٹ کا چیئرمین آنے کی تاریخ بھی اس طرح سے رقم ہوپائے گی، اس کے ساتھ ساتھ نوازشریف کے اُن ارادوں پر بھی پانی پھر جائے گا جنہیں اپنی خواہشات بنائے ہوئے وہ سینیٹ کو اپنے ہاتھوں میں کرنا چاہتے تھے، اور اس طرح ملکی اسٹیبلشمنٹ اور مضبوط اداروں کے ساتھ جنگ کرنے کا عزم کیے ہوئے تھے۔ دوسری سوچ کے مطابق پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے سینیٹ میں بدترین ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے سینیٹ میں نوازشریف کو شکست دے کر اور رضا ربانی جیسی قیادت کا راستہ روک کر جمہوریت کے حقیقی چہرے کو داغ دار بنایا اور اس طرح اسٹیبلشمنٹ کی مدد کی، اور ان کے مطابق میاں نوازشریف اِس وقت ایک تاریخی کردار ادا کررہے ہیں جس سے ملک میں آئندہ قدرے واضح اور بہتر راستے نکلنے کی اُمید موجود ہے۔
جس سوچ نے سینیٹ الیکشن میں بلوچستان کی محرومی کو بنیاد بناکر وہاں سے چیئرمین لانے کی دلیل کو جواز مہیا کرکے اس کی وکالت کی ہے اسی سوچ نے سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان کی محرومی کو مذاق بناکر اسے بیچ چوراہے پر لاکھڑا کرکے کیا شاندار نعرہ زنی کی۔ بلوچستان کی محرومی اور مظلومیت کو، موجودہ صوبائی حکومت، وہاں سے منتخب ہونے والے سینیٹرز اور سینیٹ میں بلوچستان کو چیئرمین دینے والی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے اس طرح سے استعمال کیا جیسے کوئی بوڑھا یا بوڑھی چھوٹے بچے کی گردن میں پلاسٹک کوٹنگ والا پرانا نسخہ ڈال کر اُس سے در در بھیک منگواتے اور اسے گھماتے رہتے ہیں۔ جس انداز سے اس بچے کی پہلی بیماری اور ہمدردی کے جذبے کو مستقل گداگری اور حالت پر رحم کھانے کا ذریعہ بنادیا جاتا ہے اسی طرح سے بلوچستان کو مظلوم بناکر رحم کھانے اور اس کی محرومیوں کو ختم کیے جانے کا بڑا راگ الاپا گیا۔ گوادر کے ایک صحافی نے سینیٹ چیئرمین کا انتخاب ہونے اور نتیجہ آنے کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے (اپنی ٹوئٹر پوسٹ میں) لکھا کہ ’’صادق سنجرانی کے سینیٹ کا چیئرمین منتخب ہونے سے بلوچستان میں دودھ اور شہد کی ندیوں میں بالائی درجے کا اضافہ، بلوچستان حکومت کی طرف سے عوام کو دل کھول کر دودھ اور شہد حاصل کرنے کا مشورہ‘‘۔ اسی طرح سے ایک دوسرے تبصرے میں لکھا گیا کہ ’’سینیٹ چیئرمین منتخب ہونے سے بلوچستان میں محرومی کا انڈیکس گر کر زمین بوس ہوگیا، پہاڑوں پر بیٹھے افراد نے اپنے ہتھیار پھینک ڈالے، بلوچستان کے معدنی وسائل اور سمندری پٹی کا قبضہ عبدالقدوس بزنجو کے حوالے‘‘۔ اس طرح کے، اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر تلخ تبصرے سوشل میڈیا کی زینت بنتے رہے۔ جب سینیٹ الیکشن کے دوران غیر ضروری طور پر بلوچستان کی محرومی کو ایک عہدے کے انتخاب سے منسلک کیا گیا، دوسری جانب بہت زیادہ اچھے بھلے، زمانہ شناس اور سیاسی معاملات کی گتھیوں تک کو سلجھانے والے دانا و بینا حضرات بھی اپنا دل سینیٹ چیئرمین شپ کے دنگل میں ہار بیٹھے۔ سوشل میڈیا کو دیکھتے ہوئے تو یہ گمان گزرتا تھا کہ گویا راجا ظفرالحق کے چیئرمین منتخب ہوکر سامنے آنے سے ایک ایسی سینیٹ وجود میں آجاتی جیسی اس سے پیشتر سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا مانگتے رہے ہیں۔ ایک ایسی بااختیار، متوازن سینیٹ جو وفاق کو حقیقی بنیادوں پر چلانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہو!! جو لوگ اس ملک کے بنیادی تضادات سے آگہی رکھتے ہیں انہیں اس امر کا بہ خوبی علم ہے کہ ہمارے ملک میں اپنے قیام کے بعد سے تاحال سیاسی فیصلے کرنے والوں اور ملک کی تقدیر قلم بند کرنے والوں نے کبھی بھی سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سمیت عوامی ووٹوں کے ذریعے تشکیل پانے والے ایوانوں یا اداروں کو اتنی چھوٹ نہیں دی ہے کہ وہ ایسے بنیادی فیصلے کرسکیں جن سے اس ملک کے ایک سلامتی پر مبنی ریاست کے بجائے عوامی فلاحی ریاست بننے کی راہیں ہموار ہوسکیں۔ اس لیے سینیٹ کا چیئرمین منتخب ہونے والی طے شدہ مشق پر دل شکستہ ہونے، سر پیٹنے اور جمہوریت کی بازی ہارنے جیسی باتیں کرنا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟ سینیٹ اس ملک کا، آئین کے مطابق ایک بالادست ایوان ہے اور اس کا سربراہ ملک کے صدر کی غیر موجودگی میں قائم مقام یا وقتی صدر بنتا ہے۔ اگر خدانخواستہ صدر کا انتقال ہوجاتا ہے تو چیئرمین سینیٹ، نئے صدر کے انتخاب تک صدر کے عہدے پر براجمان ہوسکتا ہے، اور صدرِ مملکت اسمبلی کی طرف سے پاس کردہ تمام قوانین پر دستخط کرنے والا اور ملک کی فوج کا سپریم کمانڈر بھی ہوا کرتا ہے۔
اب یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ملک کی سینیٹ کا چیئرمین کوئی ایسا فرد ہوسکتا ہے جو اپنے جوہر میں انقلابی، ’اسٹیٹس کو‘ کے خلاف سوچ کا حامل اور مروجہ سینیٹ میں سے ایک فعال اور فائدہ مند سینیٹ تشکیل دینے والا ہو؟ جس طرح سے کچھ بے چارے دوستوں نے رضا ربانی سے ابراہام لنکن اور مارٹن لوتھرکنگ برآمد ہونے کی خواہش قائم کی اور سینیٹ الیکشن میں اپنا چیئرمین منتخب نہ ہونے پر ماتم کرتے ہوئے آصف زرداری کو مطعون کیا، حقیقت اس کے یکسر برعکس اور ظاہری تبصرہ آرائی سے بالکل مختلف ہے۔ سینیٹ کے اوّلین چیئرمین حبیب اللہ کے بارے میں عدم معلومات کے سبب یقین کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے، لیکن غلام اسحاق خان سے لے کر صادق سنجرانی تک کس چیئرمین کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی کلی رضامندی کے بغیر ہی منتخب ہوکر آیا ہوگا؟ ہم میں سے کون بھلا اس بات سے لاعلم ہے کہ غلام اسحاق خان، وسیم سجاد اور محمد میاں سومرو طویل مدت تک سینیٹ کے چیئرمین رہنے والے اور کس کی آنکھوں کا تارا تھے؟ اور انہوں نے کون سے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں جو تاریخ میں قابلِ ذکر ہیں؟ اسی طرح سے عوام کو طاقت کا سرچشمہ گرداننے والی پارٹی (پی پی پی) کے تین ’’انقلابی‘‘ چیئرمینوں فاروق نائیک، نیر بخاری اور رضا ربانی نے اپنے وقتوں میں کون سے ایسے روایت شکن اقدامات کیے ہیں جن سے روٹٰی، کپڑا اور مکان کا حصول عوام کے لیے ممکن ہونے میں مدد ملی ہو؟ یا پھر 70 برس کے عرصے میں وفاق میں جاری عدم مساوات کا خاتمہ کرنے کی منزل قریب آسکی ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ لاٹری کے ذریعے سینیٹ کی چیئرمین شپ حاصل کرنے والے صادق سنجرانی ہوں، یا عوام کے ہردلعزیز رضا ربانی… دونوں کے انتخاب کی کہانی مختلف ہوسکتی ہے لیکن ان کے انتخاب کے لیے رضامندی ’’وہیں‘‘ سے آنی ہے جہاں سے غلام اسحاق خان، وسیم سجاد اور محمد میاں سومرو کے لیے آتی رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شخصی طور پر، اور اپنی فطرت میں یکساں کام سرانجام دینے والے دو افراد ایک دوسرے سے مختلف اور دھیمے یا تیز رفتار ہوسکتے ہیں جس طرح سے رضا ربانی کے لیے بھی ایک عام رائے موجود ہے۔
سینیٹ کے تازہ الیکشن، خاص طور پر چیئرمین کے الیکشن نے جمہوریت اور سارے سیاسی عمل سے متعلق جو مایوسی پیدا کی ہے وہ دراصل ملک کے ان سارے جاری امور میں ایک نوع کی خاص معیاری مایوسی کی مانند نمایاں ہوئی ہے، جس کے پس پردہ ایک طویل عرصے سے جاری مقداری مایوسی سمائی ہوئی ہے۔ سینیٹ کے الیکشن نے ملک میں اچھائی یا بھلائی کے متلاشی اُن افراد کو حد درجہ مایوس کرڈالا ہے جو اس اُمید کے سہارے بیٹھے ہوئے تھے کہ شاید ملک میں جاری متواتر جمہوری حکومتیں اور الیکشن کی مشق آگے چل کر اجتماعی بھلائی کی بنیادیں استوار کرے گی جس سے یہ ملک بہتر اور متوازن وفاق کی طرح دنیا کے سامنے کھڑا رہ پائے گا۔ اس کے علی الرغم جو لوگ اس ملک کے بنیادی تضادات اور المیوں کے گواہ اور ان کا تجزیہ کرتے رہے ہیں انہیں شاید اتنی مایوسی نہ ہوتی ہو۔ سینیٹ کے انتخابات ایک ایسے عبوری دور میں ہوئے ہیں جب ملک ایک طویل عرصے سے سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ ملکی سیاست میں ایک بڑے ٹھیرائو کے بعد ایک نئی اور دلچسپ صف بندی ہورہی ہے۔ اقتدار پر براجمان مسلم لیگ (ن) اور اس کی اعلیٰ قیادت (نوازشریف) عدالت سے نااہلی کے بعد کھلے اور واضح الفاظ میں ملکی عدالتوں اور فوج کو للکارنے میں مصروف ہے۔ یہ منظرنامہ غیر روایتی ہے، کیوں کہ ملکی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی بھی پنجاب میں پیدا ہونے والی قیادت نے خود کو باغی قرار دے کر عوامی ووٹ کو عزت دلانے کے لیے کھلے عام لڑائی لڑنے کی بات نہیں کی ہے۔ دوسری طرف کسی زمانے میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے ناپسندیدہ پارٹی اور اُس کی قیادت جو سیکورٹی رسک قرار دی جاتی تھی وہ اب موجودہ حالات میں صحن کی صفائی کرنے کے بعد راہوں میں عرقِ گلاب چھڑکنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ پیپلز پارٹی بلوچستان میں صوبائی حکومت کو نقب لگاکر مسلم لیگ (ن) کی پگڑی چرانے کے بعد سے سینیٹ کے الیکشن تک وہ سارے امور اُچھلتے کودتے ہوئے سرانجام دینے کے لیے تیار ہے جس سے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے آسانیاں مہیا ہوسکیں۔
لگتا یوں ہے کہ موجودہ حالات میں پیپلزپارٹی کے پاس پنجاب میں سیاسی طور پر استعمال کے لیے کوئی بھی مؤثر اثاثہ موجود نہیں ہے۔ اس لیے اقتدار تک رسائی کے لیے پی پی پی نے دیگر حربے آزما کر اپنے روایتی راستے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ اگرچہ زرداری صاحب گزشتہ ایک سال سے للکارتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ وہ سینیٹ لینے اور جیتنے نہیں دیں گے۔ لیکن عملی طور پر یہ سب کچھ سیدھے اور شفاف انداز میں ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔ پی پی پی اس کام کے لیے تحریک انصاف، بلوچستان کے ’’آزاد‘‘ اور فاٹا کے لڑھکنے والے ارکان کو اُس رسّی سے باندھنے میں کامیاب ہوئی، جو اُس کی جانب پھینکی گئی تھی۔ اس کھیل میں تحریک انصاف بھی ایک اہم کھلاڑی کی طرح موجود ہے۔ شاید عمران خان کو اپنی عمر اور 20 برس کی ریاضت رائیگاں ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے اس لیے عمران اور پی ٹی آئی اقتدار تک پہنچنے کے لیے بہت کچھ برداشت کرکے بھی آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو ہر نئے دن ملک نئی افراتفری اور سیاسی انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکی صحافی ڈیوڈ اے سینگر 2012ء میں صدر اوباما کی خارجہ پالیسی کے متعلق اپنی کتاب میں رقم طراز ہیں کہ ’’پاکستان ایک جامع معیشت کا حامل ملک، بڑھتی ہوئی آبادی، نااہل اور بدعنوان قیادت کا ایک ایسا ملک ہے جہاں پر ریاست کی رِٹ محض برائے نام ہی ہے‘‘۔ مصنف کے مطابق ’’اوباما کا خیال ہے کہ پاکستان کا علاج روایتی پالیسی سے نہیں، بلکہ اس ملک کو متواتر افراتفری میں مبتلا رکھنے سے ہوگا‘‘۔ ملک کے موجودہ حالات میں جہاں سیاست دان، عدالتیں، انتظامی ادارے روزانہ میڈیا پر آکر ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہتے ہوں اور اتفراتفری کا ایک ایسا عالم ہو جہاں آنے والے ایام کے بارے میں کچھ بھی یقینی نہ ہو، وہاں پر یوں دکھائی دیتا ہے کہ گویا اوباما کی ’’کنفرنٹ اور کنسیل‘‘ پر عمل ہورہا ہے۔ دوسری جانب سیاست دان، میڈیا اور ملکی ادارے اپنی ہر روز کی فتح یابی پر خوش ہورہے ہیں جس طرح سے اینٹوں پر کھڑی کسی کار میں کھیلنے والے بچے گاڑی کا اسٹیئرنگ گھما کر اور منہ سے ہارن بجا کر اس گمان میں خوش ہوتے ہیں کہ گاڑی چل رہی ہے۔‘‘
شائع شدہ سندھی روزنامہ کاوش: 19 مارچ 2018ء

Share this: