تعلیم کیا ہے؟

پروفیسر خورشید احمد
علم اور تعلیم کی مسلمہ اہمیت کے پیش نظر یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم تعلیم کی نوعیت اور اس کے اساسی اصول کا صحیح فہم حاصل کریں۔
تعلیم صرف تدریسِ عام ہی کا نام نہیں ہے۔ تعلیم ایک ایسا عمل ہے، جس کے ذریعے سے ایک فرد اور ایک قوم خود آگہی حاصل کرتی ہے، اور یہ عمل اس قوم کو تشکیل دینے والے افراد کے احساس و شعور کو نکھارنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ نئی نسل کی وہ تعلیم و تربیت ہے جو اسے زندگی گزارنے کے طریقوں کا شعور دیتی اور اس میں زندگی کے مقاصد و فرائض کا احساس پیدا کرتی ہے۔ تعلیم ہی سے ایک قوم اپنے ثقافتی، ذہنی اور فکری ورثے کو آئندہ نسلوں تک پہنچاتی ہے اور اُن میں زندگی کے اُن مقاصد سے لگائو پیدا کرتی ہے، جنہیں اس نے اختیار کیا ہے۔ تعلیم ایک ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت ہے اور اس کا مقصد اونچے درجے کے ایسے تہذیب یافتہ مرد اور عورتیں پیدا کرنا ہے جو اچھے انسانوں کی حیثیت سے اور کسی ریاست میں بطور ذمے دار شہری اپنے فرائض انجام دینے کے اہل ہوں۔ ہر دور کے ممتاز ماہرینِ تعلیم کے نظریات کا مطالعہ اسی تصورِ تعلیم کا پتا دیتا ہے۔
لغت کے اعتبار سے تعلیم کا مادہ ’’علم‘‘ (ع ل م) ہے۔ اس کے معنی ہیں ’کسی چیز کا ادراک حاصل کرنا‘۔ اس سے باب تفصیل میں ’’تعلیم‘‘ آتا ہے۔ تعلیم کے معنی بار بار اور کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں، حتیٰ کہ طالب علم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے۔
انگریزی زبان کا لفظ Education لاطینی لفظ Edex بہ معنی نکالنا اور Ducer-Due بہ معنی رہنمائی سے ماخوذ ہے۔ لفظی طور پر اس کے معنی ’’معلومات کا جمع کردینا‘‘ اور ’’مخفی صلاحیتوں کو نکھارنا‘‘ ہیں۔ اصلاً یہ لفظ معلومات فراہم کرنے اور متعلم کی مخفی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مفہوم میں آتا ہے۔
جان اسٹیورٹ مل مغرب کے اُن دانش وروں میں سے ہے، جنہوں نے تعلیم کے مفہوم کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ کہتا ہے:
’’تعلیم صرف اُن باتوں ہی کا احاطہ نہیں کرتی جو ہم اپنی فطرت کے کمال سے قریب تر ہونے کی بنا پر واضح مقصد کی خاطر اپنے لیے کرتے ہیں یا دوسرے ہمارے لیے کرتے ہیں۔ اپنے وسیع تر مفہوم میں اس کی حدود بہت زیادہ ہیں۔ انسانی کردار اور صلاحیت پر اُن چیزوں کے بالواسطہ پڑنے والے اثرات بھی اس کے دائرۂ کار میں شامل ہیں، جن کے فوری مقاصد بالکل ہی دوسرے ہوتے ہیں۔‘‘
جان ملٹن تعلیم کی تعریف یوں کرتا ہے:
’’میرے نزدیک مکمل اور شریفانہ تعلیم وہ ہے جو انسان کو بحالتِ جنگ و امن اپنی اجتماعی اور نجی زندگی کے فرائض دیانت و مہارت اور عظمت کے ساتھ ادا کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔‘‘تعلیم کا یہ وسیع ترین تصور ہے۔
امریکی فلسفی جان ڈیوی کے نزدیک:
’’تعلیم افراد اور فطرت سے متعلق بنیادی طور پر عقلی اور جذباتی رویوں کے تشکیل پانے کا عمل ہے۔‘‘
ڈاکٹر پارک کا خیال ہے:
’’تعلیم رہنمائی یا مطالعے سے علم حاصل کرنے اور عادت اختیار کرنے کا عمل یا فن ہے۔‘‘
پس تعلیم وہ مسلسل عمل ہے، جس کے ذریعے ایک طرف نئی نسلوں کی اخلاقی، ذہنی اور جسمانی نشوونما ہوتی ہے، اور دوسری طرف وہ اپنے عقائد و تصورات اور تہذیب و ثقافت کی اقدار بھی اس سے اخذ کرتے ہیں۔
ماہرینِ تعلیم اس لفظ سے دو مفہوم لیتے ہیں:
وسیع تر مفہوم میں یہ اُن تمام طبیعی، حیاتیاتی، اخلاقی اور سماجی اثرات کا احاطہ کرتا ہے، جو فرد اور قوم کی طرزِ زندگی کی تشکیل کرتے ہیں، اور محدود مفہوم میں یہ صرف اُن اثرات پر حاوی ہے جو اساتذہ کے ذریعے سے اسکولوں، کالجوں اور دوسری درسگاہوں میں مرتب ہوتے ہیں۔
بہرکیف تعلیم ایک ہمہ گیر عمل ہے اور شاگرد کی زندگی کے تمام پہلوئوں پر اس کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک قوم کی زندگی کا انحصار ہی اس کی تعلیم پر ہے۔
ایک قدیم چینی کہاوت اس بات کی کتنی صحیح عکاسی کرتی ہے:
’’تمھارا منصوبہ اگر سال بھر کے لیے ہے تو فصل کاشت کرو، دس سال کے لیے ہے تو درخت اگائو، دائمی ہے تو تربیت یافتہ افراد پیدا کرو، کیونکہ تعلیم ہی وہ عمل ہے جس سے افراد کی تعمیر ممکن ہے۔‘‘
(نظام تعلیم: نظریہ، روایت، مسائل… مرتبہ: سلیم منصور خالد)

بیابہ مجلسِ اِقبال

پروفیسر رشید احمد انگوی

رنگ تصویرِ کُہن میں بھر کے دکھلا دے مجھے
قصہ ایامِ سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے

علامہ ان نظاروں میں یوں کھو جاتے ہیں جیسے اپنے سامنے تاریخ کے صفحات کھلے ہوئے پڑھ رہے ہوں۔ وہ اس قدر جذب و سرور کی کیفیت محسوس کرتے ہیں کہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنا درد مجھے کھول کھول کر بتائو، اپنے زمانے کی تصویر میرے سامنے تفصیل سے بیان کرو اور مجھے اپنے اسلاف کے قابلِِ فخر کارناموں کی جملہ تفصیلات سے آگاہ کرو کہ اس سے میرے دل کی تڑپ اور زیادہ بڑھے گی۔ یہ عشق و محبت کی وہ کیفیات ہیں کہ احساسِ زیاں کا درد اقبال کو تڑپا رہا ہے۔

میں ترا تحفہ سوئے ہندوستان لے جائوں گا
خود یہاں روتا ہوں، اوروں کو وہاں رلائوں گا

علامہ فرماتے ہیں کہ اے میری مخاطب زمینِ اندلس، تیری یہ عنایات ضائع نہیں ہونے دوں گا۔ خود تو یہیں تڑپ رہا ہوں اوریہ یادیں اور جذبہ ساتھ لے جا کر اپنے ہم وطنوں کوبھی سنا سنا کر تڑپائوں گا کہ ان کا بھی درد یہی ہے۔ یہ پوری امت کا درد ہے اور اس لیے ضروری ہے کہ شاید اسی دکھ درد کی تیزی سے مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں کو اپنے شان دار ماضی، اپنے اسلاف کے کارناموں، دورِ عروج کے آثار کی گواہی سمجھنے کا حوصلہ اور شعور پیدا ہو، اور شاید وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے آمادہ ہو سکیں۔
(لمحہ موجود اور تعلیماتِ اقبال)

حصہ