پشاور: پختون تحفظ موومنٹ کا جلسۂ عام

گزشتہ اتوار کو پشاور میں پختون تحفظ موومنٹ کا ایک بڑا احتجاجی جلسہ عام ایسے موقع پر منعقد ہوا جب ایک جانب صوبے کی تمام قابلِ ذکر جماعتیں آئندہ انتخابات کی فکر میں گھلی جارہی ہیں اور دوسری جانب جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے معرضِ وجود میں آنے والی اس نومولود تحریک نے نہ صرف پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرلیا ہے بلکہ انتخابی سیاست کی شہسوار بعض قوم پرست جماعتوں کو یہ فکر بھی لاحق ہوگئی ہے کہ نوجوانوں کی اس تحریک نے اگر انتخابی میدان میں کودنے کا فیصلہ کرلیا تو ہمارا کیا بنے گا!
پختون تحفظ موومنٹ کے بارے میں اکثر ناقدین کا یہ خیال تھا کہ اسلام آباد دھرنے کی صورت ابھرنے والی یہ تحریک جلد ہی پانی کا بلبلہ ثابت ہوگی اور ایک کمزور معاہدے کے نتیجے میں ختم ہونے والے اس دھرنے اور اس تحریک کا بھی وہی حشر ہوگا جو ماضی میں اس طرح کی جذباتی اور عارضی تحریکوں کا ہوتا آیا ہے۔ لیکن سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ تحریک ہر گزرتے دن کے ساتھ توانا ہوتی جارہی ہے اور اس میں نوجوان بڑی تعداد میں اپنی مرضی سے شامل ہورہے ہیں، اور یہ سلسلہ اگر اسی طرح چلتا رہا تو عین ممکن ہے آگے جاکر اسے قابو میں رکھنا کم از کم اُن قوتوں کے لیے ایک بڑا دردِ سر بن جائے جو اسے اپنے لیے آنے والے دنوں میں ایک نئے اور بڑے چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
پشاور میں منعقدہ پی ٹی ایم کا جلسہ کئی حوالوں سے اہمیت اور توجہ کا حامل تھا۔ یہ بات محتاجِ بیان نہیں ہے کہ ہمارے ہاں ایک اوسط درجے کا جلسہ منعقد کرنے کے لیے بھی ہماری مروجہ سیاسی جماعتوں کو طرح طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور ان جماعتوں کے قائدین اور کارکنان جان جوکھوں میں ڈال کر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرکے بڑی مشکل سے کوئی بڑا سیاسی شو کرپاتے ہیں، ایسے میں پی ٹی ایم کا یہ بڑا اور کامیاب جلسہ عام اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا ہے۔
اس جلسے کے ویسے تو کئی پہلوئوں پر بات کی گنجائش ہے اور ان پر بات کی بھی جانی چاہیے، لیکن اس جلسے میں بڑی تعداد اور منظم انداز میں شریک ہونے والے وہ ہزاروں نوجوان یقینا قابلِ مبارک باد ہیں جو اپنے خرچے پر ملک کے طول وعرض سے بالخصوص اور صوبے کے مختلف علاقوں سے بالعموم جس جوش وجذبے سے شریک ہوئے وہ ہم سمیت بہت ساروں کے لیے یقینا ایک خوشگوار حیرت کا باعث ہے۔ اس جلسے میں نہ تو روایتی دھکم پیل دیکھی گئی اور نہ ہی بڑی تعداد میں خواتین کی موجودگی کے باوجود بدمزگی کا کوئی واقعہ رپورٹ ہوا۔ اس جلسہ عام سے اسلام آباد دھرنے کی طرح مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے تو خطاب نہیں کیا البتہ پختون خوا ملّی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ، سینیٹر رضا محمد خان، نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے چیئرمین محسن داوڑ اور پختون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے خطاب کیا۔ مقررین کی تقریروں کا خلاصہ یہ تھا کہ قبائلی علاقوں سمیت مختلف علاقوں سے اٹھائے جانے والے ہزاروں لاپتا پختون نوجوانوں کو فی الفور بازیاب کرکے ان میں بے گناہ افراد کو بلا تاخیر رہا کیا جائے، جبکہ کسی بھی واقعے یا غیر قانونی کام میں ملوث افراد کو متعلقہ عدالتوں میں پیش کرکے ان پر قانون اور آئین کے مطابق مقدمات چلائے جائیں۔ قبائلی علاقوں میں پھیلی ہوئی لاتعداد بارودی سرنگوں کو بلاتخصیص اور فی الفور صاف کیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد کے ساتھ ساتھ تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کو ترجیحی طور پر بحال کرکے متاثرہ گھرانوں کی بحالی اور دوبارہ آبادکاری کی جائے۔ جلسہ عام میں تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اﷲ احسان اور جنرل پرویزمشرف کو قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزائیں دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
پختون تحفظ موومنٹ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور ان میں متوسط طبقے کے پڑھے لکھے پختون نوجوانوں کی تمام تر نظریاتی اختلافات سے قطع نظر جوش و خروش سے شرکت کو جہاں اس تحریک کو اپنی قوم پرستانہ سیاست کے لیے خطرہ سمجھنے والی سیاسی قوتیں اپنی مستقبل کی سیاست کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھ رہی ہیں، وہیں یہ تحریک جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے اور اس کی مقبولیت اور نعروں میں جوں جوں اضافہ ہورہا ہے اسے بعض ریاستی ادارے نہ صرف شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں بلکہ اس کی مخالفت اور اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے اس پر آزمودہ طریقوں کے مطابق ملک دشمنی، وطن فروشی اور مقتدر اداروں کی بدنامی اور یہ سب کچھ بیرونی اشاروں بلکہ را اور این ڈی ایس سمیت سی آئی اے اور موساد کے اشاروں پر کرنے کے مضحکہ خیز اور سنگین الزامات بھی لگائے جارہے ہیں۔ مقتدر اداروں کی طرف سے اس تحریک کے مطالبات پر تاحال کوئی واضح اور باقاعدہ ردعمل سامنے نہ آنے کے نتیجے میں وہ الزامات اور خدشات زور پکڑ رہے ہیں جن کی طرف بعض حلقے مسلسل اشارے کررہے ہیں، البتہ اسی اثناء آرمی چیف کے دورۂ جنوبی وزیرستان اور خاص کر اس تحریک کو جنم دینے والے نقیب اللہ محسود شہید کے والد اور نقیب اللہ کے معصوم اور یتیم بچوں کے ساتھ ان کی خوشگوار موڈ میں ملاقات اور اس ملاقات کی تصویر کے باہتمام میڈیا کو جاری کیے جانے سے تو بظاہر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ فوجی قیادت ان فاصلوں کو پاٹنے میں انتہائی مخلص ہے جو مختلف وجوہات اور بعض غلط فہمیوںکی بنا پر قبائل اور سیکورٹی اداروں کے درمیان گزشتہ چند برسوں کے دوران پیدا ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب بعض لوگ اس تحریک کو جہاں ماضی کی پختونستان تحریک سے جوڑنے کی باتیں کررہے ہیں وہیں کچھ لوگ اس تحریک کو طالبان کے سیاسی ونگ کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں، حالانکہ طالبان کی تحریک پختون قومیت اور لسانیت کے بجائے اسلام کی ایک خودساختہ تشریح کے زیراثر مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والا بیانیہ تھا، جبکہ پختون تحفظ موومنٹ ایک خالص پُرامن سیاسی جدوجہد پر مبنی تحریک ہے، جو نہ صرف پاکستان کے مروجہ آئین کو تسلیم کرتی ہے بلکہ اپنے حقوق کے لیے پُرامن آئینی اور قانونی ذرائع پر یقین بھی رکھتی ہے۔ پی ٹی ایم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بعض ریاستی اداروں کو محسوس ہونے والے خدشات کا اندازہ ان روایتی ریاستی ہتھکنڈوں سے لگایا جاسکتا ہے جو اس تحریک کو دبانے اور اسے غیر فعال بنانے کے لیے آزمائے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے شرمناک کردار وہ میڈیا ادا کررہا ہے جو نہ صرف اپنی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹنے میں ہر وقت پیش پیش نظر آتا ہے، بلکہ جو ریٹنگ اور بزنس کے چکر میں ایسے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے بھی باز نہیںآتا جن کو دیکھتے ہوئے ایک عام فرد کو بھی شرم آتی ہے۔ ہمارا میڈیا چونکہ کہیں نہ کہیں سے کنٹرول ہوتا ہے اور اس نے میڈیا کوریج کا ایک خودساختہ پیمانہ بنا رکھا ہے، اس لیے اس نام نہاد آزاد میڈیا نے جہاں پی ٹی ایم کے اسلام آباد دھرنے کو وہ کوریج نہیں دی جو اس کا حق تھا، وہیں پشاور میں ہونے والے حالیہ جلسے کو بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں وہ پذیرائی نہیں ملی جو عموماً ایسے جلسوں سے کہیں کم تر جلسوں اور مظاہروں کو بڑی آن بان سے ملتی ہے۔ دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے پشتیبان سمجھے جانے والے بعض صحافتی اداروں نے اس جلسے کو پھر بھی کچھ نہ کچھ کوریج دے کر انصاف کا پلڑا برابر کرنے کی حتی المقدور کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے اس جلسے کو ان ذرائع ابلاغ میں وہ معمولی کوریج بھی نہیں دی گئی جو بسا اوقات چھوٹے چھوٹے جلسوں اور کارنر میٹنگز کو دی جا تی ہے، اور اس ضمن میں سب سے کمزور پہلو اُن اشاعتی اداروں کا سامنے آیا ہے جن کا شمار صوبے کے بڑے اشاعتی اداروں میں ہوتا ہے۔ ان اداروں کی منافقت اور کاروباری مفادات کا اندازہ اس صحافتی بددیانتی سے ہوتا ہے کہ انہیں اس بڑے جلسہ عام کی فرنٹ پیج پر توکجا بیک پیج پر بھی کوئی تین چار کالمی خبر اور کوئی تصویر شائع کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ پختون تحفظ موومنٹ کے جلسے کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ ان صحافتی اداروں نے اسی روز پاکستان زندہ باد کے عنوان سے بعض گمنام تنظیموں کے دیر لوئر کے دور دراز علاقے میں منعقد ہونے والے جلسے کی خبرکو جس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا اُس سے بھی یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے کہ ہمارے ہاں آج کے اس نام نہاد آزاد دور میں بھی میڈیا کوکن کن طریقوں اور حربوں سے کتنی نچلی سطح پر مینج کیا جاتا ہے۔
پی ٹی ایم کے جلسے اور سرگرمیوں سے اے این پی سمیت تمام قوم پرست، سیکولر جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتیں بھی خود کو لاتعلق رکھے ہوئے ہیں۔ یہ رویہ جہاں سیاسی بغض اور عناد کی بنیاد پر روا رکھا جارہا ہے وہیں ان روایتی سیاسی مذہبی جماعتوں کو آئندہ عام انتخابات میں اترنے کا خوف بھی دامن گیر ہے، لہٰذا پختون کاز کے ایک اصولی مؤقف کی حمایت کا کڑوا گھونٹ بھر کر آنے والے انتخابی معرکے میں ان انتخابات کو انتہائی مہارت کے ساتھ مینج کرنے والی قوتوں کی ناراضی کی کوئی بھی جماعت کم از کم اس موقع ہر ہرگز متحمل نہیں ہوسکتی۔
حرفِ آخر یہ کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی، پی ٹی ایم کی تحریک کو نظرانداز کرنے کی پالیسی نہ تو بالغ نظری پر مبنی ہے اور نہ ہی اس تحریک کو نظرانداز کرنے یا پھر آگے جاکر کسی بھی اسٹیج پر اس تحریک اور اس کی قیادت کے خلاف کریک ڈائون کرنے کا کوئی فائدہ ہوگا۔ لہٰذا حکومت اور متعلقہ اداروں کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچنے کے بجائے جتنا جلدی ہوسکے پی ٹی ایم کی نوجوان قیادت کے ساتھ مل بیٹھ کر خوشگوار ماحول میں اُن کے مطالبات کا نہ صرف سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کوئی قابل عمل حل نکالنا چاہیے، بلکہ کسی بڑے حادثے اور نقصان سے بچنے کے لیے ماضی کی غلطیوں کے اعادے اور ماضی کے روایتی اور آزمودہ سامراجی ہتھکنڈوں سے احتراز کرتے ہوئے اس تحریک کو پیار اور محبت سے ڈیل کرنے کے لیے وسیع تر قومی سوچ اور مثبت حکمت عملی اپنانی چاہیے، کیونکہ طاقت کا استعمال تباہی لاتا ہے اور ڈائیلاگ وگفتگو امن اور سلامتی کی ضمانت ہے۔

اَزعرش تا فرش

گہر اعظمی

ہوتا برا نتیجہ ہے اک دن غرور کا
حلیہ درست کیجیے اپنے شعور کا
کُرسی تھا جس پہ ناز وہ باقی نہیں رہی
اب عرش سے مقام زمین ہے حضور کا
تھا یہ خیال آپ کا کہ عقل کُل ہیں آپ
کرتے تھے خود ہی فیصلہ سارے امور کا
تھوڑا سا اب جھنجھوڑیے اپنے ضمیر کو
کیجے محاسبہ ذرا تحت الشعور کا
خود آپ کا کیا دھرا آیا ہے سامنے
ہرگز معاملہ نہیں اس میں فتور کا
اس منہ کے صدقے جاتے تھے سب بے ضمیر لوگ
چکھا ہوا ہے ذائقہ جس نے مسور کا
پھٹکار کا ظہور اسی پر ہے کیوں حضور
چہرہ کبھی مرقع جو ہوتا تھا نور کا
کرتوت کا یہ آپ کے اپنے نتیجہ ہے
یہ زندگی ہے بے شبہ ساماں غرور کا
ہیں اسمِ بامسمّیٰ شریف اس کی خیر میں
اقرار کچھ تو کیجیے جرم و قصور کا
اپنے حقیقی رنگ میں اک آب و تاب سے
آخر وہ آیا سامنے افسانہ دُور کا
اعمالِ بد ہیں یہ، انہیں ہمت سے جھیلیے
مشکل عبور کرنا ہے دریائے شور کا
ہوجائے گا وہ چند ہی دن میں اِدھر اُدھر
جو قافلہ ہے ساتھ میں غلمان و حور کا
دن دیکھنا نہ پڑتا گہرؔ یہ جناب کو
منظر نظر میں ہوتا جو شورِ نشور کا

حصہ