پیما کے زیر اہتمام، کل پاکستان ڈاکٹرز کنونشن

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) ڈاکٹروں کی ملک گیر تنظیم ہے جو کہ 1979ء سے ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے، جدید طبی معلومات کے فروغ، طبی تعلیم کے نصاب میں اصلاحات اور ڈاکٹروں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی طبی اخلاقیات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ پیما کی سرگرمیوں میں سب سے نمایاں اس کا مرکزی کنونشن ہے جو ہر دو سال بعد ملک کے مختلف حصوں میں منعقد ہوتا ہے۔ پیما کے کنونشنز کو اس اعتبار سے انفرادیت حاصل ہے کہ جہاں شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے یہ ڈاکٹروں کا سب سے بڑا اجتماع ہوتے ہیں وہیں ان کنونشنز میں سائنٹفک سیشنز کے علاوہ صحتِ عامہ کو درپیش مسائل اور میڈیکل پروفیشنلز کے ایشوز و چیلنجز کو بھی زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ پیما کے مرکزی صدر اور سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے اراکین کا انتخاب بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ امسال پیما کا پچیسواں مرکزی کنونشن 31 مارچ اوریکم اپریل کو لاہور کے ایوانِ اقبال میں منعقد ہوا۔ چیئرمین نفرالوجی و ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن پاکستان کڈنی و لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر لاہور پروفیسر حافظ اعجاز احمد کی سربراہی میں 16انتظامی کمیٹیوں نے دن رات کی محنت کے نتیجے میں اس کنونشن کے کامیاب انعقاد کو ممکن بنایا۔
کنونشن میں طبی موضوعات اور قومی صحت امور پر 5 مختلف سیشنز میں 50 سے زائد مقررین نے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ 4 متوازی سائنٹفک سیشن اور خواتین کے لیے علیحدہ سیشن بھی کنونشن کا حصہ تھے۔ دو روزہ پروگرام کے مہمانان میں وفاقی و صوبائی وزرائِ صحت، مختلف میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور بین الاقوامی طبی ماہرین شامل تھے۔
کنونشن سے ایک روز قبل30 مارچ کو پانچ پری کنونشن ورکشاپس چلڈرن ہسپتال میں پروفیسر نثار احمد، پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ میں پروفیسر عارف محمود صدیقی، انمول ہسپتال میں پروفیسر ابوبکر شاہد، میو ہسپتال میں پروفیسر ہارون حامد اور جناح ہسپتال میں پروفیسر طیب عباس کی زیر نگرانی منعقد ہوئیں جن میں مختلف موضوعات پر جدید طبی تحقیق سے میڈیکل پروفیشنلز کو آگاہ کیا گیا۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر خواجہ صادق حسین نے کی۔ اس موقع پر دیگر مہمانان میں اسلامک سینٹر پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر اشتیاق احمد گوندل، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر انیس احمد، کنونشن آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر حافظ اعجاز احمد، پیما کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے مہمانان، فیڈریشن آف اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشنز (فیما) کے مرکزی صدر ڈاکٹر احسان کرامان (ترکی)، فیما کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر علی مشعال (اردن) اور اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ملائشیا کے صدر ڈاکٹر موسیٰ نورالدین شامل تھے۔ اس اجلاس میں ڈاکٹروں کو طبی اخلاقیات پر مبنی پریکٹس کی ضرورت پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ مریض صرف دوا کا نہیں بلکہ ڈاکٹر کے اچھے برتاؤ کا بھی استحقاق رکھتا ہے۔ پروفیسر خواجہ صادق حسین نے کہا کہ مریض کی خدمت عبادت ہے، اس میں کوتاہی اپنے آپ کو انسانیت کے درجے سے گرانے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مریض کا حق ہے کہ اسے معیاری علاج و آگہی فراہم کی جائے اور ہر طرح کے فیصلے میں اسے شریک رکھا جائے۔ ڈاکٹر احسان کرامان نے غزہ، شام اور روہنگیا میں فیماکی طبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ پیما کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ پیما کا بنیادی مقصد ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ انہیں مسلمان ڈاکٹر کے طور پر ان کی ذمے داریوں سے آگاہ کرنا بھی ہے۔ اس موقع پر پیما کی جانب سے مثالی ہسپتال، فارما کے ساتھ تعلقات اور علاج معالجے کے سلسلے میں گائیڈ لاینز کا بھی اجراء کیا گیا۔
دوسرا اجلاس قومی صحت عامہ کو درپیش مسائل کے موضوع پر تھا۔ اس اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اختر، PKLIکے سربراہ پروفیسر سعید اختر، یونیورسٹی آف لاہور کے پروفیسر نعیم ظفر اور رفاہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ذکی الدین نے ہیپاٹائٹس سے پاک پاکستان، بچوں پر تشدد اور صحت عامہ کے لیے جدید رجحانات کے موضوعات کا احاطہ کیا۔ ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا کہ پاکستان میں صحتِ عامہ کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے حکومتی سطح پر بیماریوں سے بچاؤ کی پالیسیاں مرتب کرنا ازحد ضروری ہے۔
تیسرا اجلاس ریلیف سرگرمیوں کی رپورٹوں کے لیے مختص کیا گیا تھا جس کی صدارت جماعت اسلامی کے ڈائریکٹر امور خارجہ عبدالغفار عزیز نے کی۔ اس موقع پر پشاور میڈیکل کالج کے پروفیسر حفیظ الرحمن نے ’’مخلوقِ خدا کی خدمت…دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ‘‘کے موضوع پر مفصل گفتگو کی۔ پیما کے انچارج شعبہ ریلیف پروفیسر افضل میاں نے اندرون و بیرون ملک پیما کی رفاہی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی، ڈاکٹر شمشاد علی نے پی او بی کی رپورٹ پیش کی، ڈاکٹر مصباح العزیز نے پیما کراچی کے تحت بنائے جانے والے آنکھوں کے مفت علاج کے ہسپتال کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ ڈاکٹر موسیٰ نورالدین نے روہنگیا مسلمانوں کی طبی امداد اور فیما کے سابق صدر ڈاکٹر تنویر الحسن زبیری نے شامی مہاجرین کے لیے جاری خدمات کا جائزہ شرکاء کے سامنے رکھا۔ اس موقع پر اس بات کا بھی اظہار کیا گیا کہ نوجوان ڈاکٹروں میں دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ زیادہ ہورہا ہے اور وہ ریلیف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر شریک ہورہے ہیں۔ پہلے روز کا ایک اہم پروگرام میڈیکل اسٹوڈنٹس اور ینگ ڈاکٹرز کے لیے خصوصی سیشن تھا جس میں معروف اسکالر پروفیسر خلیل الرحمن چشتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی سیرت کی روشنی میں لیڈرشپ پر گفتگو کی۔
دوسرے روز کا آغاز طبی اخلاقیات کے موضوع پر خصوصی اجلاس سے ہوا جس کے مقررین میں عالمی مبلغِ اسلام مولانا طارق جمیل، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر حبیب الرحمن عاصم، پشاور میڈیکل کالج کے پروفیسر نجیب الحق شامل تھے۔ اس سیشن کی صدارت خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ظفر علی چودھری نے کی۔ مولانا طارق جمیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹروں کو چاہیے کہ مریض کو گاہک نہ سمجھیں بلکہ مسیحائی کے تقاضوں کو سمجھیں اور مریضوں کی دعائیں حاصل کریں۔ مستقل مزاجی سے سیرت کا مطالعہ کریں کیونکہ اس میں انسانیت کی بلاتفریق عزت و تکریم کا درس ملتا ہے۔ عروج و ترقی اور رہبری کا راستہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ملے گا۔ اس وقت رحمان اور شیطان کے نظاموں کی ایک کشمکش ہے۔ رحمان کے نظام کی بنیاد دعوت ہے اور اس دعوت کا اولین مخاطب آپ کی اپنی ذات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طب کا شعبہ جس قدر عظیم ہے، اسی قدر نازک بھی ہے۔ حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ تُو اگر اُس کی عیادت کرتا تو میری عیادت کے مصداق ہوتا۔ جب تیمارداری پر اس قدر اجر کا بتایا جا رہا ہے تو علاج معالجے پر کس قدر اجر ہوگا، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ انہوں نے ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ کاروباری نہ بنیں، محنت کا صلہ حلال ہے لیکن پیسے کی دوڑ اور مریضوں کو گاہک سمجھنے کے بجائے مسیحا بننے کی ضرورت ہے۔
اگلا اجلاس ’’میڈیکل پروفیشن: ایشوز و چیلنجز‘‘ کے موضوع پر تھا جس کی صدارت وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے کی۔ اس موقع پر شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی کے پروفیسر محمد اقبال خان اور ڈاکٹر عبداللہ متقی نے میڈیکل کالجوں کی داخلہ پالیسی کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال کیا اور کہا کہ اس وقت میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم طالبات کی تعداد 70فیصد ہے تاہم پریکٹس کرنے والی ڈاکٹر کُل تعداد کا محض 23 فیصد ہیں۔ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز میں گریجویٹ نرسز کی تعداد میں اضافے کے لیے کسی بھی پالیسی کا فقدان نظر آتا ہے۔ میڈیکل کالجوں کی کوالٹی کے باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہونا چاہیے۔ میرٹ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ ڈاکٹروں کی کمی پر قابو پایا جا سکے اور پروفیشن چھوڑنے کی وجوہات کا سدباب کیا جانا چاہیے۔
ڈین فیکلٹی آف میڈیکل پنجاب یونیورسٹی پروفیسر سید محمد اویس نے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کے ضمن میں مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر ڈاکٹر واسع شاکر نے قومی صحت پالیسی کے حوالے سے مختلف امور کی نشاندہی کی اور کہا کہ پاکستان میں 80فیصد آبادی کو صحت کی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ نان کمیونی کیبل بیماریوں پر دوا کے ساتھ ساتھ صاف پانی، حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل، غذا اور ہیلتھ پریونشن پروگرام کے ذریعے قابو پانے کی منصوبہ بندی کی جانی چاہے۔ انہوں نے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک میں تمباکونوشی سے ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والی تمام رقم صحت پر خرچ کی جاتی ہے۔ پاکستان صحت کے شعبے میں خرچ کرنے والے ممالک میں کیوبا اور ایران سے بھی پیچھے ہے۔ کسی صوبے میں صحت پالیسی کا نہ ہونا قابلِ افسوس ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروے کیا جانا چاہیے اور اس کی بنیاد پر صحتِ عامہ کے لیے ترجیحات متعین کی جانی چاہئیں۔
وفاقی وزیر صحت محترمہ سائرہ افضل تارڑ نے پیش کردہ تمام چیلنجز و مسائل کے ضمن میں بتایا کہ ان کی وزارت نے قومی ہیلتھ وژن تشکیل دیا ہے۔ ڈاکٹروں کے تعاون کے بغیر صحتِ عامہ، ہیلتھ ایجوکیشن کی صورت حال کو بہتر اور پی ایم ڈی سی میں شفافیت کو ممکن نہیں بنایا جا سکتا۔ پیما جیسی تنظیمیں رائے عامہ کو صحت سے متعلق شعور فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ گزشتہ پانچ سال میں ہم نے شفافیت کو فروغ دیا ہے اور ملک و قوم کے مفاد میں بہترین فیصلے کیے ہیں۔ خواتین میڈیکل اسٹوڈنٹس کا عملی شعبے میں نہ آنا بہت اہم مسئلہ ہے، اس کی جزئیات جان کر، وجوہات کے تعین اور اس کے تدارک کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت نے پولیو کے خاتمے، سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان میں بیماریوں کی رجسٹری سے متعلق اعدادوشمار کی عدم دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے لیے نجی شعبے کو حکومت کی معاونت کرنی چاہیے۔ میڈیسن ایک سنجیدہ شعبہ ہے، بدقسمتی سے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں پیسوں کے لیے میرٹ کے قتل عام نے ان کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بعد انہیں کسی ضابطے کا پابند بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کی فعالیت اور شفافیت ہم سب کی اجتماعی ضرورت ہے، بدقسمتی سے اس بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔ ڈاکٹر اس ادارے کی بنیادی اکائی ہیں، اس لیے آپ لوگوں کو اس ضمن میں پہل کرنی چاہیے اور اصلاحات کے عمل میں شریک ہونا چاہیے۔
کنونشن کے اختتامی سیشن کا پہلا حصہ پیما کے حال ہی میں وفات پانے والے سابق مرکزی صدر اور نیورو فزیشن پروفیسر محمد طارق سے منسوب کیا گیا تھا جس میں ان کے اہلِ خانہ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر پروفیسر محمد اقبال خان، پروفیسر احمد سعید، ڈاکٹر ریاض احمد، ڈاکٹر فضیل علوی نے انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی پیشہ ورانہ و تحریکی خدمات کو سراہا۔ اس کے بعد پیما کی صدارت کے لیے انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔ الیکشن کمشنر پروفیسر سہیل اختر نے بتایا کہ آئندہ دو برسوں کے لیے پیما کے اراکین نے پروفیسر محمد افضل میاں کو پیما کا مرکزی صدر منتخب کیا ہے۔ وہ یونیورسٹی آف لاہور کے کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری میں بطور پروفیسر آف سرجری خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پیما کے بانی صدر ڈاکٹر محمد مقبول شاہد نے ان سے حلف لیا۔ اس موقع پر 32رکنی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے اراکین کا بھی اعلان کیا گیا جن میں پنجاب سے پروفیسر محمد طاہر چودھری، ڈاکٹر طارق اسماعیل، ڈاکٹر فخر الزمان، ڈاکٹر انتظار حسین بٹ، ڈاکٹر طاہر محمود بٹ، ڈاکٹر عرفان اللہ ملک، ڈاکٹر خبیب شاہد، ڈاکٹر عمران ظفر، ڈاکٹر ارشد منیر، ڈاکٹر عبدالحفیظ کاردار، ڈاکٹر محمد طاہر اعظم… سندھ سے ڈاکٹر عبدالعزیز میمن، ڈاکٹر کاشف شازلی، ڈاکٹر عاطف حفیظ، ڈاکٹر عبداللہ خلجی، ڈاکٹر احمر حامد، ڈاکٹر عبداللہ متقی، ڈاکٹر اورنگ زیب، ڈاکٹر عظیم الدین، ڈاکٹر فصیح ہاشمی، ڈاکٹر عبدالرشید وہاب میمن، ڈاکٹر شمس العارفین… خیبر پختون خوا سے ڈاکٹر فخر عالم، ڈاکٹر محمد قاسم، ڈاکٹر فضل عظیم، ڈاکٹر گلشن حسین، ڈاکٹر کامران حسن، ڈاکٹر حافظ محمد اشفاق… آزاد کشمیر سے ڈاکٹر عبدالرحمن، ڈاکٹر آفتاب میر… بلوچستان سے ڈاکٹر سلیم بلوچ… اور گلگت بلتستان سے ڈاکٹر محبوب احمد شامل ہیں۔ ڈاکٹر مقبول احمد شاہد کی دعا سے اس دو روزہ کنونشن کا اختتام ہوا اور با جماعت نماز ظہر اور ظہرانہ کے بعد شرکاء اپنے اپنے مقامات کو روانہ ہوئے۔

حصہ