اخلاقی طاقت کے اسلامی اور غیر اسلامی تصوّرات

اخلاقی قوت کی اہمیت کا احساس اگرچہ مسلم و غیر مسلم سب کو یکساں ہے۔ مگر اس کے تصور، اس کے حدود اور اس کے برقرار رکھنے کی تدابیر، تینوں چیزوں میں ہمارے اور ان کے درمیان خاصا فرق ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت ہماری قوم میں اسلامی تعلیم اور اسلامی تربیت کی کمی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ہم اخلاقی قوت کے غیر اسلامی تصور اور حدود اور اس کی بحالی کے غیر اسلامی طریقوں پر نہ مائل ہوجائیں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت انہی تینوں امور کی اسلامی نقطہ نظر سے تشریح کردوں۔
(1) غیر اسلامی تصور: اخلاقی طاقت کا غیر اسلامی تصور یہ ہے کہ قوم کو اپنی طاقت پر پوری طرح اعتماد ہو۔ اسے اپنی قومیت سے، اپنے وطن سے اور قومی کلچر سے عشق ہو، اور اس کو بچانے کے لیے وہ جان و مال کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو۔ اخلاقی طاقت کے حدود کو وہ زیادہ سے زیادہ بس حوصلے اور ہمت اور جذبۂ مدافعت تک وسیع سمجھتے ہیں اور اس کی بحالی کے لیے وہ زیادہ تر غیر اخلاقی تدابیر سے کام لیتے ہیں۔ مثلاً جھوٹے اعلانات، اپنی قوت کے متعلق مبالغہ آمیز بیانات، اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو چھپانا اور فتح و کامرانی کی بے بنیاد امیدوں کو ابھارنا۔ ان کے نزدیک صداقت اور واقعیت سے مورال گرتا ہے اور جھوٹ سے وہ قائم ہوتا ہے۔
(2) اسلامی تصور: اس کے برعکس اخلاقی طاقت کا اسلامی تصور یہ ہے کہ قوم کا اصلی اعتماد اپنی طاقت کے بجائے اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید پر ہو۔ اسلام اپنی طاقت پر بھروسا کرنا نہیں سکھاتا بلکہ اللہ پر توکل کرنا سکھاتا ہے۔ ایک سچا مومن ذرائع تو وہ سب فراہم کرتا ہے جو ایک کافر فراہم کرتا ہے لیکن اس کی نگاہ ہمیشہ اللہ پر ہوتی ہے۔ اسی سے وہ مدد مانگتا ہے اور فتح و کامرانی کی ساری امیدیں اسی سے وابستہ کرتا ہے۔ اللہ پر یہ اعتماد اس کے حوصلوں کو اُس وقت بھی قائم رکھتا ہے، جب کہ سارے ذرائع و وسائل اس کا ساتھ چھوڑ دیں۔ کیونکہ وسائل اگر باقی نہ رہیں تب بھی اللہ باقی ہے جس پر اس کا اصلی اعتماد تھا۔ اور وہ قادرِ مطلق ہے جس کے ایک اشارے سے ہرتی ہوئی بازی جیت سکتی ہے۔
اس توکل علی اللہ کی وجہ سے ہمارے ہاں ’اخلاقی قوت‘ تک کے حدود بھی غیر اسلامی حدود سے وسیع تر ہیں۔ ہم اخلاقی قوت کو صرف حوصلے اور ہمت اور جذبۂ دفاع تک محدود نہیں سمجھتے، بلکہ اسے پورے اخلاقی کردار پر حاوی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ جسے اللہ سے مدد حاصل کرنی ہو اُسے اپنی تمام زندگی کو اسی کی مرضی کے مطابق بنانا پڑتا ہے۔ یہ سراسر ایک نامعقول بات ہے کہ ایک شخص یا قوم ایک طرف اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اور دوسری طرف اس سے مدد بھی مانگے۔ ایسے توکل علی اللہ کی مثال تو بالکل ایسی ہے جیسے ایک شخص گھر سے چوری کے لیے نکلے اور اس کے بیوی بچے خدا سے دعا مانگیں کہ وہ چوری کا مال لے کر خیریت سے گھر لوٹ آئے۔ توکل کی یہ صورت بالکل غلط ہے۔ اللہ کے احکام کی پوری طرح پابندی کرنے کے بعد ہی اللہ پر توکل کرنا صحیح توکل ہوسکتا ہے۔
(’’مولانا مودودیؒ کی تقاریر‘‘، دوم، جنوری 1980ء، ص269-267)

پانچ باتیں

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’کون ہے جو مجھ سے کلمات سیکھ کر ان پر عمل کرے یا اسے سکھائے؟‘‘
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سیکھتا ہوں۔ پس آپؐ نے میرا ہاتھ پکڑا اور پانچ باتیں شمار کیں:
1۔ حرام کاموں سے پرہیز کرو، سب سے زیادہ عبادت گزار بن جائو گے۔
2۔ اللہ کی تقسیم پر راضی رہو، سب سے بڑے غنی بن جائو گے۔
3۔ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرو، اس سے تم مومن ہوجائو گے۔
4۔ لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، اس سے تم مسلمان ہوجائو گے۔
5۔ زیادہ مت ہنسو کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مُردہ کردیتی ہے۔
(جامع ترمذی، جلد دوم: رقم:191)

Share this: