دانت، قدرت کے عطا کردہ موتی

دانت قدرت کا وہ عطیہ ہیں جن کا انسانی صحت اور ظاہری چہرے کے حسن و جمال کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ہے۔ وہ لوگ جو قدرت کے اس عطیے کی حفاظت نہیں کرتے، جب ان کے قدرتی دانت ختم ہوجاتے ہیں تو ان کے ظاہری حسن میں کمی کے علاوہ کھانے پینے کا لطف ختم ہوجاتا ہے۔ آنکھوں کی قدر نابینا جانے، کانوں کی قدر بہرہ جانے، اور دانتوں کی قدر دانت کے فطری موتی ضائع کردینے والے سے پوچھیں۔
انسانی جسم کی پرورش اور دن بھر کام کرنے کی وجہ سے استعمال ہونے والی انرجی کو بحال کرنے میں غذا بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مگر یہ غذا کیوں کر اور کیسے مفید ہوسکتی ہے؟ خالقِِ کائنات نے خوب صورت، چھوٹے بڑے دانتوں کی بتیسی عطا کرکے انسان کو غذا پیسنے والی ایسی خودکار مشین عطا کردی ہے جس کی قدر انسان کو صحت مند رکھتی ہے۔
دانت وہ چوکیدار ہیں جو معدہ میں جانے والی غذا کو چیک اَپ کے بعد معدہ میں جانے کی اجازت دیتے ہیں جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں، کم ہے۔
غذا کو چبانے کا عمل معدہ میں ہضم کے عمل کو آسان بناتا ہے۔ چبانے کے دوران منہ سے لعابِ دہن غذا میں شامل ہوکر غذا کو ہضم کرنے اور مفید بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ دانت کوئی بھی سخت غذا جو ہضم نہ ہوسکتی ہو، یا معدہ میں فتور یا زخم پیدا کرنے والی ہو، اس کو چبانے کے دوران ’’ٹٹول‘‘ کر علیحدہ کردیتے ہیں۔ ہڈی، پتھر، کنکر، یا کوئی اور دھاتی شے یا مضر صحت جزو، جو غلطی سے غذا میں شامل ہوجائے، دانت سگنل دیتے ہیں کہ اسے لقمہ سے نکال دیں، یا وہ لقمہ ہی ضائع کردیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو ہم کیسے نظرانداز کرسکتے ہیں!
صحت مند دانت تندرستی اور توانائی کے لیے ضروری ہیں۔ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے اس عطیہ کی قدر نہیں کرتے۔ عموماً زندگی میں جو بھی مشین یا آلات ہم استعمال کرتے ہیں اُن کو استعمال کرنے کے بعد دھوکر، صاف کرکے، بلکہ خشک کرکے ہم محفوظ کرتے ہیں۔ مگر دانت ایک ایسا عطیہ ہے جس سے ہم مجرمانہ غفلت برتتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں۔
اگر ہمارے دانت صاف ہوں گے، مسوڑھے پائیوریا اور پیپ سے پاک ہوں گے تو جو غذا ہم دانتوں سے چباکر کھائیں گے وہ صاف ستھری، صحت بخش صورت میں ہمارے معدہ میں جائے گی اور قدرتِ کاملہ کے بنائے نظام کے مطابق جسم کے تمام اعضا کو خون کے ذریعے عمدہ غذا ملے گی۔ اور اگر ہمارے دانت صاف نہیں، مسوڑھے بیمار ہیں، ان سے پیپ آتی ہے، خون نکلتا ہے تو یہی پیپ اور خون ہمارے معدہ میں جائے گا۔ آج معدہ کے امراض، تبخیر معدہ، ڈکار، غذا کا بوجھ بننا، معدہ میں جلن اور تیزابیت کا پیدا ہونا، یہاں تک کہ معدہ اور انتڑیوں کا السر کیوں پیدا ہورہا ہطے؟ اس کا بنیادی سبب دانتوں کی صفائی اور دانتوں کے امراض سے غفلت ہے۔ تندرستی کے لیے صحت مند دانت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سنت اور تعلیمات میں انسانیت کی بھلائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود دانتوں کی صفائی کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپؐ گھر تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسواک سے دانت صاف کرتے۔ جب آپؐ گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو دانت صاف کرکے باہر جاتے۔ یہاں تک آپؐ کی تعلیمات ہیں کہ اگر میری امت پر بوجھ نہ ہوتا تو ہر نماز سے پہلے وضو کے وقت مسواک کی ہدایت دیتا۔ آپؐ کے فرامین سے دانتوں کی صفائی کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ ہر فرد اگر وضو سے پہلے مسواک کرے تو دانتوں کی صفائی کا ازخود اہتمام ہوجاتا ہے۔ ایک غزوہ کے موقع پر محاصرے کے باوجود اسلامی فوج کو کامیابی نہ ملنے کا سبب خلیفۂ وقت نے جنگ کی صورتِ حال میں مسواک کی سنت پر وقتی طور پر عمل نہ کرنا بتایا، اور اس کا ازالہ مسواک کی ہدایت کے ذریعے کیا گیا۔ اس عمل نے دشمن کے دل کو رعب اور خوف کا شکار کردیا، اور اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کی۔ اگر ایک مسلمان وضو نہیں کرتا، وضو کے ساتھ مسواک نہیں کرتا تو خود اندازہ کرلیں کہ وہ صحت مند کیسے رہ سکتا ہے؟ صحت مند معاشرہ کیسے جنم لے سکتا ہے؟
دانتوں کی صفائی سنتِ نبویؐ بھی ہے اور ہمارے بہت سے امراض کا علاج اور حفاظتی تدبیر بھی۔ انسان ہر کھانے کے بعد کم از کم اچھی طرح کلی کرلے، سونے سے پہلے اور صبح اٹھتے ہی دانتوں کی صفائی کرلے تو درجنوں امراض بغیر علاج کے ختم ہوسکتے ہیں۔ ہمارے دور کا تن آسان نوجوان مسواک یا دانتوں کی صفائی سے غافل ہے۔ رات گئے کھانا کھا کر، ٹیلی ویژن کی خرافات کو ’’انجوائے‘‘ کرکے نیند سے مدہوش یہ نوجوان چارپائی یا پلنگ پر دراز ہوجاتا ہے۔ دانتوں کی صفائی کا کس کے پاس وقت ہے! رات دیر سے سونے والا یہ شہزادہ صبح دیر سے اٹھنے کا عادی ہوچکا، صبح کی نماز یا وضو کا اہتمام کون کرے (الا ماشاء اللہ)۔ بستر پر Bed Tea اور اب Bed Coffe کا رواج ہوچکا ہے۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ جوانی ہی میں اللہ کے عطا کردہ دانتوں سے فارغ ہوکر مصنوعی دانت لگ جاتے ہیں اور کھانے پینے کا بے لطف، بے کیف دور شروع ہوجاتا ہے۔
چھوٹی عمر کے بچوں میں چینی کی ٹافیاں، ٹکیاں، چاکلیٹ، کینڈی، چیونگم، سلانٹی اب عام ہیں، اور والدین کی طرف سے بچپن ہی میں دانتوں کی صفائی کا اہتمام نہ کرانے کی وجہ سے دو سال کی عمر کے بچے بھی دانتوں اور مسوڑھوں کے امراض کا شکار ہیں۔ والدین مرض سے تو پریشان ہیں مگر مرض کے اسباب سے آنکھیں بند کرچکے ہیں۔
نوجوان، اور اب مغرب کی تقلید میں کالجوں کی بچیاں اور بچے سگریٹ نوشی، حقہ، شیشہ پینے کی طرف راغب کیے جارہے ہیں۔ ان سے منہ میں تعفن، بدبو اور غلاظت کا احساس ختم ہورہا ہے۔ جس انسان کے منہ سے بو آتی ہو، اُس کے ساتھ یا قریب بیٹھنے کو جی نہیں چاہتا۔ غنیمت ہے کہ یورپ میں ایک حد تک گاڑیوں، بسوں اور ہوائی سفر میں سگریٹ نوشی کی لعنت پر پابندی لگادی گئی ہے جس سے دانت بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ہم بدنصیب قوم ہیں کہ قانون ہونے کے باوجود قانون پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
دانتوں کی خرابی کی صورت میں عموماً جب ہم لوگ ڈینٹسٹ حضرات سے رجوع کرتے ہیں تو ایک قدیمی فارمولے’’علاج دنداں اخراجِ دنداں‘‘ پر عمل کیا جاتا ہے۔ لیکن عملاً ہم ڈینٹسٹ کے پاس جاتے ہی اُس وقت ہیں جب دانت اس حد تک خراب ہوجاتے ہیں کہ مذکورہ فارمولے کو ہی غنیمت سمجھا جاتا ہے۔
معالج کی پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ قدرت کے ان موتیوں کو جس حد تک ممکن ہو، بچانے اور بحال کرنے کی کوشش کریں۔ یہ انسانی صحت کے لیے ضروری ہے۔ تاہم آخری چارے کے طور پر مذکورہ فارمولا بھی نعمت ہے۔ دانتوں کے درد کی ایک رات کی تکلیف بھی انسان کو نڈھال کردیتی ہے۔ اللہ محفوظ رکھے۔ (آمین)
دانتوں کی حفاظت کے لیے چند مفید نسخے:
ہوالشافی: عقرقرا 200 گرام، پھٹکری سفید بریاں 50 گرام، برادہ پوست کیکر 50 گرام، الائچی سبز 5 گرام۔ منجن تیار کرلیں، بے حد مفید ہے۔
ہوالشافی: پائیوریا اور دانتوں کے لیے بے حد مفید نسخہ:
پھٹکری سفید یا سرخ 50 گرام باریک کرکے توے پر ڈالیں، ہلکی آنچ پر پکائیں، جب بلبلے اٹھیں تو سرکہ انگور خالص (سفید سرکہ نہیں) تھوڑا تھوڑا ڈالتے جائیں۔ خشک ہونے پر سیاہ رنگ کا منجن تیار ہے۔ پائیوریا کا حتمی علاج ہے۔
ہوالشافی: نمک خوردنی (خالص) لے کر خود کپڑ چھان کر میدہ کی طرح باریک کرلیں، روغن جرجیر ڈال کر اچھی طرح رگڑ کر پیسٹ تیار کرلیں۔ انگلی سے منجن کی طرح استعمال کریں۔ دانت موتی کی طرح چمکیں گے، منہ کی بو ختم ہوگی اور پائیوریا کا خاتمہ ہوگا۔
ہوالشافی: میتھرے 6 ماشہ لے کر ایک کپ پانی میں جوش دے کر ہلکا نمک خوردنی حل کرکے صبح و شام کلی کریں۔ دانتوں کے ہر مرض سے اللہ تعالیٰ نجات دیں گے۔
ہوالشافی: امرود کا پتا ایک عدد اور جامن کا پتا ایک عدد، دونوں کو ایک کپ پانی میں جوش دے کر صبح وشام کلی کریں اور زندگی بھر لطف اندوز ہوں۔
صحت مند زندگی اور صحت مند دانتوں کے لیے جدید دور کے برش (جو ناقص ہیں) کو ترک کردیں۔ ہمارے ہاں کیکر، پھلائی، شیشم، سکھ چین اور زیتون کی مسواک عام مل جاتی ہے۔ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کیجیے اور مسواک کو فروغ دیجیے۔ سنت پر عمل کا ثواب علیحدہ، صحت مند زندگی کا لطف علیحدہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شعور عطا کریں۔

Share this: