دفعہ 62اور 63پر تنقید کی حقیقت

پروفیسر خورشید احمد
دستور کے آرٹیکل 62 اور 63 نے یہ اصول طے کردیا ہے کہ جہاں پارلیمنٹ اور حکومت عوام کے ووٹ سے وجود میں آئے گی، وہیں محض ووٹ کی طاقت سے ان دفعات پر پورا نہ اُترنے والا شخص نہ پارلیمنٹ کا رکن بن سکتا ہے اور نہ رکن رہ سکتا ہے۔ اور یہ اصول جمہوری دنیا میں بھی ایک مسلّمہ اصول کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ ووٹ لینے والا قانون سے بالاتر مخلوق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر وہ قانون کی گرفت میں آنے کے بعد اپنی اہلیت کھو دیتا ہے تو محض ووٹ کی قوت سے اسے قیادت کے منصب پر فائز نہیں کیا جاسکتا۔
دفعہ 62 اور 63 کے بارے میں یہ بات بھی بے معنی ہے کہ یہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی داخل کردہ ہیں۔ بلاشبہ یہ دفعات 1973ء کے اصل دستور میں موجود تھیں، البتہ ان میں بعد میں اضافے اور تبدیلیاں ہوئی ہیں، جن میں اہم تبدیلیاں آٹھویں، سترہویں اور اٹھارہویں ترامیم کے ذریعے ہوئی ہیں۔ لیکن واضح رہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے جو آخری شکل ان دفعات کو دی گئی ہے، وہ پارلیمنٹ کی متفقہ تجاویز کی بنیاد پر ہیں اور اب ان کی ملکیت (ownership)کا اعزاز جنرل ضیاء مرحوم سے ہٹ کر پارلیمنٹ اور قوم کو منتقل ہوچکا ہے۔ یہاں ضمنی طور پر ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ ’صادق‘ اور ’امین‘ ہونے کے سلسلے میں جو باتیں ایک نام نہاد سیکولر طبقہ ایک مدت سے اُگل رہا ہے اور اب اس میں مسلم لیگ (ن) کے ترجمان اور دانش ور، جو کل تک اس کے مؤید تھے، وہ بھی شریک ہوگئے ہیں، ایک بہت سطحی اور افسوس ناک غوغا آرائی ہے۔ علمِ سیاست ہی نہیں بلکہ مینجمنٹ اور حکمرانی کا ہر طالب علم واقف ہے کہ ہر سیاسی نظام ہی میں نہیں بلکہ چھوٹی اور بڑی کاروباری قیادت تک کے لیے امانت، دیانت اور صداقت بنیادی صفات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسلامی نظام میں تو یہ اوّلین شرائط ہیں، لیکن دنیا کے ہر نظام میں دیانت (Honesty)، اعلیٰ کردار (Integrity) اور معاملہ فہمی (Prudence) لازمی اوصاف تصور کیے جاتے ہیں۔
مشہور مصنف سر آئیور جیننگ[ Ivor Jennings ، م: 1965ء] نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب Cabinet Government میں لکھا ہے کہ: ’’ایک وزیر اور وزیراعظم کی اوّلین اور ناقابلِ سمجھوتا خصوصیت اس کا اعلیٰ کردار (Integrity) ہے۔ اگرچہ صلاحیت کے باب میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، جس کی تلافی مشیر اور معاونین کے ذریعے ہوسکتی ہے، لیکن اگر صداقت اور دیانت کے باب میں قیادت مطلوبہ معیار سے فروتر ہے تو اس کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا‘‘۔
دفعہ 62 میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
کیمبرج ڈکشنری Honesty کی تعریف یہ کرتی ہے:
’’سچا یا اعتماد کے قابل، جس کے بارے میں یہ امکان نہ ہو کہ وہ چوری کرے گا، دھوکا دے گا یا جھوٹ بولے گا۔‘‘
اسی طرح کولن انگلش ڈکشنری کے بقول:
’’اگر آپ کسی کو ایمان دار قرار دیتے ہیں تو آپ کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور لوگوں سے دھوکا دہی نہیں کرتے اور نہ قانون کو توڑتے ہیں۔‘‘
ہفنگٹن پوسٹ (Huffington Post)کے الفاظ میں:
’’اخلاقیات میں اخلاقی بلندی (integrity) سے مراد دیانت داری، راست بازی، سچائی اور اعمال کی درستی ہوتے ہیں۔‘‘
اسی طرح Integrity کی تعریف لغت کی رُو سے یہ ثابت ہوتی ہے:
’’اخلاقی اصولوں پر سختی سے عامل، اخلاقی کردار کی درستی اور مضبوطی، دیانت داری۔‘‘
انتظامیات (مینجمنٹ) کی کتب میں یہ اصول اور معیار بیان کیا گیا ہے کہ:
’’اخلاقی بلندی (Integrity) بنیادی اقدار میں سے ایک ہے، جن کی آجر کو اپنے اجیر میں ملازم رکھتے ہوئے، تلاش ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی امتیازی خصوصیت ہوتی ہے جو اپنے کام میں ٹھوس اخلاقی اصولوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔‘‘
لطف کی بات یہ ہے کہ آج حکمرانی کے منصب پر فائز رہنے والوں کی طرف سے دستور کی دفعہ62 اور 63 نکالنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ یہاں مسلم لیگ(ن) کی وہ قیادت اور اس کے ہم نوا کالم نگار جو طرح طرح کی گُل افشانیاں کررہے ہیں اور صدر جنرل محمد ضیاء الحق کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں، وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ سینیٹ آف پاکستان نے متفقہ طور پر (رولز آف بزنس) اصول و ضوابط بنائے ہیں اور جن پر ضیاء الحق مرحوم کا کوئی سایہ بھی کبھی نہیں پڑا، ان میں بھی مذکورہ دفعات موجود ہیں۔ فاعتبروا یااولی الابصار۔
ضابطہ اے-226 کی تشریح سینیٹ آف پاکستان کے رولز کے ضمیمے میں ان الفاظ میں کی گئی ہے:
’’اپنے پارلیمانی اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں، ارکان سے یہ توقع کی جائے گی کہ وہ چال چلن یا طرزِعمل کے درج ذیل اصولوں کی پابندی کریں گے، جن کی نشان دہی اخلاقیات کی کمیٹی نے کی ہے۔ ان ا صولوںکو اس وقت مدنظر رکھا جائے گا جب ضابطے کے حصہ پنجم میں دیے گئے طرزِعمل کے اصولوں کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیق و تعیین مقصود ہوگی۔
٭ احتساب / جواب دہی: ارکان اپنے فیصلوں اور اعمال کے لیے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔
٭ دیانت داری: سرکاری عہدوں پر فائز افراد پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ان کے سرکاری فرائض سے اگر ان کے کوئی ذاتی مفادات وابستہ ہوں تو ان کا سرعام اعلان کریں، اور اس صورت میں پیدا ہونے والے تصادم کو ایسے طریقے سے حل کرنے کے لیے اقدامات کریں کہ جس سے عوام کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔
٭ اخلاقی بلندی: عوامی/ سرکاری عہدوں پر فائز افراد کو افراد یا انجمنوں کا مالی طور پر یا کسی اور لحاظ سے اس طریق پر رہینِ منّت نہیں ہونا چاہیے، جس سے ان کے سرکاری فرائض کی بجاآوری پر اثر پڑسکتا ہو۔
٭ معروضیت: عوامی/ سرکاری عہدوں پر فائز افراد کو سرکاری اُمور سرانجام دیتے ہوئے، جس میں سرکاری عہدوں پر لوگوں کو متعین کرنا، ٹھیکے دینا، یا انعامات اور فوائد کے لیے افراد کی سفارش کرنا شامل ہے، انتخاب کے لیے فیصلے میرٹ پر اور ضوابط اور قوانین کے مطابق کرنے چاہئیں۔
٭ بے غرضی: سرکاری عہدوں پر فائز افراد کو فیصلے محض مفادِ عامہ کو سامنے رکھ کر کرنے چاہئیں۔ ان کو یہ فیصلے مالی یا دیگر مادی مفادات کے حصول کے لیے نہیں کرنے چاہئیں۔
٭ شفافیت اور کھلا پن/ صراحت: ارکان کو اپنے کیے گئے تمام فیصلوں اور اُٹھائے گئے تمام اقدامات میں ہر ممکن حد تک کھلا اور شفاف ہونا چاہیے۔‘‘
ان بقراطوں کے سامنے ہم یہ سوال رکھتے ہیں کہ: دستور کی دفعات 62، 63 کا مطالبہ وفاقِ پاکستان کی علامت ایوانِ بالا کے ان اُمورِ کار سے کچھ مختلف ہے؟ اور اگر کوئی رکن ان دفعات کی خلاف ورزی کرتا ہے، تب بھی کیا وہ ووٹ کی عظمت اور عزت کے نام پر پارلیمنٹ کا رکن رہ سکتا ہے؟
غلط بیانی، دستاویز میں جعل سازی، جھوٹی گواہی، کتمانِ حق، یعنی سچی بات کو چھپانا، وہ اخلاقی اور سماجی برائیاں ہیں جو انسان کو ناقابلِ اعتبار بنادیتی ہیں۔ اس وجہ سے وہ فرد ان کے ارتکاب کے بعد سیاسی ذمے داری کی اہلیت کھو دیتا ہے۔ یہ اسلام کا بھی ایک معیاری اصول ہے اور دنیا کے دوسرے تمام نظاموں، خصوصیت سے پارلیمنٹ اور حکومت کے مناصب کے باب میں اس احترام کا بنیادی تقاضا ہے۔ دنیا کے بعض دستوری اور قانونی نظاموں میں جھوٹی گواہی، غلط بیانی اور حقائق چھپانا ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے، اور اگرکوئی منتخب نمائندہ یا عہدے دار اس جرم، جیسے Perjury (نقضِ عہد، جھوٹی گواہی) کا مرتکب پایا جاتا ہے، تو اسے نہ صرف عہدے سے فارغ کردیا جاتا ہے بلکہ سزا بھی دی جاتی ہے۔
Webster ڈکشنری کی رُو سےPerjury کی تعریف یہ ہے:
’’(قانونی اہمیت کے حامل معاملے کے بارے میں) جان بوجھ کر دروغ گوئی کا عمل یا جرم، جب کہ (ایسا کرنے والا) حلف اُٹھا کر بیان دینے کی وجہ سے یا (حلف اُٹھائے بغیر) صدق دلانہ بیان دینے کی وجہ سے یا کسی سرکاری طور پر جاری اعلامیہ کے تحت اس بات کا پابند ہو کہ وہ جو کہہ رہا ہے ، تحریر کررہا ہے، یا جس کا وہ دعویٰ کررہا ہے، درست اور سچ ہے۔
’Perjury‘ برطانیہ میں کامن لا کا حصہ ہے اور امریکی قانون میں بھی ایک جرم ہے، جس کی مختلف حلقوں میں اور امریکہ کی مختلف ریاستوں میں مختلف سزائیں ہیں۔ برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ میں یہ سزائیں ایک سے پانچ سال تک قید اور جرمانے پر مشتمل ہیں۔
جہاں تک اسلامی قانون کا تعلق ہے، اسلامی ریاست میں امیر، قاضی اور عُمال کے لیے عادل اور صالح ہونا بنیادی اور لازمی شرط ہے۔ کسی بھی معاملے میں خواہ اس کا تعلق شادی بیاہ، طلاق، وصیت سے ہو یا کاروباری معاملات سے، گواہ کے لیے عادل ہونا لازمی شرط ہے۔ جھوٹی گواہی پر حضرت عمرؓ نے 40کوڑوں کی سزا بھی دی ہے اور جھوٹے گواہ کو آئندہ گواہی کے لیے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ ہی نہیں ہر مہذب معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی، اخلاقی اور معاشرتی جرائم ہیں۔ علم الرجال کے اصولوں کے مطابق اگرکسی راوی سے کسی معمولی سے معاملے میں بھی خلافِ واقعہ روش کی کوئی جھلک نظر آئی ہے تو اس سے روایت قبول نہیں کی گئی ہے۔
اس امر پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے کہ محض اپنی ذات کو بچانے کے لیے اسلام کے مسلّمہ اصول اور دستور کی واضح دفعات کا مذاق اُڑایا جا رہاہے اور انھیں تبدیل کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں، تاکہ وہ افراد جو دیانت و امانت اور صدق و صفا کے معیار پر پورے نہ اُترتے ہوں، وہ ملک و قوم کے سیاہ و سفید کے مالک بن سکیں۔ اس سے بڑا ظلم جمہوریت اور عوام کے ووٹ پر کیا کِیا جاسکتا ہے کہ ووٹ لینے والے کو ہرقانون و دستور اور بنیادی اخلاقی اصولوں سے بالا کردیا جائے اور محض اس بنا پر کہ چونکہ اسے ووٹ حاصل ہوتے ہیں، اس کے لیے یہ جرم اور قانون شکنی جائز ہوجائے۔ جس طرح ووٹ جمہوریت کا ستون ہے، اسی طرح قانون کا احترام، قانون کی نگاہ میں سب کی برابری، دستور اور قانون کے مطابق سب کا احتساب جمہوریت کے فروغ اور منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے ضروری شرط ہے۔ پاکستان کا مستقبل، جمہوریت کا فروغ اور عوام کی فلاح و بہبود کا انحصار دستور کے احترام، قانون کی بالادستی اور سچائی، دیانت، عدل و انصاف اورعوام کی خدمت اور خوش حالی کے لیے تمام وسائل کے استعمال اور سردھڑ کی بازی لگا دینے میں ہے۔ اقبال کا یہ ارشاد ہمارے لیے رہنما اصول ہونا چاہیے:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
(اشارات: ترجمان القرآن، اپریل 2018ء)

Share this: