مطالعاتِ اقبال

کتاب : مطالعاتِ اقبال
مصنف : ڈاکٹر اسلم انصاری
صفحات : 152
ناشر : دارالنوادر۔ الحمد مارکیٹ، اردو بازار لاہور
فون نمبر : 042-37300501
ڈسٹری بیوٹرز : کتاب سرائے، الحمد مارکیٹ، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار لاہور
فون نمبر : 042-37320318
فیکس : 042-37239884
ای میل : Kitabsaray@hotmail.com
فون نمبر : 021-32629724-021-32212991
فضلی بکس سپر مارکیٹ، اردو بازار، کراچی
’’مطالعاتِ اقبال‘‘ فکر انگیز تحریروں کے خالق استاد، دانشور، شاعر اور محقق و ماہرِ اقبالیات ڈاکٹر اسلم انصاری کے مقالات ہیں جو اس کتاب میں جمع کردیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین تحریر فرماتی ہیں:
’’پیشِ نظر کتاب ممتاز مفکر و معلّم، نقاد و محقق اور صاحبِ طرز شاعر ڈاکٹر اسلم انصاری کے اقبالیاتی مطالعات پر مبنی ہے۔ اہلِ علم سے مخفی نہیں کہ آغاز ہی سے فلسفہ، اخلاقیات، فنونِ لطیفہ اور شعریات کے مباحث ان کا موضوعِ تحقیق بنتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی فکری و شعری نگارشات تواتر سے سامنے آئیں اور اربابِ نقد و نظر کی توجہ کا مرکز بنیں۔ اقبالیات، جناب اسلم انصاری کا ایک محبوب اور مستقل موضوع ہے جو بلاشبہ ان کے فطری و طبعی میلان کا عکاس ہے۔ ان کے اقبالیاتی سرمائے سے ظاہر ہے کہ وہ اقبال کی فلسفیانہ، مفکرانہ اور شاعرانہ جہات پر مدلل، فکر انگیز اور قابلِ فہم اسلوب میں اظہارِ خیال کی نابغانہ استعداد رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے محققانہ و ناقدانہ مقالات، علمی و فکری مصاحبے، پُرمغز گفتگوئیں اور منظوم اقبالیات کی ذیل میں اردو اور فارسی میں تخلیق کیے گئے شعر پارے قوی ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کی اقبال فہمی ایک ایسا گل دستہ ہے جس میں نو بہ نو اقبالیاتی رنگ سمٹ آئے ہیں۔ ان کی یہ تصنیف ذخیرۂ اقبالیات میں گلِ سرسبد کی حیثیت رکھتی ہے جس کی بہار دائمی اور دیدنی ہے۔‘‘
مطالعات میں جو مقالات شامل کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
آر اے نکلسن: ’’اسرارِ خودی‘‘ کا مترجم اور مقدمہ نگار
’’عقلِ استخراجی اور عقلِ استقرائی‘‘ (چند توضیحات و استدراکات)
خود شناسی اور انائے ذاتی کے تصورات (قبل از اقبال)
خود شناسی اور انائے ذاتی کے تصورات (2) (قبل از اقبال)
شعرِ بیدلؔ میں خود شناسی کی تلقین اور تصورِ خودی کی جھلکیاں
مطالعۂ ادیان میں اقبال کا ایک خاص زاویۂ نظر اور چند متعلقہ مباحث
اقبال کی آہِ سرد اور ان کا حزنیہ لحن
شعری روایات کے اثرات (آہِ سرد)
اقبال کا فن
(پس منظر، توضیحات، اقبال کا نظریۂ فن، مطالعہ فن سے کیا مراد ہے؟)
کیا اقبال فلسفی شاعر تھے یا مابعد الطبعیاتی؟
اقبال اور تکمیلِ ذات کا نظریہ (اخلاقیات کی روشنی میں)
اقبال کو افلاطون سے کیا اختلاف تھا؟
اقبال اور برگساں (تیسرے خطبے کے سیاق میں)
اے ای ٹیلر کے انسانی خودی پر چند مباحث
اقبال اور فیضی
’’زبورِ عجم‘‘ کی ایک غزل
ترجمانِ بے مثال۔ ڈاکٹر جاوید اقبال
اقبال، عالمِ مثال میں (ایک تصوریہ)
ڈاکٹر اسلم انصاری کے ساتھ ایک مکالمہ
راقم نے اَن گنت کتابوں کے دیباچے پڑھے ہیں، ان میں کچھ ہی ایسے تھے جن کو پڑھ کر انسان وجد میں آتا ہے، جو قیمتی معلومات فراہم کرتے ہیں، لکھنے والے کا اثر دل و دماغ پر ڈالتے ہیں۔ ایسا ہی دیباچہ اپنی کتاب پر جناب ڈاکٹر محمد اسلم انصاری نے تحریر کیا ہے، جو اپنے لوازمے کے لحاظ سے بہت قیمتی ہے۔ راقم اس کو درجِ تعارفِ کتاب کرتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب ’’اقبال اور عہدِ حاضر‘‘ کے عنوان سے تحریر فرماتے ہیں:
’’علامہ اقبال کی شاعری، ان کی فکر اور ان کی شخصیت نے برصغیر کے مسلمانوں کی زندگیوں پر جو اثرات مرتب کیے ان کا صحیح اندازہ کرنا ممکن نہیں، اس لیے کہ یہ اثرات تاریخ کے مؤثر دھاروں میں تبدیل ہوچکے ہیں، یا کم از کم ان کے تارو پود میں شامل ہوچکے ہیں۔ بطور نظری سیاست دان کے ان کی فعالیتیں گوناگوں اثرات کی حامل تھیں، لیکن ان سب کا مقصد و مدعا برصغیر کے مسلمانوں کی حالت ِ زار کو خود ان پر منکشف کرنا اور انہیں ان کے اصل حقوق اور ان کی خفتہ صلاحیتوں سے آگاہ کرنا تھا۔ انہوں نے کسی بلند و بالا اور خود تخلیق کردہ مسند پر بیٹھ کر اپنی پرستش کروانے کا ڈول نہیں ڈالا، نہ انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی ذاتی مصالح کو امتِ مسلمہ کے مصالح پر مقدم جانا۔ باوجود اس کے کہ وہ خودی کے فلسفے کے بانی اور شارح تھے، انہوں نے اپنی ذات کو قومی نصب العین پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ یاد دلانے اور ان کو اپنی سرنوشت کو ازسرِنو لکھنے کی تلقین کرتے ہوئے گزرا۔ انہوں نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں، اگر وہ دل سے چاہیں اور اپنے مقدر کی ازسرنو تشکیل کے لیے کوشش اور جدوجہد سے کام لیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ان مذہبی اور نیم مذہبی افکار (جس سے زیاد تر مراد انفعالی تصوف کی روایات تھیں) کی تشکیلِ نو پر بھی زور دیا جو علی العموم مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کے لیے ایک نانوشتہ آئین کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے خطبات اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھے۔ ان کے اردو اور انگریزی مضامین، خطوط، خطبات (علاوہ تشکیلِ جدید کے خطبات کے)، ان کی نجی گفتگوئیں، ان کے پیغامات… ان کی اردو اور فارسی شاعری پر مستزاد تھے، جس کی نظیر کسی زبان کے ادب میں نہیں ملتی، اور یہ سب چیزیں ایک ہی نصب العین کی نشاندہی کرتی تھیں: مسلمانوں کے لیے ایک نئی زندگی کی نوید۔ جو شروع میں خود مسلمانوں کے لیے بھی حیران کن تھی، اس لیے کہ انہوں نے تو کئی صدیوں سے تقدیر پرستی کا سبق لیا تھا اور اسی کے مطابق زندگی بسر کرتے آرہے تھے۔ اقبال کا فکر و فن ہماری تاریخ کی بہت بڑی کروٹ تھی۔
اگر اقبال نہ ہوتے تو ہم فکر و نظر کی دنیا میں نہ جانے کتنے تہی دست ہوتے اور ہماری زندگیاں علم و دانش کے اعتبار سے کتنی تہی داماں ہوتیں۔ اس سلسلے میں اگر درست تناظر حاصل کرنا ہو تو عہدِ حاضر کی مسلم اقوام کی ذہنی اور علمی زندگی پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوجائے گا کہ ایک اقبال کے ہونے سے ہمیں کیا فرق پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام کو آج بھی، بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ اقبال کے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے افکار و تصورات کی تشریح کرتے ہوئے اقبال کی روش سراسر علمی رہی، انہوں نے کوئی بات ایسی نہیں کہی، جس کی تائید کسی نہ کسی صورت میں علمی حوالوں سے نہ ہوتی ہو۔ جہاں تک حوالوں کا تعلق ہے، نہ اقبال سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی نے علمی حوالوں کی ایک وسیع دنیا ہمارے سامنے رکھی۔ اور یہ اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ ایک ذہن میں کس طرح یک جا ہوسکے! اس میں شک نہیں کہ اقبالیات کے عنوان سے اس وقت جو روزافزوں ذخیرۂ علمی ہمارے سامنے ہے وہ یکساں معیار کا حامل نہیں، اس کے باوجود اس پر ایک نظر دیکھنے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے ذریعے ہماری اجتماعی دانش میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ ماضی سے تعلق رکھنے والے کیسے کیسے علمی منطقے جن پر کہنگی اور فراموش گاری کی گرد پڑی ہوئی تھی، اقبال کی بدولت روشن ہوئے۔ مشرق و مغرب کے بہت سے ناموں نے صرف اقبال کی بدولت نئی زندگی پائی اور ہماری اجتماعی دانش کا حصہ بنے۔ ہیگل، نطشے، برگساں، ولیم جیمز مغرب کے چند نام ہیں جنہیں ہم اس طرح جانتے ہیں جیسے ہم ہمیشہ سے انہیں جانتے ہوں۔ حسین بن منصور حلاج، مولانا روم، عبدالکریم الجیلی، عرفی، نظیری، عراقی، عزت بخاری، بیدل اور غالب… ان سب کو وہ ہمارے قریب لے آئے اور یوں ہمیں ہمارے بیش قیمت ماضی سے جسے بھول جانے میں ہم نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی، مربوط کیا تاکہ ہم اکہری قسم کی معلوماتی علمیت کے بجائے عمیق فکری روش سے آشنا ہوں۔ اگر ان کے علمی مقالے ’’فلسفۂ عجم‘‘ اور ’’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘‘ کی ورق گردانی کی جائے تو اندازہ ہوسکے گا کہ انہوں نے تاریخ و تمدن، فلسفہ و تصوف، تفسیر و فقہ اور ادیانِ عالم کے کتنے منطقوں کو ہماری توجہ کا مرکز بنایا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اقبال نے ان علوم کے بارے میں ہمیں ایک نقطہ نظر عطا کیا، جس کے بغیر اگر ہم کوشش بھی کرتے تو سوائے حیرانی اور پریشانی کے ہمارے ہاتھ کچھ نہ آتا۔ اقبال ہمارے لیے ناگزیر ہیں، آج بھی ہم ان کو سمجھے بغیر بہت سے نظریوں کو نہیں سمجھ سکتے۔
اقبال کی فکر اور شاعری کو برصغیر کی تاریخ میں حالات کا رخ موڑ دینے والا واقعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ خطے یا ریاست کے قیام کا تصور کچھ عرصہ پہلے سامنے آچکا تھا، لیکن اس مطالبے کی سب سے پُرزور وکالت اقبال ہی نے کی، ان کا خطبۂ الٰہ آباد گویا برصغیر کے مسلمانوں کے لیے نئی زندگی کا منشور تھا۔ جس طرح نفسیاتی اعتبار سے انہوں نے عمل کی اساس ارادے پر رکھی، اسی طرح انہوں نے مسلم قومیت کی اساس عقیدے اور تہذیب و ثقافت کی انفرادیت پر رکھی۔ انہوں نے تصورِ خودی کے ذریعے شخصیت کی نشوونما کے آفاقی اصول کی تبلیغ کی، لیکن اس کے ساتھ ہی تہذیبِ نفس کے لیے بے خودی کے تصور کو بھی اجاگر کیا، یوں خودی کے پہلو میں انائے کاذب کی نشوونما کے امکان کو رد کیا۔ انہوں نے قومیت کے بجائے ’’ملت‘‘ کے تصور کو فروغ دیا، جس کی بنیاد انہوں نے روحانی اقدار اور تہذیبی و ثقافتی تشخص پر رکھی۔ امتِ مسلمہ پر یہ ان کا بہت بڑا احسان تھا۔
آج کل یہ سوال بھی پیدا کیا جارہا ہے کہ عصرِ حاضر میں اقبال کی معنویت (Relevence) کیا ہے؟ کیا اقبال کی شاعری اور ان کا فلسفہ دورِ جدید کے ساتھ لگّا کھاتا ہے؟ اصل میں اس سوال کی تہ میں اقبال فہمی میں عجز کا احساس بھی ہے، اور اقبال کے قائم کردہ فکری فریم ورک سے نجات پانے کی خواہش بھی۔ اس سوال کا جواب کہ اقبال آج بھی معنی خیز ہے یا نہیں، یہ ہے کہ: ’’ثبت است برجریدۂ عالم دوام ما!‘‘ وہ لوگ جو جریدۂ عالم پر اپنے دائمی نقوش چھوڑ گئے ہیں وہ ہر دور میں بامعنی رہتے ہیں اور رہیں گے۔ کیا جدید دور کا انسان افلاطون اور ارسطو کے افکار کے حوالے کے بغیر کوئی بھی قابل ذکر علمی ڈسکورس قائم کرسکتا ہے؟ کیا مولانا رومؒ کا کلام آج اپنے معنی کھو چکا ہے؟ نہیں، ایسا ممکن نہیں!
کارلائل نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’ابطال اور بطل پرستی‘‘ کا باب ’’بطل بطور شاعر‘‘ لکھنا چاہا تو اس نے دو شاعروں کا انتخاب کیا جو مل کر مثالی شاعر کا تصور مکمل کرتے ہیں، یعنی ڈانٹے اور شیکسپیئر۔ ڈانٹے کی نظم ’’ڈیوائن کامیڈی‘‘ (جس کے بارے میں ثابت ہوچکا ہے کہ وہ اسلامی روایات کے زیراثر لکھی گئی تھی) کے بارے میں لکھا کہ اگر یہ نظم وجود میں نہ آتی تو عیسویت کی گیارہ صدیاں خاموش اور گنگ رہ جاتیں۔ راقم کے خیال میں اگر مولانا رومؒ کی مثنویٔ معنوی وجود میں نہ آتی تو اسلامی فکر اور علم الکلام کی چار پانچ صدیاں گنگ اور خاموش رہ جاتیں، اسی طرح اگر اقبال کی شاعری وجود میں نہ آتی تو اسلامی فکر کی کم از کم چار پانچ سو سال کی تاریخ خاموشی اور فراموش گاری کی نذر ہوجاتی۔ یہاں راقم بلاشائبۂ انکسار یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کے ماہ و سال کا ایک معتدبہ حصہ اقبال کے فکر و فن کو سمجھنے اور اس کی تشریح کرنے میں صرف ہوا ہے، ایک معلم کی حیثیت سے بھی اقبال میرے شعور کا تکمیلی عنصر رہا ہے۔ اگرچہ سارا معاملہ توفیق اور صلاحیت کا بھی ہے۔ اقبالیات کے موضوع پر اب تک میری درجِ ذیل کتابیں شائع ہوچکی ہیں:
1۔ اقبال عہد آفریں
2۔ شعر و فکرِ اقبال
3۔ فیضانِ اقبال (منظوم اقبالیات)
4۔ اقبال… عہد ساز شاعر اور مفکر
زیر نظر کتاب میں مضامین و مقالات کے علاوہ چند استدراکات بھی شامل ہیں جن کی حیثیت کسی طرح بھی مضامین و مقالات سے کم نہیں۔ میری ان کاوشوں کی کیا قدروقیمت ہے، یہ بات تو اقبال شناس ناقدین اور اقبالیات کے باشعور طلبہ و طالبات ہی بتاسکیں گے‘‘۔
کتاب تفہیم اقبال کے سلسلے میں ممد و معاون ہے۔
کتاب مجلد ہے اور رنگین سرورق سے آراستہ ہے۔
کتاب : علامہ محمد اقبال۔محسن ِزبان و ادب اردو
مصنف پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
(rdhashmi@yahoo.com)
صفحات : 148، قیمت 360 روپے
ناشر افتخار عارف، ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغِ قومی زبان۔ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ (حکومت ِپاکستان)ایوانِ اردو۔ پطرس بخاری روڈ۔ ایچ 4/8 اسلام آباد
فون نمبر : 051-9269760-61-62
فیکس : 051-9269759
ای میل : nlapak@apollo.net.pk
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی مشہور و معروف ماہرِ اقبالیات ہیں۔ ان کے قلم سے بیسیوں کتابیں اقبالیات پر نکلی ہیں، زیر نظر کتاب ان کی تازہ ترین تصنیف ہے جس میں انہوں نے علامہ اقبال کی حیات و خدمات پر عمدگی سے روشنی ڈالی ہے۔ افتخار عارف لکھتے ہیں:
’’حکیم الامت، شاعرِ مشرق، خالق تصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال جہانِ دانش و بینش کی فہرست میں اعلیٰ ترین نمایاں شخصیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ علامہ اقبال ممتاز فلسفی، عظیم شاعر، صاحبِ بصیرت مدبر و مصلح، اعلیٰ پائے کے نثر نگار، عالم متبحر، جدید و قدیم فلسفے پر دسترس رکھنے والے مفکر اور بیسویں صدی میں اسلامی نظامِ فکر کے اہم ترین ترجمان تھے۔ علامہ محمد اقبال کے افکار و نظریات پر مختلف زبانوں میں بہت لکھا گیا ہے۔
مطالعاتِ اقبال کے حوالے سے یاد آتے چلے جارہے ہیں خلیفہ عبدالحکیم، غلام بھیک نیرنگ، غلام رسول مہر، حمید احمد خاں، سید سلیمان ندوی، عبدالماجد دریابادی، سید عبداللہ، نذیر نیازی، سید ابوالحسن علی ندوی، رشید احمد صدیقی، جاوید اقبال، یوسف حسین خان، گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، جگن ناتھ آزاد، مظفر حسین برنی، بشیر ڈار، وحید قریشی، فتح محمد ملک، تحسین فراقی، ڈاکٹر ایوب صابر، سہیل عمر، اور برصغیر پاک و ہند سے باہر این میری شمل، عبدالوہاب عزام، نتالیہ پریگرینا، سید علی خامنہ ای، علی شریعتی، مرتضیٰ مطہری، بقائی ماکان، محمد حسین ساکت، حداد عادل اور بہت سے دوسرے صاحبانِ علم۔
ادارہ فروغِ قومی زبان نے اردو کے مشاہیر کے سلسلے میں کتابیں شائع کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا ہے۔ پیش نظر کتاب ’’علامہ محمد اقبال، محسن زبانِ اردو‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ عہدِ حاضر میں پروفیسر رفیع الدین ہاشمی کی ذاتِ گرامی محتاجِ تعریف نہیں ہے۔ ان کی ساری زندگی اقبال کی شخصیت اور نظریات کی تعبیر و تشریح اور ترویج و تبلیغ میں گزری ہے۔ فی زمانہ کم لوگ اقبالیات کے تمام گوشوں پر وہ دسترس رکھتے ہیں جو پروفیسر ہاشمی کو حاصل ہے۔
پیش نظر کتاب اقبال کے اس رخ کی تفہیم میں بہت معاون ثابت ہوگی۔ مولوی عبدالحق نے اقبال کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بہت درست فرمایا تھا: ’’جب تک اردو زبان زندہ ہے اقبال کا کلام زندہ رہے گا اور پڑھنے والوں کے دلوں میں ولولہ، فکر میں بلندی، جذبات میں درد اور تخیل میں پرواز کرتا رہے گا‘‘۔ ہماری یہ کاوش آپ کو پسند آئے گی، مجھے اس کا یقین ہے‘‘۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی تحریر فرماتے ہیں:
’’علامہ اقبال کی وفات پر پون صدی بیت چلی ہے۔ اس عرصے میں ان پر بہت کچھ لکھا گیا۔ تقریباً 35 زبانوں میں ان کی نظم و نثر کے ترجمے شائع ہوئے۔ مجموعاً اقبالیات پر چھوٹی بڑی دو ہزار کتابیں چھپی ہوں گی، جن میں ان کے احوال و آثار اور سوانح و شخصیت پر بھی بیسیوں کتابیں شامل ہیں۔ یہ سب اپنے اپنے دور میں، کبھی تو افراد کی فرمائشوں اور بعض اوقات اداروں کی ضرورت کے تحت لکھی، لکھوائی اور شائع کی جاتی رہیں۔ اب ’’مشاہیر اُردو‘‘ کے سلسلے میں ادارہ فروغ قومی زبان نے بھی علامہ اقبال پر ایک نئی کتاب کی ضرورت محسوس کی اور یہ خدمت راقم کے سپرد ہوئی۔
اقبال پر لکھنا، اور محبی افتخار عارف صاحب کی فرمائش پر لکھنا، میرے لیے سعادت کا باعث ہے۔ سو، راقم نے اس سلسلے میں جو کاوش کی، وہ ’’علامہ محمد اقبال: ’’محسن زبان و ادبِ اردو‘‘ کے نام سے پیش خدمت ہے۔ اس میں علامہ کے سوانح کے ساتھ، ان کی شخصیت کا جامع تعارف اور ان کی شعری و نثری تصانیف کے کوائف بھی شامل ہیں۔ مزید برآں اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں علامہ نے، مختلف حوالوں سے جو کردار ادا کیا، اس پر بھی اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔
علامہ اقبال جیسے شاعر اور مفکر کی شخصیت اور کارنامے کو ایک مختصر کتاب میں سمیٹنا آسان نہیں۔ کوشش کی گئی ہے کہ کوئی اہم بات نظرانداز نہ ہوجائے، پھر بھی قارئین جہاں کوئی کمی یا غلطی محسوس کریں، مطلع فرمائیں۔‘‘
کتاب تین حصوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ حصہ اول ’’احوالِ اقبال’’ کے نام سے ہے جس میں سوانح اور شخصیت زیر مطالعہ ہیں۔ دوسرے حصے میں آثارِ اقبال، تصانیف اور تالیفات پر بحث ہے۔ تیسرے حصے میں خدمات بسلسلہ اردو زبان معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اختتامیہ ’’علامہ اقبال اردو زبان و ادب کی آبرو‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی تحریر فرماتے ہیں:
’’اردو کے بڑے اور اہم شاعروں میں بالعموم میر تقی میر، مرزا غالب اور علامہ اقبال کے نام لیے جاتے ہیں، لیکن ہمارے بیش تر نقادوں، دانش وروں اور علمائے شعر و ادب کا خیال ہے کہ ترجیحی ترتیب میں علامہ اقبال کا نام سب سے پہلے آئے گا۔
فیض احمد فیض کا شمار بیسویں صدی کے نمایاں ترین اردو شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کے اور علامہ اقبال کے افکار و نظریات میں بعدالمشرقین ہے مگر فیضؔ اقبال کے بڑے مداحوں میں سے تھے۔ فیضؔ کے بعض عقیدت مند، انہیں اردو کا سب سے بڑا شاعر قرار دیتے ہیں، مگرخود فیضؔ اقبال کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’ہم ان کی خاکِ پا بھی نہیں‘‘ (اقبال: فیض احمد فیض (مرتبہ شیما مجید۔ ص 82)۔ فیض سمجھتے تھے کہ ہمارے ہاں آج تک اقبال سے بڑا شاعر کوئی نہیں پیدا ہوا (ایضاً ص 37)۔ ایک بار کسی انٹرویو نگار نے ان سے کہا: ’’فیض صاحب! آپ بیسویں صدی کے سب سے بڑے شاعر ہیں تو یہ بتائیے کہ…‘‘ فیض صاحب نے انٹرویو نگار کو وہیں ٹوک دیا اور کہا: ’’ہم نہیں اقبال بڑے شاعر ہیں۔‘‘
فیض صاحب نے اپنے متعدد مضامین میں اقبال کو کھلے دل سے خراج تحسین پیش کیا ہے، مثلاً کہا: اقبال نے ’’اردو شاعری کو ایک ایسا انداز عطا کیا جس سے اردو پہلے بالکل ناآشنا تھی‘‘ (ایضاً ص 83)
علی سردار جعفری معروف ترقی پسند شاعر اور نقاد تھے، اشتراکی نظریے کے بارے میں ان کے خیالات ڈھکے چھپے نہیں ہیں، وہ لکھتے ہیں: ’’ابھی تک اردو زبان نے اقبال سے بڑا شاعر پیدا نہیں کیا، وہ ہمہ گیری اور وسعت ابھی اور کسی شاعر کو نصیب نہیں ہوئی جو اقبال کی شاعری میں پائی جاتی ہے‘‘ (ترقی پسند ادب۔ ص 102)۔ ’’بلاشبہ یہ اقبال کی خوش نصیبی ہے کہ اس کی شاعری کو ایسی وسعت اور ہمہ گیری ملی، مگر دوسری طرف یہ اردو زبان کی بھی خوش بختی ہے کہ وہ اقبال جیسے نابغۂ عصر اور بڑے شاعر کے فکر و تصورات کا ذریعۂ اظہار بنی‘‘۔
’’…حقیقت تو یہ ہے کہ اقبال نے اردو شاعری میں نئے امکانات دریافت کرکے اور شاعری کو نئی وسعتوں سے آشنا کرکے اردو زبان و ادب پر بے پایاں احسان کیا ہے۔ بعض نقادوں نے غزل کو اردو کی آبرو قرار دیا تھا۔ ہمارے خیال میں صحیح تو یہ ہے کہ غزل نہیں علامہ اقبال اردو زبان کی آبرو ہیں، بلکہ پورے اردو شعر و ادب کی آبرو۔ کسی تامل کے بغیر ہم علامہ اقبال کو دنیا کے بڑے سے بڑے شاعر کے بالمقابل پیش کرسکتے ہیں۔‘‘
کتاب سفید کاغذ پر طبع کی گئی ہے۔ مجلّد ہے۔ قیمت کم رکھنی چاہیے۔

Share this: