وفاقی انجمن صحافیان (دستور) کی مجلس عاملہ کا اجلاس

صوبائی دار الحکومت لاہور میں رواں ہفتے کی سب سے اہم سرگرمی وفاقی انجمن (پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس دستور) کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کا تین روزہ اجلاس تھا ۔ جمعہ 13اپریل سے اتوار 15اپریل تک جاری رہنے والا یہ اجلاس میں جس میں ملک بھر میں عامل صحافیوں کو درپیش مسائل پر غور و فکر اور ان کے حل کے لیے تدابیر پر غور کرناتھا وہیں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے باعث یہ اجلاس شہر کی ایک بڑی سیاسی سرگرمی بن گئی تھی۔ ضابطے کے مطابق فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کا ہر تین ماہ بعد اجلاس ہونا ہوتا ہے جس میں ملک بھر کے نمائندے صحافیوں کے حقوق کے لیے اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں آئندہ کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور صحافیوں اور میڈیا انڈسسٹری کو درپیش مسائل کے لیے غور فکر بھی کرتے ہیں۔ یہ اجلاس ہر بار کسی مختلف شہر میں منعقد کیے جاتے ہیں ملک بھر کے صحافی اس شہر میں صحافتی معاملات کا بھی جائزہ لے سکیں۔ گزشتہ سال پی ایف یو جے کے مندوبین کے اجلاس میں وفاقی انجمن صحافیان کے انتخابات کے انعقاد اورنئی صحافتی قیادت کے منتخب ہونے کے بعد ایف ای سی کا پہلا اجلاس نومبر2017 میں ملتان میں منعقد ہواتھا۔ جس کے بعد اگلا اجلاس لاہور میں ہنا طے پایا تھا ۔ بعض مشکلات اور مصروفیات کے باعث یہ اجلاس زرا تاخیر سے منعقد ہواسکا ۔ جو اپنی تین روزہ تھکادینے والی مشق کے بعد اتوار کے روز ختم ہوگیا۔ اس اجلاس کی میزبانی پنجاب یونین آف جرنلٹس (دستور) نے بھر پور تیاریاں کررکھی تھیں اور کوشش کی گئی تھی کہ ایک تو مہمان صحافیوں کو کوئی تکلیف نہ ہو ، دوسرے ان کی یہاں موجود گی کے دوران ایک ایک لمحے کا بھر پور استعمال کیاجائے۔ پنجاب یونین آف جرنلٹس ( پی یو جے) نے اپنے صدر رحمن بھٹہ اور سیکرٹری جنرل احسان اللہ بھٹی کی قیادت میں اس سلسلے میں متعدد کمیٹیاں تشکیل دی تھیں جو دن رات انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے میں مصروف تھیں۔ ان تمام انتظامات اور کمیٹیوں کی سرپرستی پی ایف یو جے کے سابق صدر اور سینئر و نامور صحافی جناب فرخ سعید خوام اور جناب سعید آسی کررہے تھے ۔ٹرانسپورٹ کمیٹی کے سربراہ پی یو جے کے سینئر نائب صدر شہزادہ خالد تھے ۔ جن کے ذمے ٹرانسپورٹ کی فراہمی اور صحافیوں کوریلوے اسٹیشن ، ایئر پورٹ اور لاری اڈے سے ہوٹل تک پہنچانے کے علاوہ ظہرانوں اور عشائیوں میں بروقت پہنچانا اور واپس لاناشامل تھا۔ یہ کام انہوں نے بہت خوش اصولوبی سے انجام دیا ، ہوٹل میں کمروں کی الاٹمنٹ اور مہمانوں کو دیگر سہولیات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ پی یو جے کے فنانس سیکرٹری عالم امین تھے۔ جبکہ ہر ؟؟؟ کی نگرانی خواجہ فرخ اور رحمان بھٹ خود کررہے تھے ۔ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جمعرات 12اپریل ہی سے شروع ہر چکا تھا ۔ سب سے پہلے حیدر آباد یونین آف جرنلٹس کے صدر عبدالحفیظ ؟؟؟ لاہور پہنچے جس کے بعد جمعہ کی شب صبح 11بجے کراچی سے پی ایف یو جے کے صدر افسر عمران کی قیاد ت میں مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ؟؟؟ احمد ، طارق ابوالحسن ،؟؟ الرحمن ، جبکہ حیدر آباد سے بزرگ صحافی ؟؟؟ اجمیری اور تجمل حسین بذریعہ ٹرین لاہور آئے نماز جمعہ سے قبل ہی ملتان ، سرگودھا ، رحیم یار خان، ایبٹ آباد، آزاد کشمیر ، راولپنڈی ، ڈیرہ غازی خان راولپنڈی کے صحافی اسی ہوٹل پہنچ گئے تھے ۔ نماز جمعہ کے بعد افتتاحی اجلاس اور ظہرانہ لاہور پریس کلب میں رکھاگیاتھا۔ تمام صحافیوں کو برقت ہوٹل سے پریس کلب پہنچادیاگیا جہاں کچھ دیر بعد پی ایف یو جے کے اعزازی صدر حاجی نواز رضا ، سابق صدر ؟؟ ساحر ، میاں منیر اور شائر خان بھی پہنچ گئے ۔ افتتاحی اجلاس میں مہمانوں کا ایک دوسرے سے تعارف ہوا جبکہ میزبانوں نے تین روزہ پروگرام کی تفصیل اور انتظامات سے شرکا کو آگاہ کیا۔ یہاں صدر پی ایف یو جے کے مختصر خطاب کیا ۔ ظہرانے کے بعد شرکا ہوٹل چلے گئے ۔ اس دوران پی ایف یو جے کے مرکزی سیکرٹری جنرل جناب سیف افضل خان اور کراچی پریس کلب کے سیکرٹری جنرل مقصود یوسفی بھی پہنچ گئے تھے ۔ مختصر آرام کے بعد شرکا کووفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق کی جانب سے دیے جانے والئے عشائیہ میں لے جایاگیا ۔ جہا ںجاکر معلوم ہوا کہ خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ ن کی کسی ایمر جنسی میٹنگ کی وجہ سے اسلام آباد جا چکے ہیں تاہم ان کی نمائندگی لاہور کے ڈپٹی میئر نوجوان مسلم لیگی رہنما اعجاز احمد حفیظ نے کی۔ انہوں اپنے خطاب میں مسلم لیگ ن کو درپیش مشکلات اور اسٹیبلشمنٹ کی کھینچا تانی پر مختصراً روشنی ڈالی ، جبکہ خواجہ فرخ سعید ، سہیل افضل خان اور حاجی نواز رضا نے میزبانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ اس پرتکلف عشایئے کے بعد شرکا ہوٹل پہنچے جہاں ایف ای سی کا پہلا باضابطہ اجلاس حاجی نواز رضا کی صدارت میں شروع ہوا ۔ ایجنڈے کے پہلے نکتے کے مطابق شریک اجلاس ، علاقائی یونینوں کے عہدیداران نے اپنی اپنی رپورٹیں ، کارکردگی شرکا کے سامنے رکھی۔ اس موقع پر حیدر آباد، آزاد کشمیر ، کراچی، سرگودھا، ملتان، فیصل آباد اور دیگر شہر وں کی کارکردگی رپورٹ پر شرکا نے سوالات کیے اور متعدد تجاویز دیں۔ اس دوران ملتان پریس کلب کے سابق صدر اور روزنامہ نوائے وقت کے رہزیڈنٹ ایڈیٹر جناب راؤ شمیم اور فیصل آباد پریس کلب کے سابق صدر سجاد حیدر منا بھی اپنے ساتھیوں سمیت ہوٹل پہنچ کر اجلاس میں شریک ہوئے اجلاس تقریباً ایک بجے تک جاری رہا۔ ہفتہ کی صبح پی یو جے کے فنانس سیکرٹری عالم امین کی جانب سے گرما گرم حلوہ پوری اور رانی چنوں کا ناشتہ تھا ۔ جس کے بعد ایک بار پھر ایف ای سی کا اجلاس شروع ہوا جس میں باقی یونینز نے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کی اس موقع پر راقم کی سربراہی میں قرارداد کمیٹی بھی بنائی گئی جس میں جناب افسر عمران، جناب میاں منیر شامل تھے۔ اس اجلاس میں صحافیوں کو درپیش مسائل ، آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کی تشکیل اور اس میں دستور گروپ کی نمائندگی ، جبری برطرفیوں اور صھافتی ادارہ سب کئی کئی ماہ تک کی تنخواہیں ادا نہ کرنے جیسے اور امور پر غور کیاگیا اور ان تمام مسائل کو نمایاں کرنے کے لیے 26اپریل کو ملک بھر میں مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیاگیا ۔ دوپہر کا کھانا تحریک انصاف کے سیکرٹریٹ میں جناب عبدالحلیم خان کی جانب سے تھا۔ وہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کی وجہ سے اسلام آباد میں تھے ان کی نمائندگی تحریک انصاف پنجاب کے میڈیا سیکرٹری ڈاکٹر شاہد صدیق اور جمشید امام نے کی ۔ انہوں نے شرکا کو خوش آمدید کہا اور آنے والے دنوں میں صحافیوں کی کی ذمے داریاں یاد دلائیں۔ پر تکلف اور ظہرانے کے بعد شرکاکو لاہور میں حال ہی میں دبئی کے ؟؟؟ میں تعمیر ہونے والے پیکجز شاپنگ مال لے جایاگیا جہاں شکرکا نے اپنی پسند کی خریداری کی اور شام پانچ بجے ہوٹل آکر آرام کیا۔ رات کا کھانا وفاقی وزیر مملکت ملک پرویز کی جانب سے تا جہاں ملک پرویز کے علاوہ لاہور کے لارڈ میئر کرنل (ر) مبشراقبال نے شرکا کواستقبال کیا، ملک کی سیاسی صورتحال اور عدالتی فعالیت پر دبے لفظوں میں اظہار خیال کیا۔ اتوار کا اجلاس، اجلاس کا آخری دن تھا، صبح ناشتہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے تھا ، وزیر اعلیٰ کا شیڈول بہت ٹائت تھا انہیں کراچی بھی جاناتھا اور اسی دن چودہری نثار سے کسی ملاقات اور میاں نواش ریف سے اندیشہ ہائے دور دراز پر بات کرنا تھی۔ تاہم انہوں کمال شفقت سے وقت نکالا تمام شرکا صبح 8:30 بجے تیار ہوکر روانہ ہوئے اور ساڑھے نو بجے وزیر اعلیٰ کیمپ آفس ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے جہاں چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم پر اب سڑک پر قائم تمام رکاوٹیں اور سیکورٹی بیر یر ز ہٹادیے گئے ہیں۔ یہاں پہلے انتہائی پر تکلف ناشتہ ہوا جس کے بعد وزیر اعلیٰ ہال پہنچ گئے۔ انہیں شدید نزلہ تھا ، اس کے باجود تقریب سوا گھنٹہ شرکا کے ساتھ موجود رہے۔ انہوں نے پنجاب کی کارکردگی شرکا صحافیوں کے سامنے رکھی اور یہ بھی بتایا کہ جنوبی پنجاب کی آبادی 38فیصد اور 22 لیکن حکومت پنجاب وہاں 43فیصد بجٹ ترقیاتی امور پر لگارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرداری دور میں کراچی کے پاور پلانٹس بند کرکے واپڈا سے سستی بجلی لی جاتی ہے۔ یہ کام اب تک جاری ہے ، کراچی میں بجلی فرنس آئل کی وجہ سے مہنگی پڑتی ہے لیکن ان پلانت کو چلانے کے بجائے ہر وز70 میگاواٹ بجلی واپڈا سے لی جارہی ہے۔ ہم نے برداشت کیا اب پنجاب نے چار پلانٹ لگائے ہیں خرچ ہمارا ہے مگر یہ بجلی پورے ملک کو فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں نیب نے جن سرکاری افسران کو کرپشن کے الزامات میںپکڑا ہے وہ نیب کی کارکردگی نہیں ہے۔ ہم نے ان کی نشان دہی کی تھی۔ انہوں نے صحافیوں کے مسائل پر ہمدردانہ غور کا وعدہ کیا اور لاہور پریس کلب ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹوں کو قبضہ مافیا سے واگزارکرانے کا وعدہ کیا۔ اس سوال پر کہ آپ نواز شریف اور کلثوم نواز اپنا علاج باہر کیوں کراتے ہیں جبکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ صحت کے میدان میں آپ نے مثالی کارکردگی دکھائی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ ملک سے باہر تھے جب انہیں کینسر کا عارضہ لاحق ہوا۔ اس کینسر کا آپریشن امریکا میں کرایا بعد میں امریکی ڈاکٹروں کے مشورے سے انگلستان کے ڈاکٹروں کو دکھاتارہا۔ ان ڈاکٹروں کو میری بیماری کی بھر پور تفصیلات ہیں اس لیے مجھے مجبوراً وہاں سے علاج کرانا پڑتا ہے۔ تاہم انہوں نے بیگم کلثوم اور نواز شریف کے بیرو ن ملک علاج کی کوئی وجہ نہیں بتائی ۔ انہوں نے بھی بروقت انتخابات پر زوردیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے مخالفین نے سیاست میں الزام اور گالی کلچر کو آگے پڑھایا ہے جو افسوس ناک ہے ۔ یہاں سے شرکا کو منصورہ لے جایا گیا جہاں جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے ظہرانہ تھا چونکی ابھی کھانے میں کچھ وقت باقی تھا اور ایف ای سی کی کچھ کارروائی باقی تھی ۔ اس لیے منصورہ کمیٹی روم میں ایف ای سی کا اجلاس کیاگیا۔ یہ ایف ای سی کا آخری سیشن تھا۔ جس میں شرکا کی طرف سے تیار کی گئی مختلف قراردادیں پیش ہوئیں۔ جناب میاں منیر احمد نے ایک روز قبل ہی ان قراردادوں کی چھان پھٹک کرلی تھی۔ چنانچہ تمام قراردادیں معمولی ردوبدل کے ساتھ منظور کرلی گئیں جن میں صحافیوں کی برفیوں ، تنخواہوں کی ادائیگی میں کئی کئی ماہ کی تاخیر ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، شام ، فلسطین اور برما کے مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کے علاوہ آٹھویں ویج بورڈ ایوارڈ کی تشکیل ، صحافیوں کے باقی امور کا تحفظ، پریس کلبوں کی گرانٹس میں اضافے اور دیگر صحافیوں کو درپیش دیگر مسائل کے حل کا مطالبہ کیاگیا۔ جامعہ منصورہ میں نماز طہر کی ادائیگی کے فوری بعد دارالضیافہ میں ظہرانے کا اہتمام تھا جہاں جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ؟؟؟ شریف ۔ ان کے ساتھیوں راج اکرم فرحان شوکت ؟؟ اور دیگر نے بھر پور انتظامات کررکھے تھے ۔ جماعت اسلامی کے ترجمان پنجاب امیر العظیم نے بھی مختصر خطاب میں ملک کی حالات پر روشنی ڈالی انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ الکیشنز کے حوالے سے لکھیں، اصولی سیاست کرنے والے باکردار لوگوں پرموٹ کریں اس میں پوری قوم کا فائدہ ہے، ورنہ تو لوٹ مار اسی طرح جاری رہے گی۔ جناب اظہر اقبال نے متخصر خطاب میں کہا کہ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی جانب سے تمام شرکا کو کتابوں کے سیٹ پیش کیے ۔ جس میں ساتویں ایف سی سٹی تین روزہ اجلاس دعا کے کے بعد ختم ہوگیا ۔ کچھ شرکا وہیں سے اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے جبکہ باقی ہوٹل سے اپنا سامان لے کر اپنے شہروں کو سدھارگئے۔

Share this: