افغانستان: 90 دنوں میں 23 لاکھ پونڈ بار ود کی بمباری

وائس آف امریکہ (VOA)کے مطابق 2018ء کے پہلے تین ماہ کے دوران اتحادی طیاروں نے افغانستان میں 1186 بم گرائے۔ افغانستان میں گزشتہ 15 برسوں کے دوران 90 دنوں میں کبھی اتنے بم نہیں گرائے گئے۔ بمباری میں یہ شدت صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی کا حصہ ہے جس کا اعلان انھوں نے 21 اگست2017ء کو کیا تھا۔ اگر ایک بم سے اوسطاً 2000 پونڈ بارود پھینکا گیا ہو تو گویا 90 دنوں کے دوران 23 لاکھ پونڈ بارود نہتے افغانوں پر برسایا گیا۔ واضح رہے کہ یہ اعدادوشمار امریکہ اور نیٹو کے ہیں اور اس میں افغان فضائیہ کی کارروائیاں شامل نہیں۔قوتِ قاہرہ کے بے دریغ استعمال اور آتش و آہن کی اس ہلاکت خیز بارش کے باوجود اتحادی فوج طالبان سے ایک انچ زمین بھی نہ چھین سکی، اور نیٹو نے اعتراف کیا ہے کہ صرف 56 فیصد اضلاع کابل انتظامیہ کے کنٹرول میں ہیں۔ جبکہ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ نصف سے زیادہ افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہے۔
شدید بمباری کے باوجود گزشتہ چند دنوں کے دوران زمینی جنگ کی صورتِ حال کچھ اس طرح ہے:
٭ صوبہ ہرات میں طالبان نے ایک چوکی پر حملہ کرکے 10 فوجیوں کو ہلاک کردیا۔
٭ صوبہ فرح پر قبضہ ختم کرنے کے لیے آنے والے سرکاری سپاہیوں پر جوابی حملے میں درجنوں فوجی ہلاک ہوگئے۔
٭ اتوار کی رات صوبہ بادغیس کے شہر قلعہ نو میں کابل انتظامیہ کے 16 سپاہی مارے گئے اور درجنوں شدید زخمی ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے طاقت کے بے پناہ استعمال کی حکمت عملی پر افغان امور کے ماہر اور امریکی بحریہ کے پوسٹ گریجویٹ اسکول کے پروفیسر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر ٹامس جانسن نے مختصر لیکن جامع و دوٹوک تبصرہ کیا ہے۔ جانسن صاحب نے افغانستان کی عسکری صورت حال کا عمیق جائزہ لیا ہے اور وہاں تعینات امریکی کمانڈروں کے ساتھ خاصا وقت گزارا ہے۔ مسٹر ٹامس جانسن نے Taliban Narratives-The use of power and stories in the Afghan conflict کے عنوان سے اپنے تجزیے کو کتابی شکل دی ہے۔ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں:
’’بنیادی طور پر (بمباری) مایوسی کا عمل ہے۔ تاریخ میں کہیں بھی کسی مزاحمت کو فضائی طاقت سے نہیں کچلا جاسکا ہے۔‘‘
……………..٭٭٭……………..
ننگا دہشت گرد
امریکہ میں اندھادھند فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ آج امریکی ریاست Tennesseeکے ریاستی دارالحکومت نیشول (Nashville) میں واقع ریستوران ہدف بنا اور ایک نیم برہنہ شخص نے فائرنگ کرکے 4 افراد کو ہلاک اور 4 کو زخمی کردیا۔ نیشول ساری دنیا میں دیہی یا کنٹری موسیقی (country music) کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک 29 سالہ سفید فام شخص ٹریوس رنکنگ صبح تین بجے وافل ہائوس (Waffle House)کے پارکنگ لاٹ میں اپنی گاڑی سے اترا۔ وہ صرف سبز رنگ کاکوٹ پہنے ہوئے تھا اور نیچے سے ننگا تھا۔ اس نے اپنی گاڑی سے نکلتے ہی نیم خودکار رائفل سے فائرنگ شروع کردی جس سے دوافراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد ملزم ریستوران کے اندر داخل ہوا اور فائرنگ کرکے وہاں ناشتے میں مصروف مزید دوافراد کو مارڈالا، جبکہ کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اسی دوران ریستوران میں موجود ایک 29 سالہ نوجوان جیمز شا نے ہمت کرکے حملہ آور سے بندوق چھین لی اور اسے کائونٹر کے پیچھے پھینک دیا۔ اس کشمکش میں ملزم کا کوٹ بھی اتر گیا جسے وہ وہیں پھینک کر ریستوران سے ننگا باہر نکلا اور گاڑی میں سوار ہونے کے بجائے پیدل ہی رفوچکر ہوگیا۔ پولیس کا خیال ہے کہ ٹریوس ریستوران سے بھاگ کر اپنے گھر گیا جو قریب ہی تھا، اور وہاں سے کپڑے پہن کر فرار ہوگیا۔ اس حملے میں بھی نیم خودکار AR-15 رائفل استعمال ہوئی جو کچھ عرصہ قبل فلوریڈا کے اسکول میں 17 افراد کی موت کا سبب بنی تھی۔ خیال ہے کہ ٹینیسی میں بھی لائسنس یافتہ اسلحہ استعمال ہوا۔وافل کیا ہے؟ وافل توے پر پکایا گیا خستہ کیک ہے جس میں چوکور شکل کی جالی دار درزیں ہوتی ہیں۔ وافل کو شیرہ لگا کر کھایا جاتا ہے۔ امریکی ناشتے میں وافل بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ میدے سے بنا ایسا ہی خستہ کیک Pancake کہلاتا ہے جس میں چوکور درزیں نہیں ہوتیں۔ Waffle Houseایک مشہور ریستوران ہے جس کی شاخیں سارے امریکہ اور یورپ کے کچھ شہروں میں ہیں۔
……………..٭٭٭…………….
یمن: شادی کی تقریب پر بمباری
یمن ایک بار پھر بچوں کے لہو میں نہا گیا۔ بارود، بھوک اور بیماری یمن کی پہچان ہے لیکن جنونِ کشور کشائی میں مبتلا سورما زندہ انسانوں کے قبرستان پر تیر اندازی میں مصروف ہیں۔
اتوار کو اس بدنصیب ملک کے شمال مغربی صوبے حجہ کے بنی قیس ضلع میں شادی کی ایک تقریب پر بم برسا دیے گئے۔ حجہ کے مغرب میں بحراحمر ہے تو شمال میں اس کی سرحدیں سعودی عرب کے شہر جیزان سے ملی ہوئی ہیں۔ شادی کی اس تقریب میں دولہا کے گھر کے باہر شامیانے میں خواتین اور بچیاں دف بجانے اور گیت گانے میں مصروف تھیں کہ خلیجی طیاروں نے اسے ’دہشت گردوں‘ کا اجتماع سمجھ کر بمباری کردی، جس سے 20 عورتیں اور شیرخوار بچے جل کر خاک ہوگئے، جبکہ 30 بچوں سمیت 46 افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ خلیجی پائلٹوں کے لیے اب یمن میں کوئی ہدف بچا ہی نہیں کہ سارا ملک ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور ہر جگہ جنازے اور ماتم کی مجلسیں سجی ہیں۔ اس پس منظر میں عارضی خوشی کی یہ محفل ہوابازوں کو بمباری کے لیے فطری ہدف محسوس ہوئی ہوگی۔
……………..٭٭٭…………….
پہلے بھارت سے فوجی اب ذہنی شکست
قائداعظم اپنے نوزائیدہ پاکستان کو اپنے پیچھے تڑپتا چھوڑ کر چلے گئے اور اپنے پیچھے اُن کھوٹے لیڈروں کو چھوڑ گئے جو قائداعظم کے پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے تھے، چنانچہ ان سے قراردادِ مقاصد زبردستی منظور کرانی پڑی تو دوسری طرف پاکستان کی معاشی آزادی کے لیے کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں تھی، غیر مسلموں کی جگہ منافع خور مسلمان تاجر مسلط ہوگئے اور اس ملک کے زمیندار جوں کے توں برقرار رہے۔
ایک کمیونسٹ شاعر نے کمیونزم سے محروم پاکستان کو شب گزیدہ سحر کہا، لیکن مسلمان بھی اسے شب گزیدہ سحر کہہ سکتے تھے کہ انھیں جس پاکستان کی جھلک دکھائی گئی تھی قیامِ پاکستان کے بعد اس کا سراغ نہ مل سکا۔ اس نئے نظریاتی ملک کو استحکام تو کیا نصیب ہوتا کہ اس کے حکمران اسلام کو سیاست سے الگ رکھنا چاہتے تھے اور اسلام کو صرف مسجد تک محدود کردینا چاہتے تھے، یہ لوگ تو اس کی جغرافیائی سرحدوں کو بھی برقرار نہ رکھ سکے اور ایسی رسوائی کرائی کہ برصغیر میں آباد مسلمانوں کی تاریخ ہی بدل گئی، ان کی نفسیات میں شکست بھر دی۔
ہندوستان میں یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کو ایسی شکست ہوئی کہ اس کے سامنے ان کی ماضی کی پیہم فتوحات بھی شرمندہ ہوگئیں، تب سے اب تک ہم بھارت کے ہندوؤں سے شکست خوردہ کیفیت میں چلے آرہے ہیں، اور اب تو ہماری بزدلی اور شکست خوردگی کا یہ عالم ہے کہ بھارتیوں کی خوشنودی کو ہم اپنی سیاست کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ وہ جو ہندو بنیے کے استحصال سے نجات کی بات کی گئی تھی، اس وعدے پر خطِ تنسیخ کھینچ کر ہم بھارت کے ساتھ آزادانہ تجارت کے لیے مرے جارہے ہیں، اور اس کے لیے ہم اپنے ملک کی ہر طرح کی سبکی کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت ہماری ضرورت ہے، ہمیں وہاں سے سستے داموں سبزیاں اور پھل مل جاتے ہیں۔ یہ بات اگر درست بھی مان لی جائے تو حکمرانوں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ ہمارے اپنے کسانوں کا کیا قصور ہے؟ اور وہ کیوں سستے داموں سبزیاں اور پھل فراہم کرنے سے قاصر ہیں؟ چونکہ بھارتی پنجاب کے کسانوں کو مفت بجلی اور سستے داموں زرعی پیداوار کی اشیاء جن میں ٹریکٹر، ڈیزل اور کھادیں شامل ہیں، وہاں کی حکومت فراہم کررہی ہے، جب کہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے اور کسانوں کو قرضہ جات کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے، اور اگر فصل اچھی نہ ہو تو یہ قرض مزید بڑھ جاتا ہے جو بعد میں ناقابلِ ادائیگی بھی ہوجاتا ہے اور بالآخر کسان اپنی زمین بیچ کر یہ قرض ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بات وہی ہے کہ ہم بھارت سے پہلے فوجی اور اب ذہنی شکست کھا چکے ہیں، اور یہ اس کی ایک مثال ہے، ایسی کئی مثالیں اب آتی رہیں گی، قومی غیرت کے زوال کا سلسلہ جاری ہے۔
(عبدالقادر حسن، ایکسپریس، 24اپریل 2018ء)
……………..٭٭٭…………….
نگراں حکومت کیا کرے
نگران سیٹ اَپ جاری احتساب عمل کا معاون ثابت ہونا چاہیے۔ مثالی صورتِ حال تو یہ ہونی چاہیے کہ نگران وزیراعظم ایسا شخص ہو جس کے نام سے کرپٹ نوکر شاہی میں خوف کی لہر اُٹھے۔ پہلا کام ایسے وزیراعظم کا یہ ہو کہ فواد حسن فواد کو اُن کے عہدے سے ہٹایا جائے اور نیب کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کیا جائے۔ بے ضرر لوگوں کو لگائیں گے تو ظاہر ہے کہ ایسے عملی اقدامات نہ ہوسکیں گے۔ نگران سیٹ اَپ ایسا ہونا چاہیے کہ ایسی فضا پیدا ہو جس سے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی طرف سے احتسابی عمل کے حوالے سے حیلے بہانے یکسر ختم ہوجائیں۔
یہ تبھی ہوسکتا ہے جب مضبوط لوگ سامنے آئیں۔ پی ٹی آئی کے تجویز کردہ نام تو پھسپھسے سے ہیں۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک جناب عشرت حسین تو باقاعدہ لابنگ کرتے رہے ہیں کہ اُن کا نام بطور نگران وزیراعظم آئے۔ اس عمل کی وجہ سے اُن کا نام مسترد ہونا چاہیے۔ ہاں ماہرِ اقتصادیات کے طور پر اُن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر نگران سیٹ اَپ کے سربراہ ہوئے تو احتسابی عمل کے ٹھنڈا پڑنے کا خطرہ رہے گا۔ تین اہداف نگران سیٹ اَپ کے سامنے ہوں گے: (1) قومی زندگی میں ڈسپلن پیدا کرنا۔ (2) احتسابی عمل کا ساتھ دینا۔ (3) خطرناک معاشی صورتِ حال کا کچھ ازالہ کرنا۔
(ایاز امیر، دنیا، 24اپریل)
……………..٭٭٭…………….
نگراں حکومت
نگران سیٹ اَپ کا تجربہ پاکستان میں 1990ء کے انتخابات کے دوران شروع ہوا اور اسی طرح اب تک ہر الیکشن کے وقت نگران سیٹ اَپ تشکیل دیا جاتا ہے۔ لیکن نگران سیٹ اَپ ملک میں شفاف انتخابات کروانے میں کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکا۔ 1990ء میں نگران حکومت کی نگرانی میں بعض سیاسی جماعتوں کو ایک ادارے کے توسط سے مالی فوائد پہنچائے گئے۔ 1993ء کے انتخابات میں معین قریشی کو امریکہ سے درآمد کرکے نگران وزیراعظم بنایا گیا۔ انہوں نے شفاف انتخابات کی روایت نہیں ڈالی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور نگران وزیراعظم بیورو کریسی، سرمایہ داروں اور مخصوص طبقے کو نوازتے رہے۔ اسی طرح 1996ء میں نگران حکومت کے وزیراعظم ملک معراج خالد نے نادہندگان کے لیے راہ ہموار کرکے اس سیاسی مراعات یافتہ طبقے کو آج تک پاکستان پر مسلط کردیا۔ بیوروکریسی میں چند افسروں کو نوازنے کے لیے ایڈمنسٹریشن اصلاحات کے ذریعے بیوروکریسی کے ڈھانچے کو پک اینڈ چوائس کی پالیسی پر گامزن کروا دیا اور شفاف انتخابات کے لیے کوئی فارمولا طے نہیں کرایا۔ اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کو اقتدار میں لانے کے لیے منفی طریقے اختیار کیے گئے۔
اسی طرح 2008ء کے انتخابات میں نگران حکومت کی کارکردگی مایوس کن تھی، اور ملک میں جب بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد لا اینڈ آرڈر کی صورتِ حال سنگین ہوئی تو خاطر خواہ انتظامات نہیں کروائے گئے۔ اسی روایت کو 2013ء کے انتخابات میں بھی جاری رکھا گیا جب مفلوج اور معذور وزیراعظم اعلیٰ سطح کی بیوروکریسی میں بڑے تقرر وتبادلے کی آڑ میں commission and omissionکی ڈگر پر چلتے رہے، اور ملک کے انتخابات کو متنازع بنواکر گھر چلے گئے۔
(کنوردلشاد احمد … سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان)

Share this: