حاصل مطالعہ

علامہ اقبالؒ
یحییٰ خان سے ایک میٹنگ میں جھگڑا ہوگیا تھا۔ انہوں نے 25 مارچ 1969ء کو مارشل لا لگایا تھا۔ اُس وقت اسلام آباد کی وفاقی سول حکومت کا مارشل لا سے تعلق ختم ہوگیا تھا اور ہمیں بھی یہاں بیٹھے بیٹھے اطلاعات صرف اخبارات سے موصول ہوتی تھیں۔ دس دن کے بعد 4 اپریل کو یحییٰ خان کو خیال آیا کہ سول حکومت کا سیکریٹریٹ بھی تو ہے، تو انہوں نے مختلف بڑے بڑے محکموں کے سربراہوں اور وفاقی سیکریٹریوں کا اجلاس طلب کیا۔ سرکٹ ہائوس میں ہم بھی پہنچے۔ یحییٰ خان 10 کے بجائے 11 بجے آیا۔ وہ شراب پیے ہوئے تھا۔ اس نے آتے ہی ڈانٹ ڈپٹ شروع کردی کہ ایوب خان کے زوال کا سبب آپ ہی لوگ ہیں، سول سرونٹس نے اسے گم راہ کیا تھا، اسے صحیح مشورے سے محروم رکھا۔ لیکن میں خوشامد کو پسند نہیں کروں گا، میں جی حضوری کو پسند نہیں کرتا۔ وہ آدھ گھنٹے تک سختی سے ڈانٹتا ڈپٹتا رہا۔ تقریر کے اختتام پر اس نے پوچھا ’’کوئی سوال؟‘‘ اس پر ایک سینئر افسر اٹھ کھڑے ہوئے اور ہاتھ باندھ کر کہنا شروع کیا کہ ملک میں جو آفت آئی تھی وہ ٹل گئی ہے اور آپ کی صورت میں فرشتۂ رحمت آگیا ہے اور اب حالات بدل جائیں گے۔ میں نے سوچا کہ اب یحییٰ خان اسے ڈانٹے گا کہ پھر تم نے خوشامد شروع کردی! لیکن میں نے دیکھا کہ خوشی سے اس کا چہرہ لال ہورہا ہے۔ اس افسر کی تقریر ختم ہوئی تو پھر دوسرا اور پھر تیسرا افسر اٹھا، اور ان سب نے ویسی ہی خوشامدیں شروع کردیں۔ جب یہ سلسلہ دیکھا تو میں نے اٹھ کر کہا کہ صاحب آپ ابھی جس بات کے خلاف تقریر کررہے تھے وہی بات پھر آپ کے ساتھ شروع ہوگئی ہے اور آپ اسے سن رہے ہیں تو آپ نے اپنی بات کی پہلے ہی تردید کردی۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ یہ دوسری دفعہ مارشل لا لگا ہے اور یہ ملک کی بڑی بدقسمتی ہے، آپ نے کہا ہے کہ آپ انتخابات کرا کے چلے جائیں گے۔ مجھے توقع ہے کہ آپ اپنی اس بات کی اپنے عمل سے تردید نہیں کریںگے۔ اس نے پوچھا کہ کیا تمہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، میں سیکریٹری اطلاعات ہوں لیکن میری اطلاعات کا ذریعہ صرف اخبارات ہیں اور ان سے مجھے معلوم ہوا کہ مارشل لا میں صرف مکھیاں ماری جارہی ہیں اور نالیاں صاف ہورہی ہیں، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا پاکستانی افواج کا کام اب یہی رہ گیا ہے؟ میری اس بات پر میٹنگ درہم برہم ہوگئی۔ فوراً ہی چائے کا وقت ہوگیا۔ اس کے بعد میں واپس آگیا اور استعفیٰ بھجوا دیا۔
(’’یہ صورت گر کچھ خوابوں کے‘‘…ڈاکٹر طاہر مسعود)
……٭٭٭……
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہو گی آہ مری، نفس میرا شعلہ بار ہو گا
یہ گزشتہ اشعار کا حاصل ہے کہ ملت کا درد آرام سے بیٹھنے نہیں دیتا بلکہ وہ اپنے عزم و ہمت کا اظہار کرتے اور آئندہ کا لائحہ عمل بتاتے ہیں کہ زوال خواہ کتنا زیادہ ہو، میں اپنے قافلۂ ملت کو بیدار کرکے نشاۃ ثانیہ کے سفر پر یوں روانہ ہوں گا۔ ’’بانگِ درا‘‘ اسی کا استعارہ ہے کہ میری درد بھری آہیں میری شاعری کی صورت میں ایمان سے معمور جذبوں کو پروان چڑھائیں گی۔ اور گم شدہ متاع کو پانے کے لیے میری روح اور میرا جسم قافلے کی رہنمائی کریں گے۔ علامہ محض تصورات اور باتوں کے انسان نہیں بلکہ زبردست قوتِ عمل کا ذریعہ بنتے ہیں، اور اس کا ثبوت آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت کی صورت میں قیام پاکستان کی تحریک ہے۔ واضح رہے کہ تحریکِ پاکستان اصل میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ ہی کی تحریک تو ہے۔ استحکام پاکستان بذریعہ ارشاداتِ اقبال آج کی اہم ترین قومی ضرورت ہے۔
……٭٭٭……
تمدن آفریں، خلاقِ آئینِ جہاں داری
وہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارہ
غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے
جہاں گیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا
یہ اشعار علامہ کی مشہور نظم ’’نوجوانانِ اسلام سے خطاب‘‘ سے لیے گئے ہیں جو اسلاف کی عظمتوں کا ایک خاکہ پیش کرتے ہیں کہ آج تو مسلمانِ مغرب کے غلام بنے ہوئے ہیں، جب کہ سرزمینِ عرب سے تعلق رکھنے والے عظیم اسلاف نے دنیا کی امامت و قیادت کرکے اپنی عظمتوں کا لوہا منوایا تھا۔ انہوں نے دنیا کو تہذیب و تمدن سے روشناس کرایا۔ دنیا کے معاملات چلانے کے لیے آئین و دستور کے تصورات دیے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں پہلا تحریری دستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو عطا کیا۔ وہ عرب جن کی پہچان اونٹ چَرانے والوں کی تھی انہیں دنیا کا دستور ساز اور قانون سکھانے والا بنا دیا۔ یہ صحرا نشیں تو فاتحینِ عالم بنے، انہوں نے تاریخ کی اعلیٰ ترین درجے کی حکمرانیاں کیں، آج بھی یورپ کو جن فلاحی قوانین پر ناز ہے وہ ’’عمر لاز‘‘ کہلاتے ہیں یعنی حضرت عمرؓ کے دیے ہوئے قوانین۔ حقیقت میں یہ باکمال لوگ تو دنیا جہان کا ناز تھے اور دنیا بھر میں اپنے حسنِ کمال کو بکھیرے والے تھے۔ وہ تو تاریخ کے ماتھے کا جھومر تھے۔ امت کے لیے پیغام ہے کہ اپنی نشاۃ ثانیہ کے ذریعے اپنے حسنِ عمل کا نظارہ ایک بار پھر دنیا کو دکھا دو۔
(لمحہ موجود اور تعلیمات اقبال/پروفیسر رشید احمد انگوی)

Share this: