صومالیہ اور عا لمی سیاسی کش مکش

خلیج عدن اور باب المندب پر اثرورسوخ کی خواہش امارات اور صومالیہ میں کشیدگی کی وجہ بن گئی ہے

متحدہ عرب امارات اور صومالیہ کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ صومالی وزیر خارجہ عیسیٰ الاواد کا کہنا ہے کہ عرب اور مسلمان ملکوں سے قریبی تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ حالیہ کشیدگی کی وجہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے خلیج عدن اور آبنائے باب المندب پر اثر رسوخ بڑھانے کی کوششوں میں شمالی صومالیہ کے علیحدگی پسندوں کی حمایت ہے۔ مداخلتِ بے جا کی ایسی ہی شکایت پر صومالیہ کے مغربی پڑوسی جبوتی اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بدمزگی اتنی بڑھی کہ اس سال فروری میں جبوتی نے اماراتی کمپنی DP World یا DP سے بندرگاہ دورالہ (Duraleh) کے انتظام و انصرام کا معاہدہ منسوخ کردیا۔ DP نے خلیج عدن میں دورالہ بندرگاہ کی تعمیر پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے تھے۔ اس سے متصل بندرگاہ پر چینی بحریہ نے اپنا اڈہ قائم کررکھا ہے، جبکہ دورالہ پر کنٹینر ٹرمینل کا انتظام DPکے پاس تھا۔ جبوتی کو شکایت تھی کہ اماراتی حکومت نے بلااجازت بڑی تعداد میں اپنے فوجی دورالہ پر تعینات کردیے ہیں اور وہ مقامی لوگوں میں نقدی تقسیم کررہے ہیں جس کی بنا پر جبوتی کی حکومت نے DP سے معاہدہ منسوخ کرکے کنٹینر ٹرمینل کو قومی ملکیت میں لے لیا۔ اماراتیوں کا خیال ہے کہ جبوتی نے یہ سب کچھ چین کے دبائو پر کیا ہے جسے اپنے فوجی اڈے کے قریب اماراتیوں کی نقل و حرکت پسند نہیں تھی۔ جبوتی میں سفارتی ناکامی کے بعد متحدہ عرب امارات نے خلیج عدن کی شمالی صومالیہ میں کھلنے والی بندرگاہوں کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ بدقسمتی سے شمالی صومالیہ میں دو بڑے علاقوں یعنی صومالی لینڈ اور اس کے مشرق میں البنط ریاست یا Punt land State پر علیحدگی پسندوں نے خودمختار حکومتیں قائم کررکھی ہیں جنھیں اب تک دنیا کے کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا، لیکن اماراتی حکومت براہِ راست ان علیحدگی پسندوں سے مول تول کررہی ہے۔
مسلمانوں کے لیے صومالیہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ جب مکہ کی سرزمین اہلِ ایمان پر تنگ کردی گئی تو نبیٔ محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت عثمانؓ، ان کی اہلیہ حضرت رقیہؓ بنتِ رسولؐ، حضرت زبیر بن العوامؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سمیت 11 خواتین و حضرات حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے۔ روایت کے مطابق مہاجرین کی کشتی شمالی صومالیہ کی بندرگاہ زیلع پر ہی لنگرانداز ہوئی تھی جہاں سے خشکی کے راستے حبشہ (موجودہ ایتھوپیا)کا سفر کیاگیا۔ گویا صومالیہ میں اسلام مدینہ سے بھی پہلے پہنچا اور اس سرزمین کو مسلمانوں کی قدم بوسی اور اصحابِ رسول کے استقبال کا شرف حاصل ہوا۔ اُس وقت سارا قرنِ افریقہ (Horn of Africa) یعنی موجودہ صومالیہ، جبوتی، ایری ٹیریا اور ایتھوپیا سلطنتِ حبشہ کا حصہ تھا جہاں سلیم الفطرت نجاشی حکمراں تھے۔ نجاشی کو صحابی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے محروم رہے، لیکن نجاشی نے اسلام قبول کرلیا تھا اور ایک روایت کے مطابق اُن کے انتقال پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی۔

……..***……..
صومالیہ دورِ نبوت ہی میں دولتِ اسلام سے سرفراز ہوا۔ جس طرح مدینہ میں مسجدِ قبلتین ہے کہ جہاں مکہ اور بیت المقدس کے رُخ پر دو محرابیں ہیں، ایسی ہی ایک عظیم الشان مسجدِ قبلتین زیلع، شمالی صومالیہ میں بھی ہے جسے افریقہ کی قدیم ترین مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ زیلع سلطان صبرالدین کی سلطنت کا دارالحکومت تھا جو سلطنتِ عدل کے نام سے مشہور ہوئی۔ سلطنتِ عدل کا الحاق ترکی کی خلافتِ عثمانیہ سے تھا۔ اس دور میں صومالیہ ایک ترقی یافتہ اور خوش حال ملک تھا جہاں سے سونا، جواہرات، سدھائے ہوئے جانور، ہاتھی دانت اور اونٹ و مویشی برآمد کیے جاتے تھے۔ انیسویں صدی سے صومالیہ کی آزمائش شروع ہوئی جب انگریزوں اور اطالویوں نے مقامی لوگوں کو آپس میں لڑاکر ریاست کو کمزورکردیا۔ درویش رہنما محمد عبداللہ حسن نے بیرونی قوتوں کی شدید مزاحمت کی، جس کی وجہ سے انگریزوں نے انھیں ’’پاگل ملّا‘‘ (Mad Mullah) کا ’’خطاب‘‘ دیا، جو بعد میں ان کا نام بن گیا۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں تقسیم در تقسیم کا عمل اس قدر تیزی سے ہوا کہ جنوب مغربی صومالیہ پر انگریزوں نے قبضہ کرکے اسے برٹش صومالیہ کا نام دے دیا، تو دوسری طرف صومالیہ کا جنوب وسطی علاقہ اطالویوں نے ہتھیا لیا۔ تاہم پاگل ملّا نے شمال اور وسطی صومالیہ پر اپنی گرفت قائم رکھی اور یہ علاقہ درویش سلطنت قرار پایا۔ اسی دوران ایتھوپیا بھی میدان میں آگیا اور دوسری جنگِ عظیم تک یہ علاقہ بدترین خونریزی کا مرکز بنارہا۔
1960ء میں صومالیہ آزاد ہوگیا، لیکن سارے قرن افریقہ میں خونریزی جاری رہی اور جنگجوئوں کے چھوٹے بڑے گروہوں نے مختلف علاقوں پر اپنے رجواڑے قائم کرلیے۔ 1969ء میں جنرل سعید بارے نے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا، لیکن سخت گیر اقتدار اور مارشل لا کے باوجود قبائلی چپقلش جاری رہی جس سے وفاق بے حد کمزور ہوگیا۔ 1990ء میں شروع ہونے والی خانہ جنگی نے وفاق کو عملاً ختم کردیا اور رہی سہی کسر ’الشباب‘ جیسی انتہا پسند تنظیموں نے پوری کردی۔ گزشتہ برس کے آغاز پر طویل گفت و شنید کے بعد محمد عبداللہ صدر اور حسن الخیری وزیراعظم نامزد کیے گئے، اس کے ساتھ ہی 275 رکنی قومی اسمبلی بھی تشکیل دی گئی۔ ان اقدامات سے کسی حد تک استحکام پیدا ہوا، مگر خلیج عدن کے ساحلی علاقوں پر علیحدگی پسندوں کی گرفت اب بھی مضبوط ہے۔ شمال مشرقی صومالیہ کی البنط ریاست یا Punt land State اور اس کے مغرب میں صومالی لینڈ کے نام سے قائم آزاد ریاستوں کو اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا اور صومالیہ کے پڑوسی بھی اس سارے علاقے کو صومالی وفاق کا حصہ سمجھتے ہیں۔ تاہم کمزور وفاق علیحدگی پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی سے قاصر ہے۔
صومالیہ کی مشکلات کا بہت بڑا سبب اُس کا محلِ وقوع ہے کہ انگریزی کے عدد 7 کی شکل میں اس ملک کا شمالی ساحل خلیج عدن کو چھورہا ہے، تو اس کے مشرق میں بحرہند ہے۔ بحراحمر یورپ کو ایشیا سے ملانے کا سب سے سہل اور تیز رفتار راستہ ہے۔ یورپ و امریکہ کے مشرقی ساحلوں سے آنے والے جہاز بحرروم سے نہر سوئز کے راستے بحر احمر میں داخل ہوتے ہیں اور آبنائے باب المندب سے ہوکر خلیج عدن میں اترتے ہیں، جہاں سے بحر عرب اور بحرہند کا راستہ مل جاتا ہے۔ شمال مغربی صومالیہ جبوتی سے متصل ہے، جو دراصل آبنائے باب المندب کا دہانہ ہے۔ امریکہ، روس، چین اور علاقے کے ممالک آبنائے باب المندب کو اپنے زیراثر رکھنا چاہتے ہیں۔ مصر کے سابق صدر جمال ناصر نے اسی مقصد کے لیے سابق جنوبی یمن میں اپنی فوج بھی بھیجی تھی۔ صدر ناصر کا خیال تھاکہ اگر آبنائے باب المندب کو قابو کرلیا جائے تو سارا بحر احمر ان کی مٹھی میں آجائے گا کہ اس سمندر کا شمالی دہانہ یعنی نہر سوئز مصر کی ملکیت ہے۔ اُس وقت موجودہ اریٹیریا ایتھوپیا کا حصہ تھا اور جبوتی فرانس کی کالونی۔ ایتھوپیا کے شہنشاہ ہیل سلاسی مغرب کے حامی تھے۔ چنانچہ مصر کے جواب میں ایتھوپیا کی بندرگاہ عصب (Assab) اور جبوتی کے ساحل خورانغار پر امریکی اور فرانسیسی بحریہ نے تباہ کن جہاز اور آبدوزیں تعینات کرکے باب المندب پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ آج کل جبوتی میں چین نے ایک بہت بڑا فوجی اڈہ قائم کرلیا ہے جہاں اُس کے ہزاروں فوجی تعینات ہیں۔ جبوتی اڈے کی وجہ سے خلیج عدن اور آبنائے باب المندب پر چین کے اثرات خاصے گہرے ہوگئے ہیں جس پر امریکہ اور نیٹو کو تشویش ہے۔
بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ عرب ممالک بھی آبنائے باب المندب پر اپنا اثررسوخ رکھنا چاہتے ہیں اور اس معاملے پر سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے درمیان غیر اعلانیہ چپقلش بڑی واضح ہے۔ سعودیوں کے لیے یہ تنگ آبی راستہ اس لیے بہت اہم ہے کہ ایشیا کو سعودی تیل کی فراہمی کے لیے یہی آبی گزرگاہ استعمال ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایرانی بحریہ کی جارحانہ سرگرمیوں کی وجہ سے خلیج فارس کا راستہ کسی حد تک مخدوش ہے اور بحری نقل و حمل کے لیے سعودی عرب جدہ اور بحر احمر کی دوسری بندرگاہوں پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید یا MBZ پر بھی علاقائی طاقت بننے کا خبط سوار ہے۔ یمن میں علیحدگی کی تحریکوں کی حمایت اور قطر کو تنہا کرنے کی کوشش کے ساتھ بانکے شہزادے اب آبنائے باب المندب کو بھی قابو کرنا چاہتے ہیں۔ شہزادہ صاحب کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہے اور درہم و دینار اماراتی سفارت کاری کی بنیاد ہیں۔ تاہم یہ بھونڈی سکھا شاہی ناکامی کا شکار ہے۔ پہلے جبوتی اور اب صومالیہ کے دروازے امارات پر بند ہوتے نظر آرہے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا شمالی صومالیہ میں جو خلیج عدن کا ساحل ہے ارض البنط (Puntland)اور جمہوریہ ارض الصومال یا صومالی لینڈ کے نام سے دو خودمختار رجواڑے قائم ہوگئے ہیں۔ وفاق ان دونوں خودمختار علاقوں میں فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات میں مصروف ہے، لیکن MBZ بنت لینڈ اور صومالی لینڈ سے براہِ راست کاروبار کررہے ہیں۔ وفاق سے بالا بالا بنت لینڈ اور صومالی لینڈ کی براہِ راست مدد پر موغادیشو کو سخت اعتراض ہے۔ کچھ عرصہ پہلے یہ اختلافات اُس وقت اپنے عروج پر پہنچے جب امارات نے صومالی لینڈ میں ’خودمختار حکومت‘ سے بربرا (Berbera)کی بندرگاہ کے انتظام و انصرام کا 30 سالہ معاہدہ کرلیا۔ عسکری ذرائع کا خیال ہے کہ یہاں ایک فوجی اڈہ بھی تعمیر کیا جارہا ہے۔ صومالیہ نے امارات کے اس فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کو درخواست بھی دی، لیکن MBZ نے موغادیشو کے اعتراض کو مسترد کرکے تعمیر کا کام جاری رکھا۔ بربرا خیلج عدن کے جنوبی ساحل پر ہے جہاں سے یمن اور آبنائے باب المندب پر نظر رکھنا آسان ہوگا۔ اپنے سعودی ہم منصب محمد بن سلمان المعروف MBSکی طرح MBZ بھی صدر ٹرمپ کے مقربین میں شمار ہوتے ہیں، اور یہ دونوں شہزادے یمن، خلیج عدن اور آبنائے باب المندب پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دونوں شہزادوں کے اسی جنون نے یمن کو خوفناک تباہی سے دوچار کیا ہے۔ صومالی لینڈ کے ساتھ بنت لینڈ کے ساحلوں پر بھی امارات بندرگاہ اور فوجی اڈے قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور صومالیہ کے درمیان ناخوشگوار معاملات کا آغاز 8 اپریل کو ہوا جب صومالیہ کے کسٹم حکام نے موغادیشو ائرپورٹ پر رائل جیٹ (Royal Jet) کے طیارے سے نقد رقم برآمد کرلی۔ رائل جیٹ ابوظہبی کی کمپنی ہے جو مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں سے یورپ کے لیے پُرتعیش چارٹر پرواز فراہم کرتی ہے۔ طیارے کے موغادیشو پہنچنے پر اماراتی سفارت خانے کے عملے کی ائرپورٹ آمد اور ان کی ’’بے چینی‘‘ پر صومالیہ کے سراغ رساں اداروں کو تشویش ہوئی، چنانچہ طیارے کی تلاشی لینے کا فیصلہ ہوا۔ امارات کے سفارت خانے نے اس پر خاصا ہنگامہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ جہاز پر سفارتی ڈاک اور دوسری حساس دستاویزات ہیں جس کی بنا پر اس چارٹر طیارے کو سفارتی استثنا حاصل ہے۔ لیکن صومالی حکام نے اماراتی سفارت خانے کی درخواست مسترد کردی اور تلاشی شروع ہوئی جس کے دوران انسپکٹروں نے ڈالروں سے بھرے تین لفافے برآمد کرلیے۔ ان لفافوں میں 9 کروڑ 60 لاکھ ڈالر چھپائے گئے تھے۔ صومالی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ رقم صومالی علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کو دی جانی تھی۔ اماراتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ رقم صومالی فوجیوں کی تنخواہ کے لیے لائی جارہی تھی۔ اس بودی دلیل کو کسی نے بھی تسلیم نہیں کیا کہ تنخواہ کی رقم بینک کے بجائے نقد کی شکل میں لانے کی کیا ضرورت تھی، اور جب صومالی کسٹمز نے تلاشی کا حکم دیا اُس وقت بھی حکام کو اس رقم کے بارے میں کیوں نہیں بتایا گیا؟
اس واقعے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ایسا ہی ایک اور معاملہ سامنے آیا جب شمالی صومالیہ کے بندر قاسم انٹرنیشنل المعروف بوساسو (BOSASO)ائرپورٹ پر متحدہ عرب امارات کے ایک طیارے پر صومالی حکام کو شک گزرا۔ روکے جانے والے جہاز پر سوار امارات کے فوجی افسران اپنے ساتھ غیر معمولی حجم کے سوٹ کیس لائے تھے۔ کسٹم اہلکاروں کی جانب سے ان بکسوں کی تلاشی کے اصرار پر اماراتیوں نے سخت احتجاج کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جہاز کے عملے نے سوٹ کیسوں کو مقفل کرکے ان پر اماراتی سفارت خانے کی مہر لگادی اور سفارتی استثنا کا مطالبہ کرتے ہوئے بکسے کسٹم حکام کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ جواب میں صومالی حکام نے رن وے پر جہاز کے گرد رکاوٹیں کھڑی کرکے اس کی روانگی روک دی، جس پر مشتعل ہوکر متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اسے طیارے کا اغوا قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ صومالی فوجیوں نے بندوق کے زور پر ایک اماراتی جہاز پر قبضہ کرکے عملے کو یرغمال بنالیا ہے۔ امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ جناب انور قرقاش کے دھمکی آمیز بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اپنے صومالی ہم منصب سے براہِ راست بات کرنے کے بجائے قرقاش نے صدر ٹرمپ کے انداز میں ایک ٹویٹ داغ دی جس میں کہا گیا کہ صومالی حکومت ’اپنے دوستوں‘ سے کشیدگی پیدا کررہی ہے۔ ولی نعمت نے احسان جتاتے ہوئے فرمایا کہ’’امارات مشکل وقت میں صومالیہ کی مدد کرچکا ہے‘‘۔ جناب قرقاش اس سے پہلے ایسی ہی تلخ و ترش بات ترکی کے بارے میں بھی کرچکے ہیں۔ ان بکسوں سے کیا برآمد ہوا، اس بارے میں صومالی حکام نے کوئی سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیا، لیکن صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سوٹ کیس ڈالروں سے بھرے ہوئے تھے جو علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں میں تقسیم کیے جانے تھے۔
بدقسمتی سے ان ناخوشگوار واقعات سے پیدا ہونے والی تلخی کو بات چیت کے ذریعے کم کرنے کے بجائے امارات نے صومالیہ کی ’’جسارت‘‘ کو احسان فراموشی قرار دیتے ہوئے صومالی فوج کی تربیت اور تنخواہ ختم کردینے کا اعلان کردیا۔ صومالی حکومت اس سے پہلے ہی اعلان کرچکی تھی کہ مئی کے مہینے سے فوج کو تنخواہ صومالی حکومت ادا کرے گی۔ اسی کے ساتھ متحدہ عرب امارات نے موغادیشو میں شیخ زاید ہسپتال کو مقفل کردیا۔ اس جدید ہسپتال سے نہ صرف ہزاروں غریب صومالی استفادہ کررہے تھے بلکہ یہ ادارہ موغادیشو میں روزگار کا ایک بہت بڑا ذریعہ بھی تھا۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں روزانہ 200 سے 300 افراد علاج کے لیے آتے ہیں۔ صومالیہ کی حکومت نے اختلافات کے تصفیے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ اقوام متحدہ میں صومالیہ کے مستقل نمائندے ابوبکر عثمان نے کہا کہ ان کا ملک امارات کی مالی امداد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور بھائیوں کے درمیان’بدگمانیوں‘ کو بات چیت کے ذریعے ختم کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بربرا بندرگاہ کے بارے میں امارات کو موغادیشو سے بات کرنی چاہیے، اسی طرح البنط میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی صومالی حکومت بات چیت کرنے کو تیار ہے۔
بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات ’’پکی کٹی‘‘ کرچکا ہے اور مستقبل قریب میں بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ معاملہ سفارتی انجماد تک رہے تو بھی غنیمت ہے، لیکن افریقہ کے صحافتی و سفارتی ذرائع خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ صومالیوں کو سبق سکھانے کے لیے MBZ یہاں بھی یمن کی تاریخ دہرا سکتے ہیں۔

Share this: