اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق پانچ اَن کہے سوال

القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے والی ایبٹ آباد کارروائی کو سات سال مکمل ہوئے، لیکن اس فوجی کارروائی سے جڑے بہت سے سوال آج تک جواب طلب ہیں۔
پاکستان میں تو بحث اسی گرداب میں پھنسی رہی کہ حکومتِ پاکستان کو اس کا علم تھا یا نہیں، لیکن دیگر کئی اہم سوالات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی:
1۔ اگر امریکی ہیلی کاپٹر، بقول امریکیوں کے، تکنیکی خرابی کی وجہ سے نہ گرتا تو کیا اسامہ زندہ گرفتار کیا جاسکتا تھا؟
اُس وقت کے امریکی صدر اوباما بظاہر کسی بھی ملزم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے کے حق میں تھے۔ سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نے ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ مزاحمت نہ ہونے کی صورت میں وہ اسامہ کی گرفتاری کے لیے تیار تھے۔
2۔ اسامہ کی بیوہ اور بچوں نے ایبٹ آباد کمیشن کو کیا بتایا؟
آج تک ان چشم دید گواہوں کے بارے میں کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ ان لوگوں کو بعد میں سعودی عرب بھیج دیا گیا تھا۔
3۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اگر امریکی ہیلی کاپٹر کو کارروائی کے دوران حادثہ پیش نہ آتا تو کیا اسامہ کے مارے جانے کی خبر کبھی سامنے نہ آتی؟
حکومتِ پاکستان کی خواہش تو بعد میں یہی ہوسکتی تھی کہ اس پر مٹی ڈال کر بھول جائیں تاکہ ندامت سے بچا جا سکے۔
4۔ کیا پاکستان میں واقعی کسی کو بھی… چاہے وہ فوج تھی یا حکومت… اس کارروائی کی پیشگی کوئی اطلاع نہیں تھی؟
حکام اس سے مسلسل انکار کرتے ہیں، لیکن عام لوگوں کے لیے اسے سچ ماننا آج تک مشکل ہے۔
5۔ کیا امریکی میرین فوجی اپنے ساتھ دنیا کا جدید ترین سامان تو لائے لیکن سیڑھی لانا بھول گئے جو انہیں اسامہ کے کمپائونڈ کی دیوار بارود سے گرانی پڑی؟
پہلی کوشش اور منصوبہ تو ہیلی کاپٹر سے درجن بھر فوجیوں کو اتارنے کا تھا، لیکن حادثے کے بعد زمین سے پیش رفت کرنی پڑی۔
(بی بی سی۔اردو)

ساجد جاوید، پاکستانی نژاد برطانوی وزیرداخلہ

برطانیہ میں وزیر داخلہ امبر رڈ کے استعفے کے بعد پاکستانی نژاد ساجد جاوید کو برطانوی وزیر داخلہ بنادیا گیا ہے۔ برطانیہ کی سابق وزیر داخلہ امبر رڈ برطانیہ میں سیاہ فام لاطینی امریکی تارکین وطن کے بارے میں پارلیمان کو غلط معلومات فراہم کرنے کی وجہ سے مستعفی ہونے پر مجبور ہوچکی ہیں۔ نئے وزیر داخلہ نے اخبار سنڈے ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے والد پاکستان سے برطانیہ آئے تھے اور میں اس تارک وطن کی دوسری نسل ہوں‘‘۔ ساجد جاوید پہلے وزیر داخلہ ہیں جو لسانی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ’’میں نے جب امیگریشن کے حوالے سے سنا جس کے باعث امبر رڈ مستعفی ہوئی ہیں، تو سوچا کہ میری والدہ یا میرے والد کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا تھا۔ میرے انکل یا پھر میرے ساتھ بھی‘‘۔ ساجد جاوید کے والد 17 سال کی عمر میں پاکستان کے چھوٹے سے گاؤں سے برطانیہ آئے تھے۔ انھوں نے پہلے کپاس کی فیکٹری میں کام کیا اور پھر دیکھا کہ بس ڈرائیور کو زیادہ تنخواہ ملتی ہے تو بس ڈرائیور بن گئے اور ان کا نام ’مسٹر نائٹ اینڈ ڈے‘ پڑ گیا، کیونکہ ان کو جب بھی وقت ملتا تھا وہ بس چلاتے تھے۔ ساجد جاوید برسٹل کے اسکول میں پڑھے، کیونکہ اُس وقت تک ان کے والد خواتین کے ملبوسات کی دکان چلاتے تھے۔ ساجد جاوید کے اسکول نے او لیول میں ریاضی کی فیس دینے سے انکار کردیا اور ان کے والد نے فیس دی۔ انھوں نے یونیورسٹی میں معاشیات اور سیاسیات کے مضامین پڑھے۔ ایک بینکار کے طور پر وہ 25 سال کی عمر میں چیز مین ہٹن بینک کے نائب بن گئے اور پھر ڈوئشے بینک کے چیئرمین بنے، اور 2009ء میں بینکاری کو خیرباد کہہ کر انھوں نے سیاست پر توجہ دی۔ ساجد جاوید کے مطابق ان کے والد لیبر پارٹی کے حامی تھے، تاہم 1978ء کے بعد وہ مارگریٹ تھیچر کے مداح ہوگئے۔ نئے عہدے میں ان کے فرائض میں نشریات، کھیل، میڈیا، سیاحت، ٹیلی کام، مساوات اور فن شامل تھے۔

حکومت کو تاج محل کا رنگ بدلنے کی کوئی پروا نہیں ہے,انڈین سپریم کورٹ

انڈیا کی عدالتِ عظمیٰ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ تاج محل کے رنگ بدلنے کے مسئلے کے حل کے لیے بیرونی ماہرین کی مدد حاصل کرے۔ عدالت نے حکومت سے کہا: ’’اگر آپ کے پاس مہارت ہے بھی تو آپ اسے استعمال نہیں کررہے۔ یا شاید آپ کو پروا ہی نہیں ہے‘‘۔ عدالت نے کہا کہ اس یادگار کا رنگ پیلا پڑ گیا ہے اور بعض حصوں کا رنگ بھورا اور سبز ہوتا جا رہا ہے۔
جسٹس مدن لوکر اور دیپک گپتا نے ماحولیات کے کارکنوں کی جانب سے پیش کردہ تاج محل کی تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کو حکم دیا کہ وہ انڈیا کے اندر یا باہر سے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے اس مسئلے کو حل کرے۔ اس سے قبل حکومت نے تاج محل کے قریب ہزاروں کارخانے بند کروا دیے تھے، لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کافی نہیں ہے اور تاج محل کی چمک ماند پڑتی جارہی ہے۔ تاج محل کے قریب واقع دریائے جمنا میں بہہ کر آنے والی گندگی کے باعث وہاں کیڑے مکوڑے پھل پھول رہے ہیں جو تاج محل کی دیواروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

Share this: