سیاسی درجۂ حرارت میں اضافہ

پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، حالات سازگار رہے تو نئے انتخابات تقریبا سر پر ہیں، اور نئی حکومت کی تشکیل سے قبل اس خطہ میں مسائل کے حل کی کوششوں میں ایک نئی کوشش شروع ہوئی ہے، پاکستان اس وقت سرحدوں پر پیش آنے والے واقعات کے باعث سخت دباؤ میں ہے، بھارت کی مکروہ نظریں ہر وقت سرحدوں پر رہتی ہیں، پاک افغان اور کسی حد تک اب پاک ایران سرحد بھی ماحول گرم ہے گزشتہ ہفتے کے واقعات میں بجٹ اگرچہ اہم عنصر ہے لیکن وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی اور پاک بھارت ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی اہم اہم موضوع خیال کی جاسکتی ہے پا کستان اور بھا رت کے ما بین ٹر یک ٹو سفا رت کا ری کے لیے ’’نیم را نہ ڈائیلا گ،، کے تحت بین الا قوا می تعلقا ت عا مہ کے ما ہر ین نے 28اپر یل سے پا کستان کا تین روزہ دورہ کیا جس میں دو نو ں مما لک کے ما بین با ہمی تعلقات کو بحا ل کر نے کے لیے مختلف تجا ویز پر غور کیا گیا بھا رتی و فد کی قیا دت سا بق سیکر ٹری خا رجہ اور پا کستا نی امور کے ما ہر ویو ک کا تجو نے کی،پا کستان کی جا نب سے سا بق سیکر ٹری خا رجہ انعا م الحق اور عشرت حسین سمیت پا ک بھا رت تعلقات کے ما ہر ین نے شر کت کی، عین اس وقت جب یہ ڈائلاگ ہورہے تھے ملک کے وزیر خارجہ نااہلی کا سامنا کر رہے تھے وہ اقامہ اور دبئی کی ایک نجی فرم میں ملازمت کا معاملہ ظاہر نہ کرنے کی بناء پر نااہل قرار دے دیے گئے ہیں اسی بنیاد پر نواز شریف کو سپریم کورٹ سے نااہل قرار پاچکے ہیں نواز شریف کے تیسرے بااعتماد ساتھی وزیرداخلہ احسن اقبال کے پاس بھی اقامہ ہے اب ابرارالحق اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کر رہے ہیں پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ نے جو معیار مقرر کردیا ہے اس کے بعد اثاثے چھپانے والے سیاستدانوں کی جان چھوٹتی نظر نہیں آرہی۔شیخ رشید نااہلی کیس میں سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پاناما لیکس کیس میں مقرر کیے گئے انصاف کے معیار کو سخت قراردے چکے ہیں خواجہ آصف کیس میں بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل بنچ نے قرار دیا ہے کہ وہ بوجھل دل کے ساتھ یہ فیصلہ دے رہے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم اور پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو دیکھا جائے تو نہ صرف احسن اقبال بلکہ شیخ رشید کے لیے بھی مشکل گھڑی آسکتی ہے آئین کے جس آرٹیکل کی روشنی میں مسلم لیگ کے قائد نواز شریف اور اب وزیر خارجہ خواجہ آصف نااہل ہوئے ہیں، اس آرٹیکل کو آئین سے باہر نکالنے کی کبھی حمایت میسر نہیں ہوسکتی تاہم پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کو ضرور مل بیٹھ کر کوئی راستہ نکالنا ہوگا بہترین راستہ یہ ہے کہ کاغذات نامزدگی داخل کرائے جانے کے وقت پوری طرح چھان بین کی جائے اور امیدوار کو ان آئینی آرٹیکل کی چھلنی سے گزارا جائے تاکہ نااہلی جیسے
واقعات بعد میں ہمارے پارلیمانی اور سیاسی نظام کو کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ دے اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ آج کے عالمی معاشی نظام کے تحت کوئی بھی ملک غیر ملکی سرمایہ کاری کے بغیر معیشت بہتر نہیں کرسکتاسرمایہ کاری کی فضا قائم کرنے کے لیے حکومتوں کو بڑے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں، دہشت گردی اور سیاسی بحراں ترقی اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ بنتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پچھلے چار سال کے دوران سرمایہ کاری برائے نام ہوسکی، سی پیک کے حوالے سے چین نے 56 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرکے فضا کو بہتر بنانے کا آغاز کیا مگر جب سے سیاسی بحران شروع ہوا ہے تو ایک معتبر اطلاع کے مطابق 19 ملکوں کے سرمایہ کار اپنا کئی ارب ڈالر سرمایہ نکال کر واپس لے جا چکے ہیں، اب چین نے سی پیک کے تحفظ کے لیے اپنے مرکزی بینک کے ذریعے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کروایا ہے جس کے تحت ایک ارب ڈالر مہیا کیے جائیں گے اور پاکستان کے زر مبادلہ میں جو کمی ہوئی تھی اسے پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ عمران خان نے سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنا کر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو لانے کی بات کی ہے، بحرانوں اور کمزور سیاسی پارلیمانی نظام کے ہوتے ہوئے یہ بھی ایک مشکل مرحلہ ہوگا مستقبل میں جو بھی حکومت بنے گی اسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، ایسا ہی ایک مشکل مرحلہ اور چیلنج عالمی معیار کا بلدیاتی نظام لانے کے حوالے سے درپیش ہوگا ہمیں چھ عشروں سے روایتی بلدیاتی سسٹم سے واسطہ رہا ہے، اس میں بہت سی خامیاں ہیں ہر ادوار میں ہر حاکم وقت نے اپنی سہولت کے مطابق کچھ تبدیلیاں ضرور کیں، لیکن انہیں اصلاحات نہیں کہا جاسکتا بہترین سیاسی اور معاشی حالات پیدا کرنے کے لیے استحکام ضروری ہے جس کے لیے سیاسی جماعتیں اور عدلیہ مل کر کوئی راہ نکال سکتی ہیں اب ایک حلقے کی رائے ہے کہ’’ آئین کے آرٹیکل 62اور63میں ارکان اسمبلی کی اہلیت اور نا اہلیت کے لیے جو شرائط مقرر کی گئی ہیں ان پر عدالتیں اسی طرح عمل درآمد کرواتی ہیں جس طرح پاناما لیکس کیس میں کروایا گیا ہے تو متعددسیاست دانوں کے سر پر نااہلی کی تلوار مستقبل میں بھی لٹکتی نظر آرہی ہے جب تک کہ ان آرٹیکلز میں مناسب ترامیم نہیں کرلی جاتیں،،1973ء کے آئین کو بنظر غور دیکھا جائے تو اس میں انتخابی عمل کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ انتخابی تنازعات کو عدالتوں میں لے جانے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔آئین کے آرٹیکل 225میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل کے سامنے انتخابی عذرداری کے سوا پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر اعتراض نہیں کیا جاسکتاتاہم عدالتوں نے اپنے آئینی اختیارات کی اس طرح تشریح کررکھی ہے کہ رٹ اور آئینی درخواستوں کے ذریعے بھی ارکان اسمبلی اور عوامی عہدیداروں کی اہلیت کا سوال اعلیٰ عدالتوں میں اٹھایا جاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں لبرل سیاسی جماعتیں آئین کے آرٹیکلز 62اور 63میں مناسب ترامیم پرغور کریں گی پیپلزپارٹی کی قیادت بھی اس کی زد میں آسکتی ہے اور خود عمران خان بھی اس سے محفوظ نہیں رہیں گے آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف کے تحت رکن پارلیمنٹ کی نااہلیت کا سوال ہے چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم 5رکنی بنچ نے تاحیات نااہلی کیس کے اپنے فیصلہ میں یہ بھی قراردے رکھا ہے کہ آرٹیکل 62(1)ایف کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں پر ہوگا آئین کہتا ہے کہ رکن پارلیمنٹ بننے والے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ عدلیہ اور فوج کو اسکینڈلائز کرنے میں ملوث نہ رہا ہو، دو سال قبل آصف علی زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان دیا تھا اب آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ اینٹ سے اینٹ بجانے والا میرا بیان جاتی امراء والوں کے خلاف تھا ہوسکتا ہے کہ ان کا مؤقف درست تسلیم کرلیا جائے لیکن ان سے متعلق ایک نہیں بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں اور انہیں عدلیہ میں این آر او کیس میں سوئس بنک کھاتوں کا حساب دینا پڑسکتا ہے فی الحال تو وہ اسٹبلشمنٹ کے قریب ہو کر ان کی ہر خواہش پوری کیے جارہے ہیں تاہم پاکستان میں سیاسی ماحول اور وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ملک میں چار ہفتوں کے بعد نگران حکومت بن رہی ہے، یہ کتنے عرصے کے لیے ہوگی آئین تو کہتا ہے کہ اسمبلی مدت مکمل کرکے ختم ہوتو نگران حکومت تین ماہ کے لیے ہوگی فی الحال اس پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا کونکہ بہت سے مسائل ابھی حل ہونا باقی ہیں اسلام آباد کی باخبر لابیوں میں کہا جارہا ہے کہ انتخابات میں تاخیر نہیں ہوگی، کیونکہ جو قوت جیسا چاہ رہی ہے ویسا ہوتا چلا جارہا ہے تاہم دوسری رائے بھی کم وزن نہیں رکھتی، ا سکے مطابق مسلم لیگ(ن) جب تک قائم ہے اور اس کے حصے بخرے نہیں ہوتے تب تک کچھ بھی ہوسکتا ہے فیصلہ یہی ہورہا ہے کہ پارلیمنٹ میں کوئی سیاسی جماعت سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکے ہر جماعت آزاد حیثیت میں جیت کر آنے والے ارکان کی مرہون منت رہے خود آصف علی زرداری بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ اس بار انتخابات میں کوئی بھی سنگل پارٹی اکثریت نہیں لے سکے گی، پیپلز پارٹی اکثریتی پارٹی ہو گی انہوں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوایا وہ مستقبل میں ان کے ساتھ ہی کھڑے ہونگے انہوں نے اپنے سیاسی دوستوں کی محفل میں چیف جسٹس کی بھی تعریف کی ہے اور کہا کہ وہ اچھا کرنے کی کوشش کررہے ہیں مسلم لیگ (ن) کو آج اسی صورت حال کا سامنا ہے جو پیپلزپارٹی کے لیے جسٹس افتخار چوہدری کے دورمیں ہوسکتا ہے کہ الیکشن سے پہلے ن لیگ کے راہنماؤں کی تواتر سے نا اہلی کے فیصلے آتے رہیں نوازشریف اور مریم نواز کو جیل کی سزا ہونے کے بعد متوقع عوامی احتجاج کو روکنے اور حکمران جماعت کی الیکشن مہم کو قابو کرنے کے لیے چھاپوں اور گرفتاریوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا بہت سے کیس نیب میں کھل جائیں گے پالیسی سازوں اور فیصلہ سازوں کے لیے مسئلہ اب کرپشن نہیں بلکہ یہ ہے کہ نواز شریف کو جیل بھیج کر کہیں اسے سیاسی طور پر الیکشن میں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں بدلے ہوئے نواز شریف کو فی الحال تو برداشت کر رہی ہے لیکن مستقل ایسا نہیں ہوسکتا نواز شریف کی اخبار نویسوں سے گفتگو سنسر ہونا شروع ہوگئی ہے نواز شریف ذہنی طور جیل یاترا کے لیے تیارہیں پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ ان کے جیل جانے کے بعد شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز قیادت کریں گے نواز شریف نے مسلم لیگی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے، نواز شریف موجود پارلیمنٹ سے مایوس دکھائی دیتے ہیں اس بات کے منتظر ہیں کہ 2018ء کے انتخابات میں تگڑی پارلیمنٹ آ گئی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا اب تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی پھٹ پڑے ہیں اورکہا کہ نیب نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے اس سے پوری بیورو کریسی خوفزدہ دکھائی دیتی ہے سرکاری مشینری مفلوج ہو کر رہ گئی ہے افسران چھٹیاں لے کر گھروں میں بیٹھ گئے ہیں نیب کے حوالے سرکاری دستاویزات دینے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ہے اور بیرسٹر ظفر اللہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے جو آئندہ چند دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

Share this: