سید عمران بخاری سے فرائیڈے اسپیشل کی گفتگو

فرائیڈے اسپیشل: حکومت نے بجٹ پیش کیا اور آپ کی جانب سے بھی بہت سی تجاویز دی گئی تھیں، یہ بتائیے کہ بجٹ سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
سید عمران بخاری: شور ہم نے بھی سنا تھا، لہٰذا بجٹ سنا ہے، چیرا ہے لیکن لہو کا قطرہ بھی نہ نکلا۔ بجٹ میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ 52462 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 4888.6 ارب روپے ہے اور ایف بی آر کے لیے ہدف 4436 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ خسارہ 18 کھرب 190 ارب روپے ہے۔ بجٹ میں مجموعی طور پر 184.4 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے۔ بجٹ کے اگلے روز ہی ایف بی آر نے کہہ دیا کہ ریلیف اقدامات زیادہ ہونے کے باعث 91.17 ارب روپے کا ریونیو نقصان ہوگا۔ بجٹ میں تعمیراتی منصوبوں میں صرف سیمنٹ پر ہی بات ہوئی ہے، اس پر بھی ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پانچ ہزار سے زیادہ ڈیوٹی ٹیرف لائن میں شامل لاکھوں اشیاء کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کے ریٹ میں مزید ایک فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ ہم تو اسے
امیروں کا بجٹ کہتے اور سمجھتے ہیں۔ بجٹ میں انکم ٹیکس کے قانون میں ایک اہم تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ نان فائلرز کے نئی گاڑیاں خواہ وہ ملک کی بنی ہوئی ہوں یا درآمد شدہ ہوں، خریدنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ فنانس بل کے مطابق سپر ٹیکس کا نفاذ بدستور رہے گا، جو بینکنگ کمپنیوں پر 3 فیصد اور نان بینکنگ کمپنیوں پر 30 فیصد کے حساب سے نافذ ہے۔ بجٹ میں فریج، واشنگ مشین، ویکیوم کلینر اور گھروں میں استعمال ہونے والی درجنوں دوسری اشیاء کی سی کے ڈی اور ایس کے ڈی حالت میں درآمد پر دس فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جس سے یہ تمام درآمدی اشیاء مہنگی ہوجائیں گی۔ اِس بار شادی ہالز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے، اور بڑے شہروں میں واقع شادی ہالز یا کھلے میدان میں تقریب کرنے پر بل کا پانچ فیصد یا 20 ہزار روپے ان دونوں میں سے جو زیادہ ہو، ادا کرنا پڑیں گے، جبکہ چھوٹے شہروں میں ریٹ بل کے پانچ فیصد یا دس ہزار روپے کا ہوگا۔
فرائیڈے اسپیشل: ٹیکس اصلاحات کے لیے دی جانے والی تجاویز پر کس حد تک عمل ہوا؟
سید عمران بخاری: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اعلان کیا تھا کہ بارہ لاکھ روپے سالانہ تک آمدن پر انکم ٹیکس زیرو ہوگا، تاہم فنانس بل میں وزیراعظم کے اس اعلان پر سیاہی پھیرتے ہوئے 12 لاکھ روپے تک کی آمدن پر تین سلیب میں انکم ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ فنانس بل کے مطابق 4 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر ٹیکس ریٹ زیرو ہوگا، جبکہ 4 سے 8 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر ایک ہزار روپے، اور 8 سے 12 لاکھ روپے تک کی آمدن پر دو ہزار روپے سالانہ انکم ٹیکس لاگو ہوگا۔ اسی طرح 12 سے 24 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر پانچ فیصد انکم ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔ جبکہ 24 سے 48 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدن پر تین لاکھ روپے مع 15 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے ٹیکسوں کی شرح پر بھی نظرثانی کی گئی ہے، تاہم ان کی 4 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدن پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔
فرائیڈے اسپیشل: دفاعی بجٹ کو دیکھا جائے اور خطے کی صورتِ حال سامنے رکھی جائے تو کیا نقشہ بنتا ہے؟ کیا واقعی یہ بجٹ دفاعی ضروریات پوری کرتا ہے؟
سید عمران بخاری: روایتی حریف بھارت کے 62 ارب ڈالر کے نئے دفاعی بجٹ اور افراطِ زر کی شرح اور مہنگائی کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی بجٹ میں ایک کھرب روپے کا اضافہ محض علامتی نوعیت کا نظر آتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مکمل بندش اور دفاع و سلامتی کے لیے امداد ختم کرنے کے بعد اب انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز اور ان کے لیے درکار اسلحہ اور آلات کے تمام تر اخراجات کا بوجھ بھی دفاعی بجٹ پر آن پڑا ہے۔ بھارت کے دفاعی بجٹ ساڑھے 62 ارب ڈالر کے برعکس پاکستان کے نئے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ کا مکمل حجم 11 ارب ڈالر سے کچھ ہی زیادہ بنتا ہے۔ بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ اقوام عالم کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔ بھارتی فوج کا بجٹ پاک فوج کے بجٹ سے کم از کم چھے گنا زیادہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: قومی اسمبلی میں بجٹ پر اپوزیشن جماعتوں کے ردعمل کو آپ کتنا عوامی سمجھتے ہیں؟
سید عمران بخاری: کچھ بھی نہیں۔ قومی اسمبلی میں سوائے جماعت اسلامی کے کوئی بولتا ہی نہیں، سب سیاست کرتے ہیں۔ بجٹ تقریر سے پہلے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں اعتراض اٹھایا کہ کسی اجنبی شخص سے جو سرے سے قومی اسمبلی یا سینیٹ کا رکن ہی نہیں ہے، بجٹ پیش کرانا پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی تائید کی، لیکن سب سیاست کررہے ہیں۔ اگر یہ اجنبی تھا تو پھر انہوں نے اس کا بجٹ سنا کیوں؟ اجنبی شخص سے ایوان میں بجٹ تقریر کراکے آئین سے روگردانی کا مزید اقدام اٹھایا گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے ذرا بڑھ کر سیاست کی اور اس کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے خوب ہنگامہ کیا لیکن آئین نہیں پڑھا۔ آئین کی دفعہ 92 شق (1) کے تحت وزیراعظم اپنی کابینہ میں قومی اسمبلی یا سینیٹ کے کسی منتخب رکن کو ہی شامل کرسکتے ہیں، جبکہ آئین کے اس تقاضے کے تحت وزیر یا وزیرمملکت کے منصب پر فائز ہونے والے مجلس شوریٰ (قومی اسمبلی و سینیٹ) کے کسی رکن کی مجلس شوریٰ کی رکنیت ختم ہونے کی صورت میں وزیراعظم اسے آئین کی دفعہ 91 شق 9 کے تحت چھے ماہ تک وزیر کے منصب پر برقرار رکھ سکتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے مفتاح اسماعیل کا تو بطور وفاقی وزیر تقرر ہی آئین کی دفعہ (1)92 کو پیش نظر رکھ کر نہیں کیا گیا، اس لیے ان کے بطور وفاقی وزیر تقرر کے لیے آئین کی دفعہ 91 شق 9 کا سہارا نہیں لیا جا سکتا۔ اس وقت چونکہ موجودہ اسمبلی کی اپنی میعاد صرف ایک ماہ کی رہ گئی ہے، اس لیے اس اسمبلی میں کسی غیر رکن اسمبلی کو چھے ماہ تک وفاقی وزیر کے منصب پر کیسے فائز رکھا جا سکتا ہے!
فرائیڈے اسپیشل: حکومت اسے ایک یادگار بجٹ کہہ رہی ہے، آپ کا تعلق متوسط طبقے سے ہے، یہ بتائیے کہ حقائق کیا ہیں؟
سید عمران بخاری: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں حکومت کے پیش کردہ چھٹے بجٹ کو یادگار بجٹ قرار دیا اور کہا کہ بجٹ میں عوام کے لیے جو ریلیف دیا گیا ہے وہ اس سے پہلے پاکستان میں کسی بجٹ میں نہیں دیا گیا۔ ان کے اس دعوے کے برعکس بجٹ کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اُن کی روشنی میں عوام کو ریلیف سے زیادہ مہنگائی کے تحائف اس بجٹ کے ذریعے ملتے نظر آرہے ہیں جن پر مختلف بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم مصنوعات پر بڑھائی گئی لیوی کی شرح میں اضافے کے باعث مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا، جبکہ گھریلو درآمدی اشیاء پر ٹیکس لگنے سے بھی زیادہ تر عام آدمی ہی متاثر ہوگا۔ اسی طرح شادی ہالز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا بوجھ بھی عام آدمی پر ہی پڑے گا، کیونکہ شادی ہالز کے مالکان یہ ٹیکس شادی کی تقریب کے لیے بکنگ کرانے والوں سے ہی وصول کریں گے۔ بجٹ میں سیمنٹ اور سریا کے نرخ بڑھا کر عوام کی گھر بنانے کی سکت بھی ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے برعکس سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافے کا دیا گیا ریلیف تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے، کیونکہ بجٹ کے نتیجے میں بڑھنے والی مہنگائی اس ریلیف کو بہا کر لے جائے گی۔ اسی بنیاد پر سرکاری ملازمین اور دوسرے طبقات سراپا احتجاج نظر آرہے ہیں، اور سرکاری ملازمین کی تنظیمیں تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافے کا تقاضا کررہی ہیں۔ اسی طرح لاہور چیمبرز آف کامرس کی جانب سے بجٹ میں عائد کیے گئے غیرمنصفانہ ٹیکسز ختم کرنے کا تقاضا کیا جارہا ہے۔ بجٹ میں ای او بی آئی کے پنشنرز کو اِس بار بھی یکسر نظرانداز کیا گیا ہے جن کی حقیر رقم پر مبنی پنشن میں ایک دھیلے کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔
فرائیڈے اسپیشل: ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نافذ کی گئی ہے اور ایک موقع دیا گیا ہے کہ ملک سے باہر پڑی ہوئی دولت واپس لائی جائے۔ آپ کے خیال میں یہ اسکیم کیسی ہے اور کتنی فائدہ مند ہوگی؟
سید عمران بخاری: ایمنسٹی اسکیم اچھی ہے یا بری، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ایسے اقدامات کرے کہ ٹیکس بھی ملتا رہے اور ایسی کوئی اسکیم بھی نہ لانی پڑے۔ جہاں تک اس اسکیم کا تعلق ہے، کہا جارہا ہے کہ حکومت اپنی بہترین حکمت عملی کے ساتھ اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ دیکھتے ہیں کیا فائدہ ہوتا ہے! ہم تو کہہ رہے ہیں کہ معیشت کی بہتری کے لیے گین ٹیکس بھی ختم ہونا چاہیے۔ گین ٹیکس کی وجہ سے کاروبار میں بہت زیادہ مندی آئی ہے۔ اگر گین ٹیکس کی شرح کم کردی جائے تو حکومت کے لیے ریونیو میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کی ناقص ٹیکس پالیسی کی وجہ سے یہ کاروبار شدید بحران کا شکار ہے اور گین ٹیکس کی وجہ سے کاروبار میں مندی آئی ہے۔ اس ٹیکس کی شرح کم ہونی چاہیے۔

Share this: