چند انگریزی اصطلاحات کا متبادل

ایک بہت ہی غلط لفظ اردو میں مستعمل ہے جس کی اصلاح ضروری ہے۔ اور وہ ہے ’’لوطیت اور لواطت‘‘۔ گزشتہ دنوں ایک بڑے اخبار میں دینی استفسارات کا جواب دیتے ہوئے ایک بڑے عالم دین نے بھی لواطت کا لفظ استعمال کیا، استغفراللہ۔ لغت ’نوراللغات‘ کے مطابق یہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عربی میں بھی رائج ہے۔ اہلِ ایران نے ’’لوطی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مشہور پیغمبر لوطؑ کی وضاحت کرتے ہوئے مذکورہ لغت میں لکھا ہے ’’لواطت ان کی قوم میں بے حد تھی‘‘۔ ایک بدکاری کو حضرت لوطؑ سے منسوب کرنا، لوطی اور لواطت کی ترکیب استعمال کرنا اللہ کے پیغمبر کی شان میں گستاخی ہے۔ حضرت لوطؑ تو اس فعلِ بد کے شدید مخالف تھے اور اسی بدکاری کی وجہ سے قومِ لوط پر عذاب نازل ہوا۔ ہمیں اس فعلِ بد کی نسبت حضرت لوطؑ سے کرتے ہوئے ذرا تو سوچنا چاہیے۔ اس سے بہتر تو انگریزی ہے کہ اس فعل کی نسبت قوم سدوم اور شہر سدوم سے کی گئی ہے جس کا ترجمہ ’’سدومیت‘‘ ہے۔
ہم نے دوسروں کو کئی بار سمجھایا کہ LAW انگریزی کا لفظ ہے، اس کے بعد ہمزہ نہیں لگنی چاہیے، لیکن اخبارات میں بڑے اہتمام کے ساتھ ’’مارشل لاء‘‘ شائع ہورہا ہے۔ ایک قاری نے توجہ دلائی ہے کہ پیر 23 اپریل کے اداریے کی سرخی اور متن میں ’’مارشل لاء‘‘ شائع ہوا ہے۔ اب کوئی نہ سمجھے تو ہم کیا کریں۔ سنڈے میگزین کے ایک مضمون میں کئی جگہ دیہاڑی موجود ہے۔ اخبارات بھی دن دیہاڑے لکھ رہے ہیں۔ دہاڑی اور دن دہاڑے میں ’’ی‘‘ نہیں آتی، خواہ دہاڑی کتنی ہی ہو۔ ایک اور عمومی غلطی اخبارات میں یہ نظر آرہی ہے کہ دو جمع یکجا ہوجاتی ہیں۔ مثلاً وہ آئیں تھیں، یہ باتیں سمجھائیں تھیں، چاہئیں تھیں… وغیرہ۔ اس میں غلطی اخبارات اور خبر ایجنسیوں کے ایڈیٹرز، سب ایڈیٹرز وغیرہ کی ہے۔ وہ ذرا سی احتیاط سے کام لیں تو اس غلطی سے بچ سکتے ہیں، بشرطیکہ اسے غلطی تسلیم کریں۔ ’’آئی تھیں، سمجھائی تھیں‘‘ وغیرہ میں کیا قباحت ہے! ادائیگی بھی آسان ہوجاتی ہے۔ ایک اور غلطی یہ ہورہی ہے کہ مذکر مونث، واحد جمع کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ مثلاً ایک اخبار کی سرخی ہے ’’لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئے تھے‘‘۔ یہاں ’’ہوگئے تھے‘‘ کی جگہ ’’ہوگئی تھی‘‘ کا محل تھا، ورنہ لکھا جاتا ’’لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوگئے تھے‘‘۔
ادارہ فروغِ قومی زبان کے تحت اسلام آباد سے بڑا موقر رسالہ ’’اخبار اردو‘‘ شائع ہورہا ہے۔ اس میں بڑے قیمتی مضامین شامل ہوتے ہیں۔ فروری، مارچ 2018ء کے شمارے میں یوں تو زبان کے حوالے سے سارے ہی مضامین قابلِ قدر ہیں تاہم رئیس احمد مغل کا مضمون ’’مجوزہ تراجم اصطلاحات‘‘ وقت کی ضرورت ہے۔ اردو میں نہ صرف انگریزی کے بہت سے الفاظ چپک کر بیٹھ گئے ہیں بلکہ ایسی ایسی اصطلاحات شامل ہوگئی ہیں جن کا مناسب ترجمہ بھی مشکل ہے۔ رئیس احمد مغل تحقیق کے آدمی ہیں اور پاکستان میں گنتی کے اُن چند لوگوں میں شامل ہیں جو عبرانی زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں۔ انہوں نے 5 اصطلاحات کے تراجم اہلِ علم کے تجزیے اور تبصرے کے لیے پیش کیے ہیں۔ ایک اصلاح ’’کے پیسٹی بلڈنگ‘‘ ہے، اس کا متبادل انہوں نے ’’اہلیت افزائی‘‘ دیا ہے۔ گو کہ یہ ترجمہ نامانوس ہے لیکن خود کیپیسٹی بلڈنگ (CAPACITY BUILDING) کون سا مانوس اور عام فہم لفظ ہے! مفہوم اس کا یہ ہے کہ کسی بھی ادارے یا فرد کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں درپیش اُن مشکلات کو دور کیا جائے جن کا تعلق صلاحیت یا تربیت سے ہے۔
نئی اصطلاحات شروع میں تو نامانوس معلوم ہوتی ہیں لیکن استعمال عام ہوجائے تو اجنبیت ختم ہوجاتی ہے۔ دوسری اصطلاح ’’چائنا کٹنگ‘‘ ہے جو کراچی میں تو بہت عام ہے۔ رئیس مغل کے مطابق چین نے اس اصطلاح پر اعتراض کیا ہے۔ رئیس نے اس کا ترجمہ ’’تجاوزی قبضہ‘‘ کیا ہے۔ یہ نہ صرف چائنا کٹنگ کے مقابلے میں اپنا اپنا سا ہے بلکہ اس سے مفہوم بھی واضح ہوجاتا ہے۔ اس کا اطلاق تو حکومتوں اور سیاسی جماعتوں پر بھی آسانی سے ہوسکتا ہے۔ کئی جگہ تجاوزی قبضہ نظر آرہا ہے۔ رئیس احمد مغل کے بقول چائنا کٹنگ کی اصطلاح پر چین نے اعتراض کیا ہے کہ اسے چین سے کیوں منسوب کیا گیا! وجہ اس کی کیا ہے، یہ تو معلوم نہیں، لیکن چین کو تو اس پر فخر کرنا چاہیے کہ اسے یوں بھی یاد کیا جاتا ہے۔ چین کی اشیاء کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ ناپائیدار ہوتی ہیں۔ وہ چائنا کٹنگ کا حوالہ دے کر اس تاثر کو دور کرسکتا ہے۔
رئیس احمد مغل نے مانیٹرنگ کا ترجمہ ’’نگہداری‘‘ کیا ہے۔ ویسے تو عربی کا لفظ ’رقیب‘ اور ’رقابت‘ بھی ہم معنیٰ ہے، گو کہ ’رقیب‘ اﷲ کا صفاتی نام ہے لیکن اردو شاعروں نے اسے خوب خوب استعمال کیا ہے۔ شاعروں کا رقیب بھی ان کے محبوب پر نگہ رکھتا ہے۔ رئیس مغل نے لکھا ہے کہ انگریزی میں مرکب اصطلاح ’مانیٹرنگ باڈی‘ مستعمل ہے جس کے لیے اردو میں ’نگہدار‘ بھی کام میں لایا جاسکتا ہے۔ عسکری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیموں میں کثرت سے ایس او پیز (SOP’s) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ بنیادی مفہوم ہے: کسی بھی کام کو سرانجام دینے کے لیے ذمے داران، امور کی ترتیب اور تسلسل کا تعین۔ اردو میں اس کا ترجمہ ’’متعین طریقہ کار‘‘ ہے۔ یہ ترجمہ سہل ہے۔ ایسی ہی ایک اصطلاح ’’ٹی او آرز‘‘ (TOR’s) ہے جس کا چلن سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں میں عام ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اخبارات میں ٹی او آرز کا بڑا چرچا رہا کہ اب تک ٹرمز آف ریفرنس طے نہیں ہوسکے۔ مفہوم ان بنیادی اصولوں کا ’تعین‘ ہے جن کے تحت کوئی کام سرانجام دیا جائے گا۔ قانونی دستاویزات میں اس اصطلاح کی قانونی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ قانونی اصطلاح ہونے کے ناطے (ناتے) یہ اور بھی ضروری ہے کہ اس کا مفہوم اردو میں واضح ہو۔ مجوزہ ترجمہ ’ضابطۂ کار‘، جمع کی صورت میں ’ضوابطِ کار‘۔ اردو میں ایسے گھس پیٹھیے (’بیٹھیے‘ نہیں) الفاظ کا متبادل تلاش کرنا بلکہ ان کو عام کرنا بہت ضروری ہے۔ فارسی اور عربی میں بھی غیر ملکی الفاظ کا متبادل تلاش کرلیاگیا ہے اور کچھ الفاظ کو مفرس یا معرب کرلیا گیا ہے۔ عربوں نے تو فلم کی جمع ’افلام‘ بھی بنالی، لیکن اردو میں فلم ہی ٹھیک ہے، فلم خواہ کیسی ہو۔
ہمارے لاہوری دوست بار بار متوجہ کررہے ہیں کہ اخبارات ’’عطائی‘‘ کو ’اتائی‘ لکھ رہے ہیں۔ بھائی درست تو ’اتائی‘ ہی ہے، لغت میں بھی ایسے ہی ہے۔ خود غور کیجیے کہ عطائی ڈاکٹر میں عطائی کا مطلب کیا ہوا؟ عطا تو اچھے معنوں میں آتا ہے۔ کسی جعل ساز یا نیم حکیم و ڈاکٹر کو یہ عطیہ نہیں مل سکتا۔ ’اتائی‘ ہندی کا لفظ ہے اور مطلب ہے: بے استاد، جس نے کسی فن یا علم کو باقاعدہ حاصل نہ کیا ہو، یا وہ اس کا آبائی پیشہ نہ ہو جیسے حکیم۔ اتائی صرف نیم ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ دوسرے پیشوں میں بھی ہوتے ہیں، مثلاً فرہنگ نوراللغات میں ہے ’’کہنے کو تو وہ اتائی ہے مگر اچھے اچھے درزیوں کے کان کاٹتا ہے‘‘۔ ایسا ہے تو سیاست میں آنے والے کئی سیاست دان بھی اتائی کہلائے جاسکتے ہیں۔ اِتائی کے الف پر زبر نہیں زیر ہے۔
گزشتہ اتوار کو لاہور کے جلسے کی تعریف میں پارٹی کے ایک رہنما ٹی وی پر بتارہے تھے کہ ’’کھوّے سے کھوّا‘‘ چھل رہا تھا۔ کھوّا بر وزن کوّا۔ شاید بہت زیادہ ہجوم ہو تو ’کھوا‘ کھوّا بن جاتا ہو ورنہ یہ کھوا بر وزن ہوا ہے۔ اس پر تشدید لگانا شدت پسندی ہے۔ کھوا ہندی کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے: کندھا، مونڈھا، یعنی ایسا ازدحام کہ کندھے سے کندھا چھلے۔ ایک شعر برداشت کرلیں:
وہ دل کے کوچے ہیں اب سارے خالی
کھوے سے کھوا تھا جہاں روز چھلتا
26 اپریل کو جسارت میں شایع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ کیجیے اور خبر بنانے والے کو داد دیجیے۔ خبر ہے ’’سوشل میڈیا کے نوجوان اور متحرک کارکن طاسین سراج کئی سال سے ’’سرطان کے کینسر‘‘ جیسی موذی مرض میں مبتلا تھے‘‘۔ ملاحظہ فرمایا، خبر بنانے والے کو اتنا نہیں معلوم کہ سرطان کینسر ہی کو کہتے ہیں اور مرض مونث نہیں مذکر ہے خواہ کتنا ہی موذی ہو۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اردو کس عالم میں ہے، اس پر اسے ہر شعبے میں رائج کرنے کا مطالبہ۔ ہم پہلے اپنی اردو تو ٹھیک کرلیں۔ مذکورہ خبر کسی اردو دان نے بنائی ہوگی اور اردو اخبار میں جوں کی توں شایع ہوگئی۔
nn

Share this: