کیا آئندہ انتخابات وقت پر ہوسکیں گے؟

سندھی تحریر: اشفاق آذر
ترجمہ: اسامہ تنولی
’’نوازشریف کی نااہلی کے بعد نواز لیگ کو دوسرا بڑا جھٹکا وزیر خارجہ خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کی صورت میں ملا ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے آیا ہے اور خواجہ آصف کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کرنے کا موقع تاحال موجود ہے، لیکن جس نوع کا فیصلہ دیا گیا ہے اُس میں انہیں ریلیف ملنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس فیصلے کو آئندہ الیکشن سے پیشتر نواز لیگ کے لیے ایک انتہائی بروقت ضربِ کاری گردانا جا رہا ہے، کیوں کہ خواجہ آصف اُن چند رہنمائوں میں شامل ہیں جو نوازشریف کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتبار قرار دیے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف حکومتی پالیسیوں کے دفاع بلکہ پارٹی معاملات کے حوالے سے بھی اہم اور جارحانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اپنے سیالکوٹ کے حلقے سے کشمیری برادری کے بل بوتے پر الیکشن میں لگا تار ناقابلِ شکست رہنے والے خواجہ آصف کے والد خواجہ محمد صفدر سابق آمر جنرل ضیاء الحق کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ وہ جنرل ضیاء کی بنائی گئی مجلسِ شوریٰ کے چیئرمین بھی تھے۔ سیاست میں آنے سے قبل خواجہ آصف عرب امارات میں بہ طور بینکر طویل عرصے تک کام کرتے رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر دہری شہریت رکھنے کا الزام عائد کیا گیا جس سے وہ بری ہوگئے۔ جب 1990ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں وہ وطن واپس آئے تو نواز لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ اوائل میں سینیٹر منتخب ہوئے، بعدازاں نواز لیگ کی حکومت میں مختلف عہدوں پر وزیر رہے۔ کہا جارہا ہے کہ نوازشریف کی جلا وطنی کے دوران انہوں نے جس طور سے اپنی پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھائی اُس نے انہیں نوازشریف کے قابلِ بھروسا افراد کی فہرست میں شامل کردیا۔
خواجہ آصف مختلف اوقات میں اپنے مخالفین خصوصاً پی ٹی آئی رہنمائوں کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں نشانۂ تنقید بناتے رہے۔ ان کا یہ جملہ ’’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے‘‘ تو حد درجہ مشہور ہوا۔ اس کے علاوہ خاتون رہنما شیریں مزاری کے لیے ان کے کہے گئے متنازع جملے ہوں، یا عمران خان کے لیے بولی جانے والی زبان… وہ نواز لیگ کے اُن رہنمائوں میں سے تھے جو جوشِ خطابت سے میدان مار لیا کرتے ہیں۔ ایسے رہنمائوں سے محرومی ظاہر ہے کہ نواز لیگ کے لیے ایک بڑا سیٹ بیک ثابت ہوگی۔ لیکن یہاں پر ایک عام آدمی کے لیے سوال جو اس کے ذہن میں جنم لیتا ہے، وہ یہ بھی ہے کہ آخر یہ ’’اقامہ‘‘ ہے کیا؟ جسے حاصل کرنا سیاست دانوں، کاروباری افراد اور امیر لوگوں کی اکثریت ضروری سمجھتی ہے؟ اقامہ یا ورک پرمٹ دراصل وہ قانونی دستاویز یا اجازت نامہ ہوتا ہے جس کے تحت کوئی بھی فرد بیرونِ ملک رہائش اختیار کرنے اور کام کاج کرنے کے لیے اہل ہوتا ہے۔ ’’اقامہ‘‘ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی بنیاد پر آپ وہاں بینک اکائونٹ بھی کھول سکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو اُس ملک کا ایڈریس بتانا یا پیش کرنا پڑے گا، نہ کہ پاکستان کا۔ یہ اکائونٹ اس لیے کھلوائے جاتے ہیں کہ وہاں پر اپنا سرمایہ یا اثاثہ محفوظ
کرکے رکھا جا سکے، اور اس کی بھنک بھی اہلِ وطن کو نہ پڑے۔ ان کی اکثریت پاکستان میں ظاہر کردہ اپنے اثاثوں میں یہ بینک اکائونٹس ظاہر ہی نہیں کرتی، جس کی وجہ سے ان کا سیاہ دھن (Black Money) کسی بھی طرح کی قانونی گرفت سے محفوظ رہتا ہے۔ اس میں فرق محض اتنا ہے کہ بیرونی بینک شہریت رکھنے والے نہیں بلکہ اقامہ کی حامل شخصیات کی معلومات اُن کے ملکوں کے ساتھ شیئر کرسکتے ہیں، لیکن وہ بھی ملک کے اربابِ اختیار کی درخواست پر۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے نوازشریف کا اقامہ منظرعام پر آیا۔ اگر جے آئی ٹی تحقیقات کرتے ہوئے اس معاملے میں ہاتھ نہ ڈالتی تو اس ملک کے عوام کو کبھی اس بات کا علم نہ ہوپاتا کہ نوازشریف بھی کوئی اقامہ ہولڈر تھے، یا وہ کسی کمپنی میں ملازم تھے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ حاصل بزنجو نے نوازشریف کا اقامہ سامنے آنے پر بیان دیا تھا کہ اگر تحقیقات کی جائیں تو اسمبلی میں بیٹھے ہوئے 60 فیصد ارکان کے اقامے نکل آئیں گے۔ لہٰذا یہ امر باعثِ تعجب نہیں ہے کہ ہمارے سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور دیگر افراد کے لیے اقامہ کشش کا باعث بنا رہا ہے، لیکن موجودہ صورتِ حال میں جب کہ یہ اقامہ ملک کی بڑی پارٹی کے دو بڑے رہنمائوں کو ہڑپ کرچکا ہے، تو کیا اب دیگر رہنمائوں کی باری بھی آئے گی؟ اس کے بارے میں تو آنے والا وقت ہی ثبوت مہیا کرپائے گا، تاہم ایک مثال تو بہرحال قائم ہوچکی ہے کہ اقامہ رکھنے والے جن منتخب نمائندوں نے بھی اپنے اثاثوں میں اس کا ذکر نہیں کیا ہے، یا وہاں (بیرونِ ملک) اپنے کھولے گئے بینک اکائونٹس کو چھپایا ہے تو جلد یا بدیر اقامہ ظاہر ہونے پر آئین کے آرٹیکل 62(1) ایف کی چھری تلے تکبیر کے لیے تیار رہیں۔
اگرچہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے انتخابی مہم کا آغاز ابھی سے ہی ہوچلا ہے۔ پی ٹی آئی نے تو لاہور والے جلسۂ عام سے باضابطہ طور پر اپنی انتخابی مہم چلانے کا اعلان بھی کرڈالا ہے، لیکن سیاسی حلقوں میں انتخابات کے متعلق غیر یقینی پر مبنی صورتِ حال بھی برقرار ہے۔ آئندہ انتخابات کے مقررہ مدت کے اندر ہونے میں بظاہر تو کوئی بھی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی، لیکن ہمارے ملک میں اشیاء دیکھنے میں ایک اور طرح کی ہوتی ہیں لیکن ان کی اصل حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ اور ہمارے ہاں تو عین وقت پر بھی فیصلے تبدیل ہوجایا کرتے ہیں، لہٰذا اس بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی تو نہیں کی جاسکتی، البتہ اِس وقت تک کی نظر آنے والی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ یہ انتخابات نواز لیگ کے لیے اپنے دامن میں کیا ساتھ لے کر آئیں گے؟ اس بارے میں بھی کچھ کہنا قبل از وقت ہی ہوگا۔ تاہم جو دکھائی دے رہا ہے اُس کے پیشِ نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب کی بار نواز لیگ کو ’’ٹف ٹائم‘‘ دینے کا پورا بندوبست اور اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے لیے جو سیاسی انجینئرنگ جاری ہے، وہ قابلِ تشویش ضرور ہے جس کے توسط سے سیاسی جماعتوں کو کمزور کرکے مذہبی حلقوں کی ہمت افزائی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ ایام میں بلوچستان حکومت کی تبدیلی کے بعد نواز لیگ کو سینیٹ کی چیئرمین شپ سے محروم کرنا، جنوبی پنجاب کے منتخب نمائندوں کا نواز لیگ سے اپنی سیاسی راہوں کو جدا کرنا، اور مختلف پارٹی رہنمائوں کا چھوڑ کر چلے جانا جیسے معاملات بتاتے ہیں کہ یہ سلسلہ الیکشن قریب آتے ہی مزید زور پکڑتا جائے گا۔
اب خواجہ آصف کے بعد یہ بھی سرگوشیاں ہورہی ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کی صورت ِحال اور معاملہ وزیر داخلہ احسن اقبال کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔ احسن اقبال نے حال ہی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے ’’اب بہت ہوچکا‘‘ پر مبنی جس طرح کی تقریر کی ہے، وہ آنے والے ایام میں ان کے گلے بھی پڑ سکتی ہے۔ احسن اقبال کے بارے میں بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ موصوف اقامہ ہولڈر ہیں۔ اب یہ امر ان کے اثاثہ جات میں بھی بیان کردہ ہے کہ نہیں؟ اس کے حوالے سے بھی جب کوئی پٹیشن دائر ہوگی تو معاملے کا علم ہو پائے گا۔ دوسری جانب خواجہ سعد رفیق پیراگون ہائوسنگ اسکیم میں پیشیاں بھگت رہے ہیں تو اسحاق ڈار بھی اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب ان کی ازخود وطن واپسی کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔ لہٰذا اگر بہ حیثیتِ مجموعی دیکھا جائے تو میاں نوازشریف کی کابینہ کے اہم رہنما پہلے ہی سے مصائب کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں، جن میں سے چودھری نثار علی خان پہلے ہی غیر اعلانیہ طور پر اپنی راہیں ان سے الگ کرچکے ہیں، یعنی چودھری نثار اور نواز لیگ میں علیحدگی ہوچکی ہے، البتہ رسمی طور پر طلاق ہنوز نہیں ہوسکی ہے اور دستخط کرنا ابھی باقی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں نوازشریف کے ہاں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ ہی بہ طور آپشن واحد حل رہ گیا ہے، کیوں کہ موجودہ صورتِ حال میں نہیں لگتا کہ کسی معاہدے یا نئے این آر او کا کوئی امکان باقی رہا ہو۔ نوازشریف اپنے بیانیہ میں اتنے زیادہ آگے بڑھ چکے ہیں کہ اب کسی بھی طرح کا کوئی معاہدہ اُن کے لیے دائمی سیاسی موت کا باعث ثابت ہوگا۔ لیکن وہ عمر کے جس حصے میں ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ انہیں اپنی کوئی فکر لاحق ہوگی۔ اگر انہیں کوئی پریشانی ہوگی بھی تو اپنی صاحب زادی سے متعلق ہوگی، جنہیں وہ اپنا سیاسی جانشین گردانتے ہیں۔ مریم نواز بھی اگر اپنے والد کے ساتھ سیاست سے آئوٹ ہوگئیں تو پھر یہ وہ نواز لیگ ہوگی جو بالآخر قاف لیگ کی سی صورت اختیار کرلے گی۔ اصل پارٹی شہبازشریف کے ہاتھوں میں چلی جائے گی۔ شہبازشریف نے اِس وقت تک کسی بھی عوامی فورم پر نوازشریف کے بیانیہ کو اس طرح سے بیان نہیں کیا ہے جس طرح سے نوازشریف یا مریم نواز بیان کررہے ہیں۔ اس کے برعکس شہبازشریف صرف روایتی سیاسی مخالفت اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اپنی بات پیش کیا کرتے ہیں۔ وہ پنجاب میں اپنی کارکردگی کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کو بھی ہدفِ تنقید بناتے ہیں، سندھ آتے ہیں توپیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت پر گرجتے برستے ہیں، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلوں یا نیب کیس کے حوالے سے اُس طرح سے بات نہیں کرتے جس انداز سے نوازشریف کیا کرتے ہیں۔ شہبازشریف سے کہیں زیادہ سخت مؤقف تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پیش کرتے ہیں، جو مختلف مواقع پر عدلیہ پر دورانِ تنقید یہ کہتے رہتے ہیں کہ اداروں کو اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے۔
بہرکیف نواز لیگ کی قیادت کے لیے یہ وقت انتہائی کٹھن ہے۔ انہیں مقدمات کا سامنا بھی کرنا ہے اور پارٹی کو بھی منظم رکھنا ہے تاکہ آئندہ الیکشن میں بھرپور حصہ لیا جاسکے، لیکن برسرِِ زمین حقائق یہ ہیں کہ جوں جوں الیکشن کا وقت قریب آرہا ہے، پارٹی کو متحد رکھنا نواز لیگ کے لیے ایک چیلنج بنتا جارہا ہے۔ ایک سازشی تھیوری یہ ہے کہ نواز لیگ کا راستہ روکنے کے لیے نگران حکومت کی میعاد بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ اس لیے مختلف کیسز بھی کھولے جائیں گے۔ جب کہ نوازشریف کے خلاف نیب کا فیصلہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ نوازشریف کو نیب سے کسی مختلف فیصلے کی امید نہیں ہے اور وہ جیل جانے کے لیے بھی اپنا ذہن بنا چکے ہیں، لیکن اہم بات نواز لیگ کی انتخابی مہم کا چلنا ہے۔ نوازشریف کہہ چکے ہیں کہ انتخابی مہم صرف ایک نکتہ یعنی ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کے تحت ہی چلائی جائے گی۔ اب بھی وہ جس تقریب یا جلسے میں جاتے ہیں، اپنی یہی بات کیا کرتے ہیں، مگر نیب کے فیصلے کے بعد اگر وہ اس رابطے سے بھی محروم کردیے جاتے ہیں تو پھر شہبازشریف پارٹی صدر ہونے کے ناتے اس بیانیہ کو کس طور سے ووٹرز کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے استعمال کرپائیں گے، یہ قابلِِ دید ہوگا۔ جہاں تک آئندہ انتخابات کے نتائج کا تعلق ہے تو بعض تجزیہ نگار اس رائے کے حامل ہیں کہ آئندہ انتخابات کے نتائج پہلے ہی سے نوشتۂ دیوار کے مصداق دکھائی دے رہے ہیں۔ بھلے سے نوازشریف کتنے ہی پُرجوش کیوں نہ ہوں، لیکن اُن کے لیے سینیٹ الیکشن محض ایک ٹریلر تھے اور پوری فلم عام انتخابات کے موقع پر چلائی جائے گی، جسے دیکھنا نواز لیگ کے لیے صدمے سے کم ہرگز نہیں ہوگا۔ انتخابات سے قبل جو سیاسی بازار گرم ہوگا، اس میں نئے سیاسی اتحاد اور گٹھ جوڑ کی سیاست عروج پر پہنچ جائے گی۔ اُس وقت تک ہمارے ساتھ رہیے گا، اور دیکھتے رہیے سیاسی سینما میں نت نئے انداز کے سیاسی ٹریلر!!‘‘
nn

Share this: