ایران جوہری معاہدہ۔۔۔ اسرائیل کے نئے الزامات

۔30 اپریل کو اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو المعروف ’’بی بی‘‘ نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے خفیہ ادارے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ایک لاکھ سے زیادہ دستاویزات اڑا لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تہران 2015ء کے معاہدے کی ’روح‘ کے مطابق اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے میں مخلص نہیں۔ پریس کانفرنس میں POWER POINT پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن میں بی بی نے ثابت کیا کہ ایران نے عماد پروجیکٹ کے نام سے جوہری پروگرام جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دستاویزات کے اس پلندے میں عماد پروجیکٹ کے بارے میں ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔ انھوں نے صحافیوں کو عماد کی فائلیں اور ٹیپ بھی دکھائے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 10 کلو ٹن کے 5 جوہری بموں کی تیاری اور میزائلوں پر تنصیب عماد کا فوری ہدف ہے۔ ہیروشیما پر ایسے ہی بم گرائے گئے تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ دستاویزات کے اس پلندے اور دوسرے مشمولات کا مجموعی وزن نصف ٹن کے قریب ہے۔ اس موقع پر انھوں نے فائلوں کی الماری، جِلد بند دستاویز، CD، نقشے اور پرانے کمپیوٹر ٹیپ بھی دکھائے۔ وزیراعظم کا دعویٰ تھا کہ ایران نے’عماد پروجیکٹ‘ کے نام سے پابندیوں کے وعدوں کے باوجود اپنا خفیہ جوہری پروگرام جاری رکھا ہوا ہے۔ اب تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ اسرائیلی خفیہ اداروں نے الیکٹرانک نقب زنی (Hacking)کے ذریعے یہ دستاویزات اڑائی ہیں، یا یہ موساد کی چھاپہ مار کارروائی کا نتیجہ ہے؟ تاہم جِلد بند دستاویز، CD اور سموچی الماریوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ سب کچھ چھاپہ مار کارروائی میں ہتھیایا گیا ہے۔ یورپ کے سراغ رساں اداروں نے اسرائیلی موساد کے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے موساد کے ایجنٹ نہ صرف ایران میں کام کررہے ہیں بلکہ یہ لوگ ایرانی جوہری تنصیبات تک بھی نفوذ حاصل کرچکے ہیں۔ ایران کے نامی گرامی جوہری ماہرین اور سائنس دان قتل کیے جاچکے ہیں، بلکہ موساد کا دعویٰ ہے کہ اُن کے لیے جوہری پروگرام کے سربراہ اور روحِ رواں ڈاکٹر محسن فرخ زادے کو ٹھکانے لگانا بھی کچھ مشکل نہیں، لیکن وہ انھیں قتل کرکے ایران میں موجود اپنے ایجنٹوں کے لیے مشکلات نہیں پیدا کرنا چاہتے۔ موساد کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے 30 اپریل کی پریس کانفرنس میں جو کچھ دکھایا ہے، الماریوں سمیت یہ سارے کا سارا مواد تہران کے مضافاتی علاقے شورآباد میں واقع عماد پروجیکٹ کے خفیہ مرکز سے اڑایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سامان اتنا زیادہ تھا کہ اسے ایک ٹرک پر لاد کر وہاں سے کسی نامعلوم مقام پر پہنچایا گیا، جہاں سے ایک خصوصی مال بردار طیارے پر اسے ایران سے ’برآمد‘ کیا گیا۔ تاہم امریکہ سمیت دنیا کی کسی بھی ایجنسی نے ایران میں کسی بڑی چھاپہ مار کارروائی کی اطلاع نہیں دی۔ چھاپہ مار کارروائی کے دوران فائلیں اور کمپیوٹر اٹھا لانے کے واقعات تو ہوتے چلے آئے ہیں لیکن انتہائی حساس و محفوظ مقام سے الماریاں اور فائل کیبنٹ چراکر انھیں ٹرکوں پر لاد کر باہر لے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ موساد نے شورآباد ہی میں کسی مقام پر ایک خفیہ مرکز قائم کررکھا تھا۔ ایک سال کے دوران جوہری مرکز میں وقتاً فوقتاً نقب زنی کے ذریعے تھوڑا تھوڑا مواد چراکر اس خفیہ مرکز پر جمع کیا گیا، اور جب تمام مطلوبہ مواد چرایا جاچکا تو یہ سامان ایران سے باہر بھیج دیا گیا۔ اسرائیلیوں کے اس دعوے کو امریکہ کے سوا کسی نے بھی سنجیدہ نہیں لیا، کہ ایران کا دفاعی نظام خاصا مضبوط ہے اور وہاں چھاپہ مار کارروائی اتنی آسان نہیں۔ اس نوعیت کی کارروائی اسی صورت میں ممکن ہے جب جوہری مرکز اور پاسدارانِ انقلاب کے کلیدی اہلکار اس کام میں شریک ہوں۔ اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ معاملہ ’بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیبِ داستاں‘ والا ہے۔ اسرائیل نے یہ حساس مواد ایرانی کمپیوٹرز کی ہیکنگکے ذریعے اڑایا ہے۔ اب ایرانیوں کو شرمندہ کرنے، دباؤ میں رکھنے اور اُن کی صفوں میں عدم اعتماد پھیلانے کے لیے شیخی بگھاری جارہی ہے۔
بی بی کی پریس کانفرنس کے دوسرے دن CNN سے باتیں کرتے ہوئے IAEAکے ترجمان فریڈرک ڈال نے اسرائیلی وزیراعظم کے دعووں کو غلط قراردیتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ ایران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ معاہدے کے بعد ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں کسی بھی قسم کی پیش رفت کی ہے یا اسے جاری رکھنے کی کوئی کوشش کی ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے روایتی متکبرانہ لہجے میں فرمایا کہ ایران کے بارے میں اسرائیل سے بہتر اور مصدقہ معلومات کسی اورکے پاس نہیں۔ جب ان سے اسرائیل کے جوہری پروگرام کے بارے میں پوچھا گیا تو بی بی نے جواب دینے کے بجائے کہا کہ ایک بات بہت واضح ہے کہ اسرائیل کسی ملک کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی خواہش نہیں رکھتا۔ معلوم نہیں گزشتہ 65 سال سے اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ کررہا ہے اسے منظم نسل کُشی کے سوا اورکیا عنوان دیا جاسکتا ہے!
اسرائیل کے اس دعوے کا وقت بھی خاصا معنی خیز ہے، کہ ان ہی دنوں میں امریکہ کے نئے وزیرخارجہ مائک پومپیو مشرق وسطیٰ کے دورے پر تھے۔ وہ اسرائیل آنے سے پہلے سعودی عرب اور اردن گئے اور ہر جگہ ان کا موضوع ایران کا توسیع پسندانہ طرزِعمل، مشرق وسطیٰ میں تہران کی مداخلت اور ایران کا جوہری پروگرام تھا۔ سعودی ولی عہد نے تو دھمکی دی کہ اگر ایران کا خفیہ جوہری پروگرام جاری رہا تو ان کا ملک بھی جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس مرحلے پر ایران جوہری معاہدے کا ایک مختصر تعارف قارئین کی دلچسپی کے لیے:
امریکہ اور یورپ کے ماہرین نے 2009ء میں انکشاف کیا کہ ایران جوہری بم بنانے کی تیاری کررہا ہے۔ تہران نے اس بات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ وہ ایٹمی توانائی کو بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ دنیا کے بڑے، ایران کی اس وضاحت سے مطمئن نہ ہوئے، چنانچہ ایران پر اقتصادی پابندیاں لگا دی گئیں جس میں اُس کے خام تیل کی فروخت پر قدغن بھی شامل تھی۔ عالمی دباؤ سے مجبور ہوکر ایران نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی اور برسوں کی تفصیلی گفت و شنید کے بعد پابندیاں ہٹانے کے عوض تہران اپنے جوہری پروگرام کو پہلے معطل اور اس کے بعد رول بیککرنے پر راضی ہوگیا۔ ایران کی جانب سے اصولی رضامندی پر اعصاب شکن مذاکرات کا دور شروع ہوا اور برسوں پر محیط درجنوں ملاقاتوں کے بعد Joint Comprehensive Plan of Action یا JCPOC پر اتفاق ہوگیا۔ JCPOC دراصل ایران کا امریکہ سمیت سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل نمائندوں، جرمنی اور یورپی یونین سے معاہدہ ہے، اسی بنا پر اسے P5+1+EU بھی کہتے ہیں۔ یہ دراصل رول بیک کا معاہدہ تھا جس کے تحت ایران افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے Gas Turbine Centrifuge کی تیاری یا حصول کی کوشش نہیں کرے گا۔ معاہدہ اس قدر گنجلک تھا کہ اصولی اتفاقِ رائے کے بعد متن کے قانونی جائزے اور اس کی نوک پلک درست کرنے میں 20 ماہ سے زیادہ وقت صرف ہوا۔ طویل بحث مباحثے کے بعد یکم جولائی 2015ء کو مسودے کو آخری شکل دی گئی، جس پر 15 جولائی 2015ء سے عملدرآمد شروع ہوا۔ سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ انھوں نے کسی بھی معاہدے پر اتنی محنت نہیں کی جتنی عرق ریزی JCPOC پر کی گئی، اور بلاشبہ یہ ایک بہترین معاہدہ ہے جس میں ہر فریق کے مفادات کو منصفانہ تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ جناب کیری کا کہنا تھاکہ یہ کسی کی جیت یا ہار نہیں بلکہ یہ ایران سمیت ساری انسانیت کی فتح ہے۔
معاہدے پر عمل درآمد کا انتہائی مؤثر نظام وضع کیا گیا ہے جس کی نگرانی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA)کرتی ہے۔ اس بین الاقوامی ایجنسی کے انسپکٹر ہر 6 ماہ بعد تمام ایرانی تنصیبات کا جائزہ لے کر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایران معاہدے کی مکمل پاسداری کررہا ہے۔ IAEAکے ماہرین کو بلا روک ٹوک و نگرانی سارے ایران میں سفر کی اجازت ہے اور انھیں ماہرین اور حکومتی عمّال سمیت کسی بھی ایرانی شہری سے بات چیت کا اختیار حاصل ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے ایران کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں تعینات دفاع اور سائنس کے اتاشیوں سے بھی IAEAکے ایجنٹ جب چاہیں ملاقات کرسکتے ہیں۔ دستخط کے بعد سے ایران کی تمام جوہری تنصیبات کا 5 بار معائنہ کیا جاچکا ہے، اور ہر معائنے کے بعد انسپکٹروں نے جن میں امریکی سائنس دان بھی شامل ہیں، مثبت رپورٹ دی ہے۔
اس معاہدے کی اسرائیل نے شدید مخالفت کی تھی اور تل ابیب کا مؤقف ہے کہ ایرانیوں کی نیت میں فتور ہے اور وہ محض معاشی پابندیاں ہٹوانے کے لیے ’اچھے بچے‘ بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے اقوام متحدہ میں بھی اس معاہدے کی مخالفت کی۔ اُس وقت امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے والے تھے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا زور اسلام مخالفت پر تھا۔ دوسرے بہت سے معاملات کی طرح انھوں نے ایرانی جوہری معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ صدر اوباما اس معاہدے کے ذریعے ایران کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی پر رضامند ہوگیا تھا۔ سابق ایرانی شہنشاہ رضا شاہ پہلوی نے اسلحہ کی خریداری کے لیے امریکی اسلحہ ساز اداروں کو ایک ارب 30 کروڑ ڈالر ادا کیے تھے، لیکن اسلامی انقلاب کے بعد ایران کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی لگادی گئی اور امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے یہ رقم منجمد کردی۔ JCPOC پر دستخط کے بعد سابق صدر اوباما نے یہ رقم ایران کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ پابندیاں اٹھنے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اب تک سفارتی و اقتصادی تعلقات قائم نہیں ہوئے، اس لیے یہ رقم نقدی کی صورت میں مال بردار طیاروں پر ایران بھیجی گئی۔ ڈالر، برطانوی پونڈ، یورو اور یورپ کے کرنسی نوٹوں کی گڈیاں سامان کی طرح لکڑی کے تختوں پر جماکر ایران روانہ کی گئیں۔ صدر ٹرمپ نے صدر اوباما کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی اور دبے لفظوں میں کہا کہ امریکی صدر اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ JCPOC سے زیادہ ’احمقانہ‘ معاہدہ انھوں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ایران کے میزائل پروگرام پر بھی پابندیاں عائد کی جانی چاہیے تھیں جس کی طرف صدر اوباما نے کوئی توجہ نہیں دی۔ انتخابی جلسوں میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ برسراقتدار آکر وہ JCPOC منسوخ کردیں گے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں انھوں نے کہا کہ ’’ایران دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا سرکردہ ملک ہے اور جوہری معاہدے میں بنیادی نوعیت کے سقم ہیں جس کی توثیق نہیں کی جا سکتی‘‘۔ اس ماہ کی 12 تاریخ تک صدر ٹرمپ کو اگلے چھے ماہ کے لیے امریکہ کی جانب سے JCPOCکی توثیق کرنی ہے۔ IAEA کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ایران معاہدے کی پاسداری کررہا ہے جس کی بنیاد پر امریکہ کے سوا تمام دستخط کنندگان نے معاہدے کی توثیق کردی ہے، لیکن وہائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس معاہدے سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر سے ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر نے بھی کہا کہ ان کا غالب گمان ہے کہ صدر ٹرمپ اس معاہدے سے دست بردار ہوجائیں گے۔
فرانسیسی صدر نے اپنے دورۂ امریکہ میں صدر ٹرمپ کو معاہدہ برقرار رکھنے پر مائل کرنے کی بہت کوشش کی اور امریکی کانگریس سے اپنے خطاب میں بھی انھوں نے معاہدہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ اس معاہدے میں بنیادی نوعیت کے چند سقم ہیں، فرانس سمیت معاہدے کے دوسرے دستخط کنندگان کو بھی ایران کے میزائل پروگرام پر تشویش ہے اور ان نکات پر ایران سے بات کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ایک نافذالعمل معاہدے کو یکسر و یک طرفہ منسوخ کردینا کسی طور مناسب نہیں۔ فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ سقم کے باوجود جوہری معاہدے کے تمام فریقوں کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے اور ان کا ملک ایران کے میزائل پروگرام پر گفتگو شروع کرنے کے حق میں ہے۔
یورپی یونین کی بیرونی پالیسی کی سربراہ فریڈریکا مغیرنی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والا بین الاقوامی سمجھوتا کارگر ہے۔ ایران کا منجنیقی یا بیلسٹک میزائل پروگرام قابلِ تشویش ہے لیکن اس معاملے کو علیحدہ طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ مزے کی بات کہ گزشتہ برس اکتوبر میں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مسلح افواج کے سامنے کہا کہ ’’اگر اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ ایران سمجھوتے کی پاسداری کررہا ہے تو ہمیں بھی اس پر کاربند رہنا چاہیے۔‘‘
7مئی کو جرمنی کے شہر برلن میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے غیر مبہم انداز میں کہا کہ اگر امریکہJCPOC سے دست بردار ہوجائے تب بھی فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے علاوہ یورپی یونین نے معاہدہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے جرمنی کے وزیرخارجہ ہائیکو ماس (Heiko Maas) نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے نے دنیا کو کسی حد تک محفوظ کردیا ہے اور اس کی تنسیخ کی صورت میں کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے امریکی دوستوں کو یہ باور کرانے کی کوشش جاری رکھیں گے کہ معاہدے کو یک طرفہ منسوخ کردینا قرین از انصاف نہیں۔
غیر جانب دار مبصرین کو خوف ہے کہ JCPOCکی تنسیخ سے بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ ختم ہوجائے گی۔ اس سے کوریا کا جوہری تنازع سنگین ہوسکتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے جو اشارے مل رہے ہیں اس کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ایران جوہری معاہدے پر امریکہ کے حالیہ رویّے کو بنیاد بناکر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ان کا ملک جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے پر تیار ہوجائے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ صدر ٹرمپ کے بعد آنے والا امریکی صدر اس معاہدے کو ایسے ہی منسوخ نہیں کردے گا جیسے ٹرمپ صاحب اوباما حکومت کی طرف سے کیے جانے والے معاہدے کو منسوخ کررہے ہیں۔ جہاں تک ایران کے میزائل پروگرام کا تعلق ہے تو یہاں بھی ایران کے تحفظات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات علاقے میں اسلحہ کا انبار لگا رہے ہیں۔ تباہ کن میزائل سمیت سعودی عرب 200 ارب ڈالر کا امریکی اسلحہ خرید رہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کشیدگی کے بارے میں سب کو پتا ہے اور اس پس منظر میں ایران کے میزائل پروگرام کو جارحانہ نہیں کہا جاسکتا۔
صدر ٹرمپ اپنی انا کے قتیل ہیں اور انھیں انتہائی منطقی بات سمجھانا بھی ناممکن حد تک مشکل ہے، اور آج کل تو وہ وزیر خارجہ مائک پومپیو، قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور سی آئی اے کی نامزد ڈائریکٹر جینا جیسے مسلم مخالف جنگجوؤں کے نرغے میں ہیں، لہٰذا توقع کے عین مطابق انھوں نے 8 مئی کو ایک نشری تقریر میں اس معاہدے کو منسوخ کرکے ایران پر پابندیاں لگانے کا اعلان کردیا اور خطاب کے فوراً بعد ایک صدارتی فرمان پر دستخط کرکے اپنے فیصلے کو قانونی شکل دیدی۔ ان پابندیوں کے مؤثر ہونے کا فی الحال کوئی امکان نہیں، کہ دوسرے دستخط کنندگان معاہدہ برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں، اور چچا سام کے لیے اتحادیوں کی حمایت کے بغیر ایران کے خلاف پابندی کی کوئی قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کرنا ممکن نہیں۔ تاہم یورپی درآمدات پر محصولات کی شکل میں صدر ٹرمپ کے پاس ترپ کا پتّا موجود ہے۔ اسی لاٹھی اور گاجر سے انھوں نے شمالی کوریا کے مسئلے پر چین کو تابعداری پر مجبور کیا ہے، کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔

Share this: