باپ کی تلاش یا گاڈ فادر کی؟

یہ آج سے تیس، چالیس سال قبل کی بات ہے، انگریزی فلموں کے ٹائٹل بڑے دلچسپ ہوتے تھے۔ یہ اکثر کائو بوائے فلمیں ہوتی تھیں، مثلاً دشمن کی تلاش اور سونے کی تلاش وغیرہ وغیرہ۔ اب پاکستان کی سیاست میں بھی قدیم فلموں کی طرح گاڈ فادر کی تلاش کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ اب یہ ڈائیلاگ فلموں کے بجائے عدالت میں استعمال ہورہے ہیں۔ گاڈ فادر پر پہلی فلم بنی جس میں مارلن برانڈو نے کام کیا ہے۔ اس فلم کو دیکھا نہیں، اس سے متعلق صرف سنا ہے۔ اب چونکہ عدالتِ عظمیٰ میں یہ مشہور جملہ استعمال ہوا ہے تو اس فلم کو دیکھنے کا جی چاہتا ہے۔ سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان میں ایک ایسا کھیل کھیلا گیا ہے کہ سیاست کے شاطر بھی حیران ہیں کہ یہ کیا ہوگیا! کون اس پردے کے پیچھے تھا! آج نہیں تو کل یہ راز کھل جائے گا اور عوام حیران ہوں گے کہ بلوچستان کو کیوں استعمال کیا گیا۔
بلوچستان سیاست کے حوالے سے اپنا ایک خاص تاریخی مقام رکھتا ہے۔ جب اس حصے کے سیاست دانوں نے حقیقی سیاست کا رخ کیا تو جیل کی سلاخیں ان کا مقدر بن گئیں، لیکن وہ عظیم لوگ بکے نہیں، جھکے نہیں… بلکہ کئی سیاست دانوں اور جدوجہد کرنے والوں نے جیل کی کال کوٹھڑی سے تختۂ دار کا سفر بڑی جرأت اور استقامت سے طے کیا، لیکن ضمیر کا سودا نہیں کیا اور تاریخ میں امر ہوگئے۔ نواب بگٹی کی کہانی کل کی بات لگتی ہے، لیکن آج کی نسل اپنی اس تاریخ سے آشنا نہیں ہے اور ماضیٔ بعید تو ان کی نگاہوں سے اوجھل ہے۔ عبدالصمد خان اچکزئی، صادق کاسی، مولوی شمس الدین، نوروز خان، لونگ خان مینگل… ان کے علاوہ نہ جانے اور کتنے مشق ستم بنے ہوں گے اور کتنے گمنام شہید ہوں گے۔ لیکن یہ کل کا بلوچستان تھا۔ آج کا بلوچستان نئے عہد کا بلوچستان ہے۔ اس عہد کی تاریخ کو مستقبل کا مؤرخ کیا نام دے گا؟ اس نسل کے سیاست دانوں کو سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گا یا نہیں؟ تاریخ اپنا سفر جاری رکھے گی۔ وہ وقت کے ساتھ فیصلے کرے گی اور اس کو کوئی روک نہیں سکے گا۔
اب گاڈ فادر کا سفر شروع ہوچکا ہے، اب سیاست گاڈ فادر کے ذریعے فیصلے کرے گی۔ دیکھیں شطرنج کی اس بازی میں کون ہارتا اور کون جیت جاتا ہے، اور کون بازی جیت کر بھی ہارے ہوئوں کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے۔ ابھی یہ کل کی بات ہے کہ نواب بگٹی نے اپنی سیاسی جماعت ’جمہوری وطن پارٹی‘ کا پودا وزیراعلیٰ ہائوس کے سبزہ زار میں لگایا، اور یہ نگران وزیراعلیٰ ہمایوں مری کے اقتدار میں ہوا۔ ہمایوں مری نواب بگٹی کے داماد اور جمیل بگٹی کے بہنوئی تھے۔ نواب بگٹی بلوچستان کی سیاست میں ایک دبنگ شخصیت تھے۔ انہوں نے تن تنہا پارٹی بنائی اور جیت کر دکھایا۔
بی ایس او کے سابق طالب علم لیڈروں نے نئی پارٹی بنائی۔ یہ نیشنل عوامی پارٹی کا نعم البدل تھی، اس کے تمام قائدین کا تعلق بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے تھا۔ ڈاکٹر عبدالحئی اس کے چیئرمین تھے جو اینٹی سردار اور اینٹی نواب کے نعرے لگاتے رہے اور جوانی انہی نعروں میں بسر کی۔ ان کے جلسوں اور تقاریب کی صدارت نواب خیربخش مری کرتے تھے، اور ان کی موجودگی میں کوئٹہ سائنس کالج کا ہال نواب اور سرداری نظام کے خلاف نعروں سے گونجتا تھا، اور نواب ان نعروں کے درمیان بی ایس او کی صدارت کررہے ہوتے۔ بلوچ قبائلی نظام ایک طویل عرصے تک نوابوں اور سرداروں کی گرفت میں رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا۔
1988ء کے انتخابات میں ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی ترقی پسند پارٹی نے ایک نواب سے انتخابی معاہدہ کیا۔ اُس وقت تک نواب بگٹی نے کوئی پارٹی نہیں بنائی تھی، اُن کے ذہن میں جمہوری وطن پارٹی کا نقشہ تھا۔ وہ یہ کہڈاکٹر عبدالحئی کی پارٹی اور نواب بگٹی اپنے ہم خیالوں کے ساتھ مل کر ایک نئی پارٹی بنائیں گے۔ بی ایس او کے نوجوانوں اور ان کے سیاسی گاڈ فادر کو اندازہ ہوگیا کہ اگر نواب بگٹی کے ساتھ پارٹی کو تحلیل کرکے نئی پارٹی بنائی تو نواب بگٹی کو اس کا صدر بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور پارٹی نواب کے ہاتھ میں آجائے گی۔ اس لیے ڈاکٹرعبدالحئی نے ایوب اسٹیڈیم میں پارٹی کنونشن کیا اور پارٹی کے نام سے یوتھ کا لفظ نکال دیا، اس طرح نئی پارٹی بلوچستان نیشنل موومنٹ بن گئی اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اس کے صدر۔ بعد میں نواب نے جمہوری وطن پارٹی کی بنیاد رکھ دی۔ ایوب اسٹیڈیم کے بعد پارٹی کنونشن سرینا ہوٹل میں ہوا اور عبدالحئی بلوچ کو ان کے شاگردوں نے صدارت سے محروم کردیا، اور عبدالمالک بلوچ صدر بن گئے۔ بعد میں میر حاصل بزنجو نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو صدارت سے فارغ کردیا اور خود صدر بن گئے۔ یہ ایک لحاظ سے سیاسی انتقام تھا، اس لیے کہ حاصل بزنجو کے والد مرحوم غوث بخش بزنجو کو 1988ء میں نواب بگٹی، سردار عطاء اللہ مینگل اور ان نوجوانوں نے قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر شکست دی۔
یہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا المیہ تھا کہ شاگردوں نے سیاست کے استاد کو شکست سے دوچار کیا اور غوث بخش بزنجو کی چالیس سالہ سیاست کا خاتمہ نوجوانوں اور وار لارڈز نے کردیا۔ آج کی نسل ان حیرت انگیز سیاسی تضادات سے واقف نہیں ہے، اس لیے ایک طائرانہ نگاہ تاریخ کے ان لمحوں پر ڈالی۔ سیاسی تصادم، نواب کی شہادت اور اسٹیبلشمنٹ کے کھیل میں پارٹی اپنے حقیقی وجود سے محروم ہوگئی اور نواب کی شہادت کے بعد اُن کے سیاسی پرندے پرواز کرگئے اور دوسری پارٹیوں میں چلے گئے۔
بلوچستان کا وزیراعلیٰ ہائوس وہی ہے، اس کا سبزہ زار وہی ہے صرف مکین بدل رہے ہیں۔ اب 1988ء کے بعد تاریخ نے ایک نیا کھیل دیکھا ہے، کل نواب بگٹی پارٹی کا اعلان کررہے تھے اور آج تیس سال بعد سعید ہاشمی پریس کانفرنس کررہے ہیں اور ان کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے منحرفین کھڑے ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ہم نے دوستوں سے مشورہ کیا اور اب ہم نئی پارٹی ’بلوچستان عوامی پارٹی‘ کا اعلان کررہے ہیں، ہم مئی میں جنرل کونسل کا اجلاس بلائیں گے اور یوسف عزیز مگسی، غوث بخش بزنجو اور خان قلات کی سوچ بھی ہمارے ساتھ ہے، ہم حقوق سے دست بردار نہیں ہوںگے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ بلوچستان میں پہلی بار سنگل پارٹی حکومت بنے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیت علماء اسلام (ف) اور بی این پی نے بھی عدم اعتماد میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ آئندہ ہم بھی سردار اختر مینگل کے ساتھ مل کر الیکشن لڑیں گے۔ عبدالقدوس بزنجو مع اپنی کابینہ اس کانفرنس میں موجود تھے۔ اور اعلان ہوا کہ جلد ہی وزیراعلیٰ اور ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی ایک عوامی جلسے میں اس پارٹی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔
یہ اعلان 29 مارچ کو ہوا۔ آج اس اعلان کو کئی دن گزر گئے ہیں لیکن کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ اس پارٹی کے اعلان کے بعد سابق گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے امریکہ کے ایک ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نئی پارٹی سے پرانی جماعتوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، بی اے پی کا قیام جمہوری عمل کا حصہ ہے، پرانی جماعتوں کو کوئی چیلنج نہیں کرے گا، نئی جماعت صوبے کی سطح پر ہوگی اور سیاسی جماعت بنانا ہر ایک کا حق ہے، نئی سیاسی جماعت کو استحکام حاصل کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ سعید ہاشمی کا پریس کانفرنس کرنا اہم بات ہے۔ ان کا خاندان مسلم لیگ سے وابستہ تھا، اور سعید ہاشمی بھی مسلم لیگ (ن) میں تھے۔ وہ جب سیاست میں آنے کا فیصلہ کررہے تھے تو حلیم ترین نے مجھ سے مشورہ مانگا کہ سعید ہاشمی بلوچ قوم پرست پارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔ حلیم ترین کے ہمراہ ہاشمی صاحب سے کینٹ کے ایک ہوٹل میں ملاقات ہوئی، ان سے کہا کہ حالات اس وقت مسلم لیگ کے حق میں ہیں، آپ اس میں شامل ہوجائیں۔ وہ اس رائے سے متفق ہوگئے اور اپنے ساتھیوں سمیت مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ سعید ہاشمی نے پی بی ون سے پیپلزپارٹی کے شفیق خان کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ اس طرح جہاں اُن کی سیاست کا آغاز ہوا وہیں حلیم ترین کا بھی سیاسی سفر شروع ہوا اور حلیم ترین اُن کے معاون بن گئے۔ ایک دن حلیم ترین نے ایک فہرست دکھائی جس میں معزز صحافیوں کے نام تھے جن کو اچھی خاصی رقم دی جاتی رہی۔ بعض سینئر صحافیوں کے نام دیکھے تو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ لوگ بھی دربار میں حاضر ہوتے ہیں! مجھے بہت افسوس ہوا کہ صحافت کا یہ حال ہوگیا ہے۔
یہ 1975ء کی بات ہے، اُس وقت میں بلوچستان یونیورسٹی میں طالب علم تھا۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان ٹور کا فیصلہ کیا۔ ہم طالب علم چندہ کرنے کے لیے نبی بخش زہری مرحوم کے دفتر گئے، میرے ہمراہ بی ایس او کے رہنما بھی تھے۔ زہری مرحوم نے پانچ سو روپے دیئے تو اُن سے کہا کہ یہ رقم بہت کم ہے اور آپ کی شان کے خلاف ہے، اس کو بڑھائیں۔ اس دوران انہوں نے اپنے سیکریٹری کو کہا کہ وہ رجسٹر لائو۔ میرے ساتھ بی ایس او کے قیوم بلوچ اور خورشید جمالدینی تھے، انہوں نے میرے کان میں کہا کہ شادیزئی صاحب آپ کے سامنے یہ ہمیں رسوا کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ ہی دیر بعد رجسٹر میر نبی بخش کے سامنے رکھ دیا گیا۔ انہوں نے نام پڑھنا شروع کردیے اور رقوم بھی بتانی شروع کردی، اور مجھ سے کہا کہ بی ایس او کے لڑکے باہر میرے خلاف نعرے لگاتے ہیں اور اندر آکر مجھ سے ماہانہ پیسے لیتے ہیں! میرے دوست شرمندہ ہورہے تھے۔ جب ہم باہر نکلے تو میر صاحب کے خلاف خوب بولے اور کہا کہ شادیزئی کے سامنے ہمیں انہوں نے رسوا کردیا ہے۔
بلوچستان کی تاریخ حیرت انگیز ہے۔ ایک طرف لوگ تختۂ دار کو چومتے رہے اور دوسری طرف زر کو آنکھوں سے لگاتے رہے۔ بات سے بات نکلتی چلی جارہی ہے۔ یہ تاریخ ہے اور بڑی بے رحم ہے۔ اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ ہم نے بات شروع کی تھی سونے کی تلاش اور قاتل کی تلاش سے، اور اب نئی پارٹی کو جس نے بلوچستان ہائوس کے سبزہ زار میں اپنا وجود حاصل کیا ہے اور اس کا نام بلوچستان عوامی پارٹی رکھا ہے، انگریزی میں اس کو بی اے پی لکھا جائے گا۔ یعنی اردو میں باپ نام ہوگا۔ باپ کا اعلان تو ہوگیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس باپ کو باپ ملتا ہے یا گاڈ فادر؟

Share this: