سہ ماہی اردو کراچی

نام مجلہ:سہ ماہی اردو کراچی
مدیر:ڈاکٹر رئوف پاریکھ
صفحات:192 قیمت 300 روپے پاکستان فی شمارہ بیرونِ ملک 5 ڈالر امریکی
ناشر:انجمن ترقی اردو پاکستان۔ڈی159بلاک7،گلشن اقبال کراچی75300
فون نمبر:(0092-21)34811406 34973296
برقی ڈاک:sehmahi.urdu@gmail.com atup.khi@gmail.com
ویب گاہ:www.atup.org.pk
انجمن ترقی اردو کا یہ عظیم مجلہ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے 1921ء میں جاری کیا۔ زیر نظر شمارہ جلد 93 کا شمارہ نمبر تین اور چار ہے (جولائی دسمبر 2017ء)۔ اس میں مندرجہ ذیل مقالات شاملِ اشاعت ہیں۔
پہلا مقالہ ’’تقابلِ ادیان، عیسائیت اور گارسیں دتاسی‘‘۔ یہ جناب فیض الدین احمد استاد کراچی گرائمر اسکول، کراچی کی تحریر ہے۔ دوسرا مقالہ ہے ’’مشائخ سندھ کے مجموعہ ہائے مضامین کا جائزہ‘‘ مصنف ہیں جناب ذوالفقار دانش استاد شعبہ اردو پریمیر گورنمنٹ کالج نمبر 1 کراچی۔ تیسرے مقالے کا عنوان ہے ’’اردو ناول اور کردار نگاری کے مباحث‘‘ یہ نتیجۂ فکر ہے محمد عباس صاحب استاد شعبہ اردو گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج برائے طلبہ غازی آباد لاہور کینٹ کا۔ چوتھا مقالہ ڈاکٹر خالد امین استاد شعبہ اردو جامعہ کراچی کی تحقیق ہے، عنوان ہے ’’فری میسن، جمال الدین افغانی اور تحریک اتحادِ اسلامی‘‘۔ پانچواں مقالہ ’’لسان اور لسانیات، چند جدید پہلو‘‘ ڈاکٹر رئوف پاریکھ کی تحقیق ہے۔ محترمہ تہمینہ عباس صاحبہ نے مجلہ اردو کا اشاریہ (شمارہ ہائے 2011-17ء) مرتب کیا ہے۔ انگریزی زبان میں جناب فتح محمد ملک صاحب کا مقالہ بنام BULLEH SHAH: THOUGHT AND PRAXIS بھی شاملِ اشاعت ہے۔
ڈاکٹر رئوف پاریکھ اداریے میں تحریر فرماتے ہیں:
’’پہلے تو ہمیں یہ شکوہ طالب علموں سے تھا کہ جب وہ اردو زبان و ادب پر کوئی تحقیقی مقالہ، خواہ کسی جریدے کے لیے، خواہ ایم اے یا ایم فل یا پی ایچ ڈی کی سند کے لیے، لکھتے ہیں تو اوّل تو اس میں حوالہ جات/ حواشی کا اہتمام کم ہی کرتے ہیں، اور جہاں تہاں کرتے بھی ہیں وہاں اس بات کی رتی برابر پروا نہیں کرتے کہ حواشی اور محوّلہ اسناد کی فہرست کی پیش کش اور اندراج کا کوئی خاص طریقہ اور اصول بھی ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اب یہ بات طالب علموں سے بڑھ کر بعض نئے محققین اور اساتذہ کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ اس بات کا شدت سے احساس اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی مقالہ ’’اردو‘‘ میں اشاعت کی غرض سے موصول ہوتا ہے۔ ’’اردو‘‘ کے لیے موصولہ ان مقالات کو جب تنقیح و معاصر رائے (peer review) کے لیے ماہرین کی خدمت میں روانہ کیا جاتا ہے تو بیشتر کے بارے میں یہی رائے سامنے آتی ہے کہ ’’مقالہ قابلِ اشاعت ہے لیکن حواشی/ مآخذ کی تصحیح اور درست ترتیب کی ضرورت ہے‘‘۔ یا ’’حوالہ جات ناکافی ہیں اور ایک بار حوالہ دے کر متعدد بار استفادہ کیا گیا ہے‘‘۔ بسا اوقات مقالہ نگار سے درخواست کرنی پڑتی ہے کہ وہ محولہ کتابوں کی طباعتی تفصیل لکھ بھیجیں، کیوں کہ بعض صورتوں میں کتاب یا رسالے کے نام کے ساتھ مقامِ اشاعت اور سالِ اشاعت تک درج کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔
سوال یہ ہے کہ جو لوگ مقالے کے حواشی اور مآخذ کے بارے میں اتنے بے نیاز ہیں، کیا وہ ان کا حوالہ دینے کا مقصد بھی سمجھتے ہیں؟ اور اگر نہیں سمجھتے تو کیا ان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے اپنے مقالے میں معیاری تحقیق پیش کی ہوگی؟ کیوں کہ تحقیقی کاموں میں حوالہ جات اور اسناد کی درست اور تفصیلی نشان دہی ناگزیر ہوتی ہے۔ نیز ان کی ایک خاص انداز میں ترتیب، پیش کش اور اندراج کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے۔ بلکہ ایسے ’’مقالہ نگاران‘‘ سے یہ خطرہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ حواشی اور مآخذ سے بے نیازی کے سبب وہ کہیں نادانستہ سرقے (plagiarism) کے مرتکب نہ ہوگئے ہوں۔
’’محققین‘‘ کی حوالہ جات کے سلسلے میں بے نیازی کے علاوہ ایک اور مسئلہ بھی اردو تحقیق میں درپیش رہا ہے اور وہ ہے اندراجات کا طریقہ۔ اردو میں تحقیقی مقالات کے ضمن میں حواشی اور مآخذ کی پیش کش کے انداز اور طریقِ اندراج کے ضمن میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ اردو کی کتابیات، فہرستِ کتب اور لائبریری میں اردو کی کتابوں کارڈوں کی تیاری کے ضمن میں بھی یہ سوالات زیر بحث رہے ہیں کہ مثلاً مصنف کا نام کیسے لکھا جائے گا؟ القابات یا خطابات مثلاً الحاج، حضرت، مولانا، مولوی کو نام کا حصہ بنایا جائے یا نہیں؟ اور اگر بنایا جائے تو ان کو کہاں لکھا جائے، نام کے شروع میں، درمیان میں یا آخر میں؟ تخلص کا اندراج حوالہ جات میں کیسے ہوگا؟ اردو تحقیق اور کتابیات سازی میں لائبریری سائنس کے اصولوں کے مطابق اندراجات کی اہمیت کا احساس ہم اردو والوں کو بہت بعد میں جاکر ہوا۔ کسی زمانے میں نیشنل بک سینٹر آف پاکستان کے نام سے ایک ادارہ موجود تھا (بعد میں اس کا نام بدلا گیا اور پھر اسے کسی اور ادارے میں ضم کردیا گیا) اور اس ادارے نے ایک ’’جامع فہرستِ مطبوعاتِ پاکستان‘‘ تیار کرنے جیسا اہم کام شروع کیا تھا اور متعدد موضوعات پر کتابوں کی کئی اہم فہرستیں اس ادارے نے شائع کیں جو معلومات کا بیش قیمت خزانہ ہیں (اب تو کمپیوٹر کی وجہ سے بہت آسانی ہوگئی ہے اور ایسی فہرستیں ہمارے قومی اداروں کو برخط یعنی اون لائن (online) مہیا کرنی چاہئیں)۔ ایسی ہی ایک فہرست اس ادارے نے 1973ء میں ’’تنقید اور تاریخِ ادب‘‘ کے عنوان سے شائع کی تھی۔ اس کے مرتب سلیم اختر نے اس کے پیش لفظ میں لکھا تھا:
’’مغربی زبانوں میں نام رکھنے کا ایک مخصوص انداز ہے، اور ان ہی کی رعایت سے لائبریری کیٹلاگ یا کتابیات میں مصنفین کے نام درج کیے جاتے ہیں، مثلاً ’’ٹی ایس ایلیٹ‘‘ کو لائبریری سائنس کے قواعد کی رو سے ’’ایلیٹ، ٹی ایس‘‘ لکھیں گے۔ لیکن ہمارے نام بالعموم مرکب ہوتے ہیں اس لیے اگر ’’الدین، جمیل‘‘ لکھیں تو یہ بے معنی اور مضحکہ خیز ہوگا۔ اس قباحت کو رفع کرنے کے لیے (اس کتابیات میں) ناموں کو صحیح صورت میں لکھا ہے، البتہ ناموں میں پہلے سیّد، شیخ، مولانا، مولوی، ڈاکٹر، حکیم، پروفیسر، علامہ وغیرہ یا دیگر القابات و خطابات کو نام کے بعد رکھا گیا ہے۔ شعرا کی صورت میں تخلص نام سے پہلے (مثلاً حالی، الطاف حسین) لکھا جاسکتا ہے۔ (ص8۔ 9)
یہ یقینا اُس دور کے لحاظ سے درست بات تھی، لیکن بعدازاں بعض محققین نے اس بات پر زور دینا شروع کیا کہ اب چوں کہ حوالہ جاتی کتب یا کتابیات کی اہمیت بین الاقوامی ہوگئی ہے اور خاص طور پر اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے فروغ کے بعد ہر چیز اب برخط یعنی آن لائن ہورہی ہے، لہٰذا اردو زبان و ادب اور اس سے متعلقہ مباحث میں بھی علمی و عالمی ہم آہنگی کی خاطر آخری نام یا خاندانی نام (last name/surname) کو پہلے لکھا جائے۔ اس میں قباحت یہی تھی کہ بعض ناموں مثلاً ’’عبداللہ‘‘ یا ’’ماہرالقادری‘‘ کو توڑنا ممکن ہی نہیں، اور بعض صورتوں میں ’’سیّد‘‘ خاندانی نام کے طور پر بھی مروّج ہے، مثلاً مظفر علی سیّد۔ لہٰذا حواشی اور مآخذ میں ناموں کا اندراج دونوں طریقوں سے ہوتا رہا اور ہم عالمی سطح پر ہم آہنگ کیا ہوتے، آپس ہی میں ہم آہنگی نہ رہی۔ البتہ کچھ عرصے قبل بعض بین الاقوامی تحقیقی اداروں اور مطبوعات میں یہ طریقہ رائج ہوا کہ حواشی میں تو نام اپنی اصل شکل میں لکھا جائے یعنی مثلاً ’’جمیل جالبی‘‘، لیکن مآخذات کی فہرست میں ’’آخری نام پہلے‘‘ (last name first) کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ’’جالبی، جمیل‘‘ لکھا جائے۔ اس پر پاکستان میں سب سے پہلے لمز (LUMS) کے تحقیقی جریدے ’’بنیاد‘‘ نے عمل کیا اور اب بعض دیگر تحقیقی رسائل (مثلاً جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے رسالے ’’امتزاج‘‘) نے بھی اس پر عمل شروع کیا ہے۔ اس سے آسانی یہ ہوگئی ہے کہ نام دونوں طرح لکھا جارہا ہے، البتہ یہ اُلجھن موجود ہے کہ بعض ناموں کو توڑنا ممکن ہی نہیں۔
بہرحال ہم ’’اردو‘‘ میں بھی اس طریق کار پر عمل کررہے ہیں اور اب ’’اردو‘‘ کو ایچ ای سی کے مقرر کردہ معیار/ طریقِ اندراج کے مطابق شائع کیا جارہا ہے (اس طریقِ اندراج کی تفصیل ہر شمارے میں شائع کی جاتی ہے اور اس شمارے میں بھی شامل ہے)۔ لیکن بعض اہلِ قلم اپنے مقالات میں حواشی اور مآخذ کے ضمن میں اس کی پابندی نہیں کررہے۔ مقالہ نگاران سے دست بستہ التماس ہے کہ ازراہِ کرم اس کی پابندی کیجیے‘‘۔
مجلہ سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوا ہے۔

نام مجلّہ:ششماہی الایام کراچی

علمی و تحقیقی جریدہ
مدیرہ:ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر
نائب مدیران:ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق،ڈاکٹر زیبا افتخار
صفحات:256 قیمت فی شمارہ 300روپےسالانہ 500 روپے
ناشر:مجلس برائے تحقیق اسلامی تاریخ و ثقافتفلیٹ نمبرA-15 ،گلشنِ امین ٹاور۔گلستانِ جوہر، بلاک5، کراچی
فون نمبر:0300-2268075 0300-9245853
ای میل:nigarzaheer@yahoo.com
ویب گاہ:www.islamichistory.co.nr
ویب گاہ:www.alayyam.com.pk
ششماہی ’’الایام‘‘ کراچی علمی و تحقیقی مجلہ ہے جو پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ یہ شمارہ جلد 8 کا شمارہ 2 ہے، جولائی دسمبر 2017ء۔ مجلے کا نام آیتِ قرآنی سے اخذ کیا گیا ہے تلک الایام نداولھا بین الناس (یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں) ۔ مجلہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے منظور شدہ ہے۔
ہمیشہ کی طرح اِس مرتبہ بھی گراں قدر تحقیقی اور علمی مقالات شاملِ اشاعت ہیں، ان کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے:
مقالات میں پہلا مقالہ ’’دینی ادب میں عربی شاعری کا مقام‘‘ حافظ فدا حسین ڈپٹی سیکریٹری فنانس ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ ملتان کی تحقیق ہے۔ دوسرا مقالہ ڈاکٹر یاسر عرفات اعوان لیکچرر علوم اسلامیہ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی کاوش ہے، عنوان ہے ’’مصالح مرسلہ اور عرف بطور مصادر فقہ اسلامی اور استشراقی تحقیقات‘‘ (تنقیدی مطالعہ)
تیسرا مقالہ ہے ’’شہادت کی فقہی اقسام (احادیث صحاح ستہ کی روشنی میں)‘‘ محقق ہیں ڈاکٹر حامد علی علیمی لیکچرر گورنمنٹ کالج برائے طلبہ ناظم آباد۔ چوتھا مقالہ شازیہ بانو صاحبہ کے قلم سے ہے، عنوان ہے ’’علامہ اقبال کے معاشی تصورات کی عملی جہت‘‘۔ پانچواں مقالہ ہے ’’پرویز کا عقلیاتی فلسفہ الٰہیات اور معاشرے پر اس کے اثرات‘‘ محقق ہیں جناب ظفر اقبال خان ڈائریکٹر تعمیر انسانیت لائبریری فاروق نگر جھنگ پنجاب۔ چھٹا مقالہ ڈاکٹر علی کمیل قزلباش مدیر ’’پیغام آشنا‘‘ اسلام آباد کے قلم سے ہے، عنوان ہے ’’شیخ سعدی اور علامہ اقبال کا فلسفۂ قناعت‘‘۔ ساتواں مقالہ ’’بلتستان میں اشاعتِ اسلام اور موجودہ اسلامی رجحانات‘‘ کے عنوان سے ہے، مصنف ہیں ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی۔ آٹھویں مقالہ کا عنوان ہے ’’جدید مشینی ذبیحہ کا تحقیقی جائزہ فقہا کی آرا کی روشنی میں‘‘ مصنف ہیں حافظ محمد اسحاق ریسرچ اسکالر جی سی یونیورسٹی فیصل آباد اور ڈاکٹر عظمیٰ خان صدر شعبہ علوم اسلامیہ آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد۔ تبصراتی مقالہ بنام ’’لسانی مطالعے، ایک تنقیدی جائزہ‘‘ از ڈاکٹر ستار نجم حیدر آباد سندھ۔
ادبیات کے زیر عنوان جو مقالات اور مضامین ہیں وہ درج ذیل ہیں:
پہلا مضمون ’’پنجاب سے پنج رود تک‘‘ (تاجکستان کا سفرنامہ) ڈاکٹر عارف نوشاہی۔ دوسرا مقالہ پروفیسر ابوسفیان اصلاحی کے قلم سے ہے ’’ادارہ سرسیّد کی سیرت نگاری کے چند ابواب‘‘۔ ’’علامہ حکیم محمود احمد برکاتی (شہید): چند یادیں‘‘ سراج الدین امجد کی تحریر ہے۔ ظہیرالحسن جاوید بن مولانا چراغ حسن حسرت کی آخری تحریر غازی علم الدین صاحب کے نام خط ہے۔
مکتوباتِ مشاہیر کے تحت قاضی اطہر مبارک پوری کے پروفیسر سیّد محمد سلیم کے نام اٹھارہ خط، مرتبہ ڈاکٹر حافظ محمد سہیل شفیق، اور جناب جگن ناتھ آزاد کے پروفیسر جاوید اقبال کے نام پندرہ خطوط، مرتبہ پروفیسر جاوید اقبال بھی شامل اشاعت ہیں۔ آخر میں ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی کا نہایت ہی اہم مقالہ ہے ’’پاکستان کا نظام تعلیم (غیر ملکی مداخلت، نظریہ پاکستان کی مخالفت، غیر اسلامی اقدار اور جنسی تعلیم)‘‘ یہ مقالہ اس قابل ہے کہ تعلیم سے تعلق رکھنے والا ہر شخص اس کا مطالعہ کرے۔
ڈاکٹر نگار سجاد اداریے میں تحریر فرماتی ہیں:
’’مجلس برائے تحقیق اسلامی تاریخ و ثقافت، کراچی (سوسائٹی فار ریسرچ ان اسلامک ہسٹری اینڈ کلچر) کے تحت نکلنے والے علمی و تحقیقی، ششماہی جریدے ’’الایام‘‘ نے اپنی اشاعت کے سات سال مکمل کرلیے ہیں۔ الایام کا ایک حصہ جو تحقیقی مقالات پر مبنی ہوتا ہے، ماہرین کی جانچ اور فیصلے پر مبنی یعنی Peer Reviewed ہوتا ہے۔ ہر مقالہ دو ممتحن حضرات کی جانچ اور ان کے فیصلے کی روشنی میں شائع کیا جاتا ہے۔ جب کہ دوسرا حصہ ’’ادبیات‘‘ پر مشتمل ہے جو تخلیقی تحریروں پر مشتمل ہوتا ہے۔
حقیقی تحقیق کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے الایام کی مجلس ادارت و مشاورت کی آراء کی روشنی میں گاہِ بگاہِ کچھ مثبت تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ اسی حوالے سے یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ آئندہ ایک مقالہ صرف ایک یا دو مقالہ نگاروں کے نام سے ہی شائع ہوسکے گا، کیوں کہ ایسی مضحکہ خیز صورتِ حال بھی سامنے آرہی تھی کہ پانچ صفحے کے ایک معمولی نوعیت کے مضمون پر پانچ مقالہ نگاروں کے نام درج ہوتے تھے، حالاں کہ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ سماجی علوم اور علوم اسلامیہ میں مقالہ نگار اصلاً ایک ہی ہوتا ہے، دیگر نام ’’تعلقات نبھانے‘‘ کے عمل کے سوا کچھ نہیں۔ البتہ اگر مقالے میں دو شعبوں سے متعلق مواد اور بحث موجود ہے صرف اس صورت میں دوسرے مقالہ نگار کا نام شامل کیا جاسکے گا۔
تحقیق کے عمل کو آگے بڑھانے اور سوچ کے دائروں میں وسعت لانے کے لیے ہم نے پہلے بھی اصحابِ علم سے درخواست کی تھی کہ شائع ہونے والے مقالات پر اگر آپ اختلافی رائے رکھتے ہیں تو اپنی رائے سے ہمیں ضرور تحریراً مطلع کریں، ہم اُسے ’’استدراک‘‘ کے عنوان سے شائع کریں گے اور یوں گفتگو آگے بڑھ سکے گی‘‘۔
مجلہ سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوا ہے۔

Share this: