قرآن مجید کے قدیم مدنی خط کو ڈیجیٹل بنانے کے منصوبے کا آغاز

قدیم عربی کے خط (فونٹس) اپنے تنوع اور خوب صورتی کے اعتبار سے ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔ ان میں مکی اور مدنی خط سب سے مقبول اور زیراستعمال رہے ہیں۔ اسلامی تاریخ کے اوّلین دور میں قرآن مجید اور احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابت مدنی خط ہی میں کی گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے بادشاہوں، سلاطین اور والیانِ ریاست کو اسی خط میں مکاتیب لکھے گئے تھے۔ چٹانوں اور پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر اسی مدنی خط میں کندہ عبارتیں آج بھی ملتی ہیں۔ عربی خط کی اصل کے بارے میں مختلف روایات اور نظریات پائے جاتے ہیں۔ شاہ عبدالعزیز فاؤنڈیشن (دارہ) میں دستیاب تاریخی دستاویزات کے مطابق علم النحو کے ماہر ابوالاسود ظالم بن عمرو بن سفیان الدؤلی الکنانی نے عربی الفاظ پر اعراب لگانے کے لیے ایک نیا نظام وضع کیا تھا۔ انھوں نے ہی پہلی مرتبہ مختلف حروف کی ایک دوسرے سے الگ پہچان کے لیے ان پر رنگ دار بڑے نقاط لگائے تھے۔ انھوں نے عربی کتابت میں اعراب کو متعارف کرایا تھا۔ وہ کسی حرف کے اوپر فتح ( زبر) کے لیے سرخ نقطہ لگاتے تھے۔ کسرہ (زیر)کے لیے حرف کے نیچے سرخ نقطہ لگاتے تھے۔ ضمہ (پیش) کے لیے بھی انھوں نے ایک علامت وضع کی، اور تنوین کے لیے دو نقاط لگاتے تھے۔ انھوں نے یہ تمام کام حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں کیا تھا۔ اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے دورِ حکومت میں اپنے نانا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے احادیثِ نبویؐ کی جمع و تدوین کا کام کروایا تھا۔ مدینہ منورہ میں اسلام کے ابتدائی دور کی کتابت اور پہاڑوں پر کندہ کاری کے بڑے نمونے ملتے ہیں۔ مدینہ شہر میں پہاڑوں کی چٹانوں، وادیوں اور قدیم کاروانوں کے زیر استعمال رہنے والی گزرگاہوں میں اسلامی کتابت اور کندہ کاری کے بہت سے قیمتی قدیم آثار پائے گئے ہیں۔ صوبہ مدینہ کے گورنر اور ادارہ ترقیات مدینہ کے سربراہ شہزادہ فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز نے حال ہی میں مدنی خط کے تحفظ کے لیے ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اس کے تحت دنیا بھر میں مدنی خط (فونٹ) میں موجود قرآن مجید کے نسخوں اور دوسری مقدس تحاریر کو ڈیجیٹل شکل میں لاکر ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا جائے گا۔ اس وقت دنیا بھر کے کتب خانوں، مثلاً نیشنل لائبریر ی فرانس، لیڈن یونیورسٹی لائبریری نیدر لینڈز، برمنگھم یونیورسٹی لائبریری برطانیہ، اور برلن لائبریری جرمنی میں مدنی خط میں تحریر قرآن مجید کے نسخے موجود ہیں۔ ’دارہ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں عربی رسم الخط کے بارے میں بتایا تھا کہ ’’عربی خط کی اصل کی تلاش ایک طرح کی مہم جوئی ہی ہے‘‘۔ شاہ فہد قرآن کمپلیکس مدینہ نے حال ہی میں قرآن کے مدنی خط کو ڈیجیٹل بنانے کے کام میں بہتری کی غرض سے تجاویز طلب کی تھیں۔ اس کمپلیکس نے قرآن مجید کا مدنی خط میں نسخہ 1422 ہجری میں شائع کیا تھا۔ اس ادارے کا مقصد جدید کمپیوٹر پروگراموں کی مدد سے اعلیٰ معیار کا مدنی فونٹ تیار کرنا ہے۔ یہ کمپیوٹر پروگرام بھی خاص اسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ مدنی خط کا اعلیٰ معیار کا فونٹ تیار کیا جاسکے۔

پوری دیوار کو ٹچ اسکرین بنانے والا پینٹ

ٹچ اسکرین ہماری زندگی کا ایک اہم جزو بن چکے ہیں لیکن اب سائنس دانوں نے ایسا روغن (پینٹ) تیار کیا ہے جو بہت کم خرچ میں آپ کے گھر کی دیوار کو ٹچ اسکرین میں تبدیل کرسکتا ہے۔
اس طرح وہ دن دور نہیں جب دیواریں ہمارے ہاتھ کے اشاروں سے روشنی کھولیں یا بند کریں گی، گھر کا درجہ حرارت تبدیل کریں گی اور دیگر اہم امور انجام دیں گی۔ ڈزنی کمپنی اور کارنیگی میلون یونیورسٹی کے ماہرین نے مل کر ایک ایسا کم خرچ پینٹ بنایا ہے جو پورے گھر کو ایک انٹرایکٹو ٹچ سینسر میں تبدیل کرسکتا ہے۔ اسے وال پلس پلس کا نام دیا گیا ہے جو آپ کے گھر کی دیواروں کو اسمارٹ بنادے گا، اور یہ اتنا کم خرچ ہے کہ ایک مربع میٹر دیوار کو ٹچ اسکرین بنانے کے لیے صرف 20 ڈالر یا پاکستانی 2000 روپے کی لاگت آئے گی، جبکہ ماہرین نے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر اس کی تیاری کے بعد اس کی قیمت مزید کم ہوجائے گی۔

دنیا میں 90 فی صد لوگ آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور

دنیا میں 90 فی صد آبادی آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہے جب کہ صرف دس فی صد کو آلودگی سے پاک ماحول میسر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی سالانہ اوسطاً 70 لاکھ افراد کی اموات کا موجب بن رہی ہے۔ رپورٹ میں فضائی آلودگی کی کمی بیشی کے اعتبار سے بھی علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یورپی ممالک اور امریکہ کو فضائی آلودگی کے اعتبار سے کم خطرناک قرار دیا گیا ہے جہاں حالیہ برسوں کے دوران فضائی آلودگی میں قدرے کمی آئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا کے 10 میں سے 9 افراد فضائی آلودگی سے متاثر ہیں یا وہ انتہائی آلودہ ہوا میں سانس لے رہے ہیں۔ یہ وہ اعدادو شمار ہیں جو دو سال قبل بھی جاری کیے گئے تھے، اور گزشتہ دو سال کے دوران میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈرس اڈھانم گیبریسوس کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی امیر اور غریب ہر ایک کے لیے یکساں خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تین ارب لوگوں کے فضائی آلودگی کا شکار ہونے کو کیسے برداشت کرسکتے ہیں جب کہ ان میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں! ان کا کہنا تھا کہ قاتل دھواں، گھروں میں آلودہ ایندھن اور گھروں میں ککنک چولہے اور ان سے نکلنے والی مضر صحت گیسیں صحت کے لیے تباہ کن ہیں۔

Share this: