وفاقی وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ، محرکات کیا ہیں؟
وفاقی وزیر داخلہ چودھری احسن اقبال ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد لاہور کے سروسز اسپتال میں داخل ہیں، جہاں ان کا علاج معالجہ جاری ہے اور ڈاکٹروں کو امید ہے کہ وہ ایک ہفتے تک گھر جانے کے قابل ہوجائیں گے۔ احسن اقبال پر حملے کی ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے شدید مذمت کی ہے، اور ملک میں تشدد کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق، مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین اور دیگر سیاسی رہنمائوں نے فوری طور پر حملے کی مذمت کی اور اس کے پسِ پردہ محرکات تلاش کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے نہ صرف آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی بلکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بھی بنادی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ حکمران مسلم لیگ جے آئی ٹی سے اتنی خوفزدہ ہوگئی ہے کہ اب ہر معاملے پر ازخود جے آئی ٹی بنا دیتی ہے کہ اپنی بنائی ہوئی جے آئی ٹی سے رپورٹ لینے کا کچھ امکان موجود ہوتا ہے، جبکہ آزاد اور غیر جانب دار جے آئی ٹی کی تمام رپورٹیں حکمران خاندان اور حکمران جماعت کے خلاف ہی آرہی ہیں۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف اس معاملے میں اتنے فکرمند تھے کہ واقعے کے فوراً بعد انہوں نے اپنا ہیلی کاپٹر نارووال روانہ کردیا، جو زخمی احسن اقبال کو لے کر لاہور کے سروسز اسپتال پہنچا تو وزیراعلیٰ شہبازشریف وہاں پہلے سے موجود تھے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری رہی کہ وزیراعلیٰ نے احسن اقبال پر حملے کے چند منٹ بعد ہیلی کاپٹر روانہ کردیا اور خود بھی اسپتال پہنچ گئے، جبکہ اسی وزیراعلیٰ کو اپنی رہائش گاہ سے دو سو گز کے فاصلے پر واقع منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں گھنٹوں جاری رہنے والی فائرنگ اور 16افراد کے مارے جانے کی خبر تک نہ ہوسکی تھی۔ اگرچہ احسن اقبال پر حملہ کرنے والے کو موقع ہی سے گرفتار کرلیا گیا، تاہم ابتدائی طور پر امکانات ظاہر کیے جارہے تھے کہ یہ حملہ کسی ذاتی جھگڑے یا عناد کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ سیاسی رقابت اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ وہ مذہبی عناصر جنہیں حکومت اور حکومتی وزرا سے شکایات ہیں یہ اُن کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ اور یہ شک بھی ظاہر کیا جارہا تھا کہ حکومت کو دبائو میں لانے کے لیے یہ کسی خفیہ ادارے کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ تمام مفروضے اُس وقت دم توڑ گئے جب خود حملہ آور نے اعتراف کرلیا کہ مذہبی حلقوں کے بارے میں وزراء کے رویّے پر مشتعل تھا، اور اس کے لیے احسن اقبال پر حملہ آسان تھا کہ ملزم بھی اسی علاقے کا رہنے والا ہے۔ اب تک پولیس ملزم کے ایک ساتھی کو بھی گرفتار کرچکی ہے، جبکہ ملزم کا دس روزہ ریمانڈ بھی لے لیا گیا ہے۔ اس حملے کے اگلے روز ہی تحریک انصاف کے ایک وفد نے سروسز اسپتال پہنچ کر اپنے چیئرمین اور پارٹی کی جانب سے نیک تمنائوں کا پیغام پہنچایا۔ وفد میں تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری کے علاوہ نارووال سے احسن اقبال کے سیاسی حریف ممتاز پاپ سنگر ابرارالحق بھی شامل تھے۔ اگرچہ وفد کی احسن اقبال سے ملاقات نہ ہوسکی تاہم انہوں نے احسن اقبال کے بیٹے احمد اقبال تک اپنے جذبات پہنچائے اور تفصیل میڈیا کے سامنے رکھ دی۔ شاید تحریک انصاف کو یہ پریشانی تھی کہ کہیں یہ الزام اس کے سر نہ
آجائے۔ حالات کا جبر اور سیاست کی مجبوریاں ملاحظہ ہوں کہ جس جری خاتون نے توہینِ رسالت بل، امتناع قادیانیت بل اور اسی طرح کے دوسرے بلوں کے لیے دن رات کام کیا، 1985ء کی اسمبلی میں اسلام کا جھنڈا سربلند رکھنے میں ہمیشہ سرگرم رہی اور ہر اسلامی بل اور معاملے پر پیش پیش نظر آئی، اسی خاتون کے بیٹے پر قاتلانہ حملہ کرنے والے کا کہنا ہے کہ زخمی وزیر نے اس کے اور پورے پاکستان کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملے کو ملک کے سیاسی اور سنجیدہ طبقے بہت اہمیت دے رہے ہیں اور اس بات پر مختلف حلقوں میں غور و خوض جاری ہے کہ اس حملے کے ملک کی مستقبل قریب کی سیاست پر کیا اثرات پڑیں گے۔ اس معاملے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت کی سیکورٹی کے انتظامات کیا ہیں؟ اگر ان کا اپنا وزیر داخلہ تک محفوظ نہیں تو ان کے انتظامات صفر اور دعوے غلط ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ حکومت دوسرے معاملات میں الجھی ہوئی ہے، اُسے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کا خاطر خواہ خیال نہیں ہے، نیز اُس نے ساری سیکورٹی شریف خاندان کی حفاظت پر لگا رکھی ہے، اس لیے وزیر داخلہ کی حفاظت کا بھی بندوبست نہیں کرسکی۔ دوسرے یہ کہ ابھی انتخابی مہم بھرپور انداز میں شروع نہیں ہوئی، ابتدا میں یہ حال ہے، جب انتخابی مہم زوروں پر ہوگی تو صورتِ حال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر سیاسی گرما گرمی کے ابتدائی دنوں میں وزیر داخلہ ہدف ہوسکتے ہیں تو بھرپور انتخابی مہم کے دوران نہ جانے کون کون نشانہ بن جائے! اس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ الیکشن جوں جوں قریب آرہے ہیں مسلم لیگ(ن) کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں، اُس کے قائد نااہل ہوکر پارٹی کی سربراہی سے فارغ ہوچکے، وزیر خارجہ نااہل ہوکر اسمبلی سے باہر آگئے، اور اب وزیر داخلہ اور پارٹی کے منصوبہ ساز احسن اقبال زخمی ہوکر اسپتال پہنچ گئے ہیں۔ انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کو جن پارٹیوں کے ساتھ انتخابی اتحاد کرنا ہے اور جن امیدواروں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنی ہے اُن میں کم از کم پنجاب کی حد تک سب سے مؤثر شخصیت احسن اقبال ہی کی تھی۔ اب یہ سارا کام بری طرح متاثر ہوگا، اور ہوسکتا ہے کہ اناڑیوں، یا چودھری نثار کے بقول خاندانی ملازموں کے ہاتھ آجائے۔ دینی جماعتوں کے ساتھ معاملات کرنے میں احسن اقبال ایک قابلِ قبول شخصیت تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں یہ کام متاثر ہوگا۔ خود مسلم لیگ (ن) کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم میں احسن اقبال مؤثر و مفید آدمی تھے۔ یہ کام بھی اب متاثر ہوگا۔ انتخابی حکمت عملی اور پاور شو کو منظم کرنے میں بھی اُن کو خاصا تجربہ حاصل تھا، اب یہ کام بھی متاثر ہوتا نظر آرہا ہے۔ احسن اقبال مسلم لیگ (ن) کے ایک مقبول مقرر بھی ہیں۔ اب عوامی جلسوں میں ان کی کمی پارٹی اور عوام دونوں محسوس کریں گے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جس طرح 2013ء کے انتخابات میں سیکورٹی تھریٹ کے نام پر پیپلزپارٹی متحرک نہیں ہوسکی تھی اِس بار کہیں اس طرح کے حملوں کے خوف سے مسلم لیگ (ن) بھی غیر متحرک ہوکر دوسری جماعتوں کو واک اوور نہ دے جائے۔ دوسری جانب اس حملے کے بعد دوسری سیاسی جماعتیں بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھیں گی، خصوصاً جو سیاسی جماعتیں اقتدار میں نہیں وہ زیادہ خوف زدہ ہوسکتی ہیں، اور 31 مئی کے بعد جب نگران حکومتیں بن جائیں گی اور وفاق اور صوبوں میں کسی سیاسی جماعت کی حکومت نہیں رہے گی ایسے میں ادارے اس وقت حکمران جماعت کے رہنمائوں اور وزراء کو بھی سیکورٹی نہیں دے سکیں گے، کہ ایسی صورت میں دوسری جماعتوں کو اعتراض ہوگا تو اُس وقت سیاسی رہنمائوں کی سیکورٹی کا کیا بندوبست ہوگا؟ سیاسی جماعتیں اپنے طور پر فول پروف سیکورٹی کا بندوبست نہیں کرسکتیں، جبکہ ادارے پورے ملک میں کس کس کو سیکورٹی فراہم کریں گے؟ یہ گنجلک صورتِ حال خاصی تشویش ناک ہے اور اس سے آنے والے انتخابات کی پوری فضا ہی متاثر ہوسکتی ہے، یہاں یہ سوال بھی موجود ہے کہ اگر انتخابات سے قبل نوازشریف، مریم یا صفدر کو جیل جانا پڑ گیا تو مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کون چلائے گا؟ کیا شہبازشریف یہ کام کرسکیں گے جو اب تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کے حامی ہیں؟ جبکہ انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کے تحت اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کے ساتھ اعلانِ جنگ کا ہوگا۔ ایسے میں پارٹی بیانیہ کیسے مؤثر ہوگا، اور شہبازشریف اسے کس طرح آگے بڑھائیں گے! لگتا یہ ہے کہ ایسے میں پارٹی پر ایسے لوگ چھا سکتے ہیں جو مزاحمتی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، مگر یہ اس پارٹی کا مزاج نہیں ہے۔ اس طرح اس فضا میں پارٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایسے میں اگر احسن اقبال جیسے لوگ متحرک ہوتے تو پارٹی کو مشکلات سے نکال سکتے تھے۔ دوسری جانب عمران خان ایک ڈیڑھ ماہ کے لیے انتخابات کے التوا کی باتیں کررہے ہیں۔ اس لیے احسن اقبال پر حملہ، کراچی میں پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے درمیان شدید لڑائی اور اس طرح کے دوسرے واقعات کہیں انتخابات میں تاخیر ہی کا باعث نہ بن جائیں۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔

Share this: