اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 55 فلسطینی شہید، 2700 زخمی

قابض اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کر کے 55 افراد کو شہید کردیا جب کہ 2700 سے زائد زخمی ہیں۔ امریکا کے سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) منتقلی کے موقع پر غزہ میں حالات نہایت کشیدہ ہو گئے ہیں۔قابض اسرائیلی فوج نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صحافیوں کو بھی استثنیٰ نہیں دیا اس کے باوجود تاحال ہزاروں فلسطینی سفارت خانے کی منتقلی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ

ترک ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جب کہ 2030ء میں خطہ یورپ کا 8 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہوگا۔انقرہ سوشل سائنسز یونیورسٹی کی جانب سے تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے مسلمانوں کا 20 فیصد سے زائد یورپ، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا میں آباد ہے۔ خطہ یورپ میں اس وقت مسلم نفوس 44 ملین ہیں، جبکہ امریکہ میں یہ تعداد 5 ملین سے زائد ہے۔

چین نے اپنا تیار کردہ بحری بیڑہ سمندر میں اتار دیا

چین نے اپنا مقامی طور پر تیارکردہ پہلا طیارہ بردار بحری جہاز سمندر میں آزمائش کے لیے روانہ کردیا۔ چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین میں مقامی طور پر تیارکردہ پہلا طیارہ بردار بحری جہاز شمال مشرقی چین کے صوبے لیاوننگ کی دالیان شپ یارڈ سے سمندر میں آزمائش کے لیے روانہ ہوا۔ یہ چین کا دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔

فرانس، ترکی اور قرآن

گزشتہ ماہ کی 27 تاریخ کو فرانس کے تین سو سے زیادہ دانش وروں اور سیاست دانوں نے جن میں سابق صدر نکولس سرکوزی، سابق وزیراعظم مینویل والز اور بہت سے ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل ہیں، مطالبہ کیا ہے کہ جہاد و قتال سے متعلق آیات قرآن سے حذف کردی جائیں۔ اس سلسلے میں ایک مسودۂ قانون بھی زیربحث ہے جس کے تحت قرآن کے ایسے فرانسیسی تراجم پر پابندی لگادی جائے گی جن میں جہاد و قتال سے متعلق آیات ہوں گی۔ (حوالہ الجزیرہ ٹیلی ویژن)
اس خبر پر ترکی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ انقرہ میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے اسے نسل پرستی اور مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ ترک صدر نے کہا کہ ہم کسی کو اپنی مقدس کتاب میں تحریف کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایک ایک زبر و پیش سمیت قرآن کا وہی مسودہ پڑھا اور پھیلایا جائے گا جو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبِ اطہر پر نازل ہوا۔ دوسری طرف جوابی کارروائی کرتے ہوئے ترکی کے اعلیٰ تعلیم کے کمیشن نے ترکی کی جامعات میں فرانسیسی زبان کی تعلیم کو محدود کردینے کا اعلان کیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کمیشن کے سربراہ امراللہ اسلر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جو طلبہ شعبے میں پہلے سے داخل ہیں ان کی تعلیم جاری رکھی جائے گی، لیکن فرانسیسی زبان و ادب کے شعبہ جات میں نئے داخلے بند کیے جارہے ہیں۔
(مسعود ابدالی)

فوج کی سیاست میں مداخلت کے الزامات

یہ اُس وقت کی بات ہے جب جنرل اشفاق پرویز کیانی فوج کے سربراہ کے طور پر پاکستان کے سب سے طاقتور فرد تھے، ایک خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے ذریعے پی ٹی آئی کی مدد کی خبریں چارسو عام تھیں۔ میں عمران خان کے ساتھ ایک سفر کے دوران گپ شپ کررہا تھا۔ مخدوم جاوید ہاشمی اس کے گواہ ہیں۔ عمران خان جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ان کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی تعریفیں کررہے تھے۔ تب میں ان دونوں کی بعض پالیسیوں کا شدید ناقد تھا اور خان صاحب کو ان سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دے رہا تھا، لیکن عمران خان ان دونوں کی محبت میں ایسے گرفتار تھے کہ ان کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ جنرل پاشا ریٹائر ہوگئے تو ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام نے لے لی، لیکن چونکہ ابھی اشفاق پرویزکیانی ریٹائر نہیں ہوئے تھے اس لیے خان صاحب انتخابات کے وقت تک جنرل کیانی سے کم و بیش اتنے متاثر تھے جتنے ہمارے استاد اور عمران خان کے شیدائی ہارون الرشید صاحب متاثر تھے۔ لیکن پھر ایک دن آیا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ریٹائر ہوگئے، اور ظاہر ہے خان صاحب ریٹائر ہوجانے والے خواہ جج ہوں یا جرنیل، کے ساتھ کبھی نہیں رہتے۔ چنانچہ انہوں نے نجی محفلوں میں یہ الزام لگانا شروع کردیا کہ جنرل کیانی کے کہنے پر فوج نے گزشتہ انتخابات میں انہیں ہروایا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ عموماً اس طرح کے الزامات آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ پر لگائے جاتے ہیں اور زمینی حقیقت بھی یہ ہے کہ پاکستان میں فوج اگر سیاست پر اثرانداز ہونا چاہتی ہے تو آئی ایس آئی ہی کے ذریعے ہوتی ہے، لیکن تب چونکہ جنرل ظہیرالاسلام ریٹائر نہیں ہوئے تھے اور انتخابات کے دوران وہی آئی ایس آئی کے سربراہ تھے، اس لیے ان پر یا ان کے ادارے پر تو الزام نہیں لگایا جاسکتا تھا، چنانچہ یہ کہانی تراشی گئی کہ ایم آئی کے ایک بریگیڈیئر رانجھا کے ذریعے جنرل کیانی نے نوازشریف کے حق میں دھاندلی کروائی، حالانکہ اس سے زیادہ لغو بات کوئی اور ہو نہیں سکتی۔
اندر سے باخبر لوگ جانتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کی جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ نہیں بنتی تھی۔ بھائی پر الزامات کی وجہ سے جنرل راحیل شریف کا دور جنرل کیانی کے لیے ایک مشکل وقت تھا۔ چنانچہ موقع غنیمت جان کر خان صاحب نے کھلے عام جنرل کیانی کے زیرکمان فوج پر دھاندلی کا الزام لگانا شروع کردیا۔ ایک سال قبل انہوں نے اپنے ترجمان نعیم الحق کے ذریعے ٹویٹ دلواکر یہ الزام میڈیا میں لگادیا، لیکن پھر جب ردعمل سامنے آیا تو اس ٹویٹ کو بھی ڈیلیٹ کرلیا اور جنرل کیانی سے ذاتی طور پر رابطہ کرکے معذرت بھی کرلی گئی۔ لیکن اب ایک بار پھر عمران خان نے جیو نیوز پر حامد میر کے ساتھ اپنے انٹرویو میں اس الزام کو دہرایا۔ سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان صاحب کو واقعی یقین ہے کہ جنرل کیانی کے کہنے پر ایم آئی کے بریگیڈیئر نے دھاندلی کرواکر نوازشریف کو جتوا دیا تو پھر دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے عدالتی کمیشن کے روبرو انہوں نے اس پہلو کو کیوں نہیں اٹھایا؟
(سلیم صافی۔ جنگ، 12مئی 2018ء)

قذافی کو “سزا” دینے کی وجہ

’’معاشی تباہی پھیلانے والے کے اعترافات‘‘ کے عنوان سے شہرۂ آفاق کتاب کے مصنف جان پرکنز کہہ چکے ہیں کہ لیبیا پر حملہ اور معمر قذافی کو سزا دینے کی بنیادی وجہ اس کی ڈالر اور یورو سے جان چھڑانے کی کوشش تھی۔ ایک عالمی جریدے نے اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ فرانس کا اُس وقت کا صدر نکولس سرکوزی معمرقذافی سے خفیہ طور پر بھاری رقم بٹورتا رہا اور اُسے ڈر تھا کہ اس کی کرپشن بے نقاب ہونے والی ہے، یہ بھانڈا اب پھوٹنے والا ہے۔ سرکوزی نے لیبیا پر حملے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سرکوزی کو چین اُس وقت نصیب ہوا جب آخرکار امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور عرب لیگ نے معمر قذافی کی اقتدار سے علیحدگی کے لیے بیان جاری کردیا۔یہ بات بھی عیاں ہوچکی ہے کہ معمرقذافی پیٹرو ڈالر پر دو حرف بھیج کر متبادل کرنسی نظام کے لیے منصوبہ بندی میں مصروفِ عمل تھا۔ ایک غیرملکی صحافی نے اپنے کالم میں یہ کہہ کر بھی امریکی اشرافیہ کے فیصلوں کی بھد اڑائی کہ ’’1970ء میں امریکہ نے مڈغاسکر پر اس لیے حملہ کردیا تھا کہ وہ ہماری چرس پی گئے تھے‘‘۔ یہ طنز اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ امریکی حکومت جو بیان پڑھتی ہے اور پس پردہ جو حقیقت ہوتی ہے، اس میں سرے سے کوئی ربط و تعلق نہیں ہوتا۔ یہ محض دھوکہ، فراڈ اور آنکھوں میں دھول جھونکنا ہوتا ہے۔ لیبیا میں جنگ وجدل اور طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا کہ باغیوں نے اپنا مرکزی بینک قائم کرلیا۔ یعنی اس افراتفری میں بھی باغیوں کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ پہلے ایک مرکزی بینک قائم کریں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ابھی انہوں نے اپنی حکومت قائم نہیں کی تھی لیکن بینک بنانا پہلا مقصد ٹھیرا۔ مغرب کے فوجی اتحاد نیٹو کے سابق سربراہ جنرل ویسلے کلارک کا یہ قول اگلے سو سال تک یاد رکھا جائے گا جس میں اس نے یہ خبر دے دی تھی کہ ’’2002ء میں پینٹاگون نے مجھے بتادیا تھا کہ پانچ سال میں ہم سات ممالک پر قبضہ کرلیں گے۔ عراق سے یہ کام شروع ہوگا، پھر شام، لبنان، پھر لیبیا، صومالیہ، سوڈان کی باری ہے۔ واپس آکر پانچ سال میں ہم ایران پر قبضہ کرلیں گے‘‘۔ اس میں سے زیادہ تر اہداف حاصل ہوچکے ہیں۔ یمن میں تباہی سعودی عرب کو خوش کرنے کے لیے ہورہی ہے۔ دنیا میں ایک بار پھر ترک خون نے جوش مارا ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی عالمی جوہری معاہدے سے دست برداری کے بعد امریکہ مکمل طور پر ناکام ہوجائے گا۔
(محمد اسلم خان۔ 12مئی 2018ء)

پاک۔ امریکہ تعلقات کا آغاز؟

پاکستان میں روسی سفیر الیکسی دیدوف نے روسی فیڈریشن کے قومی دن کے سلسلے میں ایک استقبالیہ دیا۔ اس استقبالیہ میں الیکسی دیدوف نے اپنی تقریر کا اردو زبان میں آغاز کیا تو استقبالیہ کے شرکاء کو حیرت ہوئی۔ وہ بڑی روانی سے اردو بول رہے تھے، لیکن مجبوراً انہیں اردو میں تقریر روک کر باقی تقریر انگریزی میں کرنا پڑی، کیوں کہ شرکاء کی اکثریت انگریزی زبان سمجھتی تھی۔ الیکسی دیدوف اُن روسی سفارت کاروں میں سے ہیں جنہوں نے ماسکو کے اورینٹل انسٹی ٹیوٹ میں اردو زبان سیکھی۔ کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں الیکسی دیدوف نے راقم کو بتایا تھا کہ وہ اردو اخبار آسانی سے پڑھ لیتے ہیں۔ جمعرات کی شام روسی سفیر نے اپنی تقریر میں پاک روس تعلقات کی مختصر تاریخ بھی بیان کی۔ روسی سفیر نے بتایا کہ روس نے پاکستان کو 1948ء میں تسلیم کرلیا تھا۔ پاکستان اور روس کے تعلقات کی تاریخ ستّر سال پرانی ہے۔ لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات میں بڑے نشیب و فراز آئے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو ماسکو سے سوویت یونین کا دورہ کرنے کی دعوت ملی تھی، روس سے پاکستانی وزیراعظم کو ملنے والے دعوت نامے نے واشنگٹن کو پریشان کردیا تھا۔ امریکہ نے سفارتی ذرائع کے ذریعے وزیراعظم لیاقت علی خان کو ماسکو کا دورہ منسوخ کرکے واشنگٹن آنے کی دعوت دے دی۔ لیاقت علی خان ماسکو کے بجائے واشنگٹن پہنچ گئے۔ کئی تجزیہ کار اور تاریخ دان تو یہ کہتے ہیں کہ لیاقت علی خان کے دورۂ ماسکو کی منسوخی نے پاک روس تعلقات کی تلخی کی بنیاد ڈالی۔ ایک امریکی سفارت کار ڈینس ککس نے جو محکمہ خارجہ میں 1960ء کی دہائی میں جنوبی ایشیا کے لیے امریکہ کا نائب وزیر بھی تھا، اپنی کتابUS PAKISTAN RELATIONS THE DIS EN CHANTED ALLIES میں لکھا ہے کہ امریکہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے واشنگٹن کے دورے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، جبکہ لیاقت علی خان چاہتے تھے کہ سرد جنگ کے دور میں پاکستان امریکہ کا اتحادی بنے۔ کیونکہ پاکستان کو امریکہ کی معاشی امداد اور ہتھیاروں کی ضرورت تھی اس لیے لیاقت علی خان نے ایران میں پاکستان کے سفیر راجا صاحب محمود آباد کے ذریعے ماسکو سے اپنے دورے کے لیے دعوت نامہ منگوا کر امریکہ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
یہ سفارتی چال کامیاب رہی اور امریکہ نے پاکستانی وزیراعظم کو دورے کی دعوت دے دی۔ یہ دورہ پاک امریکہ تعلقات کی بنیاد بنا۔
)جاوید صدیقی۔ نوائے وقت، 12مئی2108ء)

Share this: