روزہ سحری و افطاری میں غذائی احتیاط

ربِّ کائنات کا یہ احسان ہے کہ رحمتوں اور بخشش کا مہینہ آچکا ہے، اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نیکیوں کے اس موسمِ بہار سے فائدہ اٹھاتے اور اپنے گناہوں کی معافی کا سامان کررہے ہیں۔ سائنسی ایجادات اور جدید علاج کی سہولتیں اس بات کی تصدیق کررہی ہیں کہ گیارہ ماہ کے بعد ایک ماہ کی یہ عبادت روحانی فیوض و برکات کے علاوہ جسمانی فوائد بھی رکھتی ہے اور رمضان المبارک انسانی صحت کو برقرار اور بحال رکھنے کا بھی بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ سحری کے بعد متلی، قے، یا پیٹ درد کی شکایت کرتے ہیں۔ افطار کے بعد یہ شکایت زیادہ ہوتی ہے۔ اکثر اوقات بدہضمی (Food Poisoning) کی وجہ سے ہیضہ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور روزہ دار قے اور جلابوں کی وجہ سے پانی کی کمی کا شکار ہوکر نڈھال ہو جاتا ہے اور کئی روز تک روزہ رکھنے کے قابل نہیں رہتا۔
ان شکایات کا بنیادی سبب کھانے پینے کے آداب اور احتیاط کو نظرانداز کردینا قرار دیا جاسکتا ہے۔
سحری کرنا سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، لیکن ہم لوگ یہ تصور کرلیتے ہیں کہ دن بھر کا روزہ کیسے مکمل ہوگا! بعض بسیار خور دوست کہتے ہیں کہ ہمیں بھوک تنگ کرتی ہے لہٰذا سحری میں خوب پیٹ بھر کر کھانا چاہیے۔ حالاں کہ روزے کی روح یہی ہے کہ انسان صرف اتنا کھانے پر اکتفا کرے کہ اسے بھوک اور پیاس کا احساس ہو۔ ایک بھوکے اور پیاسے انسان کی کیفیت پتا لگے، تاکہ انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرسکے۔
سحری میں پراٹھا، آملیٹ، دہی، لسی، مکھن اور کئی قسم کے کھانے اس طرح پیٹ بھر کر کھائے جائیں کہ فجر کی نماز بھی ادا کرنے کی ہمت نہ رہے۔ یہ بھی تصور کرلیا گیا ہے کہ کھانے کے بعد چائے نہ ہو تو کھانا مکمل نہیں ہوتا۔کھانے میں سرد و گرم غذا میں وقفہ نہ کرنا، بعض اوقات دیر سے بیدار ہونے کی وجہ سے جلدی جلدی کھانا، گرم کھانے کے ساتھ لسی کا استعمال جس میں برف ہو، بعد میں گرم گرم چائے کا استعمال… یہ بے اعتدالی معدہ کو پکڑ لیتی ہے۔ سحری میں زود ہضم، سادہ اور کم خوراک صحت کو برقرار رکھنے اور روزے کو حقیقی روح کے ساتھ نباہنے کے لیے مفید ہے۔
کچھ ایسی ہی بے احتیاطی افطار کے وقت سرزد ہوتی ہے۔ چند دنوں کے بعد ’’سیاسی و مذہبی افطاری‘‘ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار کرانے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اسے روزے کے ثواب کے برابر فرمایا ہے، تاہم آپؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اپنے بھائیوں کا روزہ افطار کرائو خواہ ایک کھجور سے ہو یا پانی کے ایک گلاس یا دودھ کے گلاس سے‘‘۔ ہمارے ہاں افطاری کا عجیب تصور جنم لے چکا ہے۔ کوئی افطاری مکمل نہیں سمجھی جاتی جس میں سموسے، پکوڑے، مٹھائی، تکا بوٹی یا کباب نہ ہوں۔ دن بھر معدہ خالی ہونے کے بعد جب سرِشام بے احتیاطی سے یخ بستہ مشروب، آئس کریم لی جاتی ہے یا گرم گرم پکوڑے یا سموسے کھائے جاتے ہیں تو طبی نقطہ نظر سے ایسی جلدبازی کی خوراک غذا کی نالی اور معدہ کے منہ پر سوزش پیدا کردیتی ہے۔ ہمارے ہاں خصوصاً بازاروں میں تیار کردہ دہی بھلے، چاٹ اور اسی طرح کی دیگر غذائیں حفظانِ صحت کے اصولوں کے منافی تیار کی جاتی ہیں۔ پھل کاٹ کر پلاسٹک کے ٹبوں میں رکھ دیے جاتے ہیں، دہی ننگے برتنوں میں بغیر ڈھانپے رکھا جاتا ہے اور اس میں بیکٹریا پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسی غذائیں کھانے کے بعد عموماً پیٹ میں درد، بدہضمی، پیچش، قے، متلی کی شکایت ہوجاتی ہے۔ غذائی بے احتیاطی ہماری روزے کی عبادت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
ہمیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ گوناگوں نعمتوں پر اُس کا شکر ادا کرنا چاہیے، لیکن صحت اور احتیاط کا تقاضا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں کو مشعلِ راہ بنائیں۔ صحابہ کرامؓ دن بھر مشقت بھی کرتے، رمضان کے ایام میں جہاد اور قتال کی نوبت بھی آتی، لیکن وہ ایک کھجور یا دو کھجور سے سحری کرتے۔ افطاری میں بھی ایک کھجور یا سادہ پانی (آج کے دور کے یخ بستہ، کیمیکل سے تیار کردہ، معدہ کو تباہ کرنے والے مشروبات اُس دور میں نہیں تھے) سے روزہ افطار کرتے۔ شہید حکیم محمد سعید جو ’ایک ناشتا اور ایک کھانا‘ کے قائل تھے، زندگی بھر اکثر روزہ رکھتے۔ روزہ کی حالت میں ہی شہید ہوئے۔ وہ ’’شام ہمدرد‘‘ کی تقریب کے بعد ایک یا دو کھجور اور ایک گلاس دودھ سے روزہ افطار کرتے، دیگر اغذیہ ان کی زندگی میں شامل نہیں تھیں۔ یہ مردِ درویش کہتے ہیں کہ مجھے ساری عمر یہ نہیں معلوم ہوا کہ چائے کا ذائقہ کیا ہے؟
سحری و افطاری میں کھانے کے انداز کو بدل کر، اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق سادگی کو اختیار کرکے ہم بہت سے تکلیف دہ امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
سحری و افطاری کے بعد یہ قہوہ معدہ کی اصلاح میں بے حد مفید ہے:
ہوالشافی: کلونجی، زیرہ سفید، الائچی سبز، پودینہ… حسب معمول قہوہ تیار کرکے استعمال کریں… اورروزے کے مقاصد تقویٰ، پرہیزگاری اور عمدہ صحت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
سگریٹ نوشی، نسوار وغیرہ سے نجات حاصل کرنے کا سنہری زمانہ!
بہت سے لوگ سگریٹ نوشی اور ہمارے خیبر پختون خوا کے بہت سے دوست چاہتے ہیں کہ سگریٹ نوشی، نسوار اور دیگر فضول عادات سے نجات حاصل کریں۔ جن لوگوں کے اندر یہ لگن ہے، ان کے لیے رمضان سے بہتر کوئی موقع نہیں۔ اگر ایک انسان سگریٹ، حقہ، نسوار یا کثرت سے چائے پینے کی عادت سے 12سے 18گھنٹے روزے کی وجہ سے رک سکتا ہے تو افطار کے بعد باقی وقت بھی وہ اس کے بغیر گزارا کرسکتا ہے۔ ان ہلکی ’’نشہ آور‘‘ غذائوں کو ترک کرکے ایک عام آدمی ہزاروں روپے سالانہ کی بچت کے علاوہ روحانی فیوض بھی حاصل کرسکتا ہے۔ وہ شخص جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے اُسے ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
ہزار بار بہ شویم دہن از مشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمالِ بے ادبیست
جو آدمی سگریٹ، نسوار یا اسی طرح کی
(باقی صفحہ 41)

روزہ… سحری و افطاری میں غذائی احتیاط !/ حکیم سید صابر علی
کوئی چیز استعمال کرتا ہے، بدبودار منہ سے کیسے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کو گوارا کرے گا!
رمضان المبارک انسانی جسم کی بیماریوں سے نجات، صحت کی بحالی کے لیے اوور ہالنگ اور روح کی بالیدگی اور خود کو اللہ تعالیٰ اور قرآن سے جوڑنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، قرآن تو ہے ہی شفا۔
آیئے ہم اس فصلِ بہار سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا عزم کریں کہ
یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الٰہ الا اللہ

Share this: