زندگی زندہ دلی کا نام ہے

ابو سعدی

ہنسی دل کے لیے بہترین دوا ہے، اس لیے ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہیے۔ امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق جو افراد تنائو کا شکار رہتے ہیں، وہ دل کی بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں۔ تنائو اور اضمحلال و افسردگی دل کی صحت کے دشمن ہیں۔ مستقل تنائو میں رہنے سے دل کے دورے کا امکان بڑھ جاتا ہے، اس لیے ہمیشہ پُرامید اور ہنستے رہیے۔کیلی فورنیا کی لنڈا یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق جس طرح روزانہ کی چہل قدمی دل کو فائدہ پہنچاتی ہے، اسی طرح خوش رہنے کی عادت بھی دل پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اگر آپ روزانہ ٹیلی ویژن پر صرف پندرہ بیس منٹ تک مزاح سے پُر کوئی ڈراما دیکھتے ہیں یا کوئی مزاحیہ تحریر پڑھتے ہیں تو یقین کرلیجیے کہ آپ نہ صرف بلڈ پریشر اور تنائو سے بچے رہیں گے بلکہ دل کے امراض اور ذیابیطس سے بھی محفوظ رہیں گے۔ چناں چہ آج سے یہ مستحکم ارادہ کرلیجیے کہ آپ ہر حال میں خوش اور پُرامید رہنے کی بھرپور کوشش کریں گے، اس لیے کہ زندگی زندہ دلی کا نام ہے اور مُردہ دل افراد زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہتے۔

شرمیلے بچے تنہائی کا شکار

شرم سے ہر کوئی پیچھا چھڑانا چاہتا ہے، مگر بچوں میں جو بے جا شرم اور جھجک پیدا ہوجاتی ہے وہ انہیں ناکارہ بنادیتی ہے۔ وہ نہ صرف صحت مندانہ مشاغل سے دور رہتے ہیں بلکہ نئے دوست بنانے سے بھی احتراز کرتے ہیں اور اجنبی افراد میں گھلنا ملنا بھی پسند نہیں کرتے۔ نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بچے جو شرمیلے ہوتے ہیں تعلیم حاصل کرنے کے دوران مضامین میں بھی ان کے نمبر کم آتے ہیں۔ ایسے بچے غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ نہیں لیتے۔
سنگاپور کے ایک نفسیاتی اسپتال کی سربراہ شری متھی سوامی ناتھن کہتی ہیں کہ والدین کو ایسے بچوں کی مدد کرنی چاہیے، تاکہ جب وہ دوسرے افراد یا بچوں سے ملاقات کریں تو کسی قسم کی جھجک میں مبتلا نہ ہوں اور صحیح طریقے سے گفتگو کرسکیں۔ اس سلسلے میں شری متھی نے 6 اصول بتائے ہیں، جن پر عمل کرکے والدین ایسے بچوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ یہ اصول ذیل میں درج کیے جارہے ہیں:
(1) اپنے بچے کو یہ نہ بتائیں کہ وہ بے جا شرم کی وجہ سے دوسرے بچوں سے پیچھے رہ رہا ہے اور ہر معاملے میں ان سے کم تر ہے۔
(2) بچے کو جبراً اس کے کمرے سے نہ نکالیے اور اسے اجنبی افراد سے ملنے پر بھی مجبور نہ کیجیے۔ اسے اپنی دنیا میں خوش رہنے دیجیے۔ کوشش کرکے اس کی دنیا میں داخل ہوجائیے اور اسے سمجھانے کی کوشش کیجیے۔
(3) اپنے بچے کو رفتہ رفتہ دوسرے بچوں سے ملوائیے اور انہیں پہلے سے آگاہ کردیجیے کہ انہیں بچے کی بے جا شرم کو دور کرنا ہے، تاکہ وہ اجنبی افراد سے ملتے وقت نہ گھبرائے۔
(4) اسے دوسروں سے مانوس ہونے دیجیے اور اس سلسلے میں اسے اپنے طریقے کا انتخاب کرنے دیجیے۔ اگر وہ آپ کے سوالات کے جوابات دینے سے احتراز کرتا ہے تو اس سے پیچیدہ سوالات نہ کیجیے، مثلاً آج تم نے اسکول میں کیا پڑھا، یا تم کن لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے؟
(5) بچے کی سوچ اور ملنے جلنے پر پابندی عائد نہ کیجیے۔ اس کی شرم اور جھجک کو بتدریج ختم کیجیے، لیکن یہ ذہن میں رکھیے کہ اس عمل میں دیر لگے گی، لہٰذا صبر سے کام لیجیے۔
(6) اگر آپ اچھی گفتگو کرلیتے ہیں تو یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کا بچہ بھی آپ ہی کی طرح اچھی گفتگو کرسکے۔ اس کا مزاج اگر قدرت نے مختلف رکھا ہے تو اسے زبردستی بولنے پر مجبور نہ کیجیے۔

اللہ کا ہر فعل رحمت

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ نوشیرواں (579ء) نے اپنے وزیر بزرج مہر (590ء) کو جیل میں ڈال دیا اور کئی ماہ تک خبر نہ لی۔ ایک دن چند دوست اسے جیل میں ملنے گئے تو اسے بالکل مسرور و مطمئن پایا۔ انہوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا:
’’مجھے یقین ہے کہ ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے، اس کی مرضی کبھی نہیں ٹل سکتی اور اس کا ہر فعل رحمت ہوتا ہے اور یہ بھی یقین ہے کہ غم اور خوشی ہر دو ناپائیدار ہیں۔ اگر خوشی باقی نہیں رہی تو غم کا دور بھی لازماً گزر جائے گا۔‘‘
علم
امام و کیع بن جراح بن ملیح (814ء) ایک مشہور محدث ہو گزرے ہیں۔ ان سے ایک مرتبہ ایک طالب علم نے کہا کہ میں جو کچھ پڑھتا ہوں بھول جاتا ہوں۔ کوئی علاج بتائیے؟ فرمایا: گناہ چھوڑ دو کیونکہ علم ایک نور ہے اور اللہ کا نور بدکاروں کو نہیں مل سکتا۔
گوشت اور بلی
ایک رات ایک مسجد میں وعظ ہو رہا تھا، واعظ مثنوی کی ایک حکایت بیان کررہے تھے کہ ایک شخص گھر میں ایک سیر گوشت لایا اور بیوی سے کہا کہ کباب بنائو اور خود باہر چلا گیا۔ بیوی کباب بنا کر سارا گوشت کھا گئی۔ جب خاوند واپس آیا اور کباب مانگے تو کہنے لگی: میں یہاں گوشت رکھ کر اندر گئی تھی کہ بلی سارا کھا گئی۔ اتفاقاً اس وقت بلی قریب ہی بیٹھی تھی، شوہر نے اسے پکڑ کر تولا تو وہ بھی ایک سیر نکلی۔ مولانا روم فرماتے ہیں، اس پر شوہر نے پوچھا:
گر یہ بلی ہے تو گوشت ہے کہاں
گر یہ گوشت ہے تو بلی ہے کہاں
(ماہنامہ، چشم بیدار لاہور فروری 2018)

Share this: