ملائشیا کے انتخابات، مہاتیر محمد کی حکومت میں واپسی

ملائشیا کے حالیہ انتخابات میں برسراقتدار یونائیٹڈ ملے نیشنل آرگنائزیشن یا UMNOکے 61 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ تاہم جیتنے والے مہاتیر (یا محصیر) محمد بھی UMNOکے معماروں میں سے ہیں۔ جنوب ایشیا میں واقع اس ملک کی آبادی 3 کروڑ 20 لاکھ ہے جہاں مسلمانوں کا تناسب 60 فیصد ہے۔ 19.8 فیصد بودھ، 9.2 فیصد مسیحی اور ساڑھے 6 فیصد ہندو بھی یہاں آباد ہیں۔ بودھ چینی نسل کے ہیں۔ مسلمانوں کی غالب اکثریت حضرت امام شافعیؒ کی پیروکار ہے۔ ملائشیا 14ویں صدی میں اسلام کے نور سے منور ہوا جب عرب مبلغ بحرِ انڈمان و بحرِ جنوبی چین سے ملانے والی آبنائے ملاکا کے ساحلوں پر اترے۔ قدرت نے ملائیوں کو قلبِ سلیم سے نوازا ہے، چنانچہ جلد ہی فی دین اللہ افواجا کی عملی تفسیر سارے جزیرہ نما پر واضح ہوئی، آبادیوں کی آبادیاں مسلمان ہوگئیں اور مسلم سلطنتِ ملاکا کی بنیاد رکھ دی گئی۔ ملائی نرم خو، دیانت دار اور خوش اخلاق تو پہلے ہی سے تھے، اسلام نے ان صفات کو نکتۂ کمال
پہنچادیا اور ملاکا بہت بڑا تجارتی مرکز بن گیا، جہاں ایشیا، افریقہ اور یورپ سے ہزاروں تاجر کاروبار کے لیے آنے لگے۔ مسلمانوں نے تجارت کے ساتھ دعوت کا کام جاری رکھا اور جزیرہ بورنیو (Borneo) پر واقع صباح، سراوک اور برونائی کے علاوہ جنوب میں سنگاپور تک اسلام کی روشنی پھیل گئی۔
ملاکا سلطنت کا سارا زور تبلیغ، تربیت اور کردار سازی پر تھا اور ملائی قیادت عسکری پہلوئوں پر زیادہ توجہ نہ دے سکی۔ اس کمزوری کی سلطنت کو بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی اور 1511ء میں اس نفع بخش تجارتی مرکز پر پرتگالیوں نے قبضہ کرکے اسلامی سلطنت ختم کردی۔ اس کے 100 برس بعد ولندیزیوں (Dutch) نے پرتگالیوں کو نکال کر اپنی حکومت قائم کرلی۔ 1786ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی یہاں آئی اور صرف 33 سال میں سارا جزیرہ نما تاجِ برطانیہ کے زیرنگیں آگیا۔ دوسری جنگِ عظیم میں جاپان نے بھی ملائشیا کے چند جزیروں پر قبضہ کرلیا۔ پاکستان کی آزادی کے 10 سال بعد ملائشیا کو آزادی نصیب ہوئی، جس کے 6 سال بعد شمالی بورنیو کی صباح اور سراوک ریاستوں کے علاوہ جنوب میں واقع سنگاپور بھی ملائی وفاق میں شامل ہوگئے۔ 1965ء کے آغاز میں سنگاپورکے کچھ سیاست دانوں نے آزادی کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی وہاں چینیوں اور ملائیوں میں فسادات کا آغاز ہوا۔ غالباً یہ جدید انسانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ وفاق نے اپنی ’رٹ‘ برقرار رکھنے اور علیحدگی پسندوں کو کچلنے کے لیے فوجی آپریشن کے بجائے بغیر کسی خون خرابے کے سنگاپور کو آزادی دے دی۔
’اصلی پاکستان‘ کی طرح ملائشیا بھی مغربی اور مشرقی حصوں پر مشتمل ہے جس کے درمیان بحرِ جنوبی چین حائل ہے۔ مشرقی حصے کو جزیرہ نمائے ملائشیا کہتے ہیں، جبکہ مغربی ملائشیا جغرافیہ کی اصطلاح میں بورنیو ملائشیا کہلاتا ہے۔ پورا ملک 13 ریاستوں اور فاٹا کی طرز پر وفاق کے زیرانتظام 3 علاقوں پر مشتمل ہے۔ ریاستوں کو نگری اور وفاقی علاقوں کو ولایات کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ ملک کا دارالحکومت کوالالمپور وفاقی علاقہ شمار ہوتا ہے۔
برطانیہ کی طرح ملائشیا بھی ایک آئینی و پارلیمانی بادشاہت ہے، یعنی بادشاہ نے اپنے اختیارات منتخب پارلیمان کو تفویض کررکھے ہیں۔ ہر ریاست کا ایک سلطان ہے اور سلاطین کی کونسل یا مجلسِ راج ہر پانچ سال کے لیے کسی ایک سلطان کو ’سلطانِ معظم‘ منتخب کرتی ہے جو سارے ملائشیا کا سلطان ہے۔ یہ عہدہ 9 ریاستی سلاطین کے درمیان گردش کرتا ہے۔
نظمِ حکومت ایک پارلیمان کی ذمے داری ہے جو 222 رکنی ایوان رعایا (قومی اسمبلی) پر مشتمل ہے جسے پاکستان کی طرح حلقہ بندیوں کی بنیاد پر پانچ سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ آزادی کے بعد سے یونائیٹڈ ملے نیشنل آرگنائزیشن (UMNO)کی قیادت میں بننے والا اتحاد نیشنل فرنٹ (ملائی تلفظ باریسان نیسنل) برسراقتدار ہے۔ نیشنل فرنٹ UMNO، قوم پرست چینی، ہندوستانی اورصباح و سراوک کی علاقائی ٹکڑیوں سمیت 13 جماعتوں کا اتحاد ہے۔ اس وقت UMNOکے سربراہ نجیب عبدالرزاق ہیں جن کے چچا عون حسین ملائشیا کے تیسرے، اور ان کے والد تن عبدالرزاق ملک کے دوسرے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ 1981ء میں جب عون حسین نے UMNOکی قیادت اور وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دیا تو مہاتیر محمد نے اُن کی جگہ جماعت کی قیادت اور حکومت سنبھالی، اور اب وہ عون حسین کے بھتیجے نجیب رزاق کو ہراکر 92 برس کی عمر میں دوسری بار وزیراعظم بنے ہیں۔ حالیہ انتخابات کے نتائج پر گفتگو سے پہلے ملائشیا کی سیاسی و حکومتی تاریخ کا مختصر سا جائزہ قارئین کی دلچسپی کے لیے:
حالیہ انتخابات کی سب سے اہم بات سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی میدانِِ سیاست و حکومت میں واپسی ہے۔ مہاتیر محمد 2003ء میں انتخابی سیاست سے سبک دوش ہوگئے تھے لیکن سیاست سے ان کی دلچسپی برقرار رہی۔ 2016ء میں وزیراعظم نجیب رزاق کے بارے میں بے ایمانی اورخردبرد کا ایک بہت بڑا اسکینڈل سامنے آیا اور سارے ملک میں ان کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔ امریکی محکمہ سراغ رسانی کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں قائم ہونے والے ترقیاتی فنڈ 1MBDکے ذریعے ساڑھے 4 ارب ڈالر ہڑپ کرلیے گئے۔ دیدہ دلیری کی انتہا کہ 70 کروڑ ڈالر براہِ راست وزیراعظم کے ذاتی اکائونٹ میں جمع کرائے گئے۔ دوسری طرف حزب اختلاف کے رہنما انور ابراہیم ایک شرمناک جنسی بے راہ روی کے الزام میں پانچ سال کی سزا بھگت رہے تھے۔ لوٹ مار پر عوامی ردعمل روکنے کے لیے معروف سیاست دان انور ابراہیم کو جس منظم انداز میں بے عزت کرکے دیوار سے لگایا گیا وہ ملائشیا بلکہ اسلامی دنیا کا ایک سیاہ باب ہے۔ انور ابراہیم کے پابندِ سلاسل ہونے کی بنا پر انتخابات میں نجیب رزاق کی ٹکر کا کوئی رہنما موجودنہ تھا، چنانچہ مہاتیر محمد ایک بار پھر انتخابی میدان میں کود پڑے۔ ستم ظریفی یہ کہ انورابراہیم پر غلیظ الزام سب سے پہلے مہاتیر محمد ہی نے لگایا تھا۔ لیکن اِس بار انھوں نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی ملائشیا کے سلطانِ معظم سے انور ابراہیم کے لیے معافی کی درخواست کی جسے سلطان نے فوری طور پر منظور کرلیا اور انورابراہیم کی صاحبزادی نورالعزۃ کے مطابق 15 مئی کو ان کے والد کی باعزت رہائی متوقع ہے، جس کے بعد وہ ایوانِ رعایا کا انتخاب لڑیں گے اور غالباً اگلے سال کے شروع میں مہاتیر محمد انورابراہیم کے حق میں دست بردار ہوجائیں گے۔ بات طویل ہورہی ہے لیکن انور ابراہیم کے ذکر کے بغیر ملائشیا کی سیاست کو سمجھنا ذرا مشکل ہے۔
انور ابراہیم نے طلبہ سیاست سے اپنے کام کا آغاز کیا اور وہ نیشنل یونین آف ملائشین مسلم اسٹوڈنٹس کے رکن بن گئے۔ اس تنظیم کا ملائی مخفف PKPIMہے۔ اسے آپ ملائشیا کی اسلامی جمعیت طلبہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ PASکے سابق رہنما استاد فاضل نور PKPIMکے مربی تھے۔ 1970ء میں انورابراہیم کو PKPIMکا صدر منتخب کرلیا گیا۔ وہ کئی بار مولانا مودودیؒ سے ملنے لاہور آئے۔ صاف گو، تیکھے لہجے اور جوانی کی شعلہ بیانی نے انور کو کئی بار جیل کی سیر بھی کرائی۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی انھوں نے برسراقتدار یونائیٹڈ ملے نیشنل آرگنائزیشن (UMNO) میں شمولیت اختیار کرلی۔ ملائشیا کی اسلامی تحریک نے انورابراہیم کے اس قدم کو طوطا چشمی قرار دیتے ہوئے سخت مایوسی کا اظہار کیا، لیکن انور پورے اخلاص کے ساتھ دامنِ مہاتیر سے وابستہ ہوگئے۔ اپنی نجی محفلوں میں انھوں نے کہا کہ وہ اب بھی تحریکی ہیں لیکن PAS یا کسی دوسری اسلامی تحریک کے پلیٹ فارم سے وہ اپنی کامیابی ناممکن سمجھتے ہیں۔ باصلاحیت انور ابراہیم UMNO میں آئے اور چھاگئے۔ پارٹی ٹکٹ پر پارلیمان کا رکن منتخب ہوتے ہی وزیراعظم مہاتیر محمد نے انھیں کھیل اور نوجوانوں کے امور کا وزیر مقرر کردیا۔ دو سال بعد انھیں وزارتِ زراعت اور پھر وزارتِ تعلیم کا قلم دان بھی تھما دیا گیا۔ مہاتیر محمد کی غیر معمولی سرپرستی کی بنا پر لوگ انھیں مہاتیر محمد کا بیٹا کہنے لگے۔ وزیرتعلیم کی حیثیت سے انھوں نے ملائی طلبہ کی اعلیٰ تعلیم پر گہری توجہ دی۔ امریکی جامعات سے خالص تجارتی انداز میں مول تول کرکے فیسوں میں رعایت حاصل کی اور ہزاروں ملائی طلبہ اکتسابِ علم کے لیے امریکہ کی مؤقر جامعات بھیجے گئے۔ اس دوران انورابراہیم نے وزیراعظم سے یہ حکم جاری کروایا کہ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانے والے طلبہ کی بیویوں، اور طالبات کی صورت میں ان کے شوہروں کو سرکار کے خرچ پر ساتھ بھیجا جائے گا۔ انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ یہ عفتِ قلب و نگاہ کے لیے بے حد ضروری ہے۔ 1991ء میں انورابراہیم نے وزیرخزانہ کا عہدہ سنبھالا جس کے دو سال بعد انھیں نائب وزیراعظم مقرر کردیا گیا، اور مہاتیر محمد نے تاثردیا کہ وہ جلد ہی اقتدار انورابراہیم کے حوالے کرکے سبک دوش ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
لیکن اچانک ’باپ بیٹے‘ کے تعلقات تنائو کا شکار ہوگئے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انور ابراہیم اقربا پروری کے معاملے میں بے لچک رویہ رکھتے ہیں اور انھوں نے کچھ کلیدی عہدوں پر تقرری کے لیے مہاتیر محمد کی سفارش کو نہ صرف ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا بلکہ مہاتیر محمد کی فہمائش پر انھیں کرارا جواب بھی دیا۔ انور ابراہیم انتہائی مقبول رہنما تھے اس لیے اُن سے پیچھا چھڑانا اتنا آسان نہ تھا، چنانچہ شیطان نے ایک شرمناک راہ سُجھائی اور انور ابراہیم کو ایسا غلیظ الزام لگاکر جیل بھیج دیا گیا جس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ہمیں شرم آرہی ہے۔ قید کے دوران انور کو مہاتیر محمد کے حکم پر آئی جی پولیس نے خود بری طرح پیٹا۔ بعد میں عدالت نے انور ابراہیم کو دومقدمات میں 15سال قیدِ بامشقت کی سزا سنادی۔ انور ابراہیم کو قیدِ تنہائی میں رکھ کر بدترین نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری طرف انورابراہیم کی اہلیہ وان عزیزہ بنتِ وان اسماعیل سیاست میں آگئیں اور انھوں نے جمہوریت پسندوں کے ساتھ PASکو بھی اپنے ساتھ ملالیا۔ 2003ء میں مہاتیر محمد کی سبک دوشی کے چند ماہ بعد ملائشیا کی سپریم کورٹ نے انور ابراہیم پر لگائے گئے الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے انھیں باعزت بری کردیا۔ اس عرصے میں وان عزیزہ قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب حاصل کرچکی تھیں۔ 2006ء میں انور ابراہیم میدانِ سیاست میں واپس آئے لیکن انھوں نے ماضی سے کوئی سبق نہ سیکھا اور کرپشن و اقربا پروری کے خلاف ایک بار پھر شمشیرِ بے نیام بن گئے۔ چنانچہ پرانے الزام کو نئے سرے سے آراستہ کیا گیا اور انور ابراہیم دوبارہ جیل بھیج دیئے گئے۔ چار سال بعد عدالت نے انھیں رہا کردیا۔ اسی دوران وزیراعظم نجیب رزاق کا وہ مشہور اسکینڈل سامنے آیا جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ حکومتی دبائو پر 2014ء میں نظرثانی کی عدالت نے ان کی بریت کے فیصلے کو منسوخ کرکے انور ابراہیم کو 5 سال کے لیے جیل بھیج دیا۔ نجیب رزاق کی خردبرد کے خلاف انور ابراہیم کی اہلیہ وان عزیزہ بھرپور مہم چلارہی تھیں کہ اسی دوران انتخابات کا مرحلہ آگیا۔ حزبِ اختلاف کو نجیب کے خلاف ایک مضبوط رہنما کی ضرورت تھی، چنانچہ مہاتیر محمد کے نام پر اتفاق ہوگیا۔ ضعیف العمری کی بنا پر مہاتیر محمد عملی سیاست میں آنے پر راضی نہ تھے لیکن وان عزیزہ نے انھیں قائل کرلیا اور بات یہ طے پائی کہ اگر حزبِ اختلاف انتخاب جیت گئی تو وان عزیزہ نائب وزیراعظم بن کر حکومتی ذمے داری سنبھال لیں گی اور مہاتیر محمد کو امورِ حکومت کے باب میں زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی، اور اگر حکومت کی درخواست پر انور ابراہیم کو شاہی معافی مل گئی تو مہاتیر اقتدار انور ابراہیم کے حوالے کردیں گے۔
حالیہ انتخابات میں زبردست عوامی جوش و خروش دیکھا گیا اور ووٹ ڈالنے کا تناسب 82.3 فیصد رہا۔ نتائج کے مطابق مہاتیر محمد کی قیادت میں بننے والے اتحاد برائے امید(Pakatan Harapan) یا PH نے 49.5 فیصد ووٹ لے کر 222 کے ایوان میں 121 نشستیں جیت لیں۔ برسراقتدار نیشنل فرنٹ 36.4 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر رہا اور اس کے حصے میں 79 نشستیں آئیں، جبکہ اسلامی پارٹی PASکی قیادت میں بننے والے راہ فلاح یا GS اتحاد نے 13.67 فیصد ووٹ لے کر 18 نشستیں حاصل کیں۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں PASکو 1.11 فیصد ووٹ اور 3 نشستیں کم ملیں۔
1957ء میں تشکیل دی جانے والی اسلامک پارٹی آف ملائشیا یا PAS استاد فاضل نور مرحوم کی فکری تحریک کا نتیجہ ہے۔ استاد فاضل نور کو آپ ملائشیا کامولانا مودودی بھی کہہ سکتے ہیں۔ PAS محدود نشستوں پر قسمت آزمائی کرتی ہے اور تنظیم کا زیادہ زور تبلیغ اور رفاہی کاموں پر ہے۔ تاہم میدانِ سیاست پر بھی اس کے اثرات گہرے ہیں۔ریاست کلنتان (Kelantan) اس کا مضبوط گڑھ ہے جہاں ایک عرصے سے PASکی صوبائی حکومت ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کیدا (Kedah)، ترینگانو (Terengganu)، سیلنگور (Selangor) اور سنگاپور سے متصل جوہر (Johor) سے بھی PAS کے امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں۔
قومی اسمبلی کے مقابلے میں ریاستی انتخابات میں PASکی کارکردگی زیادہ بہتر رہی۔ PAS نے ملائشیا کی 12 میں سے 9 ریاستوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے اور نتائج کچھ اس طرح رہے:
٭اپنے گڑھ کلنتان میں PAS نے صوبائی اسمبلی کی 45 میں سے 37 نشستیں جیت لیں۔
٭ ریاست ترینگانو (Terengganu) میں صوبائی اسمبلی کی 32 میں سے 22 نشستوں پر PASکے نمائندے کامیاب ہوئے۔
٭ریاست کیدا (Kedah) میں PAS مضبوط حزب اختلاف ہے اور برسراقتدار جماعت کی 18 نشستوں کے مقابلے میں PAS کے پاس 15 نشستیں ہیں۔ باریسان نیشنل کو یہاں 3 نشستیں ملی ہیں۔ یہاں مخلوط حکومت کا قیام بھی خارج از امکان نہیں۔
٭ریاست پاہنگ (Pahang)میں بھی PASکی کارکردگی بہتر رہی اور 8 نشستیں حاصل کیں۔ دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت نے 9 نشستیں لی ہیں۔
٭ریاست سیلنگور (Selangor) میں PASکو بڑی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جہاں اسے صرف 1 نشست حاصل ہوسکی۔ ماضی میں یہاں PAS نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سیلنگور سے PASکے لیے قومی اسمبلی کے نتائج بھی مایوس کن رہے جس کی وجہ سے ایوانِ رعایا میں پارٹی کا حجم کسی حد تک سکڑ گیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مہاتیر محمد کے حق میں ابھرنے والے ریلے نے PASکو نقصان پہنچایا۔ سیلنگور سے اتحاد برائے امید نے 56 میں سے 51 نشستیں جیت لیں۔ اس کے علاوہ PAS نے جوہور (Johor)میں 1، فرلیس (Perlis) میں 2، اور فیراق (Perak) سے 3 نشستیں جیت لیں۔
مختصراً یوں سمجھیے کہ 12 میں سے 2 ریاستوں میں PAS حکومت بنائے گی۔ ایک ریاست میں قائد حزبِ اختلاف کا عہدہ PASکے پاس ہوگا۔ فیراق اور کیدا میں وہ مخلوط حکومت کا حصہ بن سکتی ہے۔
اسلام فوبیا و سیکولرازم کے طوفان اور میڈیا کی بدترین منفی مہم کے تناظر میں بہتری کی امید و توقع کے باوجود یہ کارکردگی کسی بھی اعتبار سے مایوس کن نہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی سامنے رہے کہ ملائشیا میں مسلمانوں کا تناسب صرف 60 فیصد ہے۔ یہاں ووٹر کی کم سے کم عمر 21 برس ہے جبکہ ساری دنیا کی طرح ملائشیا میں بھی طلبہ اور کم عمر نوجوانوں کا اسلامی تحریک کی طرف جھکائو بہت واضح ہے۔
دیکھنا ہے کہ مہاتیر محمد کی قیادت میں بننے والی وفاقی حکومت کرپشن کے خاتمے اور لوٹے ہوئے ساڑھے 4 ارب ڈالر کی واپسی کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔ تازہ ترین خبر کے مطابق وزارتِ انصاف نے سابق وزیراعظم کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی عوام بھی اپنے ملائشین بھائیوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے روزِ انتخاب کو لٹیروں کا یوم حساب بنادیں گے۔

Share this: