تالاب اور خیالات

ایک دانا بوڑھا جھیل کنارے بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کنکریاں تھیں، جنہیں وہ وقتاً فوقتاً پانی میں پھینک رہا تھا۔ ایک نوجوان کا اس طرف سے گزر ہوا، تو وہ بوڑھے کے پاس گیا اور کہا کہ وقت گزاری کا اچھا مشغلہ ہے۔ بوڑھا اپنے خیالات میں محو تھا۔ نوجوان چپکے سے اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد بوڑھا بولا:
’’پانی کو دیکھو، یہ کس قدر ساکت ہے۔‘‘
لڑکے نے ہاں میں سر ہلایا۔ بوڑھے نے کنکر پانی میں پھینکا اور بولا:
’’اب جبکہ میں نے کنکر پھینکا ہے، تو دیکھو، پانی میں کس طرح ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے‘‘ نوجوان نے جواب دیا ’’لہریں چاروں طرف پھیل کر دور جا رہی ہیں، جلد ہی پانی پھر ساکن ہوجائے گا‘‘۔
بوڑھے نے کہا: ’’اگر پانی کو خاموش کرنا ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیوں ناں ہلچل کا باعث بننے والی کنکریوں کو پانی سے نکال لیں؟‘‘
نوجوان نے ہاتھ ڈال کر پانی میں سے کنکر تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن اس سے پانی میں مزید لہریں پیدا ہوئیں۔ بوڑھے دانا نے نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
’’جب ایک دفعہ پانی میں کنکر پھینک دیا جائے، تو پھر لہروں کے پیدا ہونے کو نہیں روکا جا سکتا۔ اگر ہمیں لہروں کو روکنا ہے تو سرے سے کنکر ہی نہ پھینکیں۔ اسی طرح ہمارے ذہن کی مثال ہے۔ جب ایک خیال اس میں داخل ہوتا ہے تو ذہن کے تالاب میں لہریں پیدا ہوتی ہیں اور وہ پھیلنے لگتی ہیں۔ اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہر ایسے خیال کو جس سے ذہن ڈسٹرب ہوتا ہو، ذہن میں آنے سے روکا جائے۔ جب ایک دفعہ ذہن میں ہلچل پیدا ہوجائے تو وہ اپنے وقت پر پُرسکون ہوتی ہے۔ بہت سے منفی خیالات ہمارے ذہن کو ڈسٹرب کرتے ہیں۔ اگر آپ ان خیالات کو زبردستی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ذہن مزید ڈسٹرب ہوجاتا ہے۔‘‘
ایک لمحہ رک کردانا پھر بولا: ’’ذہن کو پُرسکون کرنے کے لیے اسے وقت پر چھوڑ دیا جائے، وہ بہترین مرہم ہے۔ تاہم بہتر طریقہ یہ ہے کہ ذہن میں گندے خیالات کو آنے ہی نہ دیا جائے۔ جب وہ آئیں گے تو ذہن میں ہلچل تو پیدا ہوگی اور وہ آپ کے پورے جسم کو ڈسٹرب کرے گی‘‘۔
(بشکریہ: ماہنامہ اقدارِ ملت)

اخلاقی بگاڑ

مغرب پرست طبقے کی مختلف تدبیروں سے اور اس کے بیرونی حامیوں کی مالی امداد اور ’’قومی ترقی‘‘ کے پروگراموں سے قوم کے اخلاق میں اتنا بگاڑ رونما ہوچکا ہے، جتنا آزادی سے پہلے غلامی کی پوری ڈیڑھ صدی میں بھی نہیں ہوسکا تھا۔ تعلیم و تربیت کا ناقص نظام نئی نسل کا ستیاناس کرچکا ہے اور کرتا چلا جارہا ہے۔ ’’ثقافت‘‘ کے نئے رنگ ڈھنگ اور اس کے ساتھ ریڈیو، سنیما ]ٹیلی ویژن[ اور فحش لٹریچر اونچے طبقوں سے لے کر دیہاتی عوام تک کو رنگیلا، عیاش اور جرائم پیشہ بنانے میں شب و روز سرگرم ہیں، اور ان کی بدولت اخلاقی پستی کا زہر قوم کی رگ رگ میں اتر گیا ہے۔
اونچے طبقوں کی بدترین مثالوں سے متاثر ہوکر عورتوں میں بے پردگی بڑھ رہی ہے، مرد و زن کے اختلاط میں اضافہ ہورہا ہے، بے حیائی کے مظاہروں کا ایک سیلاب امڈا چلا آرہا ہے۔
(مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ)

عاد کی تباہی

اللہ کی باغی قوم عاد تندوتیز منحوس آندھی کے عذاب سے تباہ ہوگئی، یہ عذاب سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل آیا جس نے اس سرکش قوم کو مکمل طور پر ہلاک کرکے رکھ دیا۔ حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے مخلص پیروانِ اسلام عذابِ الٰہی سے محفوظ رہے۔ اہلِ حضر موت کا دعویٰ ہے کہ قومِ عاد کی ہلاکت کے بعد حضرت ہود علیہ السلام حضرموت کے شہروں میں ہجرت کر آئے تھے، وہیں ان کی وفات ہوئی اور حضرموت کے مشرقی حصے میں وادی برہوت کے قریب شہر تریم سے تقریباً دو مرحلے پر دفن ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک اثر منقول ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کی قبر حضرموت میں کثیب احمر (سرخ ٹیلے) پر ہے اور ان کے سرہانے جھائو کا درخت ہے۔ جبکہ اہلِ فلسطین کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطین میں دفن ہیں۔ چنانچہ حضرموت اور فلسطین دونوں مقامات پر ہود علیہ السلام کی مبینہ قبروں پر عرس ہوتا ہے۔ قبرِ ہود سے متعلق حضرموت والی روایت درست اور معقول معلوم ہوتی ہے کیونکہ ان کی قوم کی تباہی اور ہلاکت کے بعد حضرت ہود علیہ السلام نے قریب ہی حضرموت کی آبادیوں میں قیام فرمایا ہوگا۔
(قصص القرآن جلد اول)

مستنصر باللہ

مستنصر باللہ نے 3 رمضان کو اندلس کی حکمرانی سنبھالی۔ تاریخ کی عرب اور غیر ملکی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ مستنصر باللہ کو کتابوں کے عاشق کا خطاب دیا گیا۔ وہ ایک عالی مرتبت مشہور بادشاہ ہونے کے ساتھ عالی ہمت، فقیہ، انساب کو جاننے والا، تاریخ کا حافظ، علم اور علماء سے محبت رکھنے والا شخص تھا۔ وہ اندلس کا نواں حکمراں تھا۔ اس کا پورا نام الحم بن عبدالرحمن الناصر بن محمد اور لقب المستنصر باللہ تھا۔ اُس کا دورِ حکومت 350 سے 366 ہجری تک رہا۔ مستنصر کا دور ہسپانیہ کے خطرے کی توسیع کے سبب نمایاں رہا، مگر وہ ہسپانوی قوتوں کو ایک مرتبہ پھر سے حکمراں کی وفاداری میں لانے میں کامیاب ہوگیا۔
مستنصر کی شخصیت ادبی اور تاریخی پہلوؤں، نسب شناسی، علم سے محبت اور ثقافت کی سرپرستی کے سبب نمایاں حیثیت کی حامل تھی۔ اس کے دور میں 277 مدارس تھے جہاں مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ ان میں تین مدارس نے مساجد کے اندر ترقی کی منازل طے کیں، جب کہ 24 مدارس قرطبہ کے مخلتف علاقوں میں تھے۔ مستنصر کی خلافت کا عرصہ 15 برس اور 5 ماہ پر محیط ہے۔ اُس نے 63 برس کی عمر میں وفات پائی۔

Share this: