دیر سے رکن صوبائی اسمبلی محمد علی کا انٹرویو

محمد علی سے پہلا تعارف غائبانہ تھا، یہ اُس وقت کی بات ہے جب ہم دیربالا، دیر اور پھر کمراٹ کے سفر پر تھے۔ راستے میں کئی مقامات پر پہاڑ کاٹے اور توڑے جارہے تھے، سڑکیں بن رہی تھیں، اور پھر کچھ منصوبوں کی تختیاں بھی لگی نظر آئیں جن پر ایک نام دیکھا تو وہ محمد علی ایم پی اے کا تھا، جب لوگوں سے بات چیت ہوئی تو معلوم ہوا کہ محمد علی تو ہماری اسمبلیوں میں پائے جانے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز سے بہت مختلف ہیں، متحرک ہیں، اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے کے مصداق، خیبر پختون خوا جہاں پہاڑ اور چٹانیں، بڑے بڑے دریا، دشوار گزار اور مشکل پہاڑ میں بنے راستے ہیں۔
دیر پاکستان کا ایک خوبصورت کوہستانی خطہ ہے۔ یہ پاکستان میں ضم ہونے سے پہلے ایک نوابی ریاست تھی جو ریاست دیر کے نام سے جانی جاتی تھی۔ ریاست کے خاتمے کے بعد دیر کو پختون خوا کا ضلع بنایا گیا جو بعد میں 1996ء میں مزید دو اضلاع میں تقسیم ہوا، ایک دیر زیریں اور دوسرا دیر بالا۔ محمد علی کا تعلق دیر بالا کی ایک وادی کوہستان سے ہے جو دیرہیڈ کوارٹر سے 80 کلومیٹر دور ہے۔ لیکن کہیں خوشی ہو یا کسی کا غم، یا علاقے کے لوگوں کا کوئی چھوٹا بڑا تنازع، محمد علی جماعت اسلامی کے ایم پی اے ہر موقع پر نظر آئیں گے۔ اسی لیے وہاں کے عوام نے انہیں ’’چیف آف کوہستان‘‘ کا لقب دیا ہوا ہے۔ آپ کے حلقے میں12 یونین کونسلیں ہیں۔ ایک ایک یونین کونسل کا رقبہ 20 سے 25 کلومیٹر تک ہوتا ہے۔ اتنا بڑا صوبائی حلقہ ہے کہ واحد ایم پی ہیں جو اپنے حلقے میں سفرانہ نماز پڑھتے ہیں۔ ان کے حلقے کے لوگ ان سے محبت کرتے ہیں، انہیں چاہتے ہیں اور آنکھوں پر بٹھاتے ہیں… سادہ، مخلص، متحرک، نرم گفتار، ہر دم مدد کے لیے تیار محمد علی صرف 32 سال کے جوان ہیں لیکن اپنی ذکاوت، ذہانت اور استقامت سے بڑے بڑے چیلنج قبول کرتے ہیں اور انہیں پورا کرنے میں اپنا تن من دھن لگا دیتے ہیں۔ کوہستان میں چونکہ پہلے تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی اس لیے سوات ہجرت کی، جہاں سے بی اے تک تعلیم حاصل کی، پھر پشاور یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ چار بہنیں اور چھے بھائی ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ سے بھی وابستہ رہے۔ والد صاحب کم عمری میں ہی جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے تھے۔ گزشتہ دنوں محمد علی کراچی تشریف لائے، جب گفتگو ہوئی تو جیسا سن رکھا تھا ویسا ہی پُرعزم نوجوان پایا، جس نے اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے کئی خواب اپنی آنکھوں میں بسا رکھے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا ناں کہ

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مردِ کُہستانی

ان سے ہونے والی گفتگو نذرِ قارئین ہے۔
……٭٭٭……

فرائیڈے اسپیشل: دیر کی سیاسی صورت حال کے بارے میں بتائیں۔
محمدعلی: 1969ء میں نواب چلے گئے تھے، یہ علاقہ 1969ء میں باقاعدہ پاکستان میں شامل ہوگیا تھا۔ نواب کا دور تو تاریکی کا دور تھا، غلامی کا دور تھا۔ نواب شاہ جہان انتہائی ظالم شخص تھا جس نے لوگوں کی زندگی اجیرن کررکھی تھی، یہاں تک کہ اپنے نوکر بھجوا کر گھروں سے گھی، مرغے اور لکڑیاں وغیرہ جیسی چیزیں بھی لے لیتا تھا۔ قلم،کتاب اور علم کا دشمن تھا۔ حالانکہ اُس وقت چترال اور سوات میں بھی شخصی حکومتیں تھیں۔ سوات اس وقت بھی ترقی کی جانب رواں دواں تھا۔ والیٔ سوات کے برطانیہ سے اچھے تعلقات تھے، ملکہ الزبتھ نے بھی دورے کیے تھے، اسی وقت جہاں زیب کالج بنا تھا، اُسے دیکھیں۔ سوات میں سینٹرل اسپتال بنا ہے، عدالتی نظام قائم تھا۔دیر کے نواب کے ذہن میں یہ بات تھی کہ میں علاقے کو ترقی دوں گا تو لوگوں کو تعلیم ملے گی اور میری بادشاہی ختم ہوجائے گی۔ اگر کوئی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کرتا، یا کوئی کسی کو دیتا تو اس کی شامت آجاتی۔ موت ملتی یا علاقہ بدری کی سزا ہوتی۔ تعلیم جرم، سفید لباس زیب تن کرنا جرم، گھروں پر بھی رنگ و روغن کرنا جرم تھا۔ نواب کا خیال یہ تھا کہ اگر کوئی یہ سب کررہا ہے تو میرے مقابلے پر آرہا ہے۔ نواب کے اپنے بچے توتعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن ہمارے حصے میں مزدوری تھی۔
فرائیڈے اسپیشل: نواب کے جانے کے بعد کیا تبدیلی رونما ہوئی؟
محمدعلی: دیر میں نہ تعلیم تھی نہ صحت، نہ روزگار تھا، نہ پینے کے پانی کا کوئی انتظام تھا۔ ابھی کوہستان میں ایسے علاقے ہیں جہاں لوگ پانچ پانچ گھنٹے پیدل چل کر جاتے ہیں۔ آمد و رفت کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ نواب کے جانے کے بعد دیر میں قلعہ کے سوا تو کچھ تھا ہی نہیں۔ جب یہاں سیاسی نظام آیا تو جماعت اسلامی نے نواب اور اُس کے خاندان کو شکست دی اور دیر سے الیکشن جیت لیا۔ اسی وقت سے الحمدللہ دیر کو روشنی اور ترقی ملنی شروع ہوئی۔ دیر میں تعلیم، صحت، فراہمیٔ آب، اسکول، کالج اور یونیورسٹی قائم ہوئی۔ یہ سب جماعت اسلامی ہی کی کوششوں اور کارکردگی کا نتیجہ اور کارنامہ ہے کہ آج ہمارا وہ ضلع دیر جو پورے صوبے میں سب سے پس ماندہ تھا، اب تعلیم اور ترقی کے لحاظ سے چھٹی پوزیشن پر ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: دیر کی ترقی میں جماعت اسلامی کے نمائندوں کو کن رکاوٹوں کا سامنا رہا؟
محمدعلی: 1947ء میں پاکستان آزاد ہوا لیکن ہمیں آزادی 1969ء میںملی، یعنی22 سال پہلے۔ ان 22 برسوں میں سے آپ مارشل لا کا دور نکال دیں توکل اٹھائیس سال بنتے ہیں۔ 2001ء سے پہلے کی بات ہے دیر بالا میں تعلیم کا تناسب 11 یا 12 فیصد تھا، اب 60 فیصد ہے۔ یہ جماعت اسلامی کا کام ہے۔ 1997ء میں جب جماعت اسلامی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اُس وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔ پی پی پی کو بھی موقع ملا، لیکن ہمیں تو کوئی نہیں دکھا سکتا کہ دوسری پارٹیوں نے وہاں کام کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے یہ کام عبادت کے طور پر کیے ہیں۔ آج ہم سرخرو ہیں اس بات پر کہ ہم نے اپنی قوم، اپنے علاقے کے عوام کے ساتھ بددیانتی نہیں کی۔ آج بھی اگر مجھے موت آتی ہے تو الحمدللہ میں مطمئن ہوں کہ اپنے منصب سے بے ایمانی نہیں کی، اپنی قوم کو دھوکا نہیں دیا، اپنی حیثیت اور اختیار سے زیادہ علاقے کو ترقی دی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: دیر کے بنیادی مسائل کیا ہیں؟
محمدعلی: روزگار سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اربوں روپے کے کام کیے ہیں، بنیادی سہولتیں پہنچانے کی بہت کوشش کی ہے۔ آپ کسی علاقے کے بارے میں طے کرتے ہیں کہ یہاںتعلیم دینی ہے، صحت اور پانی فراہم کرنا ہے، سڑکیں بنانی ہیں، اسکل ڈویلپمنٹ کے کام کرنے ہیں، پارک بنانے ہیں، تفریح کے مواقع فراہم کرنے ہیں… ان کاموں میں وقت لگتا ہے۔ اِس وقت بھی جو کام کرنے ہیں ان میں تعلیم، صحت، روزگار، مواصلات، صاف پانی کی فراہمی شامل ہیں۔ ان کاموں پر میری زیادہ توجہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: دیر بالا، خاص طور پر اپنے حلقے میں عوام کے لیے کیا خدما ت انجام دی ہیں؟
محمد علی: دیر بالا میں ہم نے لڑکیوں کے لیے 225 پرائمری اسکول بنائے ہیں۔ میرے دور میں 43 اسکول ٹینڈر ہوچکے ہیں، ان میں سے کچھ بن چکے ہیں اور کچھ زیر تعمیر ہیں۔ ابھی 5 تاریخ کو میرے مزید پانچ اسکول ٹینڈر ہونے ہیں، یہ تقریباً 49 بنتے ہیں جو صرف میں نے اپنے دور میں کیے ہیں۔ 2018ء میں صورتِ حال یہ ہے کہ اپر دیر میں گرلز پرائمری اسکول 215، گرلز مڈل اسکول 26، گرلز ہائی اسکول 13، گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول3، بوائز پرائمری اسکول591، بوائز مکتب اسکول 77، مڈل اسکول 64، بوائے ہائی اسکول40، بوائے ہائر سیکنڈری اسکول 10 ہیں۔ 3 ڈگری کالج اپر دیر میں ہیں، ٹیکنیکل کالج واڑی میں ہے، 4 ڈگری کالج منظور ہوچکے ہیں، ان میں سے ایک پر کام شروع ہوگیا ہے، باقی تین پر شروع ہونے والا ہے۔ اپر دیر کے لیے جو ڈگری کالج منظور ہوئے ہیں ان میں سے ایک پر چند دنوں میں ٹینڈر ہوجائے گا، داروڑہ میںانجینئرنگ یونیورسٹی پشارو کا کیمپس تعمیر ہو رہا ہے۔ خار کے لیے ڈگری کالج منظور ہوگیا ہے، واڑی میں کالج بنے گا… یہ کالج وہ ہیں جو میرے دور میں منظور ہوئے اور ان کے ٹینڈر ہوگئے ہیں۔ اسی طرح میرے ایک حلقے میں 43 اسکول وہ ہیں جن کے ٹینڈر ہوچکے ہیں، جو زیر تعمیر ہیں یا بن چکے ہیں۔ اسی طرح عنایت اللہ خان کے حلقے میں 77 ایسے تعلیمی ادارے ہیں جو ہم نے ان ساڑھے چار سال میں اپر دیر کے لیے منظور کرائے ہیں۔ ان میں سے کچھ بن چکے ہیں اور باقی پر کام ہورہا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: تعلیم اور صحت کے حوالے سے عمارتیں تو بنی ہیں، عملی طور پر تدریس اور صحت کی سہولیات کی کیا صورتِ حال ہے؟
محمد علی: اپر دیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتِ حال کراچی سے بہتر ہے۔ اساتذہ آرہے ہیں، طلبہ موجود ہوتے ہیں، نجی اسکولوں میں اساتذہ کو تنخواہیں دس بارہ ہزار سے زیادہ نہیں ملتیں، سرکاری اسکولوں میں 25 ہزار سے تنخواہیں شروع ہوتی ہیں اور سینئر اساتذہ کو ایک لاکھ روپے تک ملتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے وہ زیادہ محنت نہیں کرتے، اسی لیے سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار نجی تعلیمی اداروں سے بہتر نہیں ہے۔ لیکن جو صورت پنجاب اور سندھ میں ہے وہ اپر دیر میں نہیں۔ وہاں بھوت بنگلہ نظر نہیں آئے گا، سارے اسکول کام کررہے ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ صحت کا ہے۔ ہم نے دیر میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال بنایا ہے۔ کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں اور علاقوں سے موازنہ کیا جائے تو ہم بہتر کام کر رہے ہیں البتہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی ہے، مشینری کی کمی ہے، لیکن دیگر علاقوںسے بہت اچھا ہے۔
میرا صوبائی حلقہ 3 تحصیلوں پر مشتمل ہے: تحصیل برجم، شرینگل اور کل کوٹ، جو 180 کلومیٹر رقبے پر محیط ہے۔ پتراک میں کیٹیگری ڈی اسپتال ہے، شرینگل اور ترپاتر میں آر ایچ سی ہیں تھل، کل کوٹ، بری کوٹ، ڈوگ درہ، ساونی ، اور جبرمیں بی ایچ یو ہیں، بٹل اور بیار میں سول ڈسپنسریز ہیں اس طرح میرے ایک حلقے میں 11سرکاری طبی سہولیات ہیں، لیکن یہ ہماری ضرورت سے کم ہیں۔ ایسے ایسے علاقے ہیں جہاں سے لوگ پانچ چھے گھنٹے چل کر آتے ہیں، انہیں ابتدائی طبی امداد ملتی ہے۔ میں اُس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھوں گا جب تک میرے علاقے میں ہر جگہ اسپتال نہ ہوں اور ان میں آپریشن تھیٹر اور لیبارٹری قائم نہ ہوجائے اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر تعینات ہوں۔ اسمبلی میں، میں نے تعلیم اور صحت پر مسلسل بات کی ہے، پانی اور مواصلات پر جھگڑا کیا ہے، اسی طرح سیاحت کے فروغ پر توجہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: سیاحت کے لیے ضروری ہے کہ سڑکوں کا نظام بہتر ہو۔ اس کے لیے کیا کررہے ہیں یا کیا کرچکے ہیں؟
محمد علی: صوبائی حکومت کی تو سیاحت کے فروغ میں دلچسپی نہیں ہے، لیکن میں نے اپنے فنڈ سے الحمدللہ کمراٹ کی مرکزی سڑک کے لیے 18 کروڑ 75 لاکھ روپے دیے ہیں۔ اس کے فیز ون پر کام شروع ہوچکا ہے اور فیز ٹو کا ٹینڈر ہوگیا ہے۔ جہاں کمراٹ کی سڑک ختم ہوتی ہے اس کو ہم دوجنگا کہتے ہیں۔ یہ سڑک پتھر سے بنی ہے، وہاں گرینائٹ کے سوا کوئی پتھر ہے ہی نہیں۔ اس سڑک پر جو پتھر لگے گا وہ گرینائٹ کا لگے گا۔ یہ دنیا کی سب سے مہنگی سڑک بنے گی۔ اس کے علاوہ کمراٹ میں مَیں نے اپنے فنڈ سے 3 کروڑ روپے دیے ہیں جس سے وہاں پارک بنے گا۔ اس کے علاوہ ایک علاقہ ہے جھازبانڈہ، وہاں سڑک کے لیے رقم مختص کی ہے۔ ایک دو ماہ میں وہاں سڑک بن جائے گی۔ وہ علاقہ بھی حسن میں کمراٹ سے کم نہیں ہے۔ جھازبانڈہ پہاڑ پر ہے، وہ بھی جنت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس جگہ ان شاء اللہ چیئر لفٹ لگائیں گے تاکہ سیاح جھازبانڈہ کی بھی سیر کریں۔ چندرئی سے لوگ پیدل جھازبانڈہ جاتے تھے،اس میں تین چار گھنٹے لگتے تھے، وہاں الحمدللہ سڑک بن رہی ہے، اس علاقے کو ہم ٹورازم کے حوالے سے ڈویلپ کردیں گے تاکہ یہاں کے لوگوں کی معیشت بھی اچھی ہو اور انہیں روزگار ملے۔
فرائیڈے اسپیشل: صوبائی اور وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی کی کیا وجہ ہے؟
محمد علی: جب حکومت بنتی ہے اور کابینہ کی تشکیل ہوتی ہے تو وزارتیںصرف تعلقات کی بنیاد پر دی جاتی ہیں، مہارت کی بنیاد پر نہیں۔ پھر ایسے لوگوں کو ان چیزوں میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ ہماری صحت کی وزارت جس کو دی گئی ہے وہ تمباکو کی تجارت کرتا ہے۔ اس کی سگریٹ کی فیکٹریاں ہیں۔ سگریٹ کا کاروبار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کی صحت کو برباد کرتا ہے، اور اس کو آپ نے صحت میں لگایا ہوا ہے! ہمارا وزیر تعلیم میٹرک ہے، اس کو تعلیم کے بارے میں کچھ نہیں معلوم کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے؟ فارسٹ منسٹر کا تعلق پشاور سے ہے، اسے کیا معلوم کہ فارسٹ کیا ہوتا ہے! جب ہم حلف لے رہے تھے میں نے وزیراعلیٰ سے کہا ’’میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ٹورازم پر فوکس کریں، وسائل یہاں سے پیدا کریں، بھیک نہ مانگیں‘‘۔ لیکن حکومت کی دلچسپی نہیں ہے۔ مجھ سے لوگ کہتے ہیں کہ آپ تو حکومت میں تھے۔ میرے پاس زکوٰۃ، عشر اور لوکل گورنمنٹ تھی، میں خیبرپختون خوا کے لوگوں کو جواب دہ ہوں۔ تین وزارتوں میں لوکل گورنمنٹ میں کوئی کمی ہے تو مجھے بتائیں۔ فنانس میں، زکوٰۃ وعشر میں ہے تو مجھے بتائیں میں جواب دہ ہوں۔ ہم نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔ بعض حلقے ایسے ہیں جہاں کے ایم این اے، ایم پی اے کام نہ بھی کریں تو ڈویلپمنٹ کا کام خود ہوجاتا ہے، جیسے کراچی میں یہاں کے ایم پی اے کچھ بھی نہ کریں پھر بھی دنیا کو معلوم ہے کہ کراچی کی ضروریات کیا ہیں۔ ہمارے علاقوں میں یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک چیز کے لیے حکومت کے پاس سو، سو بار جاتے ہیں، حکومت پر دبائو ڈالتے ہیں۔ وہاں پر جو کام بھی ہوا ہے حکومت کی دلچسپی سے ہوا ہے کہ ہم نے حکومت کو مجبور کرکے کام کرائے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: خیبر پختون خوا حکومت پر تنقید ہوتی ہے، جماعت اسلامی ان تنقیدوں سے خود کو کیسے الگ کرتی ہے؟
محمد علی: ہر بندے سے اللہ تعالیٰ اسی کے حصے کے متعلق پوچھے گا۔ آپ کو جوانی دی تھی کیسے گزاری؟ مال دیا تھا کیسے خرچ کیا؟ علم دیا تھا، عمل کتنا کیا؟ ہم جوابدہ اپنے تین محکموں کے ہیں۔ اگرچہ قانون سازی کی حد تک تو ہمارا صوبہ ٹاپ پر ہے لیکن عمل درآمد اس طرح نہیں ہوا جس طرح ہونا چاہیے۔ میں ذاتی طور پر اس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، لیکن ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں اِس حکومت سے مطمئن ہوں۔
فرائیڈے اسپیشل: جماعت اسلامی ایم ایم اے کے ساتھ بھی حکومت میں رہی اور پی ٹی آئی کے ساتھ بھی، کس کے ساتھ زیادہ Comfortable رہے؟
محمد علی: مجلس عمل کے دور میں بھی بہت ترقیاتی کام ہوئے تھے۔ لیکن موجودہ حکومت میں ہم زیادہ Comfortable رہے۔ہمارے حلقوں میں اتحادیوں کی مداخلت نہیں ہوئی۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے اپنے حلقے میں کیا کیا کام کرائے؟ یا اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کیا کیا؟
محمد علی: چونکہ علاقہ بہت پھیلا ہوا ہے، اس لحاظ سے سڑکوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ مرکزی سڑک جس پر آپ یادگار فرید خان سے کمراٹ جاتے ہیں، اس سڑک پر میں نے اپنی طرف سے ایک ارب 83 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ یہ سڑک الحمدللہ 90 فیصد بن گئی ہے، اس کے علاوہ کن کوٹ سے لے کر ٹھل تک روڈ کے لیے میں نے 9 کروڑ روپے دیے ہیں، دیر سے کمراٹ تک سڑک پر میں 2 ارب 15 کروڑ روپے لگا رہا ہوں، اس کے علاوہ بڑی بڑی وادیاں (ویلیز) ہیں، ڈوگ کی سڑک، گوالدل کا مین روڈ، جندرے کا روڈ، رباٹ کوئی، اصورے دڑی، کدی خیل، نوشہری درا بنا رہا ہوں، … ان پر کُل ملاکر الحمدللہ ایک ارب 50 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ لنک روڈ کی تعمیر… مجموعی طور پر صرف سڑکوں کی تعمیر پر میں نے 4 ارب روپے سے زائد خرچ کیے ہیں۔ اس کے علاوہ کمراٹ سے کن کوٹ تک 70 کروڑ روپے مالیت کی نہر ٹینڈر ہوچکی ہے، اس کے علاوہ دریائوں پر حفاظتی بند کے لیے 23 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں، واٹر سپلائی کی چھوٹی چھوٹی اسکیموں پر 60 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ نہر جسے ایری گیشن چینل بھی کہا جاتا ہے، کے ذریعے ہزاروں ایکڑ بنجر زمین سیراب ہوگی جس سے زمین سونا اگلے گی۔ پھر چھوٹے علاقوں میں مختلف کاموں پر 50,40 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ میں نے اپنے حلقے میں دو نئی تحصیلیں بنائی ہیں، شاید کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک دور میں دو تحصیلیں منظور کرائی گئی ہوں۔ تحصیل بن جانے سے لوگوں کو بہت سہولت ہوجائے گی۔ علاقے کے قریب ہی سرکاری محکمے ہوں گے۔ صرف شناختی کارڈ بنوانے کے لیے لوگوں کے چار پانچ ہزار روپے خرچ ہوجاتے تھے، اب لوگ اپنے گائوں میں بنوائیں گے۔ ایک بڑا کام جو ہم نے کیا ہے کہملاکنڈ ڈویژن میں جنگلات اور معدنیات کو حکومت کی ملکیت سے نکال کر عوام کی ملکیت میں دیا ہے۔ نوابی ریاست کے خاتمے کے بعد حکومت نے جنگلات اور معدنیات کو سرکاری ملکیت قرار دے دیا تھا۔70 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پورے ڈویژن کی جائداد حکومت سے لے کر ہم نے عوام کو دے دی کہ آپ اس کے مالک ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی حفاظت لوگ کرسکتے ہیں۔ آپ نے چیک پوسٹ دیکھی ہوں گی، وہ حکومت کی نہیں، وہاں کے لوگوں کی ہیں۔ کسی نے درخت کاٹا تو اس کے خلاف ایف آئی آر کٹے گی، جرمانہ ہوگا، جیل جائے گا۔ ہمارے علاقے میں اسمگلنگ صفر ہے، ٹمبر مافیا ختم ہوگیا ہے۔ جنگل میں خشک سالی کی وجہ سے بھی آگ لگ جاتی ہے، لوگ مسجدوں سے اعلان کرتے ہیں، ہزاروں لوگ جنگل کی طرف دوڑتے ہیں، آگ کو بجھاتے ہیں۔ وہاں ایک نظام ہے، نیٹ ورک ہے، اسی کے تحت لوگ کام کرتے ہیں۔ یہ تاریخی کارنامہ ہے۔ جتنے کام ہم نے کیے ہیں اس سے بڑھ کر کام کرنا ہے۔ لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ ہم نے کیا کیا کام کیے ہیں، وہ تو اس کی نشاندہی کریں گے جو نہیں ہوا۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ کے علاقے میں خواتین کے ووٹ کا مسئلہ کھڑا ہوا تھا، اب کیا صورتِ حال ہے؟
محمد علی: دیر میں 1970ء کے الیکشن میں خواتین نے ووٹ ڈالا تھا۔ اس کے بعد خواتین ووٹ کے لیے نہیں نکلتی تھیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ دیر والے اپنی خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع کرتے ہیں۔ دیر میں خواتین میں ووٹ ڈالنے کا رجحان ہی نہیں تھا، ہم نے 2013ء کے انتخابات میں کارکنان سے کہا کہ آپ خواتین کے پردے کا اہتمام کریں، ان کے لیے گاڑیوں کا انتظام کریں۔ الیکشن کمیشن کا جو فیصلہ آیا ہے یہ ہماری خواہش بھی تھی۔ 2018ء میں خواتین بھرپور طریقے سے نکلیں گی اور ووٹ ڈالیں گی، پہلے بھی ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں تھی۔ یہ این جی اوز جو باتیں کررہی ہیں صرف اپنے پیسوں کے لیے کررہی ہیں۔ اسلام اور قرآن نے خواتین کو جو حقوق دیے ہیں وہ یہ این جی اوز کب دیں گی؟ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی جتنی بھی این جی اوز ہیں وہ اپنے گھروں کو نہیں سنبھال سکتیں تو دوسری خواتین کا کیا تحفظ کریں گی! اگر کوئی عورت عدالت جاتی ہے اور شکایت کرتی ہے کہ میرے بھائی یا باپ نے مجھے ووٹ دینے نہیں دیا تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن اگر وہ خود اپنی مرضی سے ووٹ دینے نہ جائے تو بات دوسری ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ کی خریداری کے لیے ایم پی ایز کو رقم دی گئی، اس میں آپ کا نام بھی آیا کہ آپ کو خریدنے کی کوشش کی گئی، یہ کیا قصہ ہے؟
محمد علی: سینیٹ الیکشن میں پورے ملک میں یہ سلسلہ چلا تھا، خیبر پختون خوا میں زیادہ تھا۔ ایک تو یہ کہ مارچ میں الیکشن ہورہا ہے اور مئی میں نظام ختم ہورہا ہے۔ لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ الیکشن مہم آرہی ہے، پیسے کہاں سے آئیں گے؟ جس پارٹی کے پاس لوگ نہیں تھے، انہوں نے بھی نمائندے کھڑے کیے۔ ساری پارٹیوں کے لوگ ایک دوسرے سے مل رہے تھے، کھلے عام پیسوں کی آفر ہورہی تھی، مجھے بھی آفر ہوئی تھی 9 کروڑ روپے کی کہ آپ ہمیں ووٹ دے دیں۔ لیکن وہ یہ بھول رہے تھے کہ یہ جماعت اسلامی کا ایم پی اے ہے، یہ گاجر مولی تو نہیں ہے کہ بازار میں اپنا ریٹ لگائے کہ مجھے خرید لو۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ 2018ء کے سینیٹ الیکشن میں ہم نے انسانوں کی خریدوفروخت دیکھی۔ میرے پاس بھی لوگ آئے تھے، میں اپنی پارٹی اور عوام کے سامنے سرخرو ہوں کہ میں نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا۔ میرے سامنے ہیرے جواہرات، پلاٹ، بنگلوں اور پیسوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے، میرے سامنے اہمیت ہے اللہ کی رضا کی، پارٹی سے وفاداری کی، عوام کے اعتماد کی۔ آج اگر میں غریب ہوں تو مطمئن ہوں۔ ہمیں غریبی قبول ہے، غریب عوام قبول ہیں، اپنی پارٹی جماعت اسلامی قبول ہے، ہم خوش ہیں کہ جماعت اسلامی نے ہمیں یہ عزت دی ہے۔ جماعت اسلامی اگر کل کسی اور کو ٹکٹ دیتی ہے تو وہ میرا لیڈر ہوگا۔ میں اُس کے لیے مہم چلائوں گا، میں اسی کا ڈرائیور ہوں گا، اسی کے ساتھ جائوں گا کہ یہ ہمارے نمائندے ہیں ان کو ووٹ دیں۔ آپ مجھے بیگ دیں کہ یہ گاڑی میں رکھ دو، بیگ آپ نے اس لیے تو نہیں دیا کہ میں گھر لے جائوں۔ میں اس کمرے سے نکل کر بیگ گاڑی میں رکھ دوں تو میں نے آپ پر احسان تو نہیں کیا۔ پارٹی نے مجھے امانت دی تھی، وہ واپس پارٹی کو لوٹا دی۔ یہ کوئی کارنامہ تو نہیں ہے۔

کمراٹ او ر جھاز بانڈہ

خیبر پختون خوا میں دیر بالا کو حسن و رعنائی اور دلکشی میں اہم مقام حاصل ہے اور یہ سیر و سیاحت کے لیے منفرد ہے۔ یہاں دیگر خوبصورت مقامات کے علاوہ کمراٹ اور جھاز بانڈہ ایک طرح سے نئی دریافتیں ہیں اور محمد علی یہاں کے ایم پی اے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کمراٹ پاکستان کی منفرد، خاموش، پُرفسوں وادی ہونے کے ساتھ فطری خوب صورتی، دل کشی اور رعنائی و زیبائی کا شاہکار ہے۔ اگر اس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ پاکستان کے تمام سیاحتی مقامات کے مجموعے کا نام ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اسی طرح جھاز بانڈہ بھی پاکستان کے درجنوں پہاڑی مستقر میں سے ایک اہم دریافت ہے۔ خیبر پختون خوا بِلاشبہ پاکستان کا ایک حسین ترین خطہ ہے۔ اس کے قدرتی مناظر، برف پوش پہاڑ، شفاف ندیاں، بلند آبشار، پُرشور دریا اور بارونق میدانی علاقے ہر شخص کا دل موہ لینے کے لیے کافی ہیں۔ دیر بالا کے پہاڑوں پر سال کا زیادہ عرصہ برف جمی رہتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ محمد علی دیر بالا میں بحیثیت ایم پی اے اپنے محدود وسائل کے ساتھ اس کو سیاحت کے لیے بہتر کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور اس حوالے سے ہمہ تن مصروف عمل بھی ہیں، لیکن صوبائی اور بالخصوص وفاقی حکومت کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ علاقہ پاکستان اور یہاں کے لوگوں کو بہت کچھ دے سکتا ہے۔

Share this: