اعتکاف

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو وفات بخشی۔ پھر آپؐ کے بعد آپؐ کی ازواجِ مطہرات اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ (متفق علیہ)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں مسجد میں قیام فرماتے تھے، اور آپؐ کا یہ معمول عمر بھر رہا۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد آپؐ کا وہ معمول ہے جو مدینہ طیبہ میں رہا، کیوں کہ رمضان کے روزوں کا حکم مدینہ طیبہ میں آیا تھا۔ دوسرے یہ کہ مکہ میں اُس وقت تک سرے سے کوئی مسجد ہی نہ تھی اور مسجد حرام (خانہ کعبہ) میں اعتکاف کرنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ اسی لیے اس سے مراد یہی ہے کہ قیام مدینہ طیبہ میں آخر وقت تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول رہا کہ آپؐ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ (کتاب الصوم، جولائی 1980ء۔ ص 267،268)
اعتکاف کا فقہی حکم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال اپنے زمانۂ قیام مدینہ میں اعتکاف نہیں کیا جس سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ اعتکاف کرنا فرض اور واجب نہیں ہے۔ اگر فرض اور واجب ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سال بھی اعتکاف نہ چھوڑتے۔ اگرچہ اعتکاف ایک بہت بڑی نیکی ہے اور ایک ایسی سنت ہے جس پر عمل کیا جانا چاہیے (اور آپؐ برابر سالہا سال اسی پر عمل پیرا رہے) لیکن ایک سال آپؐ نے اعتکاف نہیں فرمایا تاکہ فرض و واجب یا سنت میں فرق واضح ہوجائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کی بنا پر فقہا کے درمیان اعتکاف کی نوعیت میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض اس کو واجب قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اعتکاف کیا ہے۔ اگر ایک سال نہیں کیا تو دوسرے سال آپؐ نے دس دن مزید اعتکاف میں بیٹھ کر اس کی قضا ادا کی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے اور سنت مؤکدہ ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مستحب ہے اور ایسا مستحب کہ اس پر عمل کیا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو مختلف عمل ہیں، فقہا نے یہ آرا ان کو دیکھ کر اختیار کی ہیں اور سب اپنی اپنی جگہ وزن رکھتی ہیں۔
(کتاب الصوم، نومبر2000ء۔ ص 288،289)
معتکف میں کب داخل ہونا چاہیے
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تھے تو فجر کی نماز پڑھ کر اپنے معتکف (اعتکاف کی جگہ) میں داخل ہوجاتے تھے۔ (ابودائود، ابن ماجہ)
معتکف سے مراد وہ جگہ ہے جو آدمی مسجد میں اپنے اعتکاف کے لیے بنالے۔ مسجد میں ایک پردہ سا لٹکا کر اپنے لیے خلوت پیدا کرلی جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر اپنے معتکف میں داخل ہوجاتے تھے۔
امام اوزاعیؒ اور امام ثوریؒ وغیرہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اعتکاف کی ابتدا فجر کے وقت سے ہوتی ہے۔ بعض دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف کی ابتدا مغرب کے وقت سے ہوتی ہے، یعنی اگر 21 تاریخ سے اعتکاف میں بیٹھنا چاہے تو وہ 20 تاریخ کو مغرب کی نماز کے بعد اعتکاف میں بیٹھ جائے گا۔ اَئمہ اربعہ اسی بات کے قائل ہیں اور وہ اپنی دلیل دوسری احادیث سے لاتے ہیں۔ لیکن جو فقہا اسی بات کے قائل ہیں کہ اعتکاف کا وقت 20 تاریخ کی فجر سے شروع ہوتا ہے وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔
(کتاب الصوم، نومبر2000ء، ص 290۔291)

ایمان

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ ایمان کسے کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں کے وجود پر اور اس (اللہ ) کی ملاقات کے برحق ہونے پر اور اس کے رسولوں کے برحق ہونے پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاؤ۔ پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر جواب دیا کہ اسلام یہ ہے کہ تم خالص اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔ اور زکوٰۃ فرض ادا کرو۔ اور رمضان کے روزے رکھو۔ پھر اس نے احسان کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احسان یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ تو سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بارے میں جواب دینے والا پوچھنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا ( البتہ ) میں تمہیں اس کی نشانیاں بتلا سکتا ہوں۔ وہ یہ ہیں کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرانے والے ( دیہاتی لوگ ترقی کرتے کرتے ) مکانات کی تعمیر میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں گے ( یاد رکھو ) قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی کہ اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے کہ وہ کب ہو گی ( آخر آیت تک ) پھر وہ پوچھنے والا پیٹھ پھیر کر جانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ۔ لوگ دوڑ پڑے مگر وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام باتوں کو ایمان ہی قرار دیا ہے۔

Share this: