فاٹا کا انضمام، اصلاحات اور امید کے پہلو

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض فیصلے منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ ان فیصلوں میں ایک بڑا فیصلہ فاٹا اور قبائلی علاقہ جات کا صوبہ خیبر پختون خوا میں انضمام ہے۔ قومی اسمبلی، سینیٹ اور خیبر پختون خوا اسمبلی سے اس آئینی ترمیم کی منظوری کو ان علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے امید کی کرن کے طور پر دیکھا جائے گا۔کیونکہ بنیادی طور پر اس آئینی ترمیم کے پیچھے اصل سوچ مقامی علاقوں کی پس ماندگی اور محرومی کا خاتمہ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سیاسی، سماجی اور معاشی انصاف کو یقینی بناکر وہاں کے لوگوں کو قومی دھارے میں لاکر اُن میں اس سوچ کو اجاگر کرنا ہے کہ ان کی اہمیت بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح ریاستی نکتہ نظر سے اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ اس وقت ضرورت تھی کہ ہم فاٹا کے لوگوں کو ساتھ ملاکر چلیں اور اُن کی محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے فاٹا اصلاحات بل کے مطابق آئین کی شق246 میں ترمیم کرتے ہوئے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات فاٹا کو خیبر پختون خوا، جبکہ صوبوں کے زیرانتظام قبائلی علاقوں پاٹا کو متعلقہ صوبوں یعنی خیبر پختون خوا اور بلوچستان کا حصہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ خیبر پختون خوا کا حصہ بننے والے فاٹا کے علاقوں میں مہمند ایجنسی، باجوڑ ایجنسی، کرم ایجنسی، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اورکزئی ایجنسی کے علاوہ ایف آر پشاور، ایف آر بنوں، ایف آر کوہاٹ، ایف آر لکی مروت، ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان، اور ایف آر ٹانک شامل ہیں۔ جبکہ خیبر پختون خوا کا حصہ بننے والے پاٹا علاقوں میں چترال، دیر، سوات، کوہستان، ملاکنڈ اور مانسہرہ سے منسلک قبائلی علاقے شامل ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کا حصہ بننے والے پاٹا علاقوں میں ضلع ژوب اور دکی تحصیل کے علاوہ باقی ضلع لورالائی، ضلع چاغی کی تحصیل دالبندین، ضلع سبی کے مری اور بگٹی علاقے شامل ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں اصلاحات کا جو منصوبہ 2 مارچ2017ء کو منظور کیا تھا اس میں ان قبائلی علاقوں کو پانچ طریقوں سے قومی دھارے میں لانے کی تجویز پیش کی گئی تھی، اور اس پر عمل درآمد کے لیے پانچ برس کی مدت رکھی گئی تھی۔ ان پانچ تجاویز میں سیاسی اصلاحات، قانونی اصلاحات، انتظامی اصلاحات، سیکورٹی اصلاحات اور معاشی اصلاحات کو شامل کیا گیا تھا۔
سب سے اہم نکتہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کو سیاسی قومی دھارے میں لانا ہے۔ قبائلی علاقوں میں سیاسی عمل کو طاقت دینے کے لیے2018ء کے عام انتخابات کے بعد فوری طور پر اکتوبر میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو جماعتی بنیادوں پر یقینی بنانا ہے۔ وہاں کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار مقامی لوگ اپنی مرضی سے اپنے سیاسی نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ قبائلی علاقوں کو خیبر پختون خوا اسمبلی میں نمائندگی اس کے بعد دی جائے گی، اور20 ارکانِ صوبائی اسمبلی ان علاقوں کی نمائندگی کریں گے۔ امکان ہے کہ ان صوبائی اراکین کا انتخاب اپریل 2019ء میں ممکن ہوگا۔ آئندہ پانچ برس تک قومی اسمبلی میں فاٹا کی 12نشستیں ہوں گی، جبکہ آئندہ پانچ سال سینیٹ میں بھی اس کی 8 نشستیں برقرار رہیں گی۔
صوبائی حکومت کی عمل داری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے۔ فاٹا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت سالانہ تین فیصد رقم ملے گی۔ فاٹا کے لیے آئندہ دس برس تک ہر سال دس ارب، جبکہ مجموعی طور پر سو ارب روپے ترقیاتی فنڈ میں دیے جائیں گے۔ فاٹا کے یہ ترقیاتی فنڈ کسی اور علاقے میں استعمال نہیں ہوں گے۔ فاٹا میں موجودہ قانونی ڈھانچے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (FCR) کو ختم کرکے پشاور ہائی کورٹ اور پاکستان کی سپریم کورٹ کا دائرہ ان قبائلی علاقوں تک وسیع کردیا جائے گا۔ عدالتوں کا دائرۂ اختیار ان علاقوں تک پھیلانے کے سلسلے میں قانون سازی کی جاچکی ہے اور ججوں کا انتخاب بھی ہوچکا ہے جو قبائلی علاقوں کے مقدمات سنیں گے۔ اسی طرح انتظامی اقدامات کے پیش نظر سول سروس کا نیا ڈھانچہ ترتیب دیا جائے گا۔ سیکورٹی اصلاحات کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کو جدید تربیت اور اسلحہ کی فراہمی سمیت لیویز میں مزید بیس ہزار افراد کی نئی بھرتی کی جائے گی۔
اچھی بات یہ ہے کہ فاٹا یا قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا میںانضمام پر تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاقِ رائے کا مظاہرہ کیا، البتہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی جماعتوں نے کھل کر اس کی مخالفت کی۔ حالانکہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک برس تک کام کرنے والی کمیٹی جس میں سب فریقین کو شامل کیا گیا تھا، کی پیش کی گئی سفارشات پر آئینی ترمیم کی گئی۔ قومی اور صوبائی اسمبلی سمیت سینیٹ سے اس کی منظوری اس ترمیم کی سیاسی اور قانونی ساکھ کو بڑھاکر اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ یہ ترمیم جبر کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو سیاسی اور جمہوری انداز میں سب کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے اور بلاوجہ مخالفت سے اس اہم منصوبے کی افادیت کو سیاسی بحران کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔ اصولی طور پر تو اس بل کی منظوری بہت پہلے ہوجانی چاہیے تھی، لیکن حکومت اپنے اہم اتحادی مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی وجہ سے کابینہ کی منظوری کے باوجود اس مسئلے پر تاخیری حربے اختیار کرتی رہی۔ جبکہ خود حکومتی اور کمیٹی کے دیگر اراکین کہہ چکے تھے کہ جو سفارشات پیش کی گئی ہیں یہ سب فریقین کی متفقہ ہیں، اور سب نے مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی تجاویز کو مسترد کردیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی جو جمہوریت کے سب سے بڑے کھلاڑی بنتے ہیں، اب جمہوری فیصلے کی حمایت کرنے کے بجائے اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ جب سب نے اتفاق کیا ہے تو جمہوریت میں اکثریت کا فیصلہ ہی ماننا پڑتا ہے، مگر مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی ضدی بچوں کا کردار ادا کررہے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس خود فاٹا میں حکومتی فیصلے کی بھرپور حمایت کی جارہی ہے اور حکومت سمیت فوج کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ سب نے مل کر فاٹا کے لوگوںکا بنیادی حق قبول کرلیا ہے۔
امکان تھا کہ فاٹا کے حوالے سے آئینی ترمیم نئی حکومت اور اسمبلی کے رحم وکرم پر چھوڑ دی جائے گی، مگر نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں عسکری قیادت کے دبائو کے پیش نظر حکومت نے قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلی سے اس کو ہر صورت منظور کروایا۔ کیونکہ عسکری قیادت کو بھی اندازہ تھا کہ اگر یہ اس حکومت یا اسمبلی نے منظور نہ کیا تو نئے حالات میں یہ مزید تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو اپنے اتحادی مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی ناراضی کے باوجود بڑا فیصلہ کرنا پڑا۔ مولانا فضل الرحمن آزاد قبائلی علاقوں کو علیحدہ صوبہ بنانے کے حق میں تھے، اس کے لیے انہوں نے ریفرنڈم کی بھی تجویز پیش کی تھی، لیکن حکومتی کمیٹی اور دیگر ماہرین کی دلیل یہ تھی کہ فاٹا ایک صوبے کے طور پر انتظامی اور معاشی طور پر مستحکم اور خودمختار نہیں ہوسکے گا، اس لیے فوری طور پر اس کا صوبہ خیبر پختون خوا میں انضمام کیا جائے۔
مجموعی طور پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے قومی اتفاقِ رائے سے ستّر برسوں سے موجود اس بنیادی نوعیت کے مسئلے کا حل نکالا ہے۔ کیونکہ اس مسئلے کے پیش نظر نہ صرف ان علاقوں میں محرومی اور ملک کی سیاسی رٹ کمزور تھی بلکہ اس سے وہاں کی مقامی نئی نسل میں غصہ، بغاوت اور نفرت سمیت انتہا پسندی اور دہشت گردی کا عمل بھی بڑھ رہا تھا۔ یہ عمل یقینی طور پر ملک میں انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے اختیار کیے جانے والے نیشنل ایکشن پلان سمیت قومی سیکورٹی پالیسی کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرسکے گا۔ کیونکہ اگر واقعی ہمیں انتہا پسندی سے نمٹنا ہے تو اس کا علاج فاٹا کے ان علاقوں کو قومی دھارے میں لانا، بنیادی حقوق کی فراہمی، انصاف کا مؤثر اورمربوط نظام قائم کرنا ہے۔
یہ جو تاثر ہے کہ قبائلی علاقہ جات انتہا پسندی اور دہشت گردی کی نرسریاں ہیں، اس کے خاتمے میں بھی فاٹا کا صوبہ خیبر پختون خوا میں انضمام کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہماری عسکری قیادت نے پچھلے چند برسوں میں فاٹا کے ان قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار، کھیل اور فنی تعلیم کے حوالے سے کئی مؤثر اقدامات کیے۔ بعض اقدامات کو ہمیں بھی براہِ راست دیکھنے کا موقع ملا،کیونکہ عسکری قیادت میں یہ بات مضبوط تھی کہ ان علاقوں کو اگر حکومت قومی دھارے میں لاتی ہے تو اس کا نتیجہ جہاں ان علاقوں میں امن کی صورت میں نکلے گا، وہیں قومی سطح پر بھی امن اور ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مد دملے گی۔
فاٹا کا صوبہ خیبر پختون خوا میں انضمام تو ہوگیا ہے، مگر کھیل تو اب شروع ہوا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے پاس اپنی اپنی جماعتوں کی سطح پر ایک واضح روڈمیپ ہونا چاہیے کہ وہ ان علاقوں کو کیسے قومی دھارے سمیت ترقی کے عمل میں لاسکیں گی۔ صوبے میں جو بھی نئی حکومت ہوگی اُس کے پاس ایک مکمل خاکہ ہونا چاہیے۔ اولین ترجیحات میں فوری طور پر مقامی حکومتوں کے انتخابات، نوجوان نسل کو سیاسی دھارے میں لانا، بنیادی حقوق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم اور معاشی ترقی کو فوقیت دینا شامل ہیں۔ اگر یہ سب کچھ بروقت نہ کیا گیا تو جس اچھے کام کی ابتدا ہوئی ہے اس میں تاخیری حربے بہتر نتائج پر اثرانداز ہوں گے، جو فاٹا سمیت ملک کے مفاد میں نہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس فاٹا کی ترقی کے حوالے سے کوئی واضح روڈمیپ نہیں، اور نہ ہی ان کی بڑی ترجیحات میں ہمیں فاٹا کہیں بالادست نظر آتا ہے۔ کیونکہ اب اصل امتحان نئی حکومت کا ہے، اور اگر اُس نے فاٹا میں ہونے والے ان اقدامات کو بنیاد بناکر کوئی متفقہ اور مشاورت کے ساتھ ٹھوس اقدامات کیے تو اس سے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح میڈیا اور سول سوسائٹی کی بھی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ فاٹا میں ہونے والی ان تبدیلیوں پر حکومت پر ایک بڑے دبائو کی سیاست کو جاری رکھیں تو فاٹا میں ہونے والی اصلاحات کے نتیجے میں ایک بڑی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے گا۔

تھیلے سیمیا کے مریض کے لیے اپیل

پشاور کی ایک غریب مضافاتی بستی چارسدہ روڈ بخشی پل کا رہائشی 14 سالہ نوجوان محمد طارق خون کے سرطان یعنی تھیلے سیمیا کا مریض ہے، جس کا علاج جاری ہے۔ یہ نوجوان انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نوجوان کا غریب اور بے بس باپ اپنے بیٹے کے علاج سے قاصر ہے۔ ماہانہ خرچ تقریباً 25 سے 30 ہزار روپے ہے۔ سال کے بعد خون بھی تبدیل کیا جاتا ہے۔ گھریلو حالات کی خرابی کے ساتھ مہنگے ٹیسٹ اور دوائیں اس کے بس سے باہر ہیں۔ دردمند دل رکھنے والے مخیر حضرات سے التماس ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے غریب محمد طارق کے علاج کے لیے عطیات فراہم کریں اور محمد طارق اور اس کے والدین کی دعائیں لیں۔
رابطہ نمبر والد محمد طارق 0313-9395373
فدا محمد ناساپہ
نائب ناظم
دفتر ولیج کونسل ناساپہ یونین کونسل۔ ہریانہ ٹائون II پشاور خیبر پختون خوا
فون 0333-9898197
0345-9084697
ای میل nasapa197@gmail.com

Share this: