ٹرمپ اور کم جون ان ملاقات کی منسوخی

شمالی کوریا کے سربراہ کم جون ان، اور اُن کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ہی ملنے کو بے تاب نظر آرہے ہیں لیکن مقطعے میں کچھ ایسی سخن گسترانہ بات آن پڑی ہے کہ جس کا اظہار شاید ان لوگوں کے لیے ممکن نہیں، چنانچہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تاریخ و مقام کا اعلان ہوا، پھر شکوک و شبہات و عدم اعتماد کی چنگاریوں اور تند و تیز بیانات کی پھلجھڑیوں کے بعد4 دن پہلے صدر ٹرمپ نے کم جونگ کو ملاقات کی منسوخی کا سرکاری سندیسہ بھیج دیا، اور ابھی اس مکتوب کی سیاہی خشک بھی نہ ہونے پائی تھی کہ پیانگ یانگ اور واشنگٹن دونوں نے ’کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی‘ الاپنا شروع کردیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سیاست میں سبھی اپنا اپنا کھیل کھیلتے ہیں۔
امریکہ اور شمالی کوریا سرکاری طور پر ابھی تک ’حالتِ جنگ‘ میں ہیں، یعنی 1950ء میں شمالی کوریا کے جنوبی کوریا پر حملے کے بعد جو جنگ شروع ہوئی اُس کے اختتام کا ابھی تک باقاعدہ اعلان نہیں ہوا، اور نہ ہی کسی قسم کا امن معاہدہ ہوا ہے۔ کوریا کی اس جنگ میں امریکہ کا کردار بظاہر تو صرف جنوبی کوریا کے اتحادی کا تھا، لیکن کم جونگ کے دادا مسٹر کم ال سنگ نے جو اُس وقت شمالی کوریا کے سربراہ تھے، اسے کمیونسٹ طرزِِ زندگی پر سامراج کا شب خون قرار دیا تھا۔ 27 جولائی 1953ء کو ایک عارضی جنگ بندی یا Armistice سے خون کی یہ ہولی رک گئی، لیکن 65 سال گزر جانے کے باوجود اب تک جنگ بندی کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
خیر یہ تو ایک ضمنی سی بات ہے، مجوزہ مذاکرات شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام پر ہونے ہیں۔ گزشتہ برس کے اختتام پر شمالی کوریا نے ہائیڈروجن بم اور دُور مار منجنیقی (Ballistic) میزائلوں کے کامیاب تجربات کیے تھے۔ امریکہ کے عسکری ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ بحرالکاہل کے جزائر پر مشتمل امریکی ریاست ہوائی (Hawaii)کے علاوہ کیلی فورنیا، واشنگٹن اور اوریگن کی ریاستیں ان میزائلوں کی پہنچ میں ہیں۔ کم جونگ کا تو دعویٰ ہے کہ وہ اپنے میزائلوں سے بحراوقیانوس کے ساحل پر نیویارک اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ جغرافیہ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے عرض ہے کہ امریکی دارالحکومت کے علاوہ امریکہ کی ایک ریاست کا نام بھی واشنگٹن ہے۔ دارالحکومت کو واشنگٹن ڈی سی کہا جاتا ہے جو مشرق میں بحراوقیانوس کے ساحل پر ہے، جکہ ریاست واشنگٹن مغرب میں بحرالکاہل کے پانیوں کو چھو رہی ہے۔
شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام پر ہم فرائیڈے اسپیشل کی 6 اپریل کی اشاعت میں لکھ چکے ہیں، اس لیے یہاں اس کی تفصیل میں جانا مناسب نہیں۔ مختصر یوں سمجھیے کہ امریکہ کے ایما پر اقوام متحدہ کی جانب سے سخت معاشی پابندی نے شمالی کوریا کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ وہاں غذائی قلت اور ڈیزل و پیٹرول پر پابندی کی وجہ سے نقل و حمل عملاً معطل ہے جس کی وجہ سے کم جونگ کے پیر لڑکھڑا گئے اور انھوں نے جوہری مسئلے کو پُرامن انداز میں حل کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ پہلے شمالی اور جنوبی کوریا کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان پُرجوش ملاقاتیں ہوئیں جن میں تمام تنازعات کو پُرامن انداز میں حل کرنے پر زور دیا گیا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا، دونوں کوریا سرکاری طور پر اب تک حالتِ جنگ میں ہیں، چنانچہ جنگ بندی کا ایک مستقل معاہدہ بھی ان ملاقاتوں کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
وفود کی ملاقاتوں کے بعد شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ جنوبی کوریا کے صدر مون کی دعوت پر 27 اپریل کو پیدل چلتے ہوئے دونوں ملکوں کی لائن آف کنٹرول عبور کرکے جنوبی کوریا آئے، جہاں ان دونوں رہنمائوں نے ’ایک نئے سفر‘ کے آغاز کا عزم ظاہر کیا، اور کم جونگ نے کہا کہ ان کا ملک اپنے کوریائی بھائیوں یا کسی اور پڑوسی کے خلاف جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکتا، ہمارے جوہری ہتھیاروں سمیت تمام دفاعی انتظامات صرف اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے ہیں، اور اگر ان کے ملک کی خودمختاری، آزادی اور قومی سلامتی کے تحفظ کی ضمانت دے دی جائے تو شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار بنانے اور رکھنے کا کوئی شوق نہیں۔ وہ اسی قسم کی باتیں کچھ عرصہ پہلے چینی صدر سے ملاقات کے دوران بھی کرچکے تھے۔ اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا کہ شمالی کوریا کی حکومت نے امریکہ کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ اس کے سربراہ کم جونگ جوہری ہتھیاروں پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اسی کے ساتھ امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو کے خفیہ دورۂ شمالی کوریا کی خبر شائع ہوئی۔ یہ ملاقات دو ہفتے تک صیغۂ راز میں رکھی گئی جس کی تصدیق بعد میں خود صدر ٹرمپ نے کی۔ اُس وقت تک امریکی سینیٹ نے جناب پومپیو کی بطور وزیرخارجہ تصدیق نہیں کی تھی اور سینیٹ کی خارجہ کمیٹی میں سماعت کے دوران مسٹر پومپیو نے بتایا کہ ان سے ملاقات میں کم جونگ نے جوہری ہتھیار تلف کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ چینی صدر نے بھی صدر ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ اگر شمالی کوریا کے تحفظ کی ضمانت دے دی جائے تو جوہری مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا ہے۔
اپریل کے اختتام سے یہ خبر آنا شروع ہوئی کہ کم جونگ اس مسئلے پر براہِ راست صدر ٹرمپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اور پھر وہائٹ ہائوس کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ شمالی کوریا کی حکومت نے اس ضمن میں واشنگٹن سے براہِ راست رابطہ کیا ہے۔ کم جونگ کی خواہش تھی کہ ملاقات شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ہو، لیکن امریکی پہلی ہی ملاقات میں ضرورت سے زیادہ گرم جوشی دکھانے کے حق میں نہ تھے۔ چنانچہ ملاقات کے لیے سوئٹزرلینڈ تجویز کیا گیا، جس کے جواب میں شمالی کوریا نے بہت کھل کر کہا کہ ان کے سربراہ کا ذاتی ہوائی جہاز خاصا پرانا ہے، اور اس جہاز پر اتنی لمبی پرواز ان کے لیے ممکن نہیں۔ شمالی کوریا نے تجویز دی کہ اگر صدر ٹرمپ کے لیے پیانگ یانگ آنا ممکن نہیں تو شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان غیر عسکری علاقے میں مل لیا جائے، جس کے بعد سنگاپور پر دونوں کے درمیان اتفاق ہوگیا اور ملاقات کے لیے 12 جون کی تاریخ طے پائی۔
ویسے تو اِس سال کے آغاز سے ہی شمالی کوریا اور کم جونگ کا رویہ امریکہ کے بارے میں خاصا دوستانہ نظر آرہا تھا۔ ملاقات کی تاریخ طے پا جانے کے بعد یہ اشارے مزید مثبت ہوگئے۔ اپنے اخلاص کا یقین دلانے کے لیے شمالی کوریا نے جوہری اسلحہ کے تجربے کے لیے استعمال ہونے والی سرنگوں کو منہدم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا، اور انہدام کے مشاہدے کے لیے امریکی صحافیوں کو شمالی کوریا آنے کی دعوت دی گئی۔ سرنگوں کے دھماکے سے اڑنے کی ویڈیو امریکی ٹیلی ویژن پر براہِ راست دکھائی جارہی ہے۔
پیار و محبت کے تازہ سفر میں پہلا رخنہ اُس وقت پڑا جب شمالی کوریا نے علاقے میں امریکہ و جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ مشقیں ایک عرصے سے جاری ہیں۔ شمالی کوریا کا کہنا تھا کہ ماضی میں کشیدگی کی وجہ سے فوجی مشقوں کا جواز موجود تھا، لیکن اب پیانگ یانگ کو علاقے میں فوجی اجتماع پر شدید تحفظات ہیں کہ امن کی باتیں اور جنگی مشقیں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔ اس بار Max Thunder کے عنوان سے ہونے والی ان فضائی مشقوں میں امریکہ کے غیر مرئی (Stealth) بی 52 بمباروں سمیت جنوبی کوریا اور امریکہ کے 2000 جنگی طیاروں کو بھی حصہ لینا ہے۔ شمالی کوریا کے ترجمان نے سوال کیا کہ اب جبکہ دونوں ممالک اپنے تمام اختلافات و تنازعات کو مہذب انداز میں بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں تو جنوبی کوریا کس سے جنگ کے لیے مشق کررہا ہے؟ اسی کے ساتھ شمالی کوریا نے 15 مئی کو جنوبی کوریا کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر شمالی کوریا کی سرحدوں کے قریب اور اس کے پانیوں میں اس قسم کی اشتعال انگیز سرگرمیاں جاری رہیں تو امریکہ و شمالی کوریا سربراہ کانفرنس کا انعقاد بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے شمالی کوریا کے اعتراض پر کسی ردعمل کا اظہار تو نہیں کیا لیکن ان کی ترجمان محترمہ ہیتھر نوورٹ(Heather Nauert) نے کہا کہ فوجی مشقیں کئی برسوں سے ہورہی ہیں اور یہ پروگرام کے مطابق جاری رہیں گی۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا پر اس طرح کے تبصرے شائع ہوئے کہ جوہری پروگرام پر قفل چڑھانے کے معاملے میں کم جونگ نے جو گرم جوشی دکھائی ہے امریکہ کی جانب سے اس کا ویسا جواب نہیں آیا اور صدر ٹرمپ کے لہجے میں فتح بلکہ ’شیخی‘ کا عنصر نمایاں ہے۔ شمالی کوریا کو توقع تھی کہ رول بیک کے اعلان کے ساتھ ہی اس پر عائد معاشی پابندیاں نرم کردی جائیں گی لیکن واشنگٹن نے صاف صاف کہہ دیا کہ تجربہ گاہ کے انہدام، تیار اسلحہ کے مکمل اتلاف اور جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی IAEAکی تصدیق سے پہلے پابندیاں ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کا خیال ہے کہ ان تمام مراحل کی تکمیل میں ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ جبکہ غذائی قلت اور پیٹرول کی نایابی سے شمالی کوریا کا برا حال ہے اور اُس کے لیے ایک ایک دن گزارنا مشکل ہورہا ہے۔ شمالی کوریا نے ناراضی کا اظہار امریکہ کو معقولیت کی طرف مائل کرنے کے لیے کیا تھا، جس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا بلکہ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں صاف صاف کہہ دیا کہ 12 جون کی ملاقات کی منسوخی خارج از امکان نہیں، اور ساتھ ہی دبے الفاظ میں یہ بھی فرما دیاکہ کم جونگ کی چینی صدر ژی سے حالیہ ملاقات کے بعد شمالی کوریا کے رویّے میں تبدیلی آئی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کم جونگ نے جنوبی چین کے ساحلی شہر دالیان (Dalian) میں 8 اور 9 مئی کو صدر ژی سے خفیہ ملاقات کی تھی۔ چین کی وزارتِ خارجہ نے ملاقات کی تصدیق کردی لیکن ٹرمپ کی ٹویٹ پر کسی تبصرے سے گریز کیا۔ ان چھوٹی موٹی ناچاقیوں کے باوجود شمالی کوریا ملاقات پر رضامند نظر آیا اور ایجنڈے کی تیاری اور دوسرے امور طے کرنے کے لیے شمالی کوریا اور امریکی اہلکاروں کے درمیان بات چیت جاری رہی۔
باہمی اعتماد و احترام میں کھنڈت ڈالنے کا سہرا صدر ٹرمپ کے مشیرِ خصوصی برائے قومی سلامتی جان بولٹن کے سر ہے۔ تکبر سے چُور متعصب جان بولٹن ساری دنیا کو اپنا ماتحت سمجھتے ہیں۔ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ ’شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کو اسی طرح تلف کیا جائے گا جیسے 2003ء میں لیبیا کے ہتھیاروں کو ناکارہ بنایا گیا تھا‘۔ اس بات نے کم جونگ کو آگ لگا دی۔ شمالی کوریا کے رہنما بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے صدر صدام اور اس کے بعد کرنل قذافی کا حشر دیکھ کر ہی ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امریکہ ان کے ملک اور حکومت کو عراق اور لیبیا کی طرح ملیامیٹ نہ کرسکے۔ جان بولٹن کے بیان پر شمالی کوریا نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور سرابرہ کانفرنس کی تیاری کے لیے ہونے والے ایک اجلاس سے شمالی کوریا کا وفد اٹھ کر چلا گیا۔ دوسرے دن صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ شمالی کوریا کے معاملے میں لیبیا ماڈل کا اطلاق نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کی تنصیبات اور اسلحہ کے گوداموں کو امریکہ نے پیوندِ خاک کیا تھا جبکہ یہاں انہدام اور رول بیک کا سارا کام شمالی کوریا کو خود کرنا ہے۔ واضح رہے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے تعمیر ہونے والے ایٹمی پلانٹ اور میزائلوں کو تباہ کرنے کا کرنل قذافی نے اربوں ڈالر معاوضہ ادا کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ لیبیا میں جوہری اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMD) کی تباہی کے عوض کرنل قذافی کو ذاتی حفاظت یا دوامِ اقتدار کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی تھی۔ اس کے برخلاف امریکہ شمالی کوریا اور کم جونگ کے اقتدار کو تحفظ فراہم کرے گا۔ ساتھ ہی شمالی کوریا کو خوشحالی کی نوید بھی سنادی گئی، لیکن اپنی عادت کے مطابق صدر ٹرمپ دھمکی بھی دے گئے کہ جوہری تنازع پُرامن انداز میں حل نہ ہوا تو پھر لیبیا ماڈل ہی استعمال ہوگا۔
اس کے دو دن بعد ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں نائب صدر مائک پینس نے اپنے قائد کی دھمکی کا اعادہ کرتے ہوئے شمالی کوریا کو معقولیت اختیار کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اگر 12 جون کی سربراہ کانفرنس ناکام ہوئی تو شمالی کوریا کا حشر لیبیا والا ہوسکتا ہے۔ اس بیان سے شمالی کوریا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور نائب وزیر خارجہ محترمہ چو سن ہوئی (Choe Son Hui) نے کہا کہ ’امریکہ فیصلہ کرلے کہ وہ ہم سے مذاکرات کی میز پر ملنا چاہتا ہے یا جوہری میدانِ جنگ میں؟‘ انھوں نے امریکی نائب صدر کو سیاسی کٹھ پتلی (Political Dummy) کہا جو اپنے باس کی بولی بول رہے ہیں۔ نائب وزیر خارجہ نے امریکی نائب صدر کی مزید ’’عزت افزائی‘‘ کے لیے انھیں احمق (Stupid) اور جاہل (Ignorant)بھی کہہ دیا۔ چنانچہ جمعرات 24 مئی کو صدر ٹرمپ نے کم جونگ کے نام ایک سرکاری خط میں ملاقات کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ اپنے خط میں انھوں نے کہا کہ ’موجودہ تنائو اور کشیدہ حالات میں مجھے یہ ملاقات مفید نظر نہیں آتی، لیکن امریکہ اس تنازعے کے پُرامن اور منصفانہ حل کی کوشش جاری رکھے گا اور مجھے امید ہے کہ آپ سے جلد ہی ملاقات ہوگی‘۔ شمالی کوریا کی نائب وزیرخارجہ کے بیان کا براہِ راست حوالہ دیے بغیر امریکی صدر نے کہا کہ جوہری جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، تاہم شمالی کوریا کا ہمارے ہتھیاروں سے کوئی مقابلہ نہیں۔
عجیب بات ہے کہ اس ملاقات کو خود صدر ٹرمپ نے منسوخ کیا لیکن اب وہ بات چیت کے لیے بے قرار نظر آرہے ہیں! ان کے اہلکار، کم جونگ سے بات چیت میں مصروف ہیں اور مبصرین کا خیال ہے کہ ان ہی کی درخواست پر جنوبی کوریا کے صدر مون نے شمالی کوریا کا ہنگامی دورہ کرکے انھیں صدرٹرمپ کا پیغام پہنچایا۔ صدر ٹرمپ کا معاملہ یہ ہے کہ انھیں مول تول کے فن پر بڑا ناز ہے۔ وہ کھل کر کہہ چکے ہیں کہ ان کے پیشرو سارے کے سارے سیاست دان تھے اور انھیں معاملہ یا Dealکرنا نہیں آتا۔ لیکن اپنے اقتدار کے 500 دن سے زیادہ مکمل کرلینے کے بعد اب تک وہ ایک بھی قابلِ ذکر معاہدہ نہیں کرپائے۔ کینیڈا اور میکسیکو سے تجارتی معاہدہ ہو، یا ایران سے نیا جوہری معاہدہ، حتیٰ کہ ملک کے اندر میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر پر بھی وہ کانگریس کو راضی نہیں کرسکے۔ صدر ٹرمپ ایک بڑا معاہدہ کرکے اپنی انا کی تسکین چاہتے ہیں اور شمالی کوریا سے چوٹی ملاقات کے لیے بے قراری اُن کے اسی احساس کا مظہر ہے۔ لیکن یہاں بھی اُن کی انا، عدم تحمل اور خود کو عقلِ کُل سمجھنے کی روش سے خود اُن کے مشیر بھی مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں بہت زیادہ پُرامید نہیں۔ جوہری ہتھیاروں کا مسئلہ سیاسی کے ساتھ خاصا ٹیکنیکل بھی ہے۔ اس کا فطری حل تو یہ ہے کہ پہلے دونوں طرف کے حکام اس پورے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لے کر مختلف حل تجویزکریں، جس کی بنیاد پر چوٹی کی قیادت بات چیت کے ذریعے کسی قابلِ قبول نتیجے پر پہنچے۔ مگر یہاں پہلے مرحلے پر ہی دونوں صدور کے مابین بات ہورہی ہے یا یوں کہیے کہ گھوڑے کے آگے تانگہ جوتا جارہا ہے۔ صدر کے مشیروں کو ڈر ہے کہ اپنے سریع الاشتعال رویّے اور تلون مزاجی کی بنا پر پہلی ہی خلافِ مزاج بات پر صدر ٹرمپ مذاکرات کی میز سے اٹھ آئیں گے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ معاہدے پر دستخط کے شوق میں شمالی کوریا کے لیے بہت کچھ میز پر چھوڑ دیں۔ لیکن اِس وقت تو اصل مسئلہ مذاکرات کا انعقاد ہے۔ سیانوں کا خیال ہے کہ اس ضمن میں کم جونگ اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیل رہے ہیں اور وہ مذاکرات کے لیے امریکی صدر کی بے تابی سے فائدہ اٹھانے کے لیے بات چیت سے پہلے پابندیوں کو نرم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ کم جونگ انا کے قتیل ٹرمپ کو شیشے میں اتار پاتے ہیں یا نہیں؟

Share this: