’’ایچ ای سی‘‘ کے نئے چیرمین کا تقرر،مسائل اور خدشات

ڈاکٹر معین الدین عقیل
یہ اطلاع دردمند تعلیمی و علمی حلقوں میں ایک اطمینان کا سبب بنی ہے کہ بالآخر’’ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان‘‘ (ایچ ای سی)کے صدر نشیں کا تقرر ہوگیا ہے اور ایک بظاہر نہایت اعلیٰ تعلیم و تحقیق کا وسیع ملکی و عالمی تجربہ رکھنے والے استاد اور اسکالر طارق جاوید بنوری اس اہم عہدے پر فائز کردیے گئے ہیں۔ ان کے شخصی، علمی و تعلیمی کوائف اور مطالعاتی وانتظامی اوصاف، جن کی قدرے تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ نہایت پُرکشش اور جاذب ِ توجہ ہی نہیں، امید افزا اور حوصلہ بخش بھی ہیں۔ بنوری صاحب نے اپنے ملک میں اعلیٰ سطحی انتظامی مناصب اور تعلیمی فروغ کے اداروں میں انتظامی و تدریسی خدمات انجام دیں، اور پھر جب بیرونِ ملک گئے تو وہاں کے نہایت وقیع اور شائستہ علمی و تعلیمی اداروں اور ان کے ماحول سے اکتسابِ فیض اور حصولِ تجربات میں مصروف رہے، انہوں نے اس منصب پروابستگی سے قبل ضرور یہاں کی تازہ تر ملکی و قومی اور خاص طور پراعلیٰ تعلیمی صورتِ حال اور اس کے حالیہ مسائل اور بالخصوص ’ایچ ای سی‘ کے تازہ تر معاملات سے واقفیت کی کوشش ضرورکی ہوگی۔ اگر ایسا ہے تو پھر یقین ہے کہ وہ یہاں کے حالات سے باخبری کے سبب ان سے نبرد آزما ہونے اور اپنے منصب اور اب اپنے اس ادارے کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے پُرعزم بھی ہوں گے اور اپنے ایک لائحہ عمل کے تحت اس ادارے کی بہتری اور اس کے مقاصد کی تکمیل کی خاطر مناسب و ضروری اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ پیش رفت بھی کریں گے۔
ایچ ایس سی کی داخلی صورت حال، کارکردگی کے امور قومی ذرائع ابلاغ میں بھی جگہ پاتے رہے ہیں۔ انتظامی اور مالی بدعنوانیوں کے احتساب کے لیے “آل پاکستان یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن” (FAPUASA) آواز اٹھاتی رہی ہے، مثلاً The News کی اشاعت مؤرخہ ۲۳؍ مئی ۲۰۱۸ء میں اس نے اپنا مطالبہ پھر دہرایا ہے۔ ان حالیہ برسوں میں ’ایچ ای سی‘ کی کارکردگی تعلیمی اور تحقیقی مدات میں کیسی رہی ہوگی کہ جب اس کے سابقہ صدرنشیں اور بعض ذیلی مجلسوں کے ناظمین یا ذمے داروں پر مطالعات و تحقیق میں سرقے کے ایسے الزامات بھی لگے ہیں جن کی تردید بھی وہ کامیابی کے ساتھ نہ کرسکے! گویا جب اس کے صدرنشیں اور بعض ذمے داروں کا وتیرہ، متنوع بدعنوانیوں کی مبینہ و سرگوش حکایتوں سے قطع نظر، سرقہ نویسی اور اس کے بل بوتے پر مناصب و اعزازات کا حصول اور اقربا پروری رہا ہو تو ان کے ماتحت ’ایچ ای سی‘ اوراس کی ذیلی مجلسوں کی کارکردگی کس سمت میں اور کیا رہی ہوگی؟ یہ صورتِ حال وہ ہے کہ جس میں جنابِ صدر نشیں کے لیے اس منصب پر کارگر رہتے ہوئے نہ فرش ِ مخمل ملے گا، نہ پھولوں کی سیج میسر آئے گی۔ جو ملے گا وہ خاکم بدہن، شاید کانٹوں کی سیج کے سوا کچھ نہ ہو۔ ایک عرصہ وطن سے باہر رہنے کی وجہ سے شاید صاحبِ موصوف کو یہ خبر نہ ہو کہ ان گزشتہ دو تین دہائیوں سے خصوصاً تعلیم کے شعبے میں اب ہر طرف زوال ہی زوال کا منظر ہے، اور جس ماحول اور جن حالات کو وہ یہاں چھوڑکر گئے تھے ان میں اب زوال دوچند ہوگیا ہے۔
سرکاری تعلیمی اداروں میں، اور خاص طور پر جامعات میں، جو ’ایچ ای سی‘ کا خاص مقصودِ نظر ہیں، حالات انتہائی زوال آمادہ ہیں۔ یہ اساتذہ ہی ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر، اور جن کی تعلیمی و تحقیقی کارکردگی کے پیش نظر جامعات کو مقام و مرتبہ حاصل ہوتا ہے اور ان کی توقیر یا وقعت شمار ہوتی ہے۔ جب کہ ان گزشتہ ایک دو دہائیوں میں جامعات میں اقربا پروری، سفارشوں اور سیاسی دھڑے بندیوں نے قبضہ جماکرخاصی حد تک سارے نظام ہی کو تلپٹ کردیا ہے اورانتظامیہ اوراساتذہ کی ایک بڑی تعداد کو نااہل اور فرض ناشناس بناکر ان میں ایسے بدکردار اور بدعنوان افراد کو بھی شامل کرنا شروع کیا ہے جو یونیورسٹیوں میں قدم رکھنے کے لائق بھی نہ تھے۔ ایسے اساتذہ کی جائے پناہ سیاسی جماعتیں اور اساتذہ انجمنیںہیں، جن سے منسلک رہ کر وہ نہ صرف مراعات حاصل کرتے اور ترقی پاتے ہیں بلکہ انتظامی عہدوں پر بھی فائز ہوتے اور اپنے ہی جیسے نالائق افراد کے لیے جگہ بناتے رہتے ہیں۔ جو اساتذہ خود ’ایچ ای سی‘ کے مقررہ معیار کے مطابق دیانت داری سے اسسٹنٹ پروفیسر سے زیادہ کے اہل نہ ہوں مگر یہاں کی یونیورسٹیوں میں پروفیسر ہی نہیں ’پروفیسرامتیازی‘ (Meritorious Professor) بلکہ وائس چانسلر بھی بن جائیں! افسوس تو یہ ہے کہ نااہل اساتذہ اپنے تقرر اور ترقیوں کے لیے خوشامدوں اور سفارشوں کے ذریعے سارے فائدے حاصل کرلیتے ہیں اوریونیورسٹیوں ہی کو نہیں’ ایچ ای سی‘ تک کو دھوکا دے دیتے ہیں ۔ ان کی یونیورسٹی کی بدعنوان انتظامیہ اور ان کی انجمن اساتذہ، جو بڑی حد تک ایسے ہی اساتذہ کا کنبہ ہوتی ہے، اس ضمن میں ان کی پوری پوری مدد کرتے ہیں۔ ان کے علمی و تدریسی کوائف کو ’ایچ ای سی‘ اکثر خود اپنی ہی وضع کردہ شرائط کے مطابق جانچنے کا کوئی اہتمام نہیں کرتی اور لاتعلق رہتی ہے کہ اب وہاں بھی آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے کہ تحقیق کے فروغ اور معیار کی بہتری کی ذمے دار اس کی مجلس یا مجلسوں سے ایسے افراد بھی منسلک ہیں جو بالعموم بظاہر استاد ہی ہوتے ہیں اور اسی وسیلے سے وہاں تک پہنچتے ہیں، جب کہ سوائے معدودے چند، ان کا تحقیق اور تحقیق کے معیار سے دور کا خود واسطہ اور تجربہ نہیں ہوتا۔ یعنی ’ایچ ای سی‘ یہ تک نہیں جانچتی کہ اس کی زیر سرپرستی جامعات میں اساتذہ اپنی تعلیمی و تحقیقی کارکردگی کے جو کوائف بطور ضابطہ پیش کرتے ہیں اور منصب و فوائد حاصل کرتے ہیں وہ کس حد تک درست اور قابل ِ اطمینان اور مطلوبہ تقاضوں کے مطابق ہیں؟ اس عمل میں شعبے بھی اپنی شعبہ جاتی سرگرمیوں کے کوائف پیش کرنے میںشامل رہتے ہیں۔ اساتذہ تحقیقی منصوبوں کی مدات میں بیرونی ممالک، زیادہ تر مغربی ممالک کی جامعات میں جاکر تحقیقی منصوبے مکمل کرتے ہیں لیکن ’ایچ ای سی‘ کوئی خاص اہتمام اس بات کا نہیں کرتی کہ وہ یہ دیکھے کہ جو اساتذہ جن تحقیقی منصوبوں کے لیے گئے تھے وہ سب واپس بھی آئے یا نہیں؟ آیا انھوں نے وہ منصوبے، جن کے لیے وہ تشریف لے گئے تھے، بہ احسن طریق پورے کیے؟ واپس آکر آیا سب ہی نے ان منصوبوں کی رپورٹ یا وہ منصوبے کسی صورت میں ’ایچ ای سی‘ میں جمع کرائے؟ کیا انھیں شائع کیاکہ دنیا بھی ان سے استفادہ کرسکے؟ بالعموم ایسا ہوتا نہیں۔ اساتذہ کے لیے ’ایچ ای سی‘ کی یہ عنایات بیشتر کے لیے سیر و تفریح کا سبب بھی بنی ہیں۔ یہ دیکھا جانا چاہیے کہ کتنے اساتذہ نے ان عنایات سے استفادہ کیا اور کن کن کی کارکردگی ’ایچ ای سی‘ میں محفوظ ہوئی اور منظرعام پر آئی، اور جن کی سامنے نہ آئی، تو اُن سے کیا بازپرس ہوئی؟ ’ایچ ای سی‘ نے کروڑوں روپے اس مد میں ہر سال خرچ کیے ہیں اور نتیجہ کیا نکلا ہے؟
اعلیٰ تعلیم کے نظام میں ایسے زوال کا رونا، جو بڑی حد تک مذکورہ نوعیت کے اساتذہ اور اُن کے سرپرستوں کی وجہ سے ہے، ہر سمت میں عام ہے، جس کا علاج بظاہر کوئی کرتا نظر بھی نہیں آرہا۔ ہر طرف بے حسی اورلاتعلقی عام ہے۔ زوال کی ایسی صورت میں جس میں آئے دن اضافہ ہی ہورہا ہے، اگر یہ سوال پیش ِ نظر ہو کہ اس میں بہتری کیوں کر لائی جائے اور مطالعات اورتحقیق کے معیار کوکس طرح بلند ترکیا جائے جو ’ایچ ای سی‘ کے قیام کا حقیقی مقصد ہے؟ تو میرا جواب یہ ہوگا کہ دریں حالات یہ ممکن نہیں، تا آں کہ ’ایچ ای سی‘ اور خود جامعات میں کوئی بہت اہل، باشعور اور مصلحتوں سے بے نیاز و بے لوث سربراہ نہ آجائے، جو علمی و تعلیمی ذوق و شوق سے پوری طرح بہرہ مند بھی ہو، اُس وقت تک سرکاری جامعات کی مجموعی تعلیمی حالت اور ان کا معیار بلند نہیں ہوسکتا اور اُس وقت تک ملک و معاشرے کو لائق و باصلاحیت افراد بھی مناسب تعداد میں نہ مل سکیں گے۔ تعلیمی اداروں کے معیار میں بہتری کا حقیقی اظہار تحقیقی منصوبوں اورمطالعاتی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔ اندریں حالات اس زوال پذیر نظام میں جو اساتذہ اپنے طلبہ کے مطالعات اور تحقیقات میں ان کی نگرانی اور ان کی سرپرستی و رہنمائی کرتے ہیں اُن میں بھی شاذ ہی ایسے اساتذہ ہوتے ہیں جو خود معیاری تحقیق و مطالعات کی عمدہ مثالیں پیش کرتے رہے ہیں۔ جب کہ ایسے نگران اور سرپرست اساتذہ کے معیارات و درجات کو متعین کرنے یا جانچنے کا ’ایچ ای سی‘ میں اور ہمارے ملک کی جامعات اور اداروں میں کوئی دیانت دارانہ اور غیرجانب دارانہ نظام بھی موجود نہیں۔ ’ایچ ای سی‘ سے قطع نظر، جامعات خود اپنا بھی جانچنے پرکھنے کا کوئی نظام وضع کرسکتی ہیں، لیکن آج بالعموم اساتذہ اپنی جامعہ اور اس کے نافذ کردہ نظام کے تابع نہیں رہتے اور اساتذہ انجمنیں ان کی پشت پناہی اور ان کو تحفظ فراہم کرتی ہیں، اس لیے بدعنوانیاں دور نہیں ہوتیں۔ پھر مزید ستم یہ ہوا ہے کہ ’ایچ ای سی‘ یا اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نگراں و سرپرست ادارے کو اب صوبائی حیثیت دے دی گئی ہے جس سے زوال کی رفتار کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی ہے اور مستقبل میں مزید بڑھے گی۔
یہ سب زوال کی ایسی صورتیں ہیں کہ جس میں تعلیمی اداروں میں نظم و نسق کی عدم موجودگی، انتظامیہ کی نااہلی اور بدعنوانی اور پھر ملک و قوم کے لیے بے سود اور بے نتیجہ نصابات ِ تعلیم نمایاں ہیں، اس پر ایک مزید ستم یہ بھی ہے کہ ایک دو صوبوں میں اساتذہ کی ایک نااہل اور بددیانت اکثریت ایسی ہے جو سفارشوں اور سیاسی سرپرستی کے طفیل اعلیٰ مناصب تک پہنچ کر اپنے ہی جیسے افراد کو اپنے زیر انتظام اداروں میں یکجا کرکے تعلیمی و انتظامی ماحول کو مزید تباہی و بربادی سے ہم کنار کررہی ہے، اور ’ایچ ای سی‘ اور اس کی ذیلی مجلسوں میں بھی پہنچ کر متعلقہ مقاصدکو نقصان پہنچا رہی ہے۔
یہاں یہ امر بھی ہمارے پیش ِ نظر رہنا چاہیے کہ اساتذہ اور ان کے شعبوں اور ان کی جامعات کی مثبت و معیاری تحقیقی سرگرمیوں کی روشنی میں تعلیم کا معیار اور جامعات کے درجات کا تعین ہوتا ہے اور اساتذہ کو اس میں مرکز و بنیاد کی حیثیت حاصل رہتی ہے۔ چناں چہ اساتذہ کی تحقیقی سرگرمیوں کے شمار کے لیے اُن کے تحقیقی مقالات کا معیار اور ان کی اشاعت کے لیے عالمی معیار کے تحقیقی مجلات کا تعین ضروری ہے۔ لیکن افسوس کہ ’ایچ ای سی‘ نے اس معاملے میں ہاتھ اٹھا لیے ہیں کیوں کہ اب کوئی یونیورسٹی اس کے طے کردہ ضوابط اور شرائط کو تسلیم ہی نہیں کرتی اور تقرر و ترقی کے لیے ’ایچ ای سی‘ کے وضع کردہ پیمانے جو بہت صائب ہیں، لیکن یونیورسٹی کے نااہل اساتذہ اور انتظامیہ کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتے، اس لیے کاغذات کا پیٹ بھرنے کے لیے جھوٹے اعداد و شمار اور سطحی و یکسر غیر معیاری مقالات کو بھی، جو روزنامہ اخبارات، ماہناموں اور سطحی رسائل میں چھپتے ہیں، ’’تحقیقی مقالات اور مجلات‘‘ قرار دے کر ایچ ای سی کو تاریکی میں رکھ کر مطلوبہ فوائد حاصل کرلیے جاتے ہیں اور ’ایچ ای سی‘ میں انھیں جانچنے اور ان کے احتساب کا کوئی مستقل اور باقاعدہ طریقہ ٔ کار نہ ہونے کے سبب ایسی جعل سازیوں اور دھوکا دہی پر کوئی قدغن نہیں لگتی۔ معاشرتی علوم اور سائنس کے سارے ہی شعبوں میں ایسا ہی ہے اور تمام ہی کلیات کے اساتذہ اپنے شعبوں سے یا دیگر جامعات سے نکلنے والے رسالوں کو ’’تحقیقی مجلہ‘‘ قرار دے کر ان میں چھپی ہوئی تحریروں کو مقالہ گردانتے ہیں، جب کہ ان پر ماہرانہ رائے خود اساتذہ آپس میں ایک دوسرے سے ’’باہمی تعاون‘‘ کے جذبے کے تحت تحریر کرکے انھیں ماہرانہ رائے (Peer Review) باور کراتے اور اپنے مفادات حاصل کرلیتے ہیں۔ ایسے مجلوں کو، جو خود ’ایچ ای سی‘ کے مقررہ معیار پر پورے نہیں اترتے، ’ ایچ ای سی‘ معاشرتی علوم کے شعبوں اور سائنس سب ہی زمروں میں مروتاً اور بے نیازانہ اور اکثر دباؤ اور سفارشوں کے تحت تسلیم کرلیتی ہے بلکہ انھیں Z ہی نہیں,X,Y Wجیسے درجات بھی عطا کردیتی ہے، کیوں کہ متعلقہ مجلسوں میں خود یہی اساتذہ یہ فیصلے کرتے ہیں، جب کہ ان میں سے بعض تو خود یہ مجلے جاری کرتے ہیں تو وہ کیوں ناں اپنے ہی مجلوں کے درجات اپنی خواہش کے مطابق بلند کرتے رہیں؟ اس طرح اساتذہ کو اپنے نام نہاد ’’تحقیقی مقالات‘‘ کو انW,X,Y,Z مجلوں میں، جو خود ان ہی کی یا ان کے رفقا کی ادارت میںچھپتے ہیں، چھپنے پر گردن اکڑاتے اور سینہ پھلاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان اساتذہ میں کتنے ہیں جن کے مقالات ’ایچ ای سی‘ کے طے کردہ معیار کے حامل ترقی یافتہ ممالک کی معروف جامعات کے مجلوں میں چھپے ہیں اور کتنے ہیں جنھوں نے صرف ان مقامی مجلات میں چھپے ہوئے مقالات شمار کروائے ہیں؟ یہاں دیکھا جانا چاہیے کہ موجودہ اساتذہ میں جن جن اساتذہ نے ترقی پائی ہے، اعلیٰ مناصب حاصل کیے ہیں، بیرون ملک کے معروف معیاری مجلوں میں جو ممتاز یونیورسٹیوں سے چھپتے ہیں، ان کے کتنے مقالات چھپے ہیں اور یہاں ملک میں کتنے اور کس نوعیت و معیار کے مجلوں میں چھپے ہیں؟ اور ان سب کے ساتھ ساتھ ان کے مقالات کا تاثری عامل (Impact Factor) کتنا ہے؟ پھر مقامی رسائل اور اخبارات میں چھپی ہوئی عام اور سطحی تحریروں کو انھوں نے ’’تحقیقی مقالات‘‘ کے طور پر شمار کرایا یا نہیں؟ آج کل نااہل اساتذہ میں ایک اور عمل عام رواج پاگیا ہے کہ ان طلبہ کے مقالات کو، جو وہ اپنی سندی ضرورت کے تحت لکھتے اور چھپواتے ہیں، انھیں کسی استاد کی نگرانی میں ایسے مقالات لکھنے کی آزادی ہوتی ہے، ایسے اساتذہ اپنی نگرانی میں کام کرنے والے طلبہ پر لازم کردیتے ہیں کہ ان کا ایسا مقالہ مشترکہ نام (استاد+ شاگرد) سے چھپے گا۔ طالب علم اخلاقاً اور بالجبر ایسا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس کا اصل فائدہ استاد یوں اٹھاتے ہیں کہ ایسے مقالے کو کُلی طور پر اپنے کوائف میں شامل کرکے اپنے ’’مقالات‘‘ کی تعداد بڑھالیتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں، جب کہ شاید ایک سطرکی محنت بھی اس میں استاد کی شامل نہیں ہوتی۔ جس طرح اساتذہ، جو مجلوں کے مدیر بھی ہوتے ہیں، اور امدادِ باہمی کے ’’جذبے‘‘ کے تحت خود ہی اپنے دوستوں کے مقالات اور مناصب کی تفویض اور ترقی کے لیے موصولہ کوائف پر ماہرانہ رائے (Peer Review) دینے سے نہیں چوکتے۔ اس لیے ہر مقام پر ماہرانہ رائے کا حصول بیرونی ماہرین کے ذریعے سخت گیری سے نہ کروایا جائے تو بہت سے مسائل یوں ہی رہیں گے اور معیار ہر سطح پر زوال پذیر ہی رہے گا۔
یہ صورت ِ حال وہ ہے کہ جو مالی و انتظامی بدعنوانیوں سے قطع نظر، ’ایچ ای سی‘ کی تعلیمی و مطالعاتی ناکامیوں کو بھی سامنے لاتی ہے جس کا اگر محاسبہ کیا جائے تو اس کی ایک بڑی وجہ اساتذہ کی نااہلی، ان کی اپنے فرائض سے چشم پوشی، جس میں تعلیمی اور مطالعاتی سرگرمیوں سے بے نیازی اور غیر معیاری مطالعات و تحقیقات کے نمائشی اعداد و شمار کے ذریعے فوائد اور مناصب کا حصول بھی شامل ہے، اور جس میں ان کے ذریعے خود ’ایچ ای سی‘ اور اس کی مجلسوںکے عہدے بھی شامل ہوتے ہیں، جن کے سبب ’ایچ ای سی‘ سے غلط اور ناروا فیصلے سرزد ہوتے اور ’ایچ ای سی‘ اپنے بنیادی فرائض اور وظائف سے دور رہ جاتی ہے۔ یہی وہ صورت ِ حال ہے جس کا اب ’ایچ ای سی‘ کے نووارد صدر نشیں کو سامنا ہے اور انھیں اس قبیح صورتِ حال کے تدارک اور اس کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات کی بابت سوچنا ہوگا کہ انتظامی اور مالی بدعنوانیاں بھی ان کے لیے شدید تر چیلنج ہیں اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے معیار کی بہتری و بلندی کے لیے ان کے مؤثر اقدامات بھی ان کی جانب سے متوقع رہیں گے۔ اس مقصد کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ یہاں اس تحریر میں مذکورہ مسائل کی روشنی میں، کہ جو کُل مسائل کا محض ایک دو فیصد ہی ہوں گے، ایک احتسابی مجلس تشکیل دیں جو ’ایچ ای سی‘ کی ہر ہر پہلو سے اب تک کی کارکردگی کا، اس کے قیام کے حقیقی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر، ایک بے لاگ جائزہ لے اور اپنی کُل کوتاہیوں کا سدباب کرنے کے لیے ایک مثبت و راسخ حکمت ِ عملی تیار کرے تاکہ اپنے قیام کے حقیقی مقاصد کی تکمیل کی جانب تمام تر غیر جانب داری،مصلحتوں سے بے نیازی اوراخلاص اور مستعدی کے ساتھ ’ایچ ای سی‘ سفر کرسکے۔ اس مقصد کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ اس احتسابی عمل کے لیے ’ایچ ای سی‘ اپنے ہی نظم پر انحصار نہ کرے کہ اس میں ایک بڑا عنصر اُن اساتذہ ہی کا ہے جو مختلف جامعات سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کی مجلسوں اور دیگر انتظامی مناصب پر تعینات ہیں۔ اس لیے اصلاح و بہتری کا کوئی اقدام شاید ان کی موجودگی میں یا ان کی شراکت سے بہتر نہ ہوسکے۔ اس لیے بہتر نتائج کے حصول کے لیے مناسب ہوگا کہ بیرونی ماہرین کی ایسی مجلسیں ہوں جو مختلف مدات میں اپنی مہارت کی روشنی میں بے لاگ رائے دیں، تاکہ ان کی آراء کی روشنی میں اصلاح احوال ہو اور بہتر ی کا امکان پیدا ہوسکے۔
چناں چہ حالات کی اصلاح اور بہتری کے لیے ’ایچ ای سی‘ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ:
۱۔ اب تک کن کن اساتذہ کو ’پروفیسر امتیازی‘(Meritorious Professor) قرار دیاگیاہے اور کیوں؟ ان کے تحقیقی مطالعات اور منصوبوں کی پذیرائی عالمی اور ملکی سطح پر کس قدر رہی ہے؟ ان کی کیا امتیازی خدمات رہی ہیں؟ ان کے ’تاثری عامل‘(Impact Factor) کا تناسب کیا رہا ہے؟ ان کی سفارش کس کس نے کی اور منظوری کس نے دی ہے؟
۲۔ جو اساتذہ تحقیقی منصوبوں کی تکمیل کی غرض سے بیرون ملک گئے ہیں، ان کی سفارش اور منظوری کس کس نے دی ہے؟ ان کے موضوعات ِ تحقیق کیا تھے اور انھوں نے واپس آکر آیا ’ایچ ای سی‘ میں وہ منصوبے جمع کروائے؟ شائع کروائے؟ اگر شائع نہ کروائے تو کیوں نہ کروائے؟کون کون واپس نہ آئے؟
۳۔ جو جو اساتذہ اس وقت’پروفیسر‘ کے عہدے پر فائز ہیں، ان کے علمی و تحقیقی مطالعات کے تفصیلی کوائف؟ جامعہ میں کُل تدریسی تجربہ؟ عالمی سطح کے یا بیرونِ ملک کے تحقیقی مجلات میں طبع شدہ مقالات کی تعداد اور ان کے تاثری عامل کا تناسب؟
۴۔ جن جن مجلسوں نے تحقیقی مجلات کو منظور کیا اور ان کے درجات کا تعین کیا، ان مجلسوں میں شامل اراکین کے نام؟ خودان اراکین کے علمی ومطالعاتی کوائف؟ پھر یہ بھی کہ ان اراکین میں آیا کوئی ایسا رکن بھی ہے جو خود کسی مجلے کا مدیر یا مہتمم بھی ہو؟
۵۔ تحقیق کے معیار کی بہتری کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیق کے موضوعات کی حتمی منظوری متعلقہ شعبوں اور جامعہ کے بجائے ’ایچ ای سی‘ کی ایک مقررہ مجلس بھی دے جو بیرونی ماہرین پر مشتمل ہو۔
۶۔ ایسی ہی ایک مجلس ہو جو متعلقہ شعبے میں پیش کردہ پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالات کو منظوری کے مراحل میں داخل کرنے سے پہلے ان کے معیار کا جائزہ لے کر انھیں حتمی منظوری کے مراحل میں بھیجنے کی اجازت دے۔ اگر مقالہ معیاری نہ ہو تو اس ابتدائی مرحلے پر ہی اس کی بہتری کی تجاویز دے، اور ان کی تعمیل کے بعد ہی اسے پیش رفت کے لیے منظور کرے۔
ورنہ یہ بھی روایت عام ہے کہ ممتحنین تک رسائی حاصل کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرلیے جاتے ہیں اور مطالعے کی کمزوریاں اور نقائص سب نظرانداز کروادیے جاتے ہیں۔
یہ ظاہر ہے کہ اساتذہ، جامعات کے مقتدر اداروں اور مجلسوں نے متعدد نوعیتوں کی بدعنوانیوں کے ذریعے وہ فوائد حاصل کیے ہیں، جن کی کچھ نشاندہی اور حوالے سطور ِ بالا میں دیے گئے ہیں، ان کے مطابق بدعنوانیوں بلکہ جرائم کا تعین بہت مشکل نہیں، ان بدعنوانوں کا محاسبہ ہونا چاہیے اور سزائیں بھی دی جانی چاہئیں، کیوں کہ ہمارے ملک و معاشرے میں سزاؤں کے نہ ملنے سے ہی ساری خرابیاں موجود ہیں اور ہم ہر شعبے میں اور ہر سطح پر زوال کا شکار ہیں اور رہیں گے۔ ’ایچ ای سی‘ بھی ایسی بدعنوانیوں میں ملوث رہی ہے۔ اس کا سدباب اور تلافی ضروری ہے اور اس کے لیے موجودہ صدر نشیں کو ضرور سوچنا اور عملی اقدامات کی بابت اقدامات کرنے چاہئیں۔ اگر اساتذہ لائق ہوں، بدعنوانیوں اور بددیانتی سے دور ہوں تو سارا معاشرہ، سارے ادارے اور نظمِ مملکت راہِ راست پر رہیں گے اور ملک ترقی کرے گا۔

Share this: