لوگوں پر ذہنی دبائو بڑھ رہا ہے،پروفیسر ڈاکٹر رضا الرحمن

زندگی میں دینا شروع کریں، خوشیاں ملنی شروع ہوجائیں گی

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ، شعبہ طب نفسیات کے سربراہ کا خصوصی انٹرویو

عامر اشرف

انسان کی خوشی و راحت کا تعلق جسمانی صحت و تندرستی سے ہے، اور جسمانی صحت کا دارومدار ذہنی صحت پر ہوتا ہے۔ کیونکہ دماغ ہی انسان کے سارے جسمانی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ دماغی کمزوری یا بیماری کے سبب ہی بہت سی اعصابی، نفسیاتی اور جسمانی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً پچاس کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا فرد ڈپریشن کا شکار ہے۔ معروف ماہر نفسیات اور سائیکاٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رضا الرحمن سے اس موضوع پر گفتگو کی گئی جو یقینا قارئین کے علم و معلومات میں اضافے کا باعث ہوگی۔
پروفیسر ڈاکٹر رضا الرحمن ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں Meritorious professor کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ institute of behavioral sciences میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں، آپ ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی میں پڑھانے کے ساتھ،سول ہسپتال کے شعبہ سائکیٹری کے سربراہ بھی ہیں۔ 2014ء میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے انھیں بہترین یونیورسٹی ٹیچر کے ایوارڈ سے بھی نوازاہے۔

سوال: ڈاکٹر صاحب پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذہنی و نفسیاتی امراض میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں ذہنی و نفسیاتی مریضوں کی کیا صورت حال ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر رضا الرحمن: آپ نے اچھا سوال اٹھایا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس حوالے سے ہمارے پاس کوئی اعداد و شمار ہی نہیں ہیں۔ ڈپریشن ایک عام بیماری ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تمام بیماریوں کے مقابلے میں اعصابی نفسیاتی بیماری Neuro psychiatry illness کا حصہ 28 فیصد ہے، جس میں ڈپریشن کا بوجھ 10 فیصد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی تازہ تحقیق کے مطابق صرف ڈپریشن کی وجہ سے دنیا میں 130 کھرب روپے سالانہ کا نقصان ہوتا ہے۔
سوال: اس نقصان کی تفصیلات کیا ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر رضا الرحمن: اگر آپ کو ڈپریشن ہے تو آپ کام پر نہیں جائیں گے۔ اس نفسیاتی حالت کوAbsenteeism یعنی کام سے غیر حاضر ہونا کہتے ہیں۔ دوسرا جو نقصان ہوتا ہے وہ Presenteeism کہلاتا ہے ٍ اس کا مطلب یہ ہے کہ کام پر آنا لیکن ڈپریشن کے باعث کام نہ کرسکنا، اس سے ہونے والا نقصان غیر حاضر رہنے کے مقابلے میں دگنا ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر عالمی ادارہ صحت نے 2017ء میں ذہنی صحت کے عالمی دن کی تھیم ’’کام کی جگہ پر ذہنی صحت‘‘ (Mental Health at Work Place) رکھی تھی۔ مطلب یہ کہ کام کی جگہ پر آپ کی آٹھ گھنٹے ڈیوٹی ہوتی ہے یعنی آپ اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ اپنی ذات پر خرچ کررہے ہیں۔ کام کی جگہ پر اگر آپ کی ذہنی صحت صحیح ہوئی تو آپ کا کام بھی صحیح ہوگا، جس کا اثر آپ کی ذاتی زندگی پر بھی پڑتا ہے۔ پاکستان میں اس طرح کی کوئی اسٹڈی نہیں ہوئی۔ اب ہم یہ اسٹڈی کرنے جارہے ہیں۔ البتہ برٹش جرنل آف سائیکیٹری ریویو میں چھوٹی چھوٹی بیس اسٹڈیز شائع ہوئی ہیں جس کے مطابق پاکستان میں 33 فیصد لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔ دنیا میں اس وقت ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد 5 سے 7 فیصد ہے۔
سوال: ہمارے یہاں ان امراض میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر رضا الرحمن: نفسیاتی بیماری کا براہِ راست تعلق ذہنی تنائو یا دبائو سے ہوتا ہے۔ جس معاشرے کے افراد میں جتنا زیادہ ذہنی دبائو پایا جاتا ہے اس معاشرے میں اتنی ہی زیادہ ذہنی و نفسیاتی بیماریاں ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں لوگوں پر ذہنی دبائو بہت زیادہ ہے اس لیے نفسیاتی بیماریاں بھی بہت زیادہ ہیں۔ 1993ء میں عالمی بینک نے ہارورڈ اسکول آف کمیونٹی میڈیسن میں گلوبل برڈن آف ڈیزیز یعنی عالمی سطح پر بیماریوں کا بوجھ معلوم کرنے کے لیے ایک سروے کروایا تھا، سروے کی ضرورت یوں پڑی کہ عالمی ادارہ صحت کو یہ مسئلہ درپیش تھا کہ جو آتا تھا وہ فنڈز مانگتا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے لیے مشکل ہوگیا تھا کہ کس کو زیادہ فنڈز دیئے جائیں، کس کو کم دیئے جائیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی ادارہ صحت نے ایک اسٹڈی کروائی، جس میں معاشرے پر بیماریوں کے بوجھ کا مطالعہ کیا گیا۔ اس میں یہ معلوم کیا گیا کہ اگر ایک شخص اسپتال میں داخل ہو تو اس کا خرچ، کام پر نہ جانے سے خرچ کا کتنا بوجھ پڑتا ہے۔ مریض کے ساتھ اسپتال میں کوئی تیماردار رہ رہا ہو تو اس کی تنخواہ کٹنے کا خرچ۔ پھر آپ سے لوگ ملنے آرہے ہیں ان کا خرچہ۔ آپ کے لیے کوئی چیز لارہے ہیں تو اس کا خرچ۔ تمام خرچوں کو جمع کیا تو معلوم ہوا کہ ایک مریض پر کتنا بھاری خرچ آتا ہے۔ اس اسٹڈی میں تمام بیماریوں کو ایک سے ایک سو دس نمبر کی ترتیب میں رکھا گیا۔ ان بیماریوں کے مطالعے سے یہ جان کر بھونچال آگیا کہ اولین دس بیماریوں میں سے پہلی پانچ کا تعلق نفسیاتی بیماریوں سے ہے۔ ایک زمانے میں ٹریفک حادثات پہلے نمبر پر تھے۔ ان کو کم کرنے کے لیے ٹریفک کے قاعدے قوانین کو بہتر بنائیں گے۔ حادثات کم کردیں گے۔ بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا بوجھ معاشرے پر دوسرے نمبر پر تھا۔ اس پر قابو پانے کے لیے جینٹک انجینئرنگ مطلب یہ کہ انسان کی جینیاتی ساخت میں تبدیلی لانے کی ٹیکنالوجی کے استعمال کو مسئلے کا حل مانا گیا اور کہا گیا کہ اس طرح بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو نیچے لے آئیں گے۔ تیسرے نمبر پر آنے والی دل اور خون کی وریدوں سے متعلق بیماریوں کو نیچے لانے کے لیے تجویز کیا گیا کہ طرز زندگی اور غذائی عادات کو بہتر بنائیں گے اور نئی دوائیں لائیں گے۔ چوتھا بڑا نمبر تھا ڈپریشن کا، پوچھا گیا کہ ڈپریشن کیوں ہوتا ہے؟ بتایا گیا کہ بچہ فیل ہوجائے تو ڈپریشن، نوکری نہ ملے تو ڈپریشن، نوکری چھوٹ جائے تو ڈپریشن، ساس بہو کا جھگڑا ہوجائے تو ڈپریشن، اور شادی نہ ہو تو ڈپریشن۔ غرض کسی بھی پریشان کن بات سے ڈپریشن ہوسکتا ہے۔ اس صورت حال پر عالمی ادارہ صحت والوں کا کہنا تھا کہ نہ ہم سب کو روزگار دلا سکتے ہیں، نہ شادیاں کرا سکتے ہیں، نہ ساس بہو کے جھگڑے میں پڑ سکتے ہیں۔ ان بے شمار وجوہات کی بنا پر ڈپریشن پر قابو ڈبلیو ایچ او کے کنٹرول سے باہر ہے۔
1993ء میں ادارے کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے زندگی تیز ہوگی ڈپریشن کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔ خیال تھا کہ 2020ء تک ڈپریشن چوتھے نمبر سے دوسرے نمبر پر آجائے گا۔ لیکن یہ 2008ء میں ہی پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے اور اب پہلے نمبر پر آنے والا ہے۔ جیسے کہ میں نے بتایا کہ پاکستان میں لوگوں پر ذہنی دبائو باقی دنیا کے مقابلے میں چار سے پانچ گنا زیادہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہماری سماجی اقدار دم توڑتی جارہی ہیں۔ ہمیں پتا تک نہیں ہوتا کہ ہمارے پڑوس میں کون رہتا ہے۔ کہیں دہشت گردی ہے۔ ٹریفک سے بھی ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔
سوال: نفسیاتی بیماریوں کا تعلق صرف دماغ سے ہوتا ہے یا دل سے بھی ان کا تعلق ہے؟
پروفیسر ڈاکٹررضا الرحمن: دیکھیں سب سے بڑی بحث تو یہ ہے کہ دماغ کیا ہے اور دل کیا ہے۔ اکثر مریض آتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارا دل ٹوٹ گیا، میرا دل گھبراتا ہے۔ میں نے اس پر کام کیا، اپنے ایک سرجن دوست سے بھی معلوم کیا کہ کبھی دوران آپریشن آپ نے دل ٹوٹا ہوا پایا؟ اس نے یہی بتایا کہ ایسی بات تو کبھی نہیں دیکھی۔ دراصل ہم جیسے جذبات اور احساسات والے دل جس کو کہتے ہیں وہ دماغ کا Limbic Systemہوتا ہے۔ ذہن میں جو اعصابی نظام ہوتا ہے، جو جذبات و احساسات ابھرتے ہیں یہ دماغ ہی کا بالائی حصہ ہوتا ہے۔ جو دھڑکتا ہے وہ ہمارا قلب ہے جو خون پمپ کرنے کی مشین ہے، اس کو ہم دل کہتے ہیں۔ اس دل کا جذبات پیدا کرنے یا کنٹرول کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دل کہلانے والا عضو دراصل دماغ کا ہی حصہ ہے جو جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔
سوال: بچوں میں بھی ذہنی و نفسیاتی مسائل سامنے آرہے ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر رضا الرحمن: پیدائش سے بچہ سب سے پہلا کام کیا کرتا ہے؟ وہ روتا ہے، مگر بچے کی شخصیت شروع کے 5سال میں بن رہی ہوتی ہے۔ بچہ ماں باپ کو بحیثیتِ مجموعی دیکھتا ہے مگر جب وہ پیدا ہونے کے بعد ماں باپ کو الگ دیکھتا ہے تو اس کا اثر اُس کے دماغ پر پڑتا ہے۔ بچہ جب محسوس یا نوٹ کرتا ہے، ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں Conflict پیدا ہورہا ہے جو اس کو نفسیاتی امراض کی طرف لے جاتا ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ (Conflicting Environment)جھگڑالو ماحول یاذہنی کشمکش کے جو کام کررہے ہیں وہ نظر بھی آئیں، پتا چلے کہ بچے کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ اگر یہ چیزیں نہیں کریں گے تو اس کی شخصیت میں کجی آنا شروع ہوجائے گی اور 5سال میں کافی حد تک اس کی شخصیت بن جاتی ہے۔ ہمارے یہاں والدین تربیت یافتہ نہیں ہوتے، ان کو بتانا ضروری ہے کہ انہیں کیسے تربیت کرنا چاہیے تاکہ ذہنی طور پر بچہ صحت مند بھی ہو۔
سوال:۔ عمومی خیال یہ ہے کہ ذہنی و نفسیاتی بیماری کا مسئلہ خواتین میں زیادہ ہوتا ہے،آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹررضا الرحمن: یہ نفسیاتی امراض خواتین میں اس لیے زیادہ ہوتے ہیں کہ وہ بتادیتی ہیں، اور مرد حضرات نہیں بتاتے۔ ہارمونز کے کم زیادہ ہونے کی وجہ سے ان میں نفسیاتی امراض زیادہ ہوتے ہیں۔ ان میں ذہنی دبائو بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ گھروں میں رہتی ہیں اور مرد حضرات باہر جاتے ہیں۔ اس لیے مردوں کا اسٹریس لیول کم ہوتا ہے۔ خواتین کو اپنے روزمرہ کے معاملات ٹھیک کرنے چاہئیں اور سماجی سرگرمیاں بڑھانی چاہئیں۔
سوال: ورزش ذہنی و جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے، لیکن اس جدید دنیا اور اتنے مصروف ماحول میں یہ کیسے ممکن ہے؟ کوئی آسان طریقہ بتائیں؟
پروفیسر ڈاکٹررضا الرحمن: چوبیس گھنٹوں میں سے ایک گھنٹہ اپنے لیے نکالیں۔ ورزش کی وجہ سے آپ کی ذہنی صحت بہتر( (Mental Health improveہو گی اور آپ 10گھنٹوں کا کام 4گھنٹوں میں کرسکتے ہیں۔ اس سے ذہنی دبائو میں بھی کمی ہوگی اور آپ کی شخصیت میں بھی تبدیلی آئے گی۔ ہم اپنے آپ کو قومی سطح پر بیمار کررہے ہیں۔ پہلے پارک ہوتے تھے۔ اب جو نئے علاقے بن رہے ہیں، بستیاں آباد ہورہی ہیں وہاں پارک نہیں ہوتے، کھلے میدان نہیں ہوتے۔ ہمیں اپنے آپ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر بدلنا ہوگا۔
سوال: ایک صحت مند زندگی کس طرح حاصل ہوسکتی ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر رضا الرحمن: زندگی میں ترتیب پیدا کریں، کھانے اور سونے کا وقت طے کریں، غیر ضروری خواہشات اور دبائو سے دور رہیں، ورزش کریں اور ایک خاص بات آپ کو بتاتا ہوں کہ زندگی میں دینا شروع کریں۔ا ٓپ پیسے دیں، کسی کو وقت دیں، کسی کو مشورہ دے دیں، کسی کو راستہ دے دیں، کسی کو علم دے دیں۔ دیکھیں دینے کی خصوصیت اللہ کی ہے،جب آپ دینا شروع کردیتے ہیں تو آپ کی نسبت رحمان سےجڑجاتی ہے، پھر آپ کبھی پریشان اور ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے۔ جتنا زیادہ آپ دینے والے بنیں گے اتنا زیادہ آپ کی زندگی میں خوشیاں آنا شروع ہوجائیں گی۔ آپ طے کرلیں کہ ہر مہینہ کسی کو کچھ نہ کچھ دوں گا۔

Share this: