’’لیجے‘‘ یا’’ لیجیے‘‘؟

اس بار بیرونی ممالک سے کچھ طویل مراسلات ملے ہیں جن سے نہ صرف ہماری معلومات میں اضافہ ہوا بلکہ کام آسان ہوگیا۔ پہلے کراچی سے محترم محفوظ احمد رحمانی کے محبت نامے کا ذکر۔ انہوں نے لکھا ہے کہ عرصے سے محسوس کررہا تھا اور توقع کررہا تھا کہ کوئی اہلِ زبان یا خود اطہر ہاشمی اپنے کالم ’زباں بگڑی‘ پر ایک نظر ڈال لیتے۔ عنوان میں ’لیجے‘ لکھا ہے لیکن نقطے نہیں ہیں، یعنی ’لیجیے‘ کا سرا لگایا ہے تو نقطے ضروری ہیں۔ مجھے دونوں کا فرق ضرور تحریر کریں اور معنی اگر مختلف ہوں تو وہ بھی لکھ دیں۔ مزید یہ کہ عرصہ ہوا میں نے ’فطرہ‘ اور ’فطرانہ‘ اور ’شرارتی‘ اور ’شریر‘ کا پوچھا تھا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ اب پھر فطرہ اور فطرانہ کا مسئلہ درپیش ہے، درست آگہی ہوجائے تو بروقت ہوگی اور فطرہ یا فطرانہ وصول کرسکیں گے۔
بھائی محفوظ رحمانی، اللہ آپ کو محفوظ رکھے، ہمیں یاد پڑتا ہے کہ آپ کے مذکورہ استفسار کا جواب ترنت ہی دے دیا تھا۔ ممکن ہے آپ کی نظروں سے نہ گزرا ہو۔ جہاں تک وصول کرنے کا تعلق ہے تو آپ بے فکر ہوکر فطرہ یا فطرانہ وصول کرتے رہیں، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اصل بات تو دینے والے کی نیت ہے۔ ویسے ہمارے خیال میں فطرانہ صحیح نہیں ہے۔ یہ ہم نے خود بنا لیا ہے جسے عوامی زبان کہہ سکتے ہیں۔ صحیح تو ’فطرہ‘ ہے۔ اس کا مادہ ’فِطر‘ ہے جس کا مطلب ہے روزہ کھولنا۔ چنانچہ عید فطری بھی کہا جاتا ہے۔ افطار تو آپ کرتے ہی ہوں گے جس کا مطلب روزہ کھولنا ہے۔ فطرہ کا مطلب ہے عید رمضان کا صدقہ۔
شرارت عربی کا لفظ ہے اور اس کا ایک مطلب پتنگا بھی ہے۔ معروف معنیٰ بدی، ایذا رسانی، برائی، خرابی، بدنیتی، شوخی، بے باکی، بدزبانی، دنگا، سرکشی، شور وغل وغیرہ۔ شریر یا شرارتی صفت ہے یعنی شرارت کرنے والا۔ شریر کے مزید معنیٰ ہیں بد ذات، برا، عیب دار، بدچلن، بدمعاش، پاپی۔ یاد رہے کہ سنسکرت میں ’شریر‘ بدن، جسم، زندگی کو بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ شرارتی اور شریر کا مطلب ایک ہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کا مادہ ’شر‘ ہو۔ ویسے اردو میں شرارتی اور شریر پیار میں بھی کہہ دیتے ہیں، جیسے بچوں کو کہہ دیا جاتا ہے کہ تم بہت شریر ہو۔ کسی استاد کا مصرع ہے

اتنے سے قد پہ تم تو قیامت شریر ہو

’لیجے‘ اور ’لیجیے‘ کا معاملہ یہ ہے کہ دونوں ہی صحیح ہیں۔ اس کالم کا عنوان مرزا غالب کے اس مصرعے میں ترمیم کرکے رکھا گیا ہے کہ ’’زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجے دہن بگڑا‘‘۔ مرزا نے ’لیجیے‘ نہیں ’لیجے‘ کہا ہے۔ لغت میں تو اس پر ایک ہمزہ بھی چڑھا دی گئی ہے یعنی ’’لیجئے‘‘ (نوراللغات)۰ لغت کے مطابق لکھنؤ میں بروزن فعلن متروک اور بروزن فاعلن مستعمل ہے۔ راسخ کا شعر ہے:

دھجیاں میرے گریباں کی خوشی سے لیجے
کچھ گلے پڑنے کا سودا نہیں دیوانوں کا

اور مصحفی کا شعر ہے:

جان دینے میں اضطراب ہی کیا
لیجیے مہربان دیتے ہیں

لیجیے، دیجیے، لیے، دیے، کیے جیسے الفاظ کے بارے میں ماہرینِ لسانیات نے یہ اصول وضع کیا ہے کہ اگر پہلے حرف کے نیچے زیر ہے (بالکسر) تو ہمزہ نہیں آئے گا بلکہ اس کی جگہ دو نکتے لگیں گے۔
اب کچھ ذکر بیرونی امداد کا۔ عبدالمتین منیری کے ذریعے ملنے والے محبت ناموں کے بارے میں منیری لکھتے ہیں کہ
دہلی سے جناب سہیل انجم کا آپ کے نام مراسلہ منسلک ہے۔ مراسلہ میں تو انہوں نے اپنا تعارف نہیںکرایا ہے، لیکن ہمارا خیال ہے کہ موصوف وائس آف امریکہ سے منسلک ہیں۔
سہیل انجم لکھتے ہیں کہ ’’میں آپ کے کالم ’’خبر لیجے زباں بگڑی‘‘ کا تقریباً مستقل قاری ہوں۔ آپ کی لسانی لیاقتوں اور اس کے ساتھ ہی موشگافیوں سے بھی خوب فیض یاب اور لطف اندوز ہوتا ہوں۔ یکم جون کو شائع ہونے والے تازہ کالم میں آپ نے ’’نذر‘‘ اور ’’نظر‘‘ کے سلسلے میں اظہارِ خیال فرماتے ہوئے بجا طور پر لکھا ہے کہ کبھی کبھی لکھنے والوں سے سہو ہوجاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد ہی آپ سے بھی ایک سہو ہوگیا۔ آپ نے لکھا ہے کہ ’’جسارت کے ادارتی صفحے پر ایک مضمون بعنوان ’’متقی کون ہے؟‘‘ کے عنوان سے چھپا ہے۔‘‘ یعنی ’’بعنوان‘‘ بھی اور ’’کے عنوان سے‘‘ بھی۔ یہ تو وہی ہوا ’’لب دریا کے ساحل کا کنارا‘‘۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ سہو آپ سے نہیں بلکہ پہلے کمپیوٹر آپریٹر سے ہوا اور اس کے بعد پروف ریڈر سے ہوا ہے۔ یعنی ڈبل سہو۔ خیر! آپ کا کالم پڑھ کر اکثر اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ پاکستان کے نہیں بلکہ ہندوستان کے اخباروں اور مضمون نگاروں کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ بعض اوقات تقریباً یکساں غلطیاں دونوں جانب ہوتی ہیں۔ ہوں بھی کیوں نہ کہ دونوں 1947ء سے ہی یکساں غلطیاں دوہراتے چلے آرہے ہیں۔ یہ ہمارا مزاج بن گیا ہے اور ہمارے یومیہ رویّے میں داخل ہوگیا ہے۔
میں اگر دہلی کے اردو روزناموں کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے چلوں تو ایک اخبار نکالنا پڑ جائے گا۔ سردست چند باتیں گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ روزنامہ ’’انقلاب‘‘ اس وقت ہندوستان کا سب سے بڑا اخبار ہے۔ پندرہ شہروں سے اس کے ایڈیشن نکلتے ہیں۔ یکم جون کے شمارے میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اردو کے ایک پروفیسر صاحب کا کالم شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے ’’جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ایک کھلے ذہن کی بین الاقوامی یونیورسٹی ہے۔ یہ کھل کر اپنے یہاں یہ تحقیق کرا سکتی ہے کہ دہشت گرد کون ہے؟ دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟ مزاحمت کاری اور دہشت گردی میں کیا فرق ہے؟‘‘ یہاں ہم ٹھٹک (ٹھٹھک) گئے۔ ہمارے دل و دماغ پر ایک کاری ضرب لگی۔ پتا نہیں کسی اور قاری کو لگی یا نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ’’مزاحمت‘‘ اپنی جگہ پر کافی ہے۔ اس کے ساتھ کاری لگانا ایسے ہی ہے جیسے ’’نظامت‘‘ کے ساتھ کاری لگا کر ’’نظامت کاری‘‘ بنا دینا۔ براہ کرم آپ اس پر روشنی ڈالیں۔ اسی اخبار میں ’’شستہ گوئی‘‘، ’’شب گردی‘‘ (جہاں گردی کی طرح) اور ’’روح کشید خوشبو‘‘ بھی پڑھ چکا ہوں۔ ایک روز ایک رپورٹر نے ’’سیخ کباب‘‘ کو ایک جگہ ’’سیک کباب‘‘ اور دوسری جگہ ’’سیکھ کباب‘‘ لکھا تھا۔ اس پر ہمارے دوست جناب ندیم صدیقی نے کہا کہ ’’ممکن ہو تو انہی کو سیخ پر رکھ کر اردو کی کچھ آنچ دی جائے کہ شاید زبان انھیں کچھ سینک دے، بصورتِ دیگر کوئلے پر رکھ کر قصداً بھول جائیے‘‘۔ دوسری زبانوں بالخصوص انگریزی کے الفاظ کا دھڑلے سے استعمال ہوتا ہے۔ ایک دوسرے بڑے اخبار نے ایک فساد کی خبر پر یہ شہ سرخی لگائی تھی ’’مظفر نگر میں شوٹ ایٹ سائٹ کا آرڈر‘‘۔ ہم نے مدیر محترم سے پوچھا کہ ’’کیا دیکھتے ہی گولی مار دینے سے آدمی نہیں مرے گا جو شوٹ ایٹ سائٹ کا آرڈر لکھنا پڑا‘‘۔ وہ خاموش رہے، کوئی جواب نہیں دے سکے۔ یہاں کے اخباروں اور اردو پروفیسروں کی جانب سے ایسی بھیانک غلطیاں ہوتی ہیں کہ پروفیسروں کے بارے میں جناب مشتاق یوسفی کا جملہ یاد آجاتا ہے۔ ایک تقریب میں جس میں تقریباً پندرہ پروفیسر تھے اور ہم دو غیر پروفیسر۔ ہمارے غیر پروفیسر دوست جو طنز و مزاح نگار بھی ہیں، بار بار پروفیسروں پر تیر چلا رہے تھے۔ ایک بزلہ سنج پروفیسر سے نہ رہا گیا تو وہ یہ کہتے ہوئے ان پر چڑھ دوڑے کہ ’’تم نے تو لفظ پروفیسر کو گالی بنا دیا ہے‘‘۔ (ہم بھی 32 برسوں سے اردو صحافت کے دشت کی مسلسل سیاحی کررہے ہیں لیکن کیا کریں کہ زبان ابھی تک نہیں آئی۔ کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے)۔
والسلام
سہیل انجم
ذاکر نگر، جامعہ نگر، نئی دہلی۔ 110025
09818195929-9582078862
sanjmdelhi@gmail.com
(سہیل میاں، ’’بعنوان‘‘ اور ’’کے عنوان‘‘ کی غلطی ہماری اپنی ہے۔ یہ تاثر صحیح نہیں کہ ہم ہندوستان کے مضمون نگاروں کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ ہم تو اردو کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ لسانی لیاقت کا ہم پر محض الزام ہے)

Share this: