یومِ شہادتِ حضرت علیؓ۔خلافتِ راشدہ اور اصولِ حکمرانی

گورنر مصر کے نام امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کا ہدایت نامہ… ایک تاریخی دستاویز

ڈاکٹر انیس احمد
رمضان کے مہینے میں جو اہم تاریخی واقعات ظہور پذیر ہوئے اُن میں سب سے اہم تو قرآن کریم کا نزول ہے، لیکن اس کے ساتھ غزوۂ بدر، فتح مکہ اور حضرت علیؓ کی شہادت بھی ایسے واقعات ہیں جو ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ حضرت علیؓ چوتھے خلیفۂ راشد ہیں اور اُن چار اہم شخصیات میں سے ایک ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور قرب حاصل رہا۔
حضرت ابوبکر ؓ نے مردوں میں، خواتین میں سیدہ خدیجہ ؓ نے، اور بچوں میں حضرت علیؓ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ گویا اس لحاظ سے آپؓ کو طفولیت سے جوانی تک اور جوانی سے بڑی عمر تک اس بات کا پورا موقع ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ حضرت علی ؓ کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ وہ خلفائے راشدین کے ساتھ انتظامی اور فقہی معاملات میں، نہ صرف مشاورت میں شریک رہے بلکہ آپؓ کی مشاورت سے ایسے بہت سے فیصلے ہوئے جو امتِ مسلمہ کے لیے مفید ثابت ہوئے۔
حضرت علیؓ کی شہادت سے اسلامی ریاست اور اسلام کے سیاسی نظام کے خلاف سازشوں کے ایک ایسے سلسلے کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں اسلامی ریاست کے بنیادی خدوخال میں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور دورِ رسالت مآب اور دورِ خلافتِ راشدہ کے اس نمونہ سے امت کا اجتماعی نظام دور ہوگیا۔ اس میں بہت سے عوامل کا دخل تھا۔ اسلامی ریاست کی انتظامی حدود کی وسعت، نومسلموں کی اپنی ثقافتی اور تہذیبی روایات سے غیر شعوری طور پر وابستگی اور بعض مخلص مسلمانوں کی قرآن کریم کی لفظی تعبیر نے ایک ایسا ماحول پیدا کردیا جس میں خوارج اور سازشی عناصر کو اپنے عزائم پر عمل کرنے کا موقع مل گیا۔ حضرت عثمان ؓ اور حضرت علیؓ کی شہادت اسی تاریخی پس منظر میں پیش آئیں۔ بظاہر شورائی خلافت کی جگہ قدیم ایرانی طرز کی موروثی حکومت کا قائم ہونا اسلام کے بنیادی اصولوں سے انحراف اور بغاوت تھی، لیکن اس سیاسی انحراف کے باوجود بعض بنیادی اسلامی ادارے جو اسلامی انقلاب کے ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں اپنی جگہ پر قائم رہے۔ ان میں خاندان کا بطور ایک حصار کے قیام، معیشت کا غیرسودی اور حلال ذرائع پیداوار و تقسیم پر قائم رہنا، نظام عدل کا آزاد ہونا اور اسلامی شرعی قوانین کا دیوانی اور فوجداری نظام میں جاری رہنا ایسے پہلو ہیں جن پر عام طور پر توجہ نہیں دی جاتی۔ بلاشبہ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد، بعض افراد کو چھوڑتے ہوئے، جو خاندان حکومت پر قابض ہوئے اور مسلم دنیا پر حکومت کرتے رہے وہ اسلام کے شورائی نظام سے انحراف کی مثال تھے۔ لیکن ملوکیت، قبائلیت اور ایرانی موروثی تصورات نے اس انحراف میں بنیادی کردار ادا کیا اور غیر محسوس طور پر وہ نظام جس کی بنیاد تقویٰ، صلاحیت، امانت اور شورائیت پر تھی، موروثی سیاست اور موروثی بادشاہت کا شکار ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک نظریاتی اور عملی کشمکش کا آغاز بھی ہوگیا جس کا مقصد دوبارہ شورائی خلافت کے اصول اور نظام کا قیام تھا۔
تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ خلیفہ اوّل کے دور میں جو اہم معاملات سامنے آئے، ان میں زکوٰۃ کے منکرین کا مسئلہ ہو یا جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف عسکری کارروائی، یا مالِ غنیمت کی تقسیم کا معاملہ ہو… حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ ہر معاملے میں مشاورت میں شامل رہے۔ خمر یا شراب کے حوالے سے حضرت علیؓکی رائے پر حضرت عمرؓ نے خمر کی تعزیر میں اضافہ کیا اور 40 کوڑے کی جگہ 80 کوڑے سزا مقرر کی گئی۔ گویا آپ تینوں خلفاء کے ساتھ معاملات ومسائل کے حل میں برابر کے شریک رہے۔ جس طرح دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ غزوات میں شریک رہے ویسے ہی خلفائے راشدین کے دور میں تمام جنگوں میں شریک رہے اور بہادری کے جوہر دکھائے۔
حضرت علیؓ اپنی ذہانت اور شجاعت کی بنا پر صحابہ کرام میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ حضرت علیؓ کی شخصیت کا نمایاں پہلو حق کے معاملے میں بلاخوفِ نتائج مؤقف اختیار کرنا تھا۔ مداہنت ایک ایسی صفت ہے جو ہر معاملے میں سمجھوتہ کاری (compromise) کرنے کی عادت ڈال دیتی ہے اور آخرکار حق و باطل کی تمیز ختم ہوجاتی ہے۔ حضرت علیؓ کا کردار حق گوئی کی مثال تھا، اور خلفائے ثلاثہ کے دور میں اور خود اپنی خلافت کے دوران کبھی اصولوں پر مفاہمت نہیں کی۔ ان کی شخصیت کے اس پہلو کی وجہ سے ان کے دورِ خلافت میں سخت مشکلات بھی پیش آئیں لیکن وہ جس بات کو حق سمجھتے تھے اسے نہ کبھی چھپایا، نہ اس کے اظہار میں خوف اور تردد کیا۔
رمضان کریم میں حضرت علی ؓ کی شہادت سے خلافتِ راشدہ کی شورائی روایت تھوڑے ہی عرصے میں ملوکیت میں تبدیل ہوگئی۔ اس مختصر گفتگو میں ہمارا مقصد نہ حضرت علیؓ کے دور خلافت کا جائزہ ہے اور نہ تاریخی واقعات پر تبصرہ۔ حضرت علیؓ کی فراست اور انتظامی امور پر گہری نگاہ کا اندازہ کرنے کے لیے ہم صرف ایک دستاویز سے انتخاب سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔
حضرت عثمانؓ کے نصف آخر دور سے جن مسائل کا آغاز ہوا بلکہ ان میں حضرت علیؓ کے زمانے میں اضافہ ہی ہوا، لیکن تمام سیاسی مسائل کے باوجود حضرت علیؓ نے اپنے زیرانتظام علاقوں میں دورِ خلافت کی روح کو تازہ کرنا چاہا اور اپنے ماتحت گورنروں کو وقتاً فوقتاً ہدایت نامے جاری فرمائے تاکہ عوام کو عدل اور امن میسر آسکے۔ اس حوالے سے مصر کے گورنر مالک اشترکو آپ کا ہدایت نامہ اسلامی تصورِ عدل و انتظام مملکت کے ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت علیؓ کے تذکرے میں روایتی طرز سے ہٹ کر، اس ہدایت نامہ کا تعارف اسلامی اصولِ مملکت کو سمجھنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے آپؓ کی شہادت کے موقع پر دیگر پہلوئوں کو مؤخر کرتے ہوئے ہم چاہیں گے کہ اس دستاویز کے اہم خدوخال کا صرف تعارف پیش کردیا جائے۔
اپنے فرمان کا آغاز حضرت علیؓ جس نصیحت سے کرتے ہیں اس کے بغیر کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ منتظم بھی صحیح معنوں میں نہ عدل کرسکتا تھا اور نہ اپنے فرائضِ منصبی کو صحیح طور پر ادا کرسکتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مالک کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔ یہ جملہ ہمارے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ شاید آپ مالک کو پابندیٔ صلوٰۃ اور مسنون روزہ کے اہتمام کی ہدایت فرما رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ کا براہِ راست تعلق امورِ مملکت سے ہے۔ اگر ایک گورنر اپنے رشتہ داروں کو نوازتا ہے، عوام کو اپنا محتاج بناتا ہے، ایسے افراد کو ذمہ داریاں سونپتا ہے جو نااہل ہوں، لوگوں سے فائدے حاصل کرتا ہے، تو اس کا کوئی عمل بھی تقویٰ سے مناسبت نہیں رکھتا۔ اس لیے حضرت علیؓ کا مالک کو حکم دینا نہ صرف مالک کی ذاتی زندگی بلکہ اس کی انتظامی ذمہ داری سے براہِ راست متعلق تھا، اور حقیقت یہ ہے کہ جب بھی حکمرانوں میں تقویٰ اور اللہ کے خوف کی کمی ہوگی عدل و امن معاشرے سے اٹھ جائے گا۔
اگلی بات آپؓ یہ فرماتے ہیں کہ بحیثیت ایک گورنر کے، بحیثیت ایک فرماں روا کے تمہارا فرض ہے کہ عوام کے ساتھ وہ تعلق قائم کرو جو رحم دلی، محبت اور مہربانی کا ہے۔ فرماتے ہیں کہ تمہیں کھانے والے درندے ثابت نہ ہونا چاہیے، چاہے بظاہر سختی کے بغیر تمہیں کامیابی نظر نہ آتی ہو۔ عوام سے دو نوعیت کا تعلق ہوتا ہے، ایک دینی حِس کی بنا پر وہ تمہارے بھائی ہیں، دوسرا انسانی کہ وہ انسانی برادری کا حصہ ہیں۔ انسانوں سے بعض غلطیاں غیر ارادی طور پر ہوجاتی ہیں، جو لوگ جان بوجھ کر خطا کریں اُن کے ساتھ تمہارا رویہ ویسا ہی ہو جیسے تم اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے اپنے بارے میں توقع رکھتے ہو۔ درگزر اور صبر کے ساتھ ان کی اصلاح کی کوشش کرو۔ اس حکیمانہ ہدایت پر اگر عمل کیا جائے تو نہ عوام حاکم سے نفرت کرتے ہیں اور نہ حاکم خود کو فرعون بناتا ہے۔ حضرت علیؓ کی اس ہدایت پر اگر آج بھی عمل کیا جائے تو بہت سے معاملات کا حل بغیر قوت کے استعمال کے نکالا جاسکتا ہے۔
کسی بھی حاکم یا فرماں روا کے ہمراہ جب اہل اور مخلص مشیر ہوں تو نظام حکومت درست رہتا ہے، اور جب چاپلوس افراد مشیر بن جاتے ہیں تو نظام تباہ ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت علیؓ فرماتے ہیں: تم سے سب سے دور اور ناپسندیدہ وہ شخص ہونا چاہیے جو لوگوں کی عیب جوئی میں لگا رہتا ہو۔ عیب کس میں نہیں ہوتے! حاکم کا کام یہ ہے کہ ان کی پردہ پوشی کرے۔ تجسس کس میں نہیں ہوتا! حاکم کا کام یہ ہے کہ اس سے دور رہے۔ جو برائی ڈھکی اور چھپی ہوئی ہے اسے کھولو نہیں، اور جو چغل خور ہے اس کی بات کبھی نہ مانو۔ اس کے ساتھ ہی آپ فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے سب سے برا وزیر وہ ہوگا جو تم سے پہلے بدکردار کا وزیر اور طرف دار رہ چکا ہو۔ ایسے لوگوں کو اپنا وزیر نہ بنانا کیونکہ وہ غلط کاروں کے مددگار اور ظالموں کے دوست ہوتے ہیں۔ ان کے بجائے تمہیں ایسے لوگ مل جائیں گے جو اپنے تدبر اور کارکردگی کی بنیاد پر ان کے برابر ہوں گے، مگر ان سرکاری ملازمین (بیوروکریٹس) کی طرح گناہوں سے لدے ہوئے نہ ہوں گے۔ جنہوں نے نہ کسی ظالم کی اُس کے ظلم میں مدد کی ہوگی اور نہ کسی گناہ گار کا اس کے گناہوں میں ساتھ دیا ہوگا۔ یہ لوگ تم کو تکلیف کم دیں گے اور معاون اور مددگار اچھے ثابت ہوں گے۔ تم سے محبت کریں گے اور غیروں کے ساتھ تعلقات نہ رکھیں گے۔ ایسے لوگوں کو اپنا ساتھی بنانا۔
حضرت علیؓ کی اس ہدایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی فراست انسانی نفسیات سے کتنی آگاہ تھی۔ وہ ہدایت کررہے ہیں کہ ایسے افراد کو منتخب کیا جائے جنہوں نے نہ کسی پر ظلم کیا ہو، نہ زیادتی کی ہو، ان کا اپنا کردار صاف ہو، وہ ابن الوقت نہ ہوں۔ اگر ایک شخص ہر آنے جانے والے کا وزیر رہا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا اپنا ضمیر کوئی نہیں، نہ وہ عدل اور حق کا قائل ہے۔ بلکہ مرغِ بادنما کی طرح ہوا کے ساتھ رخ بدلتا ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ایسے افراد کو وزیر نہ بنائو جو ہر ہر دور میں عہدے کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ ہر حکومت میں انہیں کوئی مقام مل جائے۔
اگلی بات جو آپؓ فرماتے ہیں، بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ معاشرے کے طبقات کو سمجھ کر ان طبقات کی مناسبت سے انتظامی پالیسی تیار کی جائے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: یاد رکھو، ملک میں لوگوں کے کئی طبقات ہوتے ہیں جن کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں، وہ ایک دوسرے سے کبھی بے نیاز نہیں ہوسکے۔ ایک طبقہ فوجیوں کا، دوسرا طبقہ انصاف فراہم کرنے والے جج حضرات کا ہے، تیسرا طبقہ امن و امان قائم کرنے والے اہلکاروںاور پولیس وغیرہ کا ہے، چوتھا ٹیکس ادا کرنے والوں کا ہے، پانچواں مالِ تجارت اور صنعت کار کا ہے، چھٹا فقہا اور مساکین کا ہے۔ یہاں دیکھیے حضرت علیؓ نے ان طبقات کو جس طرح سے Identifyکیا ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خلیفۂ راشد کے ذہن میں یہ بات واضح تھی کہ فوج، بیوروکریسی، عدلیہ، ٹیکس دینے والے افراد، ٹیکس وصول کرنے والے افراد، اہل کار جو امن عامہ کے ذمہ دار ہو، وہ حضرات جو مساکین ہیں، جن کے پاس بہت کم وسائل پائے جاتے ہیں، اور فقہا و علماء… جب تک ان سب کے ساتھ عدل اختیار نہ کیا جائے گا اُس وقت تک معاشرے میں بھلائی نہیں پھیل سکتی۔ ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر فوقیت دے کر ایک کا حق دوسرے کے حوالے کردینا ناانصافی کا باعث بنے گا۔ ان میں سے کسی ایک کو فیصلہ کن عنصر بنادینا عدل کو خراب کردے گا۔ اسی طرح ان میں سے کسی کو بھی اختیار دینے کے بعد وسائل فراہم نہ کرنا ناکامی کا باعث بنے گا۔ ان میں سے کسی بھی طبقے کو اگر ذلیل کیا جائے گا، ان کی بے عزتی کی جائے گی تو صحیح نہ ہوگا۔ گویا کہ یہ وہ اہم طبقات ہیں جن کو معاشرے میں صحیح مقام دے کر توازن قائم ہوسکے گا۔
جہاں تک تقرریوں کا تعلق ہے آپؓ ہدایت دیتے ہیں کہ پہلا طبقہ جو مسلح افواج کا ہے اس پر ایسے افراد کو مقرر کیا جائے جو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور امیرالمومنین کے سب سے زیادہ خیرخواہ ہوں، پاک باز ہوں، وسیع القلب ہوں، بردبار اور رحم دل اور بہادر ہوں۔ گویا کہ فوج کے حوالے سے آپؓ جانتے تھے کہ یہ محض ایک ایسا طبقہ نہ ہو جسے تربیت دے کر دفاع تو سکھا دیا جائے لیکن ان کے دل میں تقویٰ، ان میں جہاد فی سبیل اللہ، ان میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق نہ پایا جاتا ہو۔ بلکہ مملکتِ اسلامیہ کی فوج جو بھی ہو اس کو قلب و نظر کے لحاظ سے، کردار کے لحاظ سے دین کا نمائندہ بننا ہوگا۔ یہ بڑا واضح اصول ہے جو آپؓ ساتھ ہی یہاں بیان فرمارہے ہیں کہ فوج کا سربراہ اسی کو بنانا جو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور امیرالمومنین کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہو، جو پاک باز ہو، وسیع القلب ہو، بردبار ہو، بہادر اور رحم دل ہو۔
اگلی چیز جو آپؓ فرماتے ہیں وہ یہ کہ عدل و انصاف کسی بھی معاشرے کی بقا، ترقی اور قیام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر عوام کو انصاف میسر نہ آئے تو وہ کبھی بھی حاکم سے محبت نہیں کرسکتے۔ چنانچہ آپؓ فرماتے ہیں: حکمرانوں کے لیے سب سے زیادہ خوشی اور اطمینان اس بات پر ہونا چاہیے کہ عوام کو عدل و انصاف میسر آرہا ہے۔ جب تک عوام کا دل حکمرانوں سے صاف ہو، وہ ازخود ان کا دفاع کریں گے، ورنہ وہ حکومت کو ایک بوجھ سمجھ کر اس کے خاتمے کے منتظر رہیں گے۔ گویا عوام کی نفسیات اور ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ رکھا جائے، آپ اس کا پورا شعور رکھتے ہیں۔
پھر اگلی بات آپ ؓ فرماتے ہیں کہ انتظامیہ کی کامیابی کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ وہ ایسی پولیس بنائے جو امنِ عامہ کے لیے ایسا انتظام کرے کہ لوگوں کو تکالیف پیش نہ آئیں اور ان کے مسائل کا حل ہوتا رہے۔ چنانچہ آپ ؓ فرماتے ہیں کہ ملک میں عدل و انصاف قائم رکھنے کے لیے ایسے لوگوں کو منتخب کرنا جو سب سے زیادہ اہل ہوں، کام کی زیادتی اور پیچیدگیوں سے نہ گھبراتے ہوں اور اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہنے والے ہوں۔ اسی حوالے سے آپؓ یہ بات بھی فرماتے ہیں کہ تمہارا فرض ہے کہ قاضیوں کے فیصلوں پر نظر رکھو، انہیں ایسے اعلیٰ معاوضے دو کہ وہ لوگوں سے مستغنی ہوجائیں۔ یعنی جہاں ان کے فیصلوں پر نظر رکھی جائے کہ وہ کہاں تک قرآن و سنت کی پیروی کررہے ہیں، وہیں ان کے لیے ایسے معاوضے مقرر کیے جائیں کہ وہ لوگوں سے فائدے حاصل کرنے پر آمادہ نہ ہوں۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی کرپشن پایا جاتا ہے اس کا ایک سبب یہ ہوتا ہے کہ عدلیہ، پولیس اور انتظامیہ کو جو تنخواہیں دی جاتی ہیں وہ اتنی ناکافی ہوتی ہیں کہ وہ لوگوں سے فوائد حاصل کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یا لوگ خود اپنے مفاد کے لیے ان کو لالچ دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کو مراعات دے کر اپنا کام کروا لیں۔ جس شخص کے پاس خود وسائل ہوں گے وہ کس بنا پر کسی سے یہ کہے گا کہ مجھے فلاں مقام کا ٹکٹ دلوادو، میرے بیٹے کو تعلیم کے لیے وظیفہ دلوادو تو تمہارا کام ہوجائے گا! جب قاضی اور انتظامیہ مادی طور پر مستغنی ہوں گے اور ججوں اور افسران کو اتنا معاوضہ دیا جائے گا جس کے بعد وہ کسی سے امداد لینے پر آمادہ نہ ہوں تو خودکفیل ہونے کی بنا پر عدل و انصاف کا حق ادا کرسکیں گے۔ اس ہدایت پر جہاں کہیں بھی عمل کیا جائے گا وہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ ہوگا۔
اگلی بات جو آپ ؓ فرماتے ہیں وہ یہ کہ سرکاری اہلکاروں پر نظر رکھی جائے اور انہیں بار بار یہ یاددہانی ہوکہ وہ لوگوں پر ظلم نہ کریں اور انصاف کے ساتھ لوگوں سے پیش آئیں۔ ایک اہم شعبہ جس کا ذکر حضرت علیؓ اپنے فرمان میں کرتے ہیں وہ ٹیکسوں کا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ ٹیکسوں کی وصولی میں محکمہ کوئی کوتاہی نہ کرے۔ ٹیکس دہندگان سے ٹیکس کی وصولی ہی میں سب کی خوشحالی اور بھلائی ہے۔ لیکن حکومت کا کام محض ٹیکس وصول کرنا ہی نہیں ہے، اس سے بھی زیادہ اہم بات عوام کی خوشحالی ہے۔ عوام خوشحال ہوں گے تو ٹیکس کا نظام خود ہی زیادہ متحرک ہوجائے گا۔ جو حکمران خوشحالی نہیں ٹیکس چاہتا ہو، اس کی حکومت چند روزہ ثابت ہوگی۔ یعنی جو حکمران خوشحالی نہیں دے سکتا، اس کی حکومت دیرپا نہیں ہوگی۔ یہاں پر جو اصول بیان کیے گئے ہیں بڑے واضح ہیں کہ ٹیکس کی وصولی کرنا مقصد نہیں ہے بلکہ سہولتیں، آسانیاں، تحفظات و فوائد ٹیکس کے ذریعے دینے والے کو حاصل ہوں۔ ان کی خوشحالی میں اضافہ ہو تو وہ خود آگے بڑھ کر ٹیکس ادا کریں گے اور اپنے اوپر ٹیکس کا بوجھ محسوس نہیں کریں گے، ٹیکس ایک مشکل نہیں بنے گا، اور لوگ اس سے بچنے کے لیے وہ ذرائع اختیار نہیں کریں گے جو غیرقانونی بھی ہوتے ہیں اور غیر اخلاقی بھی۔ گویا حضرت علیؓ نے جو بات ہمارے سامنے رکھی ہے وہ ہر دور کے حکمرانوں کے لے قابلِ غور ہے کہ ٹیکسوں کو اس طرح متوازن کیا جائے کہ وہ حاصل بھی کیے جائیں اور ان کا استعمال ٹیکس دینے والوں کے مفاد میں کیا جائے۔ ٹیکس محض حکومت کے اپنے اخراجات پورے کرنے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ ٹیکس دینے والوں کو سہولیاتِ زندگی فراہم کرنے پر صرف ہوں۔
اسی حوالے سے حضرت علیؓ ایک اور اہم پہلو پر متوجہ کرتے ہیں کہ اپنے دفتر کے ملازمین کے معاملات کو اہمیت دی جائے، مناصب اُن لوگوں کو دیے جائیں جو بہتر ہوں۔ اور اس حوالے سے وہ یہ بات بھی کہتے ہیں کہ ان میں ایسے لوگوں کو شامل نہ کرنا جن کے ساتھ تمہاری قریبی رشتہ داریاں ہوں۔ ظاہر ہے جب معاملہ رشتہ داری کا ہوگا، انتہائی قربت کا ہوگا تو چاہے ایک شخص اس کا مستحق بھی ہو لیکن ایسی تقرری سے جو فضا بنے گی وہ اقربا پروری کی بنے گی۔ آپؓ کی ہدایت ہے کہ ذمہ داریاں دیتے وقت ایسے افراد کو منتخب کیا جائے جو میرٹ کی بنیاد پر ہوں، رشتے کی بنیاد پر نہ ہوں۔
پھر آپؓ فرماتے ہیں کہ تاجر اور صنعتی افراد کے ساتھ وہ رویہ اختیار کیا جائے جو خبر گیری کا رویہ ہے۔ چنانچہ آپؓ فرماتے ہیں کہ خوانچہ فروش ہو یا جسمانی محنت سے روزگار کمانے والے، ان سب کی بہبود کا خیال رکھا جائے کیونکہ یہ عوام کی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ بھی ہیں جن کی وجہ سے عوام مطمئن اور خوشحال زندگی بسر کرتے ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو مجموعی اقتصادی حالات بہتر بناسکتے ہیں۔ اس حوالے سے حضرت علیؓ نے جو بات فرمائی ہے وہ بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ جب تک تاجر برادری کو، صنعت کاروں کو، اُن لوگوں کو جو کاشت کاری کرتے ہیں… سہولتیں حاصل نہ ہوں، وہ تحفظ نہ ملے تو وہ کاروبار کو کیسے ترقی دیں گے! اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ جب تک ایک شخص اپنی گائے یا بکری کو چارہ نہیں کھلاتا وہ دودھ بھی کم دیتی ہے۔ اگر تاجر برادری کو سہولیات دی جائیں گی تو وہ بھی کاروبار میں دلچسپی لیں گے اور ٹیکس چوری سے بچیں گے۔
آخر میں آپؓ یہ بات فرماتے ہیں کہ غربا اور مساکین کے معاملے میں ہمیشہ اللہ کے خوف سے کام لیا جائے، کیونکہ جو لوگ محتاج ہیں، معذور ہیں، ضرورت مند ہیں اور وسائل نہیں رکھتے ان کی بددعا، ان کی آہ، ان کی شکایت اللہ تعالیٰ کے دربار میں سب سے پہلے پہنچتی ہے… اور کسی بھی حکمران، گورنر کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے دائرۂ کار میں یہ تلاش کرے کہ انسان ہی نہیں کوئی جانور بھی ایسا نہ ہو جو تکلیف کا شکار ہو۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ کے مشہور قول کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر اسلامی حدودِ مملکت میں ایک کتا بھی بھوکا پیاسا ہوگا تو اس کے بارے میں عمرؓ سے سوال کیا جائے گا۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہوبہو حضرت عمرؓ کی پالیسی کو برقرار رکھتا نظر آتا ہے۔
مالک کے نام حضرت علیؓ کے فرمان پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خلفائے راشدین نے جو نظام حکومت وضع کیا، اس میں ایک تسلسلپایا جاتا ہے، یعنی جو پالیسیاں حضرت عمرؓ نے اختیار کیں، حضرت ابوبکرؓ نے اختیار کیں، حضرت عثمان ؓ نے اختیار کیں، انھی کو حضرت علی ؓ نے آگے بڑھایا۔ اس سنہری دور میں فکری اور عملی اتحاد اسلامی ریاست کا مقصد اور اصولِ حکومت میں مکمل اشتراک نظر آتا ہے۔
حضرت علیؓ کے فرمان سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ انتظامی معاملات میں، عدلیہ کے معاملات میں اور بالخصوص امن عامہ کے معاملات میں جب تک غیر جانب دارانہ رویہ، انصاف کا رویہ اختیار نہ کیا جائے اُس وقت تک کوئی معاشرہ نہ آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ عوام کو تحفظات مل سکتے ہیں۔ اگر ان اہم ہدایات کو ہم آج کے زمانے میں گائیڈ لائنز بنالیں تو عین ممکن ہے کہ مسلم ممالک میں جو بہت سے مسائل پائے جاتے ہیں ان کا ایسا مناسب حل ہوسکے جو قرآن و سنت سے پوری مطابقت رکھتا ہو۔
حضرت علیؓ کے حوالے سے یہ بات بھی خصوصی غور کی مستحق ہے کہ ان کی ذات پر کسی طبقۂ خیال کی اجارہ داری نہیں ہوسکتی، وہ تمام مسلمانوں کی نگاہ میں دیگر خلفاء کی طرح ایک نمایاں اور بلند مقام کے حامل ہیں۔ ان کی شخصیت امتِ مسلمہ کے اتحاد کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آپؓ کو بڑا اعزاز حاصل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے موقع پر آپ کو اپنی تلوار اور علَم دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبی تعلق کی بنا پر امتِ مسلمہ میں جتنے بھی مسالک پائے جاتے ہیں ان سب کا اس بات پر اتفاق و اجماع ہے کہ آپ ؓایک انتہائی زاہدانہ زندگی گزارنے والے، انتہائی جری، انتہائی بہادر صحابی تھے۔ امت میں فقہی اختلاف کے باوجود ان کی شخصیت غیر متنازع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خلفائے راشدین نے اپنے اپنے دور میں انتہائی حکمت کے ساتھ، دین کے مقاصد کو سمجھتے ہوئے، انتہائی تقویٰ کے ساتھ اسلامی نظام حکومت کو قائم کیا۔ عوام کی فلاح کے لیے کام کیا۔ اسی چیز کو حضرت علیؓ نے اس فرمان میں بڑی وضاحت سے پیش فرمایا ہے۔ ہمارے لیے ان کے فرمان میں غیر معمولی طور پر رہنمائی کے اصول پائے جاتے ہیں۔

Share this: