افغانستان میں جنگ بندی کا اعلان

طالبان سے مذاکرات کے بغیر امریکہ کے لیے محفوظ انخلا ممکن نہیں

افغان حکومت کی جانب سے رمضان المبارک کے آخری عشرے سمیت عیدالفطر کے موقع پر یک طرفہ جنگ بندی کے اعلان، اور طالبان سے بھی جنگ بندی کی اپیل پر دوچار روز تک طالبان کی خاموشی کے بعد اب عیدالفطرکے تین ایام میں طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کا نہ صرف افغان حکومت نے خیرمقدم کیا ہے بلکہ عالمی برادری بھی طالبان کے اس فیصلے کو مثبت انداز سے دیکھ رہی ہے۔ طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا حالیہ اعلان تحریک طالبان افغانستان کے امیر مولانا ہیبت اﷲ کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عیدالفطرکے تین دنوں میں طالبان افغان سیکورٹی فورسز اور ان سے منسلک اداروں اور شخصیات کو نشانہ نہیں بنائیں گے، البتہ اس عرصے میں انہیں اپنے دفاع کا پورا پورا حق حاصل ہوگا۔ مولانا ہیبت اﷲ نے اپنے متذکرہ بیان میں کہا ہے کہ عیدالفطرکے ان بابرکت ایام میں مقامی فورسز کے خلاف تو جنگ بندی کے اعلان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا لیکن اس عرصے میں غیرملکی افواج کے خلاف کارروائیاں پورے زوروشور سے جاری رکھی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایک بھی غیر ملکی فوجی افغان سرزمین پر موجود ہے تب تک افغان جہاد جاری رہے گا، اور غیر ملکی افواج کی حمایت کرنے والی افغان سیکورٹی فورسز اور دیگر متعلقہ اداروں کو پوری قوت سے نشانہ بنایا جائے گا۔
طالبان نے عیدالفطر کے موقع پر اپنی جنگ بندی کا اعلان ایسے موقع پر کیا ہے جب ایک جانب اس جنگ سے خود امریکی اکتا چکے ہیں اور وہ یہاں سے انخلا کے لیے کسی مناسب موقع اور بہانے کی تلاش میں ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کو یہ ادراک بھی ہوچلا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کیے بغیر نہ تو افغانستان سے امریکہ کے لیے محفوظ انخلا ممکن ہے اور نہ ہی افغان قوم امریکی افواج کے افغانستان میں مزید قیام کے حق میں ہے۔ ایک کمزور، اپاہج اور تشدد میں گھرا ہوا افغانستان خطے کے ممالک سمیت عالمی برادری کے لیے بھی کئی حوالوں سے ناقابلِ برداشت بلکہ ناقابلِ یقین حد تک پریشانی کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں گزرتا ہوا ہر دن افغان عوام اور شاید اُن سے بھی بڑھ کر بین الاقوامی برادری کے لیے پریشانی کا باعث ثابت ہورہا ہے جس کا اظہار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام سے لے کر نیٹو کے تمام رکن ممالک کے سربراہان اور وزرائے دفاع کے بیانات اور انٹرویوز سے ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ نیٹو کے وزرائے دفاع کے جرمنی میں ہونے والے ایک حالیہ اجلاس میں افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر نہ صرف تشویش کا اظہار کیا گیا ہے بلکہ افغانستان کے مخدوش حالات کے پیش نظر افغان نیشنل آرمی کی ٹریننگ اور تنظیم سازی کے سلسلے میں 2007ء سے جاری سپورٹ فنڈ کو توسیع دیتے ہوئے اسے2024ء تک جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ افغانستان میں جاری کشت وخون سے بلاشبہ سب سے زیادہ افغان عوام متاثر ہورہے ہیں، لہٰذا اس بنیاد پر اس خون ریزی کی روک تھام کی اوّلین ذمہ داری خود افغان حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے جو گزشتہ سترہ برسوں کے دوران اس حوالے سے بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔ جب کہ دوسری جانب ہر آنے والا دن طالبان کی قوت میں اضافے کی نوید کے ساتھ طلوع ہورہا ہے۔ واضح رہے کہ غیر جانب دار ذرائع
اس حقیقت کو تسلیم کرچکے ہیں کہ افغانستان کے چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر باقی ماندہ ساٹھ فیصد افغانستان پر عملاً طالبان کا کنٹرول ہے، جنہوں نے نہ صرف مختلف صوبوں میں اپنے شیڈو گورنر اور انتظامیہ مقرر کررکھی ہے بلکہ اکثر دیہی علاقوں میں ان کا سکہ چلتا ہے۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ ملک کی بڑی بڑی شاہراہوں پر بھی دن میں تو افغان فورسز کی حکمرانی چلتی ہے لیکن رات کو عملاً طالبان کا قبضہ ہوتا ہے۔ کئی خفیہ دستاویزات سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ امریکی اور نیٹو فورسز کی سپورٹ کے بغیر افغان سیکورٹی فورسز کے لیے افغان حکومت کا دفاع ایک مہینے کے لیے کرنا بھی ناممکن ہوگا۔ دراصل طالبان کی بڑھتی ہوئی اسی قوت کے خوف اور ان کے افغانستان پر دوبارہ قابض ہونے کے خدشے نے بین الاقوامی برادری اور خاص کر امریکہ کو اگر ایک جانب افغانستان میں اپنی فورسز بالخصوص اپنی فضائی قوت کو برقرار رکھنے پر مجبور کررکھا ہے تو دوسری جانب وہ طالبان کو دبائو میں لانے کے لیے ان کے ساتھ مذاکرات سے مسلسل راہِ فرار اختیارکررہا ہے جس کا مقصد طالبان کو افغانستان میں اپنے پائوں دوبارہ قانونی طور پر جمانے کا موقع نہ دینا ہے۔ حالانکہ خود امریکہ سے زیادہ اس تلخ حقیقت کو کون جان سکتا ہے کہ طالبان افغانستان کی ایک ایسی برسرزمین حقیقت ہیں جس سے امریکہ سمیت کوئی بھی طاقت انکارکی جرأت نہیں کرسکتی۔ کیونکہ طالبان جب اور جہاں چاہتے ہیں اپنے اہداف کو بآسانی نشانہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، حتیٰ کہ وہ اب تک سب سے محفوظ سمجھے جانے والے کابل شہرکے انتہائی حساس اور ریڈ زون قرار دیئے جانے والے سیکورٹی زون میں بھی اپنے اہداف کو کامیابی سے متعدد مرتبہ نشانہ بناچکے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ چند دنوں کے دوران قندھار، قندوز اور ہرات کے مختلف علاقوں میں افغان سیکورٹی فورسز پرکیے جانے والے تازہ حملوں میں میڈیا رپورٹس کے مطابق ستّر سے زائد سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ بعض اہلکاروں کی طالبان کے ہاتھوں گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ تازہ اطلاعات حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے حالیہ اعلان کے بعد سامنے آئی ہیں جن میں طالبان نے افغان سیکورٹی فورسز کو سخت جانی اور مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
افغانستان میں جاری تحریکِ مزاحمت کے حوالے سے یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ افغان حکومت نے طالبان پر دبائو بڑھانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے افغان علماء کی پشتی بانی کرتے ہوئے انہیں ایک ایسا فتویٰ جاری کرنے پر مائل کیا ہے جس میں طالبان کی مسلح مزاحمت کو ناجائز اور غیر شرعی قرار دیتے ہوئے انہیں ہتھیار پھینک کر نفاذِ شریعت کے لیے پُرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے افغان علماء کے اس فتوے کا خیرمقدم کرتے ہوئے طالبان پر زور دیا ہے کہ انہیں اس فتوے کا احترام کرتے ہوئے اپنی مسلح جدوجہد ترک کرکے افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں شریک ہوجانا چاہیے۔ جس پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فتوے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے کیونکہ یہ فتویٰ امریکی ایما پر جاری کیا گیا ہے جس کا مقصد افغان طالبان کی تحریک مزاحمت کو کمزورکرنا ہے، لیکن امریکہ اور اس کی پٹھو افغان حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ افغانستان میں طاغوتی قوتوں کے خلاف ہماری جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام غیر ملکی افواج کو افغانستان سے نکال کر یہاں شرعی نظام نافذ نہیں کردیا جاتا۔
دریں اثناء پاکستان کے صدر ممنون حسین نے چین میں ہونے والی ایس سی او سربراہ کانفرنس اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے اپنے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا پائیدار حل تمام فریقین کے درمیان مذاکرات میں پنہاں ہے اور پاکستان اس ضمن میں تمام قوتوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ پاکستان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ افغانستان کے بحران کا واحد اور دیرپا حل تمام افغان فریقین میں مذاکرات سمیت بین الاقوامی قوتوں کے ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے میں تعاون اور راہنمائی فراہم کرنے میں ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ اس سلسلے میں جب سے چین متحرک ہوا ہے اور اُس کی جانب سے افغان حکومت اور پاکستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، تب سے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات پہلے کی نسبت زیادہ روشن ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ لہٰذا اس تمام تر بحث کے تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ افغان حکومت کے بعد طالبان نے پہلی دفعہ عیدالفطر کے موقع پر جنگ بندی کا واضح اعلان کرکے افغان حکومت اور امریکہ کو جو مثبت پیغام دیا ہے اُس سے توقع ہے کہ طالبان کے اس مثبت طرزعمل کا افغان حکومت اور بالخصوص امریکہ کی جانب سے فوری اور پُرجوش جواب دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں افغان قضیہ حل ہونے کی امیدیں باندھی جاسکیں گی۔ بصورتِ دیگر یہ ناسور یونہی رستا رہے گا جس سے افغانوں کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ فریقین بدرجہ اولیٰ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے، جو یقینا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔

Share this: