رسول بخش پلیجو مرحوم کا ایک یادگار انٹرویو

بزرگ سیاست دان اور عوامی تحریک کے بانی رسول بخش پلیجو اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ اس طرح ہماری سیاست ایک اور معتبر سیاست دان سے محروم ہوگئی۔ وہ صرف ایک سیاست دان ہی نہیں تھے بلکہ دانشور، ادیب، نقاد، وکیل اور محقق بھی تھے۔ رسول بخش پلیجو نے پوری زندگی سندھ کے حوالے سے سیاست کی، لیکن ان کی زندگی میں ایک دور ایسا بھی آیا جب وہ عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے تھے۔ کچھ عرصے بعد اختلافات کی بنا پر انھوں نے اے این پی سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ پلیجو نے سندھ میں قومی حقوق کے لیے چلنے والی اہم تحریکوں جیسا کہ کراچی کو بمبئی سے الگ کرو تحریک، ون یونٹ مخالف تحریک، سندھی میں انتخابی لسٹیں چھپواؤ تحریک، کالا باغ ڈیم مخالف تحریک اور تحریک بحالی جمہوریت یا ایم آر ڈی میں اہم کردار ادا کیا۔ رسول بخش پلیجو ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا الحق کے ادوار میں اپنے سیاسی نظریات کی وجہ سے لگ بھگ گیارہ برس جیل میں رہے۔ اسی دوران کوٹ لکھپت جیل میں قید کے دوران ایک ڈائری لکھی جو سندھی زبان میں بہت مقبول کتاب رہی۔ انہوں نے سندھی زبان میں درجنوں کتابیں لکھیں۔ اپنے بیٹے ایاز لطیف پلیجو کو کوٹ لکھپت جیل سے لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے کہا ہے:
’’پہلی بات تو یہ کہ تم نے ابھی تک اپنی زندگی میں اپنی عمر کے حساب سے کوئی ایسا دکھ نہیں دیکھا ہے جسے حقیقی معنوں میں دکھ کہا جائے۔ تاریخ کے اس مرحلے تک لوگوں کی بڑی اکثریت کی دنیا دکھوں کی دنیا ہے، اس لیے کہ دنیا میں سب سے بڑا انسانی رشتہ سُکھ کا نہیں بلکہ دکھ کا ہے۔ آج تک دکھ ہی انسانی و سماجی زندگی کے متعلق علم و شعور کا بڑے سے بڑا ذریعہ بنا ہے۔ جس نے بالواسطہ اور بلا واسطہ دکھ نہیں سہا ہے، اسے درد کے مارے انسانوں کی کیا خبر ہوگی۔‘‘
اس مخلص سیاست دان کے نظریات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، مگر اہلِ سندھ کی ذہنی زندگی پر ان کے اثرات کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ رسول بخش پلیجو نے اپنے خیالات کا اظہار ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا تھا۔ یہ انٹرویو گیارہ سال پہلے اپریل2007ء میں حیدرآباد میں لیا گیا تھا، اور ان سے یہ پہلی ملاقات تھی جو بہت محبت اور اپنائیت کی تھی۔ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ انہوں نے بیٹھنے کا کہتے ہی کسی تمہید کے بغیر فرائیڈے اسپیشل کے کردار کو سراہا اور اس دوران اخبارات و جرائد پر تبصرے کیے۔ کمال کی شخصیت تھی، جس موضوع پر گفتگو آپ چاہے کرسکتے تھے۔ ان کی گفتگو دلیل، کتابوں کے حوالے اور سندھی، اردو، عربی، فارسی اشعار سے مزین ہوتی تھی۔ یہ ایک یادگار ملاقات تھی جو دوبارہ نہیں ہوسکی۔ اس ملاقات میں اپنے ساتھ گھرکا بنا کھانا بھی کھلایا، لائبریری بھی دکھائی۔ اپنی کتاب اور ماہانہ نکلنے والے میگزین ’’افیئر‘‘ اور ’’کاپژی‘‘ دے کر رخصت کرنے دروازے تک آئے تھے۔ ان کی پہچان قوم پرست سیاست دان کی تھی لیکن انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں اس تاثر کی تردید کی تھی۔ ان کی نظر نہ صرف ملکی صورتِ حال اور ملکی تاریخ پر تھی بلکہ وہ بین الاقوامی حالات و واقعات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ ان سے ہونے والی گفتگو جس میں ایک تاریخ بھی ہے اور انکشافات بھی ہیں اور اب خود تاریخی ہے۔ یہ ایک طویل انٹرویو تھا جو دو اقساط میں شائع ہوا تھا، اس انٹرویو کے کچھ حصے رسول بخش پلیجو کی یاد میں قارئین کی نذر ہیں:

فرائیڈے اسپیشل: اپنے ابتدائی حالات اور تعلیمی و سیاسی سفر کے بارے میں مختصراً بتائیے۔
رسول بخش پلیجو:پہلے تو میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے موقع دیا کہ فرائیڈے اسپیشل کے قارئین سے اپنے خیالات شیئر کرسکوں۔ 20 جنوری 1930ء کو میں کراچی اور حیدرآباد کے درمیان جنگ شاہی کے ایک چھوٹے سے گائوں (نائی وات) میں پیدا ہوا۔ میرے استاد نیم پڑھے لکھے تھے۔ انہوں نے جمع اور تفریق بتائی تھی۔ وہاں ریاضی ان کی ختم ہوگئی۔ پھر دو سال وہ حیدرآباد پڑھنے گئے تاکہ تقسیم اور ضرب پڑھاسکیں۔ انہوں نے دوچار جماعتیں پڑھی تھیں، ان کے پاس میں چار جماعتیں پڑھا ہوں۔ پھر جنگ شاہی میں، میں نے پرائمری پوری کی۔ تین سال ٹھٹھہ میں پڑھا۔ 1943ء میں، میں نے سندھ مدرسے میں اسکالرشپ لی اور وہاں داخل ہوگیا۔ 1943ء والی جو مشہور و معروف کانفرنس تھی اس میں، مَیں شامل ہوا تھا۔ قائداعظم کی شہرۂ آفاق تقریر میں نے سُنی تھی۔ اردو میں ان کی Famous تقریر تھی ’’پاکستان تمہارے قدموں میں پڑا ہے، تم ہاتھ بڑھا کے اسے لے سکتے ہو‘‘۔ سید علی اکبر شاہ ہمارے پاس کبھی کبھی نماز پڑھنے کے لیے آجایا کرتے تھے، کیونکہ انہیں نماز اچھی طرح پڑھنی نہیں آتی تھی۔ پھر ہم نیشنل گارڈ میں بھرتی ہوئے۔ ان کے نقشِ قدم پر چلتے تھے۔ جب پاکستان قائم ہوا تب بھی ہم نیشنل گارڈ میں تھے۔ ہم جناح ہاسٹل میں پڑھے جو کہ گورنر جنرل ہائوس کے قریب تھا، اس لیے ہم ان کی ساری نقل و حرکت دیکھتے تھے۔ میٹرک میں نے سندھ مدرسہ سے کیا اور لا(LAW) سندھ مسلم کالج سے کیا۔ میں نے 60 روپے ماہانہ پر کلرک کے طور پر نوکری کی۔ پھر اخبارات میں آیا، رپورٹر کے طور پر سندھی پریس میں۔ اُس دور میں لیاقت علی خان بھی تھے۔ 1953ء میں، مَیں نے لا کیا۔ اسی سال میں جی ایم سید کے سندھی اخبار سے منسلک ہو گیا، جس کا میں ایڈیٹر تھا۔ اس سے پہلے ’’نوائے سندھ‘‘ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، مضمون بھی لکھتا رہا۔ پھر میں ’’سندھی ادبی سنگت‘‘ جو ترقی پسند تحریک تھی، ادبی مورچہ تھا، اس میں شامل تھا۔ سندھ ہاری کمیٹی میں شامل ہوا اور کئی برس تک شامل رہا۔ پھر میں نے ادب پر لکھنا شروع کیا۔ میں بچپن سے بنگالی اور ہندی ناول پڑھتا تھا اور 14 برس کی عمر میں، مَیں نے انگریزی ناول پڑھنا شروع کیے، پھر فرنچ ناول بھی پڑھے۔ اسلامی تاریخ میرا مضمون تھا۔ میں مدرسے کا لائبریرین بنا، اُس وقت 5 روپے مجھے الائونس ملتا تھا۔ میں نے عالمی ادب بھی پڑھا۔ ساری زبانیں بھی میں نے وہیں پڑھیں۔ عوامی نیشنل پارٹی میں بھی رہ چکا ہوں۔ جیے سندھ میں بھی شاہ صاحب کے ساتھ تھا۔ میں قوم پرستی کے خلاف تھا کیوں کہ میں محنت کش طبقات کی جدوجہد پر یقین رکھتا ہوں، اس میں نسل اور زبان کا فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اردو ادب کا بھی میں شاگرد ہوں۔ مجھے غالب کے مقابلے میں میر تقی میر زیادہ پسند ہے۔ میں جس کو بھی پڑھتا ہوں گہرائی سے پڑھتا ہوں۔ میں سپریم کورٹ میں رہا ہوں، لیکن آج کل چھوٹے سے چھوٹا کیس بھی لے لیتا ہوں۔ میں نے امریکہ میں تصوف پر بھی لیکچر دیئے۔نائن الیون کے بعد میں وہاں گیا اور بتایا کہ مذہبی ہونے کے معنی جنونی ہونا نہیں، تم لوگوں نے ظلم کیا ہے، یہ جو داڑھی والے لوگ ہیں وہ پہلے احتجاج کرتے ہیں۔ تمہاری سفاکی کے خلاف ہیں۔ انسان مذہب کے نام پر اچھا یا برا نہیں ہوتا۔ میں یہ دیکھتا ہوں کہ کام کون سے کررہا ہے۔ وہ آمریت کے خلاف لڑ رہا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں۔ اچھے اور برے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ داڑھی رکھنے سے تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ داڑھی تو بہت سارے لوگوں کی ہوتی ہے، میری سب سے پسندیدہ شخصیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، حضرت عمرؓ ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: امریکہ دنیا کی تشکیلِ نو کا ایجنڈا لے کر پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام کو غلام بنانے کا عزم رکھتا ہے اور اسے کھل کر بیان بھی کررہا ہے۔ اس امریکی ڈیزائن میں پاکستان کا مستقبل آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟
رسول بخش پلیجو: میں سمجھتا ہوں کہ سارے جہاں کا دارومدار امریکی ڈیزائن پر نہیں ہے، اگر مسلمان اپنے آپ کو درست کرلیں اور جو چیزیں اچھی ہیں ان کو اپنالیں، جو تجربے میں صحیح نہیں ہیں انہیں نہ کریں تو امریکی سامراج کا جو بالادستی کا زمانہ ہے وہ ٹل جائے گا۔ ایک زمانہ تھا امریکہ سارے جہاں کا مالک تھا، لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ اب امریکہ کا زوال شروع ہوگیا ہے۔ اگر دنیا کے مسلمان دو سمتوں میں کوشش کریں، ایک تو یہ کہ وہ جو روشن خیال ہیں، اپنے آپ کو روشن خیال، ترقی پسند کہتے ہیں وہ بوگس روشن خیالی چھوڑ دیں۔ اگر امریکی اور سامراجی پٹھو ہونا، جاگیرداری اور سرمایہ داری کا حامی ہونا، عوام دشمن ہونا اُن کی نظر میں روشن خیالی ہے تو عوام کو چاہیے کہ اُن کی چھٹی کردیں۔ ساری دنیا کے عوام امریکی یا کسی بھی قسم کے سامراج کے خلاف ہیں۔ ساری دنیا کے لوگوں کو مل کر امریکی ڈیزائن، بلکہ مغربی ڈیزائن کو مسترد کردینا چاہیے۔ خود ہمارے خلاف جو ڈیزائن ہمارے حکمرانوں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں کے ہیں۔ ساری دنیا کے وہ لوگ جو عوام دشمن ہیں، ایک طرف ہیں، دوسری طرف بے چارے نہتے عوام ہیں۔ دنیا کے ساتھ مل کر امریکہ اور اس کے حواریوں اور رجعت پسندوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فیڈریشن کمزور ہے، اگر آپ اس خیال سے متفق ہیں تو اس کا سبب اور مضمرات کیا ہیں؟
رسول بخش پلیجو: پاکستان میں فیڈریشن کوئی ہے ہی نہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا پاکستان ایک فاشسٹ سامراجی کالونی ہے جس میں کوئی مرکز نہیں ہے۔ یہاں آمریت ہے، اور صوبائی یا قومی خودمختاری نہیں ہے۔ لوگوں کو صرف پھانس لیا گیا ہے۔ پاکستان کے نام پر غلام بنادیا گیا ہے۔ جیسے چنگیز خان کی حکومت تھی، حجاج بن یوسف کی حکومت تھی، چاہے وہ داڑھی والے تھے یا بغیر داڑھی والے… یہ ڈکٹیٹر ہیں، بدمعاش ہیں، کرمنل ہیں، پہلے دن سے عیسائیوں کے غلام ہیں۔ ہم جیل کے ایک بند وارڈ میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں دس سال جیل میں رہا ہوں، تو جب ہم لاک اَپ سے سینٹرل جیل جاتے تھے تو بڑے خوش ہوتے تھے۔ لیکن ہم تو سینٹرل جیل جو انڈیا تھا اُس سے آکر پاکستانی لاک اَپ میں جسے مملکتِ خداداد پاکستان کہتے ہیں، بند ہوگئے ہیں۔ سینٹرل جیل میں کھلے ہوئے تھے، انڈیا میں جاسکتے تھے، لکھنؤ میں جاسکتے تھے، کلکتہ جاسکتے تھے، اب تو ان بدمعاشوں اور کرمنل کے حوالے ہوگئے ہیں۔ 1940ء کی قرارداد جس پر ہم متفق تھے، اس کے خلاف ہے۔ یہ آمرہیں، غلام بنانے والے ہیں، ان کو اس کا کوئی اختیار نہیں ہے، نہ اخلاقی نہ سیاسی۔ میں پاکستانی آئین سمیت دنیا کے آئینوں کا طالب علم ہوں۔ 1940ء کی قرارداد پر میں نے تحقیق کی ہے، کتابیں لکھی ہیں، پاکستان کی تاریخ پر بھی میں لکھ رہا ہوں۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے 1940ء کی قرارداد کا ذکر کیا، اس کے بارے میں قارئین جاننا چاہیں گے۔
رسول بخش پلیجو: مختلف ریاستیں تھیں۔ کیونکہ قائداعظم محمد علی جناح نے کہا کہ کوئی بھی ایسی ریاست جو مخالف ہو، مخالفانہ رویہ رکھتی ہو چاہے وہ مذہب کی بنیاد پر، زبان کی بنیاد پر، تہذیب کی بنیاد پر، ثقافت کی بنیاد پر ہو۔ تشخیص ان کی مذہبی نہیں تھی، یعنی یہ ان کے الفاظ ہیں کہ اقلیتیں محض اس بناپر نہیں ہوتیں کہ ان کا مذہب الگ ہو۔ اقلیتیں اس بنا پر بھی ہوتی ہیں کہ آپ کا سیاسی مخالف ہو۔ مثلاً یورپ ہے جہاں سارے لوگ عیسائی ہیں مگر وہ ایک ہی اسٹیٹ میں نہیں رہتے۔ نیپال اور ہندوستان ہندو ہیں لیکن ایک نہیں ہیں، ترکی اور ساری عرب دنیا کا ایک ہی مذہب ہے۔ ایک مذہب کے لوگ ایک ہی اسٹیٹ قائم کریں یہ بے وقوفی کی بات ہے، تاریخ میں ایسا ہے ہی نہیں۔ ایک ہی مذہب اور ایک ہی مسلک رکھنے والی حکومتیں ہمیشہ لڑتی رہی ہیں۔ ایران، ترکی، ہندوستان وغیرہ وغیرہ سارا وقت لڑتے رہتے ہیں۔ تو پاکستان کے علیحدہ ہونے کا یہ مقصد نہیں تھا کہ مذہب الگ تھے، مذہب تو ساری دنیا کے الگ ہیں۔ یورپ کے لوگ عیسائی مذہب کے ہیں تو کیا یورپ والے اکٹھے ہوگئے؟ اب ہوئے ہیں، پہلے تو لڑائیاں کرتے تھے۔ یہاں ایک صوبہ، ایک فوج مخالف ہے سب کی۔ اور ہندوستان سے آنے والی بیوروکریسی بھی سامراجی پٹھو تھی، دشمن تھی۔ لیاقت علی خان کی قیادت میں یہ عوام دشمن تھے، قاتل تھے، جلاد تھے۔ یہ لوگ آکر قابض ہوگئے۔ یہاں آنے کا کوئی ایگریمنٹ نہیں تھا۔ یعنی سندھ پاکستان کے وڈیرے، پیر، میر سب بدمعاش تھے، کرمنل تھے، آج بھی کرمنل ہیں۔ یہ سارا تعفن اور بدبو سیاسی اور سماجی تھی۔ یہ عوام دشمن اور قابض ہیں۔ ان کو سامراج کا پروٹیکشن چاہیے۔ پاکستان کا دستور ہے کہ یہ Home land of the Nations ہوگا، آزاد قوموں کا وطن ہوگا، خودمختار وطن ہوگا۔ یہ کوئی سلطنت قائم نہیں کی گئی تھی۔ ہم کبھی پنجاب کی ماتحتی نہیں چاہتے۔ کیوں پنجاب کے ماتحت ہوں؟ ہم کیوں یوپی کے ماتحت ہوں؟ یوپی والے ہمارے ماتحت کیوں ہوں؟ ہم مسلمان ہیں اس لیے ہمیں غلام ہونا چاہیے پنجاب کا، ہمیں غلام ہونا چاہیے یو پی کا، ہمیں غلام ہونا چاہیے بنگال کا؟ یا بنگال کو غلام ہونا چاہیے یو پی کا؟ یا ہمیں غلام ہونا چاہیے ان پیروں، میروں، بدمعاشوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کا، یا ان دہشت گرد غنڈوں کا جو کراچی میں بیٹھے ہیں؟ سندھ کے اندر جو خناس قسم کے جاگیردار بیٹھے ہیں ان کی تعمیل کریں جو عورتوں کو قتل کرتے ہیں، جو زبردستی کی شادیاں کرتے ہیں؟ یہ زنا کرتے ہیں، ان کی اولاد زانی کی اولاد ہوگی۔ یہ کس شریعت میں ہے؟ ہم بھی شریعت کے طالب علم ہیں، ہمارا سبجیکٹ ہے شریعت… یہ ساری کتابیں (اپنی لائبریری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) شریعت کی کتابیں ہیں، یہ احادیث ہیں، یہ تفاسیر ہیں۔ ہم سے بہتر آپ نہیں جانتے۔ آپ نے کبھی بولا ہے یہ جو شادی کررہے ہو یہ ظلم ہے؟ یہ جو اپر سندھ میں شادیاں ہورہی ہیں زبردستی، یہ ظلم ہے؟ یا یہ کبھی کہا کہ یہ زنا ہے، یہ کاروکاری غلط ہے؟ میں تو ان کو بھی مجرم سمجھتا ہوں جو داڑھی والے ہیں۔ داڑھی رکھنے سے کوئی اچھا آدمی تھوڑی ہوجاتا ہے۔ داڑھی رکھنے نہ رکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، چنگیز کی بڑی داڑھی تھی، کارل مارکس کی داڑھی تھی۔ پھر یہ ساری رجعت پسند قوتیں، عوام دشمن قوتیں، ان کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: حالات کو اس نہج پر پہنچانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
رسول بخش پلیجو: سب پر۔ علمائے کرام پر پہلے، کہ انہوں نے مسلمانوں کو اَن پڑھ رکھا، انگریزی پڑھنے نہیں دی۔ وہ جاہل ہوگئے، پیچھے رہ گئے، مقابلے کی دنیا میں نہیں آئے۔ یہ تو سرسید کا بھلا ہو کہ اس نے کہا کہ یہ (انگلش) تعلیم حاصل کرو۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے پوری زندگی قوم پرستی کی سیاست کی ہے۔ قوم پرستوں کی اکثریت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے گملے میں لگے ہوئے پودے ہیں؟
رسول بخش پلیجو:نہیں، نہیں میں نے قوم پرستی کی سیاست نہیں کی۔ 1947ء میں پاکستان بننے کے بعد ایک دو سال تک میں مذہبی آدمی رہا ہوں اور مدرسوں میں پڑھا ہوں۔ سندھ مدرسۃ الاسلام میں تھا، جناح صاحب وہاں آئے تھے۔ اور مکتبوں میں بھی پڑھا ہوں، وہاں فقہ پڑھایا جاتا تھا۔ Second Language میری عربی تھی۔ اور اسلامی تاریخ میں میری اسپیشلائزیشن تھی۔ میں تو اُن دنوں محمد بن قاسم کی فوج بنانے کی فکر میں تھا، لیکن اس کے بعد میں ہاری کمیٹی میں گیا، ادبی سنگت میں شامل ہوا، اس کے بعد سندھ میں کسانوں کی تحریک سے وابستہ رہا۔ میں نے کبھی اپنے آپ کو قوم پرست نہیں سمجھا ہے، میں قوم پرستی کے لفظ کو صحیح نہیں سمجھتا۔ پرستش کے میں خلاف ہوں۔ پرست کے معنی اندھی پرستش ہے۔ ہم جو اچھا کام سمجھیں گے کریں گے، مثلاً سندھی اگر اردو بولنے والوں یا بلوچوں پر قبضہ کریں گے تو کیا میں اس کی پرستش کروں گا؟ اس کو صحیح سمجھوں گا؟ مسلمان اگر ہندوئوں پر حملہ کریں، ان کے ساتھ ناجائز کریں، میں اس کو پرستش کہوں گا! اگر مذہب پرستی کروں گا تو میرے اصولوں کا کالا منہ ہوجائے گا۔ Not at all میں پرستش نہیں کرتا، میں قوم پرستی نہیں کرتا، لیکن ہاں جہاں ہم مظلوموں کے لیے لڑتے ہیں، فلسطین کے مظلوموں کے لیے لڑتے ہیں، عراق کے لیے لڑتے ہیں، افغانستان میں ظلم ہوتا ہے اس کے خلاف لڑتے ہیں، سفاکی جہاں بھی ہو۔ مسلمان ممبئی میں مارے جاتے ہوں یا ویت نام میں عام لوگ… سارے جہاں کا درد ہمارے دل میں ہے۔ تو میں قوم پرست نہیں ہوں، اور نہ ہی میں قوم پرست کہلانا پسند کرتا ہوں۔ ہم تو انسان دوست ہیں۔ انقلابی اور وطن دوست ہیں۔ میرے وطن میں ظلم ہوگا، میرے بھائی پر ظلم ہوگا تو ظاہر ہے میں اس کے لیے لڑوں گا، لیکن صرف اُس وقت تک جب تک کہ میرا بھائی ظالم نہ بن جائے۔ میں یہ نہیں مانتا کہ صرف سندھی آدمی اچھے ہیں باقی آدمی خراب ہیں۔ سندھی ہونا میرے نزدیک کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ میرے ہیروز ساری دنیا کے آدمی ہیں، میں ان سے روحانی ہدایت حاصل کرتا ہوں، میں اپنے آپ کو قوم پرست نہیں کہلاتا۔
فرائیڈے اسپیشل: میرے سوال کا دوسرا حصہ تھا کہ قوم پرست سیاست دانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے گملے کی پیداوار ہیں؟
رسول بخش پلیجو: میں آپ کے سوال سے قطع نظریہ کہتا ہوں کہ بہت سارے علمائے کرام، جمہوریت پسندوں، وطن پرستوں، ترقی پسندوں پر یہ الزام صادق آتا ہے۔ کیوں کہ پورے معاشرے پر سامراج کا غلبہ ہے، اس لیے بہت سارے لوگوں کو انہوں نے خرید لیا ہے۔ یہ الزام صرف ایک گروہ کے لیے نہیں ہے، اس میں سارے گروہ شامل ہیں، اس میں بہت سارے لوگ آپ والی تعریف میں آتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: گلوبلائزیشن کے بارے میں بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ امریکن اور یورپین امپیریلزم کی نئی شکل ہے اور ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی قوموں پر مسلط ہورہی ہے، لیکن ساتھ ہی کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ترقی کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟
رسول بخش پلیجو:واقعی ترقی کے لیے دروازے تو کھلے ہیں بہت سارے، لیکن یہاں کچھ لوگ اب بھی ہیں جو خواتین کو زندہ دفن کرنا چاہتے ہیں۔ پڑھتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں، یورپ میں اسکالرشپس ملتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ ایک نیا سامراجی نظام ہے جس کو نئے کپڑے پہنائے گئے۔ اچھے پہلو انگریز سامراج کے بھی تھے۔ اسلام کے نام پر بھی سامراج رہے ہیں۔ دوسری قوموں کو غلام بنایا گیا ہے، اور وہ کسی صورت بھی ان سے کم نہیں تھے۔ ایک قوم، ایک علاقہ دوسرے پر جاکر جب حملہ کرتا ہے، اس کو غلام بناتا ہے، تو کتنی بھی آیتیں پڑھے، ورش پڑھے یا اشلوک پڑھے لیکن ظلم تو ظلم ہے۔ پہلے ایرانی سلطنت اور رومن سلطنت آپس میں لڑتے تھے، مسلمانوں نے دونوں کے علاقوں پر قبضہ کیا، صلیبی لڑائیاں ہوئیں، ایک ملک نے سارے یورپ کو شکست دی، پرتگال اور اسپین پر قبضہ کیا۔ ترک آئے، آدھے یورپ پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح رقابت دو قوتوں کے درمیان ہے، یعنی مغرب اور مسلمانوں کے درمیان۔ اٹلانٹک سے لے کر پیسفک تک پوری تاریخ محیط ہے۔ اس میں مسلمان کیسے ہیں ہمیں معلوم ہے۔ اس لیے صلیبیوں نے دانستہ ہمیں پس ماندہ رکھا۔ جان بوجھ کر وڈیرہ شاہی مسلط رکھی یا پیروں کو رکھا، خانوں کو رکھا۔ کیا یہ ان کو ختم نہیں کرسکتے تھے؟ ہندو علاقوں کو انہوں نے جاگیرداری سے آزاد کرایا۔ وہاں تعلیم دی، یونیورسٹیاں قائم کیں۔ یہاں نہیں کیں جان بوجھ کر۔ پنجاب کو بھی محض اس لیے بخشا کیوں کہ پنجاب آرمی میں تھا، اور وہ رجعت پسند کام کررہا تھا۔ بلوچوں اور پشتونوں کو جاہل رکھا، ابھی بھی یہ جاہل ہیں، پرانے ہیں، دقیانوسی ہیں، پڑھتے نہیں ہیں۔ اس لیے یہ بھی ایک وجہ ہے کہ مسلمان خصوصی طور پر گلوبلائزیشن کا نشانہ ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ یہ تہذیبوں کا تصادم ہے؟
رسول بخش پلیجو:میں تہذیب کی بات نہیں کررہا۔ تہذیبیں تو ایک دوسرے سے سیکھتی ہیں، لیکن سوشل اور پولیٹکل رقیب قوتوں کے درمیان ایک تصادم ہے۔ تہذیبیں تو ایک دوسرے سے متاثر ہوتی ہیں۔ مثلاً تصوف کو لیجیے، تصوف یہودیوں کے پاس بھی ہے، عیسائیوں کے پاس بھی ہے، ہندوئوں کے پاس بھی تھا۔ بہت بڑا صوفی تھا شنکر اچاریہ، جس کو ہم وحدت الوجود کہتے ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ ابن العربی سے یہ کئی صدیاں پہلے آئے تھے۔ اور یہ جو ہیں یہودی، ان کے ایک بڑے نے کہا تھا کہ یہ لوگ جسم کی عبادت کی بات کرتے ہیں لیکن دل کی عبادتوں کا ذکر نہیں کرتے۔ یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کی تہذیب تو بنیادی طور پر ایک ہے، البتہ فکر مختلف ہے۔ بدھسٹ مذہب اور ہندو مذہب میں بہت ساری چیزیں مشترک ہیں، لیکن وہ جو Political یا سیاسی رقابت ہے وہ صدیوں پرانی ہے۔ کم از کم پندرہ سو، سولہ سو برسوں سے وہ لوگ ہمیں رقیب سمجھتے رہے ہیں اور جائز طور پر سمجھ رہے ہیں۔ ان کو اب بڑا خطرہ مسلمانوں سے ہے، اگر مسلمان مُلاّ بن جائیں تو انہیں ڈر تو ہوگا، لیکن اتنا نہیں ہوگا جتنا مسلمانوں کے ماڈرن، سائنس پر چلنے والے مہذب، عادل، انسان دوست، عوام دوست قوت بننے سے ہوگا، کیونکہ سامراج اس کا مقابلہ نہیں کرپائے گا۔ باقی یہ عراق اور سعودی عرب والے ڈھکوسلہ کرکے مذہب کے نام پر چل رہے ہیں، ان سے سامراج کو زیادہ خطرہ نہیں ہے، یا وہ جو ہماری طرح جھوٹی جمہوری قوتیں ہیں ان سے وہ نہیں ڈرتے۔
فرائیڈے اسپیشل: گلوبلائزیشن کے زمانے میں قوم پرستی کی کیا گنجائش ہے؟
رسول بخش پلیجو: قوم پرستی کا اگر مطلب مظلوم قوموں کے حقوق کی بات کرنا ہے تو بہت بڑی گنجائش ہے، بلکہ ان معنوں میں آپ ساری دنیا کے مسلمانوں کو قوم پرست کہہ سکتے ہیں۔ جو بھی آدمی سامراج کا غلام نہیں بننا چاہتا وہ سامراج دشمن ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: عالم اسلام میں مسلم عوام کا دھارا استعماری قوتوں کے خلاف بہت شدت اختیار کرچکا ہے لیکن دوسری طرف حکمرانوں کا طرزِعمل استعماری طاقتوں کے ساتھ چلتا ہوا نظر آتا ہے، آپ اس صورت حال پر کیا کہیں گے؟
رسول بخش پلیجو:جو اُن کے ساتھ ہے مجرم ہے۔ وہ نہ صرف مسلم دشمن اور عوام دشمن ہے، بلکہ بے غیرت اور بے حیا بھی ہے اور ساری انسانیت کے لیے خطرہ ہے، کیونکہ اتنے سارے ملکوں میں اگر یہ لوگ قابض رہیں گے تو ساری دنیا کی قوتیں کمزور ہوجائیں گی۔
فرائیڈے اسپیشل: قوم پرستی کی تحریک ایک طرح سے سیکولر تحریک ہے، اس کی ناکامی کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک یہ بھی ہے کہ یہ پاپولر مؤقف نہیں ہے۔ آپ اس خیال سے متفق ہیں؟
رسول بخش پلیجو: قوم پرستی کے معنی ہیں اپنے وطن سے محبت کرنا۔ لیکن اگر قوم پرستی کے معنی فاشسٹ کے ہیں جو ہٹلر نے کی، یعنی اپنی قوم کی بھلائی کے لیے باقی سب کو غلام بنالوں اور دنیا پر قابض ہوجائوں، یہ قوم پرستی نہیں ہے۔ میں وطن دوستی کا لفظ استعمال کرنا پسند کروں گا۔ مثلاً آپ کے لوگ غلام ہیں، آپ ان کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے کام کریں تو یہ سب سے زیادہ پاپولر ہے۔ روس میں یہی تھا، چین اور ویت نام میں بھی یہی تھا۔ بلکہ پہلے تو عربوں میں بھی یہی تھا۔ وہ ایران کے غلام تھے، روم کے غلام تھے، ان میں صرف مذہب کی بات نہیں تھی، یہ ایک نیشنل لبریشن کا معاملہ تھا۔ مسلمانوں نے مسلک کے اختلافات سے بالاتر ہوکر آزادی کی جو تحریکیں چلائیں ان میں اپنے وطن کے لوگوں سے محبت کا عنصر داخل نہ ہوتا تو وہ کامیاب نہ ہوتے۔ اور ساری اچھی باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی تھا کہ میرے ملک کے عوام بھوکے ہیں، ان کے وسائل لوٹے جارہے ہیں، میرا ملک غلام ہے۔ تو جو عظیم ترین لڑائیاں ہوئی ہیں ان میں اپنے وطن کے عوام سے محبت کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کے عوام سے محبت کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے، لیکن ابتدا تو اپنے گھر ہی سے ہوتی ہے۔ اور جو اپنے وطن سے محبت کرتے ہوں گے وہ صحیح معنوں میں وطن دوست ہوں گے۔ وہ مقبول ہوتے ہیں، ہیروز ہوتے ہیں، ان سے لوگ محبت کرتے ہیں۔ جیسے مصطفی کمال پاشا تھا، اس کے عقائد کچھ بھی ہوں لیکن لوگ اس سے محبت کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں، کیوں کہ اس نے ترکی کو غلام ہونے نہیں دیا۔ دنیا میں اور بھی نجات کی بڑی تحریکیں ہیں۔ زمبابوے تھا، سائوتھ افریقہ تھا۔ کچھ امریکی انگریزوں کی غلامی سے نکلنے کے لیے نیشنلسٹ تھے۔ ابراہم لنکن نیشنلسٹ تھا، جارج واشنگٹن بھی نیشنلسٹ تھا۔ لیکن یہ لوگ بہت مشہور تھے۔
رسول بخش پلیجو:(سوچتے ہوئے) دیکھیں اس دنیا کا نظام ایسا ہے کہ اچھا اور بُرا ایک ہی چیز میں ہوتا ہے، اور اچھے اور بُرے کے درمیان جدوجہد بھی ہوتی ہے اور اتحاد بھی ہوتا ہے، ایک ہی جگہ اکٹھے ہوتے ہیں، ایک ہی پروسس ہوتا ہے، اس میں کچھ پہلو ترقی پسندی کے ہوتے ہیں اور اچھے ہوتے ہیں، کچھ پہلو جو اس سے جڑے ہوتے ہیں وہ رجعت پرست ہوتے ہیں، اچھے نہیں ہوتے۔ اچھے کام کرنے کے لیے آپ کو کچھ برے کام کرنے پڑتے ہیں، کوئی برا کام کرنے کے لیے آپ کوئی اچھا کام کرتے ہیں۔ مثلاً کسی سے فراڈ کرنا ہے تو آپ نماز پڑھیں گے، داڑھی رکھیں گے۔ اگر آپ کو ملک بیچنا ہے تو آپ جنٹلمین بنیں گے، مشرف بنیں گے۔ روشن خیال، روشن خیال، روشن خیال… جمہوریت، جمہوریت…یہ سارے درجے ہوتے ہیں۔ آج کل جسے آپ دہشت گردی کہتے ہیں، اس کی بہت ساری علامات اور پہلو اچھے نہیں ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی، لیکن جب ہیروشیما میں سامراجی بم پھینکتے ہیں تو اس کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی؟ جب آپ جنگ کرتے ہیں تو وہ تو وحشت اور بربریت کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ جو علمائے کرام بیٹھے ہوئے ہیں میں ان کے سخت خلاف ہوں، اگر یہ امریکہ کے پٹھو نہ بنتے، امریکہ سے رقمیں لے کر ضیاء الحق جیسے بدمعاشوں کے ساتھ مل کر، یہ اگر روس کے ساتھ لڑائی نہ کرتے، امریکہ کو آزاد نہ بناتے تو وہ اتنا بڑا دجال کیسے بنتا! یہ جو وحشت اور سفاکی اس نے کی یہ کون سی اُمت کی اجازت کے ساتھ امریکہ کے غازی بن گئے تھے کہ ریگن ان کو غازی کہہ رہا تھا! میں کابل بھی گیا تھا، میں نجیب اللہ سے بھی ملتا تھا، وہ میرا دوست تھا۔ کابل میں، مَیں جب دورے پر جاتا تھا تو اسکول دیکھتا تھا۔ اُس وقت میں عوامی نیشنل پارٹی کا سیکرٹری جنرل تھا، اس نے مجھے آفر کی کہ آپ ان لوگوں کو بلائیں اور ہم ان لوگوں کے ساتھ امریکہ کے بغیر تصفیہ کرنے کو تیار ہیں۔ میں نے ولی خان کو بتایا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد مجھ سے روس نے بھی آفر کی اُس زمانے میں کہ آپ آپس میں مل کر فیصلہ کریں، سامراج کو چھوڑیں، مل کر الیکشن کرواتے ہیں، جو کرنا ہے آپس میں کریں۔ لیکن ضیاء کیوں کہ پٹھو تھا، نہیں مانا۔ میں نے یہ آفر اُس تک پہنچائی، میں ماسکو بھی گیا تھا۔ امریکہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کتاب لکھی ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ یہ جو کہتے ہیں کہ مجاہدین گئے تھے کیوں کہ روس نے حملہ کیا تھا، ایسا نہیں تھا۔ روس نے کوئی حملہ نہیں کیا تھا، ہم نے روسیوں کو ٹریپ کیا۔ پہلے ہم نے وہاں جاکر حملہ کیا تھا تاکہ روسی آئیں تو ہم ان سے ویت نام کا بدلہ لیں۔ تو میں تو ان سب کو مجرم سمجھتا ہوں، سارے کرمنل ہیں۔ ساری دنیا میں جتنے مسلمان قتل ہوئے ہیں اس کے ذمہ دار علمائے کرام بھی ہیں۔ اگر آپ کو سیاست کا پتا نہیں ہے تو آپ سیاست کیوں کرتے ہیں؟ آج بھی یہی کررہے ہیں۔ ان کا جو موجودہ کردار ہے وہ بھی مجرمانہ ہے۔ گوکہ میں جماعت اسلامی کو کچھ بہتر سمجھتا ہوں آج کے حوالے سے‘ حالانکہ میں اس کے خلاف رہا ہوں، میں نے کتابیں لکھی ہیں جماعت اسلامی کے خلاف، لیکن آج کل وہ تھوڑا زیادہ ذمہ داری کا ثبوت دے رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ آج سامراج کے سامنے صرف مُلاّ ہیں، اِس وقت صرف اور صرف دینی لوگ لڑ رہے ہیں، باقی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، سارے مسلمان گویا چپ ہیں، وہ کچھ نہیں کرپا رہے؟ بھائی! اگر یہ غلط ہے تو تم اچھا راستہ دکھائو۔ مزاحمت تو یہ کررہے ہیں، مر تو یہ رہے ہیں۔ بچے تو ان کے مر رہے ہیں، تم کیا کررہے ہو! جب مجھے کوئی یہ بتاتا ہے، میں کہتا ہوں کہ تم نے کیا کیا؟ آج کروڑوں مسلمان غلام ہیں، آج سامراج کے سامنے کون ہے جو کہتا ہے کہ تم غلام نہیں ہو! یہی داڑھی والے ہیں، یہی علماء ہیں۔ میں مذاق میں کہتا ہوں کہ اگر ملا کے پاس بہشت نہ ہوتی اور اگر اتنے بہشت میں جانے کے لیے بے تاب نہ ہوتے تو تمہارا کیا ہوتا! تم سے تو وہ پاخانہ صاف کرواتے، میں کہتا ہوں کہ واقعی میدان میں وہی ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ یہ اعتراض کرتے ہیں تو پھر آپ کو بھی ان قوتوں کے ساتھ ہونا چاہیے؟
رسول بخش پلیجو:میں نے کہا ناں کہ ان میں جو نقائص ہیں میں ان کے خلاف ہوں، آج بھی ہوں اور کل بھی تھا۔ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ اچھا کام کررہے ہیں ان کا اتحاد ہونا چاہیے، ساری دنیا کے اچھے لوگوں کا اتحاد ہونا چاہیے، اور جو علمائے کرام صحیح اور ایمان داری سے وطن کی خدمت کرتے ہیں ان کی ہم قدر کرتے ہیں، ان پر ہمیں فخر ہے۔ جو اچھا کام کرتے ہیں، جو اپنے ملک کے لیے، اس کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں ہم اُن کی عزت کرتے ہیں، ہم اُن کو سلام کرتے ہیں اور اُن کے ساتھ ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے علمائے کرام کے حوالے سے کہا کہ وہ لوگوں کو پڑھنے نہیں دیتے، تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور پرانی چیزوں سے وابستہ رہتے ہیں، حالانکہ جو معروف علمائے کرام ہیں چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، اُن میں تو کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ ہم تعلیم کے خلاف ہیں یا جدیدیت کے خلاف ہیں، لیکن سندھ کے اندر، بلوچستان کے اندر وڈیرے، جاگیردار اور ایسی دوسری طاقتیں موجود ہیں، سرحد میں بھی ہیں جو تعلیم سے روکتی ہیں۔ تو یہ صرف علمائے کرام کا مسئلہ تو نہیں ہے، اور نہ ہی مذہب کا مسئلہ ہے، یہ مسئلہ تو کچھ اور ہے لیکن فوکس علمائے کرام ہوتے ہیں؟
رسول بخش پلیجو: آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں، جن کا آپ نے ذکر کیا یہ سارے لوگ پڑھنے نہیں دیتے، ان ساروں کے ساتھ ساتھ علمائے کرام بھی اس میں شامل ہیں، میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں، اب بھی بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں علمائے کرام بغیر داڑھی والے کو برداشت نہیں کرتے، وہاں پڑھنا بند کردیا ہے، اسی طرح بہت سارے علاقوں میں جاگیردار اور وڈیرے بھی کرتے ہیں لیکن اب پیش پیش یہ کہے جاتے ہیں۔ اور اس کا مجھے نہیں معلوم کہ کیوں؟ میں تو میڈیا کے حوالے سے بات کررہا ہوں۔ علمائے کرام کے متعلق یہ شکایتیں مجھے سرحد سے ملی ہیں، بلوچستان کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔
فرائیڈے اسپیشل: کالا باغ ڈیم کی آپ مخالفت کرتے ہیں۔ ڈیم ملک اور سندھ کے عوام کی ضرورت ہیں۔ ان سے آپ کی مخالفت کیوں ہے؟ کہیں یہ پسند ناپسند کا معاملہ تو نہیں؟
رسول بخش پلیجو: میں کالا باغ ڈیم کا ہی مخالف نہیں بلکہ دریائے سندھ پر کوئی بھی ڈیم بنانے کا مخالف ہوں۔ اس کی میرے پاس تین بڑی وجوہ ہیں۔ پہلی یہ کہ اسلامی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت دریائوںکے پانی کے مالک وہ لوگ ہیں جو اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جو پہلے بیٹھا ہوتا ہے اس کو یہ موقع ہوتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو پانی لے سکتا ہے۔ اس لیے قانون بنا ہے کہ اوپر والے کا حق اتنا ہے جتنا اس کا حصہ بنتا ہے۔ تاریخی طور پر اس سے زیادہ پانی نہیں لے سکتا، اگر وہ لے گا تو اسے سزا دی جائے گی۔ اس قانون پر پوری دنیا متفق ہے۔ پاکستان کے چھے دریا ہیں، ان میں سے آدھا پانی دریائے سندھ میں آتا ہے۔ دو دریا آتے ہیں کشمیر کے علاقے سے، اور باقی پنجاب سے۔ یہ سارے دریائے سندھ سے پنج ند پر ملتے ہیں تو یہ سارے کا سارا پانی دریائے سندھ میں آجاتا ہے۔ پنجاب کے حکمران طبقوں نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں انگریزوں سے اتحاد کیا تھا، اس کے انعام کے طور پر 1859ء سے یہ سلسلہ شروع کیا کہ پنجاب کو ایک زرخیز علاقہ بنایا جائے۔ اس لیے انہوں نے راوی پر بند باندھ کر سندھ کے حصے کا پانی روکا۔ پھر یہ سلسلہ جاری رہا۔ 1930ء میں سندھ ممبئی کے ماتحت تھا اس لیے ممبئی دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ ایک چھوٹی سی مسلمان اقلیت تھی، مسلمانوں کی پروا ہی نہیں کرتے تھے، خوب لوٹتے تھے جس طرح آج کل سندھ کو لوٹا جا رہا ہے۔ 1930ء میں جاکر گورنمنٹ آف انڈیا نے ایک کمیٹی مقرر کی، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ایک اور کمیٹی یوپی کے چیف انجینئر کے ماتحت بنی، اور پھر انہوں نے پے درپے کینال بنائے۔ چھے چھے کینال ایک سال میں بنایا کرتے تھے۔ لوٹ مچا دی۔ 1940ء میں کمیشن بنا جس کا سربراہ بنگال ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تھا جو بعد میں انٹرنیشنل کورٹ کا جسٹس بنا، اس نے 1945ء میں فیصلہ کردیا کہ آئندہ سندھ کی اجازت کے بغیر اور مرکزی گورنمنٹ اور وائسرائے کے احکامات کے بغیر پانی نہیں روکا جائے گا اور جتنا حصہ پنجاب لے گا اتنا سندھ کو ملے گا۔ یہ پورا ایک طریقہ کار بنایا گیا۔ جیسے ہی 1947ء میں پاکستان بننے کی خبر آئی انہوں نے کینسل کردیا۔ پاکستان بنتے ہی لیاقت علی خان نے سارے دریائوں کا فیصلہ جس میں سندھ آدھا تھا، سندھ کی اراضی ہندوستان اور مغربی پنجاب اور مشرقی پنجاب کے حوالے کردی۔ سارے دریا ایک فریق کے حوالے کردیے۔ لیاقت علی خان نے پاکستان کے خلاف جو بہت سارے جرائم کیے ان میں پہلی بنیاد یہ تھی۔ انہوں نے ہندوستان جاکر آپس میں سازش کرکے ایک خفیہ ایگریمنٹ کیا۔ ایک ٹریبونل تھا جس کا سربراہ سروینس تھا، کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اختلاف ہو تو ٹریبونل ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ پاکستان نے درخواست کی ہوئی تھی کہ جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو انڈیا پاکستان کا پانی بند نہیں کرے گا۔ پاکستان اور انڈیا نے لیاقت علی کے زمانے میں خفیہ سازش کرکے سندھ کے خلاف اس آرڈر کی درخواست واپس لے لی، ایک مصنوعی بحران پیدا کیا جس میں انڈیا کو یہ کہا گیا کہ تم یہ کہو کہ ہم پانی نہیں دیں گے۔ اور پاکستان کو کہا گیا کہ وہ یہ کہے کہ ہائے ظلم ہوگیا۔ بہرحال 1960ء میں ایوب کے زمانے میں انہوں نے انڈیا کے ہاتھ دریا بیچ دیے، جس میں آدھا ہمارا تھا۔ پاکستان بنتے ہی سندھ لاوارث ہوگیا۔ اس کے عوض انہوں نے اربوں روپے لیے اور یہ سارے کے سارے پیسے پنجاب میں خرچ کرڈالے۔ منگلا ڈیم میں آدھا حصہ ہمارا تھا، اس میں سے ہمیں ذرا پانی نہیں دیا گیا، اور کہا گیا کہ ہمارے پاس پانی نہیں ہے۔ اس وقت ورلڈ بینک نے کہا کہ تم ڈیم بنائو چناب پر۔ ایوب نے کہا کہ ہم انڈیا سے جنگ کریں گے اگر تم نے ہمیں دریائے سندھ پر ڈیم نہیں بنانے دیا۔ پھر انہوں نے Mythبنائی کہ دریا میں پانی نہیں ہے، پانی سمندر میں جا رہا ہے، تو جی کیا کریں! پھر اس کا حل یہ نکالا گیا کہ جو پانی بچ جاتا ہے اس کے لیے کینال بنائو۔ جب پانی سندھ میں بہت ہوجائے گا اور سندھ ڈوبنے لگے گا۔ پھر ایگریمنٹ کرکے سازش کرکے پہلے تو وہ درخواست واپس لی، مصنوعی بحران پیدا کیا۔ کیوں کہ یہ امریکہ کے پٹھو تھے۔ امریکہ کوکوریا میں فوجیوں کی ضرورت تھی، اس لیے اس کی پاکستان آرمی سے سازباز تھی اور پاکستان آرمی میں زیادہ تر لوگ پنجاب کے تھے، انہوں نے مل کر ورلڈ بینک سے اربوں کا قرضہ لیا۔ دینے والے ہم تھے، خرچ اُدھر کیا۔ منگلا بنایا ہمیں کچھ دیا نہیں۔ نئی زمینیں جاکر آباد کیں۔ دو کینال نکالے اور پھر کہا کہ جو پانی بچے گا وہ دیں گے۔ اب یہ روز نئی نئی سازشیں کرتے ہیں۔ آج کالا باغ ڈیم ہے۔ پھر سات ڈیم اور بنائے گئے۔ ایک سادہ سی بات ہے کہ اکوڑہ کے پاس ایک جگہ ہے جہاں ڈیم بنایا جائے تو پانی سب کو مل جائے گا۔ ماہرین کہتے ہیں وہاں ڈیم بنائیں، میں اس کی مخالفت نہیں کرتا۔ لیکن سازش یہ ہے کہ سندھ کا پانی بند کرکے، اس کی زمینوں کو بنجر بناکے اس کو سرمایہ داروں کو بیچ دو۔ ہم لوگ مرغیاں پالیں گے کیا؟ اونٹ، بکریاں پالیں گے جو ہمارے آباو اجداد کرتے تھے؟ یہ سب ان بدمعاشوں کا کھیل ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ تاثر بھی عام ہے کہ سیاسی جماعتوں اور میڈیا میں ایجنسی کے نمائندے ہیں، اور یہ ان کے زیراثر رہتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں ہمارے ابلاغی ادارے اور سیاسی جماعتیں آزاد ہیں؟
رسول بخش پلیجو:ساری دنیا میں ایسا ہی ہے۔ امریکہ میں سی آئی اے سے آزاد کون ہے؟ انڈیا میں بھی یہی صورتِ حال ہے۔ لیکن یہاں یہ صورتِ حال بدتر ہے۔ اس کی وجوہات یہ ہیں کہ ساری دنیا غلام ہے۔ میں یہودیوں کے خلاف نہیں ہوں، میری نظر میں مسلمان ہونا فی نفسہٖ کوئی اچھی بات نہیں ہے اور یہودی ہونا فی نفسہٖ کوئی خراب بات نہیں۔ یعنی ہندو ہوگیا، یہودی ہوگیا اور مسلمان ہوگیا تو جنتی ہوگیا ! لیکن ہمارے جو یہودی بھائی ہیں انہوں نے ہزاروں برس تک اذیتیں برداشت کی ہیں، آج وہ ساری دنیا کے مالک بنے بیٹھے ہیں، امریکہ تو ان کی جیب میں پڑا ہوا ہے، اور امریکہ کے صدر تو ان کے نوکر ہوتے ہیں، اس کے ذریعے یہ سارے ملک پر قبضہ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: روس اور چین کے درمیان معاملات چل رہے ہیں۔ آئندہ اس میں ایران اور پاکستان کے شامل ہونے کے بھی امکانات موجود ہیں۔ عالمی سطح پر اس نئی پیش رفت کو کس طرح دیکھ رہے ہیں؟
رسول بخش پلیجو: مشرقی ایشیا کو نہ بھولیں کہ وہاں کے ممالک ’’آسیان‘‘ کے ذریعے آپس میں منسلک ہیں۔ یورپ ایک دوسرا حریف ہے، جو امریکہ کا ہر حال میں مددگار نہیں ہے، اس کے اپنے کچھ مفادات ہیں۔ روس اور چین میں بھی بہت سارے معاملات میں اختلاف ہے۔ روس چین کے مقابلے میں انڈیا کے زیادہ قریب ہے، اور یہ جو صف بندیاں ہورہی ہیں، مزید ہوں گی۔ آج کا نعرہ ہے ’’دہشت گردی کے خلاف لڑائی‘‘۔ تو مزے کی بات یہ ہے کہ حریف قوتیں چین، روس اور انڈیا وغیرہ جو اتحادی بنے ہیں اور ادھر Atlantic Pact ہے، ایک دوسرے کے حریف ایک دوسرے کی مخالفت کے لیے کررہے ہیں، لیکن کام دونوں ایک ہی بتاتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف کام کررہے ہیں، لیکن دہشت گردی کے لیبل کے تلے ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی بھی کررہے ہیں۔ جاپان کو تیزی سے بدلنے کی عادت ہے۔ 1860ء میں جب امریکہ کا جہاز زبردستی گھس گیا تو اچانک انہوں نے جاگیرداری نظام ختم کرنے اور مکمل مغربی بننے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اب جاپان کی پہلی مرتبہ روس سے باتیں ہوئی ہیں۔ چائنا والے ڈپلومیسی کے میدان میں بڑے زبردست ہیں، اور ہر قسم کے اشتعال کے باوجود جاپان سے اپنے اختلافات بڑھاتے نہیں ہیں۔ امریکہ اپنی پوری کوشش میں لگا ہوا ہے کہ ان کو پھنسائے اور یہ نئی صف بندی ہے، اور یورپ بھی قریب آئے گا۔ اس کے علاوہ ایک بہت بڑی طاقت مسلمانانِ عالم ہیں۔ بظاہر تو مسلم ممالک نکمے ہیں، لیکن ان کے اکا دکا حکمران سمجھدار ہیں جیسے مہاتیر محمد۔ علمائے کرام کا نقطہ نظر بھی محدود ہے۔ Out Dated ہے۔ وہ زمانے کے ساتھ چل نہیں سکتے۔ جدید قسم کے جو لوگ ہیں، جو علم و عرفان رکھتے ہیں، انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں، مذہب کے نام پر وحشت و سفاکی مسلط نہیں کرنا چاہتے، ان کو اکٹھا ہونا چاہیے۔ لیکن علمائے کرام کی رہنمائی میں بھی کام ہوگا اور یہ دونوں رجحان رہیں گے تو یہ ایک بہت بڑا بلاک آگے چل کر بنے گا۔ اور مسلمان بھی ایک سپر پاور کی حیثیت سے ابھر رہے ہیں، ان میں بھی نئی بیداری پیدا ہورہی ہے۔ تو امریکہ، دوسری طرف روس اور چین اور انڈیا، ادھر یورپ اور دوسرا سپر پاور مسلمان ہوگا۔ اس طرح ایک نئی صف بندی ہورہی ہے اور اب ملٹی پولر دنیا وجود میں آرہی ہے۔

Share this: