انتخابات اوار تبدیلی کی سیاست

انتخابی عمل دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا ہے، انتخابی امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ مکمل ہوا اور اب کاغذاتِ نامزدگی منظور یا مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے، جس کی سماعت کے لیے ٹریبونل تشکیل دیے جاچکے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں پر مشتمل 21 ٹریبونل بنائے گئے ہیں۔ خیبر پختون خوا میں 6، پنجاب میں 8 ، سندھ میں 4 اور بلوچستان میں 2 ٹریبونل قائم کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے لیے ایک ٹریبونل تشکیل دیا گیا ہے۔ سماعتوں کا سلسلہ 22 جون سے شروع ہوکر27 جون تک جاری رہے گا، اس کے دو روز بعد امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کردیے جائیں گے۔ پولنگ سے قبل امیدواروں کو دست بردار ہونے کا موقع دیا جائے گا اور اس کے بعد حتمی فہرست مرتب کرلی جائے گی۔ یوں 25 جولائی کو ملک میں عام انتخابات ہوں گے۔
پاکستان میں جمہوری عمل جیسا بھی رہا، اس پر اعتماد کا رجحان کم نہیں ہوا، لیکن اِس بار یہ رجحان دیکھنے کو ملا ہے کہ ملک بھر میں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔2013ء کے مقابلے میں 2018ء کے عام انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے والے افراد کی تعداد میں 7 ہزار کی کمی واقع ہوئی ہے۔ 2013ء میں 28302 افراد نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔ جبکہ آئندہ عام انتخابات کے لیے21482 افراد نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ عام انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے عدم دلچسپی کا بڑا سبب سخت انتخابی قوانین اور بھاری فیسیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کا تیار کردہ سخت حلف نامہ بھی امیدواروں کے لیے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنا ہے، اسی لیے قومی اسمبلی کے لیے امیدواروں کی تعداد 7 ہزار 996 سے کم ہوکر 5 ہزار 473 ، اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کی تعداد 18 ہزار 825 سے گھٹ کر 13 ہزار 693 رہ گئی ہے۔ خواتین کے لیے مختص نشستوں پر امیدواروں کی تعداد 350 سے بڑھ کر 436 ہوگئی اور صوبائی اسمبلیوں میں یہ تعداد821 سے بڑھ کر 1255 ہوگئی ہے۔
انتخابی عمل کے پہلے مرحلے میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت سیاسی جماعتوں کے متعدد اہم امیدواروں کے نامزدگی فارم مسترد ہوئے ہیں۔ عمران خان کے نامزدگی فارم اسلام آباد اور میانوالی سے اپنے پرانے حلقے میں ترقیاتی کاموں سے متعلق تسلی بخش جواب نہ دیے جانے اور جسٹس(ر) افتخار محمد چودھری کی جانب سے داخل کرائے گئے اعتراض کے باعث مسترد ہوئے، لیکن دیگر حلقوں میں منظور ہوگئے۔
ملک میں ہونے والے عام انتخابات سے متعلق تمام مرحلے ابھی تک بخوبی انجام پارہے ہیں، تاہم غیر مرئی قوتوں کی حرکیات بھی محسوس کی جا سکتی ہیں۔ ریٹرننگ افسران نے جس طرح بڑی تعداد میں امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کیے ہیں، بلاشبہ یہ ایک اچھا قدم ہے، لیکن بعض فیصلوں سے محسوس ہوا کہ سیاسی انجینئرنگ کی جارہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے کاغذاتِ نامزدگی تو قبول کرلیے گئے ہیں لیکن آصف علی زرداری کو شہہ مات دینے کے لیے قانون کے بہت سے مہرے حرکت میں ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے جو اثاثے ظاہر کیے ہیں وہ انہیں تحفے میں ملے یا وراثت کا حصہ ملا، لیکن ان کے نامزدگی فارم قبول اور آصف علی زرداری جنہوں نے بلاول بھٹو کو یہ اثاثے منتقل کیے اُن پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ایسی صورتِ حال کا سامنا محض پیپلز پارٹی کو ہی نہیں کرنا پڑا، بلکہ ہر سیاسی جماعت اور سیاسی اتحاد کے امیدوار اس سے دوچار ہوئے ہیں۔ حلقہ بندیوں کی تقسیم کے بعد یہ دوسرا مرحلہ ہے جس میں امیدوار سیاسی انجینئرنگ کے عمل سے گزرے ہیں۔ انتخابات کی تاریخ طے ہونے سے قبل ملک میں سیاسی جماعتوں کو بھی بہت سے امتحانات سے گزرنا پڑا ہے۔ سینیٹ کے انتخابات ایک ریہرسل تھے، قرین قیاس یہی ہے کہ نومنتخب قومی اسمبلی کا امکانی نقشہ اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ سینیٹ کے انتخابات کنٹرولڈ جمہوریت کا عملی نمونہ تھے۔ سیاسی جماعتوں نے مزاحمت کی لیکن نتائج تسلیم کرلیے۔ اب بھی یہی ہوگا کہ عام انتخابات جیسے تیسے بھی ہوں، ان کے نتائج تسلیم کرلیے جائیں گے۔
انتخابات کے حوالے سے سب سے پہلا اعتراض نادرا پر اٹھایا گیا ہے کہ ووٹرز سے متعلق اہم ڈیٹا کیوں لیک ہوا ہے؟ نادرا ریکارڈ کے مطابق ملک میں ووٹرز کی کُل تعداد 10 کروڑ، 59 لاکھ، 55 ہزار 4 سو 99 ہے جن میں چھیاسٹھ سالہ ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ61 لاکھ ، پچاس اور ساٹھ سال کی عمر کے ووٹرز کی کل تعداد ایک کروڑ 28 لاکھ، چالیس سے پچپن سال کے ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 61 لاکھ، اٹھارہ سے پچیس سال کے ووٹرز کی کل تعداد ایک کروڑ 74 لاکھ، چھبیس سے پینتیس سال کے ووٹرز کی کل تعداد 2 کروڑ 35 لاکھ، چھتیس سے پینتالیس سال کے ووٹرز کی کل تعداد 2 کروڑ 44 لاکھ سے زائد ہے۔ ان میں سے یوتھ ووٹر جسے پچیس سال سے پینتیس سال تک گنا جاتا ہے انتخابات میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ نادرا کے اس ڈیٹا پر بہت لے دے ہورہی ہے اور اسی لیے نادرا کے سربراہ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کا حالیہ کردار کسی قیمت پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس ریمارکس دے چکے ہیں کہ ملک میں عام انتخابات کیسے ہوں گے اس کے لیے سپریم کورٹ کا لارجر بینچ بنایا جائے گا۔ اُن کے ان ریمارکس کے بعد سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کا ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں کالعدم ہوا ہے اور فاضل جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے 22 صفحات پر مشتمل اپنا اختلافی نوٹ بھی لکھا کہ سپریم کورٹ کو آئین کے آرٹیکل62/f/1 کے تحت امیدوار کی اہلیت اور نااہلیت سے متعلق سوال کا جائزہ لینا چاہیے اور چیف جسٹس اس مقصد کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دیں۔ اب چیف جسٹس کب فل کورٹ بینچ تشکیل دیں گے؟ اس بارے میں حتمی اختیار تو انہی کے پاس ہے، لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال اٹھاکر گیند ان کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔
عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن ایک ذمے دار ادارہ ہے لیکن وہاں بھی گومگو کی کیفیت ہے۔ ذمے دار عہدوں پر فائز افراد کہتے ہیں کہ ’’ہم انتخابات کی تیاریاں تو کررہے ہیں مگر ہمیں علم نہیں کہ کیا ہونا ہے‘‘۔ البتہ الیکشن کمیشن نے ایک فیصلہ کرلیا ہے کہ انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوں گے۔ فوج پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی ہوگی اور باہر بھی۔ اسلام آباد میں تو فوج ویسے بھی2014ء سے مسلسل انتظامیہ کی مدد کے لیے موجود ہے۔ ملک کے دوسرے حصوں میں اب الیکشن کمیشن کی تجویز پر نگران حکومت فوج طلب کرے گی۔ نگران حکومت نے ابھی ایک ہی فیصلہ کیا ہے کہ چاروں صوبوں میں آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹریز تبدیل کیے گئے ہیں۔ اگلے مرحلے میں غالباً بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ ہوگی جس میں سیکرٹریز داخلہ اور سیکرٹریز اطلاعات و نشریات تو لازمی تبدیل کیے جائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ ڈپٹی کمشنر بھی تبدیل کیے جائیں۔ وفاق اور صوبوں میں قائم نگران حکومتیں سابق جج صاحبان اور تاجر کے علاوہ سابق بیوروکریٹ اور ایک دانش ور کی سربراہی میں کام کررہی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک اچھا انتخاب ہے، لیکن جج، بیوروکریٹ اور کسی بھی دانشور کو حکمرانی کا تجربہ نہیں ہوتا۔ ان میں کوئی ایک بھی بیوروکریسی، پولیس، مختارکار اور پٹواری کو نہیں سنبھال سکتا۔ انتخابات میں پولنگ کا دن بہت اہم ہوتا ہے، الیکٹ ایبل سمجھے جانے والے امیدوار پولنگ ڈے کی سائنس سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں،ایسے امیدواروں کی ایک بڑی تعداد تحریک انصاف میں چلی گئی ہے۔ تقریباً بیس سے پچاس ایسے اشخاص جو پہلے منتخب ہوچکے ہیں اور اب بھی منتخب ہونے کی بھرپور توقع رکھتے ہیں، لیکن یہ بات بھی کہی اور سنی جارہی ہے کہ اگر پنجاب میں یہی بیوروکریسی رہی تو مسلم لیگ (ن) کے جیتنے کے امکانات روشن رہیں گے۔ پنجاب میں دانشور نگراں وزیراعلیٰ نے بیوروکریسی تبدیل کرلی اور اُن کو غیرجانب دار بنادیا تو پھر مسلم لیگ (ن) کو دھچکا لگے گا۔ بیوروکریسی کو غیر جانب دار کرنا ایک مشکل امر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ بیوروکریسی جو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پچھلے تیس سال سے کسی نہ کسی طرح وابستہ ہے، کہاں تک نگران وزیراعلیٰ پروفیسر حسن عسکری کے فیصلوں پر عمل کرے گی! سندھ میں پیپلزپارٹی کے لیے فضا سازگار ہے۔ اسے صوبے میں ایک جمی جمائی بیوروکریسی دستیاب ہے۔ انتخابی معرکے کا اصل میدان پنجاب ہے۔
اگر حقیقی معنوں میں ملک میں موجود سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا جائے اور اسی کی بنیاد پر تجزیہ کیا جائے تو 25 جولائی 2018ء کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں ملک کے اندر کوئی بڑی کیفیتی تبدیلی نظر نہیں آرہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج بھی ’’آئینِ نو سے ڈرنا اور طرزِ کہن پر اڑنا‘‘ والی سیاست ہورہی ہے۔ کچھ نئی یا پرانی اور مذہبی جماعتیں پہلے سے مختلف پوزیشن کے ساتھ عام انتخابات میں موجود ہیں، مگر ان کے اہداف بھی پہلے سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ ان کی وجہ سے عوامی سطح پر بھی کوئی ایسی بے چینی نہیں ہے جو کسی بڑی تبدیلی یا کایاپلٹ کا سبب بنتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ 13مئی 2013ء کے عام انتخابات کے مقابلے میں حالات بہت حد تک مختلف ہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف اب گڈ بک میں نہیں رہے، انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت سیاسی بیانیہ اختیار کرلیا ہے۔ اسے یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ نوازشریف 2013ء کے عام انتخابات میں جس صف میں کھڑے تھے، آج اس کی مخالف صف میں کھڑے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اُن کی جگہ لے لی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف میں بھی وہی لوگ غالب آگئے ہیں، جو پہلے مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور دیگر روایتی سیاسی جماعتوں میں تھے۔لہٰذا ملکی سیاست میں کیفیتی تبدیلی لانے یا ’’اسٹیٹس کو‘‘ ختم کرنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ جو قوت اپنے سیاسی انتظام کے تحت ملک چلاتی ہے ملکی سیاست میں اُس کا پہلے والا کردار پوری طرح موجود ہے۔ تحریک لبیک پاکستان اورملّی مسلم لیگ ابھر کر سامنے آئی ہیں، لیکن یہ بھی ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے لیے کوئی چیلنج نہیں ہے۔ نیا سیاسی انتظام علاقائی اور عالمی حالات کا تقاضا بھی ہوسکتا ہے کیونکہ علاقائی حالات کے باعث پاکستان ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے، 1970 ء کے عام انتخابات کے بعد یہ سب سے اہم انتخابات ہیں، جو پاکستان کے بارے میں فیصلہ کریں گے کہ آئندہ کا پاکستان کیا ہوگا۔ کیا یہی ’’اسٹیٹس کو‘‘ رہے گا یا اسے توڑ دیا جائے گا۔ بظاہر تو یہ نظر آتا ہے کہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ سیاست کے تمام سیاسی اور غیر سیاسی کھلاڑی ’’میچ فکسنگ‘‘ میں لگے ہوئے ہیں۔ کچھ ٹیمیں تبدیل ہوئی ہیں لیکن کھلاڑی سب وہی ہیں۔

نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کے اثاثے

نگران وزیراعظم ناصرالملک کروڑوں کے اثاثوں کے مالک نکلے۔ بیوی کے نام پر پاکستان کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی جائدادیں رکھتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تفصیلات جاری کردیں۔
نگران وزیراعظم ناصرالملک نے الیکشن کمیشن میں اثاثوں کی تفصیلات جمع کروا دی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ناصرالمک کے نام پر پاکستان میں 14 جائدادیں موجود ہیں۔ سوات میں مختلف 8 اراضیاں اور پشاور کی اراضی والد کی جانب سے گفٹ ظاہر کی گئی۔ ان کے پاس ایک کنال کا رہائشی پلاٹ ڈی 12 اسلام آباد، اور ایک کنال کا پلاٹ جی 14 میں ہے۔ ان کے بحریہ انکلیو اسلام آباد میں دو کنال کے پلاٹ کی قیمت ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہے۔ ڈپلومیٹک انکلیو میں ایک اپارٹمنٹ بھی ان کی ملکیت ہے جس کی قیمت 2 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ زیر تعمیر انسٹی ٹیوشن اپارٹمنٹ اراضی کی قیمت 4 کروڑ 33 لاکھ سے زائد ہے۔ نگران وزیراعظم کی اہلیہ کے نام بیرونِ ملک جائداد سنگاپور اور لندن میں ہے۔ اہلیہ کی سنگاپور جائداد کی مالیت سات لاکھ چودہ ہزار سے زائد، جبکہ لندن جائداد کی مالیت 2 لاکھ 72 ہزار 8 سو 50 پاؤنڈ ہے۔ ان کی اہلیہ کے نام سے انویسٹمنٹ 722،590 ڈالر مالیت کی ہے۔ نگران وزیراعظم ہونڈا سوک 2012ء ماڈل کی کار کے مالک ہیں جس کی مالیت10لاکھ روپے ہے۔ ٹویوٹا کرولا 2012ء کی مالیت 48 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ ان کے پاس31 لاکھ روپے کے زیورات اور 65 لاکھ روپے مالیت کا فرنیچر بھی ہے۔ مختلف بینکوں کے اکائونٹس میں 10 کروڑ 25 لاکھ سے زائد کی رقم موجود ہے۔

Share this: