تذکرہ انبیاء کرام علیہم السلام

نام کتاب: تذکرہ انبیاء کرام علیہم السلام
مصنف: گہر اعظمی
صفحات: 388 قیمت450روپے
ناشر: جہانِ حمد پبلی کیشنز کراچی
ملنے کا پتا: نوشین سینٹر دوسری منزل اردو بازار کراچی
رابطہ: 0321-2664586
برادرِ عزیز انصارالحق گہرؔ اعظمی علمی، ادبی حلقوں میں معروف ہیں۔ دینی ذوق کے حامل گہرؔاعظمی پیشے کے اعتبار سے انجینئرہیں۔ سندھ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ 1987ء میں پہلا مجموعہ نعت ’’ثنائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ شائع کرنے کی سعادت حاصل کی، اور بالترتیب، 1994ء میں دوسرا مجموعہ نعت ’’خیرالبشر صلی اللہ علیہ وسلم‘‘،1999ء میں مجموعہ حمد’’اللہ اکبر‘‘ اور مجموعہ حمدو نعت ’’رب العالمین و رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم‘‘،2001ء میں مجموعہ نعت ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے‘‘،2003ء میں قرآنی تعلیمات اور احکام پر مشتمل منظوم ’’رہنمائے حیات‘‘، 2005ء میں منظوم سیرت ’’سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم‘‘،2008ء میں مجموعہ نعت ’’ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم‘‘،2009ء میں نعتیہ قصیدہ ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘،2011ء میں حمدیہ مجموعہ کلام ’’العظمۃ اللہ‘‘، 2014ء میں منظوم سوانح حیات ’’خلفائے راشدینؓ‘‘، 2015ء میں نعتیہ دیوان’’آقائے مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ اور 2018ء میں زیرنظر ’’تذکرہ انبیاء کرام علیہم السلام‘‘ اربابِ ذوق سے خراجِ تحسین وصول کررہا ہے۔ بچوں کے لیے نظمیں بھی لکھیں اور آج کل منظوم شعری قاعدہ پر کام کررہے ہیں۔ طبیعت میں چونکہ شگفتگی پائی جاتی ہے لہٰذا اس کے اظہار کے لیے 2017ء میں مزاحیہ کلام ’’اُبالِ خاطر‘‘ شائع کیا۔ اپنا احوال ’’میری کہانی میری زبانی‘‘ میں رقم کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ جو عنوان آپ نے منتخب کیا ہے وہ میرے خیال میں مناسب نہیں۔
فرائیڈے اسپیشل کے قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ میں تاثراتی زبان میں اپنے تاثر کے ساتھ مذکورہ اہلِ قلم کی روحِ بیان کو بھی تحریر میں سمونے کی کوشش کرتا ہوں جسے قارئین بہت سراہتے ہیں۔ ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے‘‘ کے بارے میں اپنی تاثراتی تحریر میں لکھا: ’’کائنات میں جہاں، پھول کھل کر، غنچے چٹک کر، بارش برس کر، رنگ دھنک بن کر، بلبلیں چہک کر، سبزہ لہک کر، خوشبو مہک کر، ذرے دمک کر، شمس و قمر چمک کر، ستارے جھلملاکر، کونپل پھوٹ کر، ثمر پک کر، چشمے ابل کر، ندیاں بہہ کر، موتی سج کر،کوئل کوک کر، چراغ جل کر، آئینہ سنور کر، پانی نتھر کر، شبنم تپتی ریت کی پیاس بجھاکر، روشنی اندھیرا چیر کر، رحمت گناہ دھوکر، قلم لکھ کر، قطرہ گہر بن کر، جسم و جاں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی چوکھٹ پرسر جھکاکر، عشق نعت بن کر ذکرِ صلی اللہ علیہ وسلم میں مشغول ہے، وہاں ’’حضورؐ میرے‘‘ پکارتا انصار الحق گہر اعظمی کا طوطی بھی چمنستانِ حمد و نعت میں یوں چہک رہاہے:

ہوں مرے رب حروف موتی جڑے
جب کروں نعت میں کوئی تحریر
خامہ کو دے وہ قوتِ پرواز
ہوں بیاں اُن کے وصف با تصویر

اسی شعری پس منظر میں منظوم تذکرہ انبیاء کرام علیہم السلام ہے جس میں آپ نے قرآنی حوالوں سے انبیاء کرام کے احوال، واقعات منظوم کیے ہیں۔ سہل ممتنع میں نظم یہ احوال و واقعات قاری کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ ہمارے ہاں اس سے قبل بھی قرآنی آیات کے تراجم، دعائیں وغیرہ نظم ہوتی رہی ہیں، خصوصاً حضرت علامہ سیمابؔ اکبر آبادیؒ کا منظوم ترجمہ ’’وحی منظوم‘‘ ایک اعلیٰ درجے کا ترجمہ ہے۔ گزشتہ دنوں مجھے اپنے بزرگ محبی قمر احرار مودود نے جو حضرتِ مذاقؔ بدایونی کے خانوادے کے چشم و چراغ ہیں، اپنے ایک ننیہالی بزرگ حضرت قاضی عبدالسلام عباسی کی تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانی شائع شدہ منظوم تفسیر ’’زاد الاخرہ‘‘ کی زیارت کرائی جو کئی جلدوں میں بدایوں (بھارت) سے شائع ہوئی ہے اور اردو کی پہلی منظوم تفسیر ہے۔ انصار الحق گہر اعظمی جو کہ ایک قادر الکلام شاعر ہیں اور زبان و بیان پر قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ صاحبِ دل بھی ہیں، کی طبیعت اگر اس جانب مبذول ہوگئی اور آپ پر خصوصی کرم ہوا تو فقیر سمجھتا ہے کہ دورِ حاضر کے جدید تقاضوں کے ساتھ آپ اسے بخوبی انجام دینے کی صلاحیت اور وسائل رکھتے ہیں۔
کتاب میں منظوم احوال کے ساتھ مختصر نثری تعارف بھی دیا گیا ہے جس سے قاری کو سیاق و سباق سمجھنے میں آسانی ہوگئی ہے۔ ابتدائیہ میں فرماتے ہیں ’’ قرآنِ مجید میں ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ 28 انبیاء کا تذکرہ ملتا ہے جن میں حضرت موسیٰ ؑ کا نام سرفہرست ہے جو قرآن مجید میں 74 مقام پر آیا ہے۔ میں نے زیر نظر کتاب میں اپنا مطمح نظر اُن انبیاء تک مرکوز رکھا ہے جن کا نام واضح طورپر قرآن مجید میں مذکور ہے، یا پھر ان کا اجمالی تذکرہ قرآنی سورتوں میں موجود ہے۔ میں نے آیاتِ قرآنی کے مفہوم کو مستند اور معروف تراجم سے منظوم کرنے میں پوری احتیاط سے کام لیا ہے۔ تاہم اگر کوئی سہو یا سقم سرزد ہوگیا ہو تو میری کم مائیگی کے پیش نظر میری اس تقصیر کو معاف فرمائیں اور ناچیز کو اس سے آگاہ کریں تاکہ اگلے ایڈیشن میں اس غلطی کی تلافی ہوسکے۔‘‘
کتاب میں انبیاء کرام ؑ کی دعاؤں کو بھی منظوم کیاگیا ہے

دعا

یہ صاف الفاظ میں قرآن میں رب نے بتایا ہے
’بلا شبہ ترا رب ہی دعا ہر اک کی سنتا ہے‘

ترمذی کی یہ حدیثِ پاکؐ کا ہے ترجمہ
جس کو اس ناچیز نے الفاظ میں اپنے لکھا
کہ بڑھا سکتی نہیں ہے عمر کو کوئی بھی شے
(یہ گرہ میں باندھ لے انسان) نیکی کے سوا
کوئی بھی شے ٹال سکتی ہی نہیں تقدیر کو
اس میں استثنیٰ ہے لیکن رب سے جو مانگو دعا

خوبصورت مجلّد یہ کتاب ’’جہانِ حمد پبلی کیشنز‘‘ نے کراچی سے شائع کی ہے۔ عزیزم محمد نعمان طاہر کی تزئین و آرائش سے مزین یہ کتاب 450 روپے میں اردو بازارسے حاصل کی جا سکتی ہے۔

Share this: