ترکی انتخابات: اردوان کی فتح

ترکی میں اتوار کو ہونے والا انتخابی دنگل ایک سنسنی خیز عالمی میلے سے کم نہیں تھا۔ ان انتخابات کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس کے لیے جیسی انتخابی مہم ترکی میں چلی اُس سے کہیں زیادہ جوش و خروش یورپ میں نظر آیا۔ فرانس کے صدر ایمیونل میکرون، ہالینڈ کے وزیراعظم مارک روٹے (Mark Rutte)، جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور ہنگری کے متعصب قوم پرست وزیراعظم وکٹر اربن (Victor Orban) کے ساتھ امریکی رہنمائوں نے صدر اردوان کے خلاف زبردست مہم چلائی۔ ترک قانون کے تحت غیر ممالک میں آباد شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے، اس لیے ترکی کی سیاسی جماعتیں یورپ کے بڑے شہروں میں بھی جلسے اور ریلیاں منعقد کرتی ہیں۔ لیکن اِس بار یورپ کی حکومتوں نے صدر اردوان کے خلاف مہم چلائی۔ ان کی پارٹی AKPکو یورپ میں جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، لیکن ’’صدر اردوان ایک ڈکٹیٹیر‘‘ کے عنوان سے سارے یورپ میں پوسٹر لگادیئے گئے ہیں۔
یہ انتخابات نومبر 2019ء کو ہونے تھے لیکن صدر رجب طیب اردوان کا مؤقف تھا کہ تیزی سے بدلتی علاقائی صورت حال، خاص طور سے شام میں نیٹو اور امریکہ کی جانب سے ترک مخالف دہشت گردوں کی پشتی بانی، یورپ کی جانب سے غیر اعلانیہ اقتصادی پابندیوں اور دوسری متوقع آزمائشوں کے پس منظر میں حکمرانی کے لیے عوامی اعتماد کی تجدید کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انھوں نے 24 جون کو انتخاب کرانے کا اعلان کردیا۔ صدر اردوان نے قومی اسمبلی بھی تحلیل کردی اور صدارتی و پارلیمانی انتخابات ایک ہی دن منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اپنے اقتدار کی مدت کو رضاکارانہ طور پر کم کرکے تازہ مینڈیٹ کا حصول ایک مثبت جمہوری قدم تھا، لیکن یورپ کے لال بجھکڑ بہت دور کی کوڑی لائے۔ کہا گیا کہ شمالی شام کے علاقوں عفرین میں ترک دشمن کرد جنگجوئوں کے خلاف کامیاب عسکری کارروائی اور منبج سے کرد دہشت گردوں کی پسپائی کی بنا پر صدر اردوان کی مقبولیت اپنے عروج پر ہے جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے وہ قبل از وقت انتخابات منعقد کررہے ہیں۔ 18 اپریل کو صدر اردوان کی جانب سے قبل از وقت انتخاب کے اعلان کے ساتھ ہی ’’ترکی آمریت کی راہ پر‘‘ کے عنوان سے مراکزِ دانش (Think Tanks) نے سارے یورپ میں مذاکرے اور سیمینار منعقد کیے اور متنبہ کیا کہ نئے آئین میں ترک صدر کو بہت زیادہ اختیارات دیئے گئے ہیں اور اگر جناب اردوان دوبارہ صدر منتخب ہوگئے تو عثمانی خلافت کی تجدید بس دنوں کی بات ہوگی۔
اس منفی مہم کے ساتھ ہی صدر اردوان کے مقابلے کے لیے ایک مضبوط امیدوار کی تلاش شروع ہوئی۔ 2014ء کے صدارتی انتخاب میں روایتی سیکولر امیدوار کے بجائے OICکے سابق سیکریٹری جناب اکمل الدین احسان اوغلو کو میدان میں اتارا گیا تھا تاکہ اسلام پسندوں کے ووٹ توڑے جاسکیں۔ اِس بار بھی یہی حکمت عملی اختیار کرنے کا منصوبہ بنا۔ پہلے سابق صدر اور AKPکے رہنما عبداللہ گل کو متحدہ حزبِ اختلاف کا ٹکٹ پیش کیا گیا، لیکن اردوان سے ناراضی کے باوجود عبداللہ گل تیار نہ ہوئے۔ اس کے بعد ابھرتی ہوئی خاتون رہنما میرال آقشینر (Meral Aksener) کو آگے لانے کے بارے میں سوچا گیا۔ میرال صاحبہ خود کو نجم الدین اربکان کا شاگرد کہتی ہیں کہ انھوں نے عملی سیاست کا آغاز پروفیسر صاحب کی رفاہ پارٹی سے کیا تھا اور وزیراعظم تانسو چلر کی مخلوط حکومت میں مختصر عرصے کے لیے وزیرداخلہ بھی رہ چکی ہیں۔ کچھ عرصے بعد وہ رفاہ پارٹی سے الک ہوکر نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) میں شامل ہوگئیں اور پھر جلد ہی اپنی جماعت بنالی۔ اس متنوع سیاسی پس منظر کی بنا پر اسلام پسند، قوم پرست اور کٹّر سیکولر طبقات سمیت تمام سیاسی مکاتبِ فکر میں ان کے لیے نرم گوشہ پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خیال بھی تھا کہ خواتین انھیں ترک تاریخ کی پہلی خاتون صدر بنانے کے لیے بے حد پُرجوش ہوں گی۔
میرال صاحبہ کی انتخابی مہم کا آغاز بہت اچھا تھا۔ لیکن اسی دوران یہ انکشاف ہوا کہ محترمہ میرال کو فتح اللہ گولن کی سرپرستی حاصل ہے۔ یہ تو قارئین کو معلوم ہی ہے کہ15 جولائی 2016ء کو ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا الزام فتح اللہ گولن پر لگایا جارہا ہے۔ اس ضمن میں کچھ ایسی غیر مصدقہ دستاویز سامنے آئیں جن کے مطابق اگر بغاوت کامیاب ہوجاتی تو محترمہ میرال آقشینر کو عبوری وزیراعظم بنایا جانا تھا۔ اس خبر نے میرال صاحبہ کی مقبولیت کے غبارے سے ہوا نکال دی اور حزبِ اختلاف کو نئے نام کی تلاش ہوئی۔ اس دوران ری پبلکن پارٹی (CHP) کے امیدوار پروفیسر محرم انجے اپنی انتخابی مہم کو خاصہ منظم کرچکے تھے۔ محرم صاحب طبعیات کے پروفیسر اور نظریاتی سیکولر ہیں۔ وہ اتاترک فکری تحریک (ترک مخفف ADD) نامی مرکزِ دانش کے سربراہ ہیں۔ میرال سے مایوس ہوکر یورپ اور ترکی کے سیکولر عناصر نے اپنا سارا وزن محرم انجے کے پلڑے میں ڈال دیا اور زوردار مہم کا آغاز ہوا۔
میڈیا پر نفسیاتی جنگ بھی شروع ہوگئی جس میں امریکہ کا FOX ٹیلی ویژن پیش پیش تھا۔ فوکس کے ساتھ بی بی سی، جرمن میڈیا اور یورپ کے تجزیہ نگاروں نے بقراطی جھاڑی کہ رائے عامہ کے جائزوں میں صدر اردوان کی مقبولیت 46 سے 48 فیصد ہے، جبکہ کامیابی کے لیے 50 فیصد ووٹ ضروری ہیں، چنانچہ 24 جون کو فیصلہ نہیں ہوپائے گا اور قانون کے مطابق پہلی اور دوسری پوزیشن پر آنے والے امیدرواروں کے درمیان فیصلہ کن مقابلہ ہوگا جسے Run-Offکہا جاتا ہے۔ سیانوں نے امید کا ڈول ڈالا کہ Run-Off مرحلے پر اردوان کو براہِ راست مقابلے یعنی ONE- on- ONE میں شکست دی جاسکتی ہے۔ ان تجزیوں سے اردوان مخالفین کا حوصلہ بلند ہوگیا۔ ایک طرف انتخابی مہم میں شدت آئی تو دوسری طرف پارلیمانی انتخابات کے لیے CHP نے محترمہ میرال کی Iyi پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر ایک قومی اتحاد تشکیل دے دیا اور جلد ہی سعادت پارٹی بھی اس اتحاد میں شامل ہوگئی۔ اسی کے ساتھ صراطِ مستقیم پارٹی، بائیں بازو کی ڈیموکریٹ لیفٹ پارٹی اور مادر وطن پارٹی نے بھی قومی اتحاد کی حمایت کا اعلان کردیا۔ نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) پہلے ہی سے اردوان کی اتحادی تھی، چنانچہ ان دونوں پارٹیوں نے مل کر پارلیمانی انتخاب کے لیے عوامی اتحاد قائم کرلیا اور جلد ہی اسلامی خیالات کی حامل دائیں بازو کی ایک چھوٹی جماعت BBP بھی عوامی اتحاد کا حصہ بن گئی۔
سیکولرازم کا تحفظ، شہری آزادی اور ترک قوم پرستی محرم انجے کے منشور کا حصہ تھے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے خانہ جنگی کا شکار شامیوں کو پناہ دینے پر صدر اردوان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو محرم کے خیال میں ملکی معیشت پر بوجھ ہیں۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ ترکی نے 70 لاکھ شامیوں کو پناہ دی ہوئی ہے جن میں بہت سے لوگوں کو ترکی کی شہریت دے دی گئی ہے۔ محرم انجے نے اعلان کیا کہ وہ برسراقتدار آتے ہی شامی پناہ گزینوں کو ملک سے نکال دیں گے۔ CHPکے صدارتی امیدوار کا یہ اعلان اقوام متحدہ کے ضابطوں کی صریح خلاف ورزی تھی جس کے مطابق پناہ گزینوں کو متبادل انتظام کے بغیر ملک سے نکالنے کی اجازت نہیں، لیکن اس سنگ دلانہ مؤقف کو یورپ کے قوم پرستوں کی بھرپور تائید نصیب ہوئی جو پہلے خویش پھر درویش کے فلسفے پر خودغرضانہ حد تک عمل درآمد کے قائل ہیں۔ تاہم عام ترکوں میں محرم صاحب کے مؤقف کو پذیرائی نصیب نہیں ہوئی۔
اردوان کی انتخابی مہم کی بنیاد شفاف طرزِ حکمرانی، عثمانی اقدار، دفاعی صنعت میں خودکفالت کے ساتھ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پاسداری پر تھی۔ اس آخری نکتے پر ’’سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے‘‘ کی پھبتی کسی گئی، لیکن سلیم الفطرت ترکوں نے اسے بہت پسند کیا۔ محرم کی پناہ گزین دشمن پالیسی پر سعادت پارٹی کے حامیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور ان کی بڑی تعداد اردوان کیمپ میں آگئی۔ صدارتی انتخاب میں سعادت پارٹی کو ایک فیصد سے بھی کم ووٹ ملے جبکہ پارلیمانی انتخابات میں اسے قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست نہ مل سکی۔ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں صدر اردوان کی انتخابی مہم کو اُس وقت شدید دھچکہ لگا جب 18 جون کو امریکی سینیٹ نے غیر مرئی یعنی Stealth لڑاکا طیاروں -35 F کی ترکی کو فروخت پر پابندی لگادی۔ ترکی نے F-35 بنانے والے ادارے Lockheed Martin سے 100 طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ ترکی امریکہ کے اُن آٹھ اتحادیوں میں شامل ہے جن کے سائنس دانوں اور انجینئروں نے طیارے کی تیاری میں حصہ لیا تھا، لیکن سینیٹ نے یہ کہہ کر سودا منسوخ کرنے کی سفارش کی کہ ترکی روس سے فضائی دفاع اور طیارہ شکن نظام خرید رہا ہے لہٰذا جدید طیارے کی فروخت سے دشمن (روس) کو F-35 کا توڑ تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ انقرہ میں امریکی سفارت خانے کے چند ملازمین کی گرفتاری کو اس پابندی کی بنیاد بنایا گیا۔ یہ تمام گرفتار شدگان ترک شہری ہیں۔ ان سب پر امریکہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی اور ناکام فوجی بغاوت کی سہولت کاری کا الزام ہے۔ F-35 ترکی کے دفاع کے لیے بے حد اہم ہے کہ آبنائے باسفورس، بحر اسود، خلیج یونان اور بحر روم سمیت کئی کلیدی آبی شاہراہوں اور حساس راستوں کی پاسداری مربوط و مؤثر فضائیہ کے بغیر ممکن نہیں۔ 13 کروڑ ڈالر مالیت کا یہ F-35 لڑاکا طیارہ دشمن کے ریڈار سے اوجھل رہتا ہے جس کی وجہ سے اسے نشانہ بنانا تو دور کی بات، تعاقب میں آتی اس آفت کی پڑیا سے جان بچانا بھی ناممکن ہے۔ اس فیصلے کو صدر اردوان کی ناکام خارجہ پالیسی اور سفارتی تنہائی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ محرم انجے کا کہنا تھا کہ قیادت کے بحران نے ترکی کو اس حال تک پہنچادیا ہے کہ نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود امریکہ دفاعی ٹیکنالوجی کے معاملے میں ہم پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ محترمہ میرال نے دبے الفاظ میں کہا کہ فلسطینیوں کی غیر معمولی حمایت کی وجہ سے امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں خلیج پیدا ہورہی ہے اور اسی بنا پر ملک کو یورپ میں بھی تنہائی کا سامنا ہے۔ دبے الفاظ کا لفظ ہم نے اس لیے استعمال کیا کہ ترک عوام میں عثمانی فکر تیزی سے مقبول ہورہی ہے اور اس فکر کے حامی ساری دنیا کے مسلمانوں کی مدد کو اپنی ملّی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
صدر اردوان نے سینیٹ کے اس فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کا ملک امریکہ میں ترک مخالف لابی سے مرعوب نہیں ہوگا اور ہمارے پاس F-35 کا متبادل موجود ہے۔ ترکی کی یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور 22 جون کو F-35 طیاروں کی پہلی کھیپ ترکی کے حوالے کردی گئی۔ سینیٹ کی مخالفت کے باوجود طیاروں کی فروخت کے احکامات امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس نے جاری کیے۔ اپنے ایک بیان میں جنرل میٹس نے کہا کہ ترکی نیٹو کا اہم اتحادی ہے اور طے شدہ معاہدے کی منسوخی امریکہ کے مفاد میں نہیں۔ امریکہ کے اس فیصلے سے صدر اردوان کے بارے میں ایک دبنگ رہنما کا تاثر ابھرا اور ایک بار پھر ان کا عثمانی طمانچہ ابلاغِ عامہ کی زینت بن گیا۔
صدارتی انتخاب کے لیے صدر رجب طیب اردوان، CHP کے محرم انجے، Iyiکی میرال آقشینر کے علاوہ کردوں کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے صلاح الدین دیمتراس، سعادت پارٹی کے تامل کمال اوغلو اور وطن پارٹی کے دوغو پینجیک میدان میں تھے۔ پارلیمانی انتخابات میں ہر جماعت نے علیحدہ حصہ لیا لیکن ان کا پارلیمانی بلاک اتحادی جماعتوں کی مجموعی نشستوں پر مشتمل ہوگا۔ ترکی میں قومی اسمبلی کے انتخابات متناسب نمائندگی کے اصول پر ہوتے ہیں، یعنی ووٹر براہِ راست پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں اور پورے ملک میں پارٹی کو ملنے والے مجموعی ووٹوں کے کُل ڈالے جانے والے ووٹوں کے تناسب سے نشستیں الاٹ کردی جاتی ہیں۔ تاہم نشستوں کے حصول کے لیے کم از کم 10 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے، یعنی جس جماعت کو پورے ملک میں 10 فیصد سے بھی کم ووٹ ملیں اسے کوئی نشست نہیں دی جاتی۔
انتخابی مہم کے آغاز سے ہی اردوان کا پلہ بھاری تھا لیکن CHPکو ایک جامع اتحاد کی بنا پر یہ توقع تھی کہ وہ پہلے مرحلے میں مطلوبہ 50 فیصد ووٹ نہیں لے سکیں گے، اور اردوان کو دوسرے مرحلے کے براہِ راست انتخاب میں شکست دے دی جائے گی۔ اسی وجہ سے انتخابات کے روز زبردست جوش و خروش پایا گیا۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد سب سے پہلے بحر اسود کے ساحلی شہروں کے نتائج آنا شروع ہوئے جہاں صدر اردوان بھاری اکثریت سے جیت رہے تھے اور ابتدا میں انھیں 25 کے مقابلے میں 62 فیصد کی برتری حاصل تھی۔ یہ اعلانات سرکاری اناطولیہ نیوز ایجنسی پر نشر ہوئے۔ اسی کے ساتھ CHPکے ذرائع اور بی بی سی نے ازمیر اور انقرہ کے پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کا اعلان کیا جہاں محرم صاحب کو برتری حاصل تھی۔ CHP کو متضاد اعداد و شمار پر شدید ’تشویش‘ تھی۔ اس کے ساتھ ہی فاکس، بی بی سی اور دوسرے اداروں نے دھاندلی اور خودساختہ نتائج کی گردان شروع کردی، لیکن جیسے جیسے گنتی آگے بڑھی اردوان کی برتری کم ہوتی چلی گئی اور اختتام پر ترک صدر نے یہ معرکہ محرم انجے کے 30.6 فیصد کے مقابلے میں 52.6 فیصد سے جیت لیا۔ گنتی مکمل ہونے پر CHPکے پولنگ ایجنٹوں نے جو حتمی اعداد و شمار اپنے ہیڈکوارٹر میں جمع کرائے وہ اناطولیہ ایجنسی کے اعلان کے عین مطابق تھے، اور تفاوت کی وجہ یہ تھی کہ ابتدا میں اناطولیہ نے اُن علاقوں کے نتائج نشر کیے جہاں اردوان کو خاصی برتری حاصل تھی، جبکہ CHP کے ذرائع آغاز میں اپنے قلعوں کے نتائج کا اعلان کررہے تھے۔ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 86.2 فیصد رہا۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے صلاح الدین دیمتراس 8.4 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے اور محترمہ میرال کو 7.3 فیصد ووٹ ملے، جبکہ سعادت پارٹی اور وطن پارٹی کے امیدوار ایک فیصد سے بھی کم ووٹ حاصل کرسکے۔ 2014ء کے انتخابات میں جناب اردوان کو 51.8 فیصد ووٹ ملے تھے۔
پارلیمانی انتخابات میں AKP نے 42.6 فیصد ووٹ اور 295 نشستیں حاصل کیں۔ گزشتہ انتخابات میں بھی پارٹی کے ووٹوں کا تناسب اتنا ہی تھا لیکن اسے 316 نشستیں ملی تھی۔ AKPکی اتحادی MHP نے 49 نشستیں حاصل کیں یعنی حکمراں عوامی اتحاد 600 کے ایوان میں 344 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ CHPنے 146، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے 67 اور Iyi نے 43 نشستیں حاصل کیں۔ سعادت پارٹی اور وطن پارٹی ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکیں۔ گویا اردوان نے ایوانِ صدارت کے ساتھ قومی اسمبلی میں بھی واضح برتری حاصل کرلی۔ 25 جون کی صبح ایک اخباری کانفرنس میں CHPکے امیدوار محرم انجے نے انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرکے جمہوریت کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ انتخاب جیت جانے کے بعد صدر اردوان قوم کو تقسیم کردینے کی پالیسی کو ترک کرکے ساری قوم کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
حالیہ انتخابات اس لحاظ سے بے حد اہم ہیں کہ اب صدارتی نظام پر عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔ اس نظام کے تحت انتظامیہ اور مقننہ (پارلیمان) کو بالکل علیحدہ کردیا جائے گا اور امریکہ کی طرح وزرا قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہوں گے، بلکہ اگر صدر نے کسی رکنِ قومی اسمبلی کو کابینہ کا رکن نامزد کیا تو اُسے وزارت کا حلف اٹھانے سے پہلے پارلیمان کی رکنیت سے استعفیٰ دینا ہوگا۔ پارلیمنٹ صرف قانون سازی کے فرائض سرانجام دے گی اور تمام انتظامی اختیارات صدر کے پاس ہیں۔ وزیراعظم کا منصب ختم کردیا جائے گا اور صدر اپنی نیابت کے لیے نائب صدر نامزد کریں گے جو پارلیمان کا سربراہ ہوگا۔
انتخاب جیت جانے کے بعد جناب اردوان کو بہت سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ یورپ کے اکثر ممالک کا رویہ ترکی سے معاندانہ ہے جس کی وجہ سے ان ممالک نے غیر اعلانیہ پابندیاں عائد کررکھی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ترک لیرا (Turkish Lira) شدید دبائومیں ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران اس کی قیمت میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ترکی کی عراق اور شام سے ملنے والی سرحدوں پر کشیدگی ہے جس کی وجہ سے انقرہ کے دفاعی اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ ترک قوم 5 سال بعد 2023ء میں اپنی آزادی کا سو سالہ جشن منائے گی۔ صدر اردوان نے 2023ء میں ملک کی فی کس آمدنی کے لیے 23 ہزار ڈالرکا ہدف طے کیا ہے۔ اس وقت فی کس آمدنی11 ہزار ڈالر کے قریب ہے۔ گویا وقت کم اور مقابلہ سخت۔ اقتصادی ترقی کے لیے انھوں نے طیارہ سازی کی صنعت کے قیام، شمسی توانائی کے فروغ اور دفاعی صنعت کو ترقی دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ہمارے خیال میں اس سب سے بڑھ کر ترکی کو نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ جناب اردوان 2003ء میں وزیراعظم بنے تھے اور 11 سال اس منصب پر فائز رہنے کے بعد 2014ء میں ملک کے صدر بن گئے۔ اس سے پہلے وہ 4 سال تک استنبول کے رئیسِ شہر رہ چکے ہیں۔ گویا 2023ء میں مدتِ صدارت کے اختتام پر ان کی مسند نشینی کا مجموعی دورانیہ 29 سال سے زیادہ ہوجائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صدر اردوان اگلے پانچ برسوں میں ٹیم کی تربیت پر توجہ دیں اور منصبِ اقتدار سے سبکدوش ہوجائیں۔

Share this: