صوبہ سندھ کا انتخابی منظرنامہ

پورے ملک کی طرح صوبہ سندھ میں بھی 25 جولائی کو ہونے والے الیکشن کے سلسلے میں سرگرمیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ بار بار کے آزمودہ سیاست دان اور سابق منتخب عوامی نمائندے ایک بار پھر ووٹوں کے حصول کے لیے سرگرداں دکھائی دیتے ہیں، اور اپنے حلقوں میں مقامی لوگوں کو مائل کرنے کی خاطر آج کل اُن کی شادی اور غمی میں یوں آن موجود ہوتے ہیں گویا ان کے ہمدمِ دیرینہ ہوں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب عوامی شعور اور آگہی میں بھی کیوں کہ بتدریج اضافہ ہوا ہے، لہٰذا اب کی مرتبہ ان سرد و گرم چشیدہ سیاست دانوں کو مختلف مقامات پر اپنی ماضی کی عدم کارکردگی اور مفاد پرستی پر مبنی سیاست کی بنا پر عوام کی جانب سے شدید منفی ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے۔ ایک بھوتارانہ کلچر اور جاگیردارانہ سماج میں بلاشبہ یہ ایک نیا رجحان اور خاصے اچنبھے کی بات ہے کہ اپنے اپنے حلقوں میں ووٹوں کے حصول کے لیے نکل کھڑے ہونے والے مقامی وڈیروں اور قبائلی سردار سیاست دانوں کو اپنے ہی حلقے کے مقامی لوگوں کی جانب سے ان کی انتخابی مہم کے دوران راستے میں ہی روک کر بلند آہنگ اور ناراضی پر مبنی مشتعل لب و لہجے میں برملا یہ سوالات کیے جارہے ہیں کہ گزشتہ 5 برس تک آپ کہاں تھے؟ اور اب الیکشن کی آمد کے موقع پر آپ ہمارے ہاں آخر کیوں چلے آئے ہیں؟ آپ نے ہمارے اَن گنت بنیادی مسائل میں سے آخر ایسا کون سا مسئلہ حل کیا ہے جس کی وجہ سے آپ ایک بار پھر سے ہمارے پاس ووٹ مانگنے آگئے ہیں؟ اور جواب میں ان سابق منتخب عوامی نمائندوں کے ہاں سوائے آئیں بائیں شائیں کرنے کے کچھ بھی تو نہیں ہوتا۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ضلع کندھ کوٹ کشمور کے سابق ایم این اے اور ضلعی ناظم سردار سلیم جان مزاری اور اُن کے ہمراہ اپنے انتخابی حلقے میں آنے والے سابق ایم این اے سردار احسان مزاری، میہڑ دادو میں سابق ایم پی اے عزیز جونیجو سمیت دیگر اضلاع میں سابق منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ اُن کے اہلِ حلقہ نے، ان کی انتخابی مہم کے دوران خصوصاً نوجوانوں نے ان کے خلاف جس بھرپور انداز میں شدید احتجاج اور نعرے بازی کی ہے، اس کی ویڈیوز وائرل ہوچکی ہیں، جن میں دوبارہ ووٹ لینے کے لیے آنے والے سیاست دانوں کو شدید احتجاج کی وجہ سے عالم بے بسی میں اپنی گاڑیوں میں مایوس ہوکر واپس جاتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ انتخابی نوع کے اس نئے رجحان کو سیاسی مبصرین خوش آئند امر بھی قرار دے رہے ہیں، تاہم اصل صورتِ حال تو 25 جولائی کو ہی اُس وقت سامنے آپائے گی جب الیکشن کے نتائج سامنے آنا شروع ہوں گے۔
دریں اثنا صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف اتحاد گرینڈ نیشنل الائنس (جے ڈی اے) اور تحریک انصاف نے باہم مل کر الیکشن میں پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت بھی چوکنا ہوگئی ہے، کیونکہ اگر پیپلزپارٹی کے مخالفین نے سنجیدگی کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ٹھان لی تو اسے کئی انتخابی حلقوں میں ٹف ٹائم مل سکتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی مخالف اتحاد جی ڈی اے جس میں انتخابی سیاست پر یقین رکھنے والی قوم پرست جماعتیں بھی شامل ہیں، سے اہلِ سندھ کوئی خاص امید وابستہ کیے ہوئے نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی الیکشن کے موقع پر اس اتحاد میں شامل جماعتوں کے بیچ جوتیوں میں دال بٹتی رہی ہے اور اب بھی یہی صورتِ حال درپیش ہے۔ قاسم آباد حیدرآباد کی ایک صوبائی نشست پر تین قوم پرست جماعتوں کے مرکزی رہنما ایاز لطیف پلیجو، ڈاکٹر دودومہیری اور ڈاکٹر قادر مگسی باہم صف آرا ہیں اور کوئی بھی دوسرے کے حق میں دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے، اور ظاہر ہے کہ اس کی وجہ سے ووٹ تقسیم ہونے کی صورت میں فائدہ پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ہی پہنچے گا۔ اس اتحاد میں صرف ایک ہی پارٹی مسلم لیگ فنکشنل ہے جسے ضلع سانگھڑ، خیرپور، تھرپارکر وغیرہ میں عوامی پذیرائی حاصل ہے، لیکن فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پگاڑا کے غیر سنجیدہ سیاسی طرزِعمل سے بھی اہلِ سندھ شاکی ہیں۔ جی ایم سید مرحوم کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی سید جلال محمود شاہ اور سید زین شاہ بھی اپنی پارٹی ایس یو پی سمیت جی ڈی اے میں شامل ہیں اور انہیں بھی اپنے حلقے دادو میں عوامی حمایت حاصل ہے۔ ’’کاوش‘‘ اور سندھی نیوز چینل ’’کے ٹی این‘‘ کے کرتا دھرتا علی قاضی بھی اپنی نوزائیدہ پارٹی ’’تبدیلی پسند پارٹی‘‘ کے ہمراہ انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ اب عوام ان تبدیلی پسندوں کو کتنی حمایت سے نوازتے ہیں اس کا فیصلہ بھی 25 جولائی ہی کو ہوسکے گا۔
صوبہ سندھ میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے بھی مختلف اضلاع میں امیدواروں نے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابی فارم بھروائے ہیں۔ جیکب آباد سمیت کئی اضلاع میں ایم ایم اے کے امیدواروں کو اگر منقسم مذہبی ووٹ یکجا طور پر مل سکا تو ایک اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ جیکب آباد سے ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر جماعت اسلامی کے دیدار علی لاشاری اور جے یو آئی کے ڈاکٹر اے جی انصاری قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ دونوں امیدواروں نے زورو شور سے اپنی انتخابی مہم شروع کردی ہے۔
اگرچہ پیپلزپارٹی کی قیادت اور دیگر رہنما اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن یہ ایک امرِ واقع ہے کہ پیپلزپارٹی اپنے اصل مرکز اور سیاسی گڑھ سندھ میں بھی اس وقت زوال اور انحطاط کا شکار ہوچکی ہے۔ ایک عشرے پر محیط سندھ میں اپنے عرصۂ اقتدار میں پیپلزپارٹی نے جس طرح سے عوامی مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے ظالمانہ اغماض برتا ہے اب وہ رنگ لاتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ صوبے بھر میں بدنظمی، صحت، تعلیم کی عدم سہولیات، بدعنوانی، بے روزگاری اور دوسرے مسائل کی دلدل میں دھنسے ہوئے لوگ اپنی ناراضی کا برملا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی وہ قیادت جو ماضی میں کسی کو منہ تک لگانا پسند نہیں کرتی تھی اِس مرتبہ اُس کی جانب سے پیپلز پارٹی سے ناراض ہوکر گوشہ نشینی اختیار کرنے یا دیگر جماعتوں میں شامل ہونے والے کارکنان اور رہنماؤں کو منانے کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ ضلع بدین میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بعد اُن کی اہلیہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی جانب سے پیپلز پارٹی سے قطع تعلق کرکے جی ڈی اے میں شمولیت کے اعلان کے صدمے سے ابھی پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ دادو سے سابق ایم این اے ڈاکٹر طلعت مہیسر کی جانب سے تحریک انصاف میں شمولیت کے اعلان نے اس کے اضطراب میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ جامشورو سے سابق ایم پی اے جام خان شورو کا بھی اسی طرح کا اعلان سامنے آیا ہے۔ علاوہ ازیں مختلف اضلاع میں ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض رہنما بھی پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں ٹھٹہ کے ایاز شیرازی برادران سابق ایم پی ایز کی طرف سے نواز لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان یقینا سابق صدر زرداری کے لیے طمانیت کا باعث اور ہوا کے خوشگوار جھونکے کی مانند ثابت ہوا ہوگا۔ واضح رہے کہ شیرازی برادران پارٹیاں بدلنے کی تاریخ رکھتے ہیں۔ دریں اثنا سندھ بھر میں مختلف اضلاع کے بااثر سیاست دانوں اور قبائلی سرداروں کی جانب سے تحریک انصاف میں شمولیت کے اعلانات بھی اب تواتر کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ لاڑکانہ سے نواز لیگ چھوڑ کر ممتاز بھٹو اور ان کے صاحب زادے امیر بخش بھٹو، جیکب آباد سے نوازشریف کے قریبی ساتھی اسلم ابڑو، اکرم ابڑو اور سابق نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو بھی پی ٹی آئی میں نہ صرف شامل ہوچکے ہیں بلکہ ان نوواردانِ پارٹی کو پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی ٹکٹوں سے بھی فوراً ہی نواز ڈالا ہے۔ امیر بخش بھٹو اور اسلم ابڑو کو صوبائی، جبکہ محمد میاں سومرو کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیاگیاہے۔ پی ٹی آئی کو ایک مضبوط انتخابی سیاسی جماعت بنانے کے پسِ پردہ جو ’’معشوق‘‘ پردۂ زنگاری میں کارفرما ہے اُس کے بارے میں کیوں کہ عوام و خواص بہ خوبی جانتے ہیں کہ ’’وہ‘‘ کون ہے، لہٰذا اب اس بحث کو یہیں چھوڑتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں۔
بلاشبہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات گزشتہ انتخابات سے مختلف حوالوں کی بناء پر خاصے دلچسپ ثابت ہوں گے۔ ماضی میں بلاشرکتِ غیرے سندھ میں حکومت کرنے والی پیپلزپارٹی کو کئی ایسے انتخابی حلقوں میں جو اُس کے گڑھ تصور کیے جاتے ہیں، سخت مقابلہ درپیش ہوگا۔ کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں نئے نوجوان ووٹ بھی رجسٹرڈ ہوچکے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی سے مقامی نوجوانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد متاثر ہے۔ ایم ایم اے بھی کئی اضلاع خصوصاً لاڑکانہ، کندھ کوٹ، کشمور، شکارپور، دادو، جیکب آباد میں خاصی حمایت کی حامل ہے۔ پی پی کی قیادت اس مشکل صورتِ حال میں اپنے روایتی حربوں ترغیب، تحریص اور دباؤ کے ذریعے مقامی بااثر شخصیات سے مختلف انتخابی حلقوں میں اپنی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہے اور ہمہ تن اس بارے میں مصروفِ عمل ہوچکی ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے بے تحاشا استعمال کی وجہ سے سندھ میں روایتی بھوتاروں، سرداروں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف جو مزاحمت اور منفی ردعمل عوام خصوصاً نوجوانوں کے افکار اور اعمال میں در آیا ہے اُس کے مظاہر بھی صاف طور پر اب دیکھنے کو مل رہے ہیں اور اس کا ذکر بھی اوپرکیا جاچکا ہے۔ پیپلزپارٹی کا بھرپور مواقع ملنے کے باوجود کامل ایک عشرہ (بلکہ اس سے بھی زائد) سندھ پر اپنے اقتدار کے دو ادوار میں اپنی مکمل نااہلی اور عدم کارکردگی سے اہلِ سندھ کو مایوس کردینا اس امر کا غماز ہے کہ اب کی بار شاید الیکشن میں وہ ماضی کی طرح عوامی پذیرائی حاصل نہیں کرپائے گی۔ اور تو اور عوامی اور سیاسی حوالے سے پیپلزپارٹی کے سیاسی قلعہ اور گڑھ ضلع لاڑکانہ میں بھی پیپلزپارٹی کو اپنے ان انتخابی حلقوں اور دیگر حلقوں میں جہاں پر ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور خاندان کے دیگر افراد قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیتے اور کامیاب ہوتے رہے ہیں اِس مرتبہ اپنے انتخابی حریفوں کی جانب سے مقابلہ درپیش ہے، اور ضلع لاڑکانہ میں پیپلزپارٹی مخالف اتحاد ایک صف بندی کے ساتھ تشکیل پایا ہے۔ اس اتحاد میں پہلی مرتبہ بیک وقت لاڑکانہ کے عباسی اور شیخ خاندان، باقرانی کا انڑ خاندان، شاہ آباد کا راشدی خاندان، میرپور کا ممتاز بھٹو خاندان، ڈاکٹر خالد سومرو شہید کا خاندان شامل ہیں، جو اپنی اپنی جگہ پر بڑی اہمیت کے حامل خاندان ہیں۔ اسی طرح سے اس الیکشن میں پی پی مخالف حصہ لینے والے چھوٹے بڑے وڈیروں کا ایک اتحاد بھی منظرعام پر آیا ہے۔ یہ سب پی پی مخالف اتحادی انتخابی سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ پیپلزپارٹی اپنے خلاف وڈیروں کے تشکیل کردہ اتحاد کو اپنے روایتی حربے بروئے کار لاتے ہوئے اپنی حمایت کے لیے قائل کرلے، لیکن اوّل الذکر اتحاد کو توڑنا یا اس میں دراڑ ڈالنا کارِ دارد لگتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت اگر اپنی تجوریاں بھرنے کے بجائے عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی سعی کرتی تو اس الیکشن میں عوامی حمایت کے حصول کے لیے اتنا سردرد مول نہ لینا پڑتا۔ لیکن کیاکیا جائے کہ بے لگام اختیارات اور کامل اقتدار عقل و خرد پر پردہ ڈال دیاکرتے ہیں۔

Share this: